وفاقی بجٹ کے اعدادوشمار میں الجھنے ، الفاظ کے نرم گرم پہلووں سے مسحور ہونے ، تقابلی جدول کے گورکھ دھندوں سے متاثر ہونے اور جمع، تفریق، تقسیم اور ضرب کی پیچیدگیوں میں ٹانگیں پھنسالینے سے بہتر ہے کہ بجٹ کی اِس دیگ میں سے چند دانے چکھ لیے جائیں تو پوری دیگ (بجٹ) کا پتہ چلا جائے گا کہ اس میں غریب کیلئے نمک مرچ کتنی ہے اور دعووں وعدوں کا جھوٹا تڑکہ کتنا لگایا گیا ہے؟ اس میں شیخ چلی جیسی شیخیاں کتنی بگھاری گئیں ہیں اور منہ کا ذائقہ برقرار رکھنے کیلئے مصالحے کا کتنا خیال رکھا گیا ہے؟ مثال کے طور پر بجٹ کی اِس دیگ کا پہلا دانہ تو آئندہ مالی سال کے دوران مزدور کی کم سے کم اجرت بارہ سے بڑھا کر تیرہ ہزار ماہانہ کرنے کا ہے۔ سبحان اللہ!یہ ’’دانہ‘‘ اس بجٹ کا سب سے بڑا ڈرامہ نہیں تو اور کیا ہے؟

بجٹ میں مزدور کی کم سے کم تنخواہ تیرہ ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان تو یوں کیا جاتا ہے کہ جیسے ہر مزدور کو ماہانہ اجرت کراس چیک کے ذریعے حکومت خود دیتی ہے؟کیا کوئی حکومت دعویٰ کرسکتی ہے کہ ایک مزدور کو یہ کم سے کم طے شدہ اجرت ملتی ہے؟ اِس سے پہلے بھی حکومتوں نے جتنی بار کم سے کم تنخواہ مقرر کی، کیا اُس پر عملدرآمد کا کوئی میکنزم بھی طے کیا گیا؟آج بھی غریب کی مجبوریاں بکتی ہے! لیکن غریب کی اس مجبوری کی قیمت کوئی دس ہزار روپے ماہانہ بھی نہیں دیتا! مثال کے طور پر بھٹہ خشت پر غلامی کی زنجیر سے بندھے پورے خاندان کو فی کس بھلا ماہانہ کتنی رقم ملتی ہے؟ مثلاء برسوں تک کھوکھوں پر چائے ڈھونے اور برتن مانجھنے اور ورکشاپوں پر مکینکوں کے ساتھ سارا دن رینچ پانے اٹھاکرپھرنے والے ’’چھوٹوں‘‘ کو بھی کیا اس کم از کم اجرت میں شامل کیا جائے گا؟ چلیں آگے بڑھتے ہیں! باالفرض اگرکم از کم اجرت کے اس حکومتی اعلان پر سوفیصد عمل درآمد ہوبھی جائے تو تیرہ ہزار روپے کی اس ’’خطیر‘‘ رقم سے ایک گھر کا بجٹ بنانے کا کارنامہ کون سرانجام دے گا؟ اور اگر کوئی تیس مار خان جدول بناکر ان تیرہ ہزارو روپوں کو گھر کے کرایے،یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی، گھرانے بھر کے کھانے پینے ، صحت اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات میں تقسیم بھی کردے تو جدول کے ہر خانے میں درج رقم سے متعلقہ خرچہ کون پورا کرکے دکھائے گا؟ اگر بجٹ کی اس دیگ کا پہلا دانہ چکھنے پر ہی منہ کڑوا ہوگیا ہے تو چلیں دوسرا دانہ چکھ لیتے ہیں!

یہ دوسرا دانہ چکھ کر آپ کو پتہ چلے گا کہ قرضوں میں جکڑے اِس ملک اور ملک کے غریب عوام کے ساتھ کیا کیا ظلم نہیں کیا گیا! مثال کے طور پر خود سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اِس وقت ملک میں پچاس فیصد کے حساب سے نو کروڑ سے زیادہ پاکستانی خطِ غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،جنہیں پینے کا صاف پانی میسر ہے نہ دو وقت کا پورا کھانا دستیاب ہے۔ لیکن اس کے برعکس اشرافیہ کے صرف چند ہزار لوگ سڑسٹھ برسوں سے ہر طرح کی عیاشی کررہے ہیں۔ اشرافیہ کی بہت سی دیگر عیاشیوں میں ایک ٹیکس چھوٹ کی عیاشی بھی ہے۔ دو سال قبل حکمران جماعت نے اقتدار سنبھالا تو تین سال میں تمام ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا، لیکن ملک کا طاقت ور طبقہ اب بھی ٹیکس چھوٹ کے پورے پورے مزے لے رہا ہے۔ یقین نہیں آتا تو انکم ٹیکس آرڈیننس کا شیڈول ٹو پڑھ لیں! اس شیڈول کے تحت صدر مملکت، صوبائی گورنرز، وفاقی وزرائ، مسلح افواج کے افسران اور اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو مختلف مد میں اب بھی انکم ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہے۔صدر پاکستان، مسلح افواج کے افسران اور وفاقی وزراء کو ہاؤس رینٹ، تفریحی الاؤنس اور کنوینس الاؤنس پر انکم ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہے۔

ٹیکسوں میں سب سے زیادہ رعایتیں اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو حاصل ہیں۔ٹیکس چھوٹ بھی ایسی کہ سرکاری گاڑی، ہاؤس رینٹ، جوڈیشل الاؤنس، ٹرانسفر الاؤنس، ایک ہزار ماہانہ لوکل فون کال اور بجلی کے ماہانہ ایک ہزار یونٹس استعمال کرنے پر ایک روپیہ ٹیکس بھی نہیں دینا پڑتا۔صرف یہی نہیں بلکہ ماہانہ 25 کیوبک میٹر گیس، 200 لیٹر پیٹرول، ڈرائیور اور اردلی کے اخراجات پر بھی انکم ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہے اور دوران سروس وفات کی صورت میں بیوہ کوبھی یہ ٹیکس چھوٹ حاصل رہتی ہے۔حکومت اپنے اقتدار کے پہلے دو برسوں میں اگرچہ ڈھائی سو ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرچکی ہے، لیکن ملک کے طاقتور طبقے کو حاصل یہ ایسی ٹیکس چھوٹ ہے کہ جس کی جانب پرواز کرتے ہوئے حکومت کے پر جلنے لگتے ہیں۔ دوسری جانب اٹھارہ کروڑ آبادی کے اس غریب ملک میں ایک عام شہری ماچس کی ڈبیہ سے لے کر ڈسپرین کی گولی تک ہر چیز پر ٹیکس ادا کرنے پر مجبورہے اور اِس ٹیکس میں مسلسل اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔ اِس میں بالکل بھی کوئی شبہ نہیں ریاستیں شہریوں کی جانب سے ادا کیے جانے والے ٹیکسوں سے چلتی ہیں، ٹیکسوں کے بغیر ریاستوں کا چلنا ممکن نہیں ہوتا،لیکن سوال تو یہ ہے کہ ریاست اِن ٹیکسوں کے بدلے عوام کو کیا دیتی ہے؟

چلیں! جن لوگوں پر ٹیکس کا بوجھ بڑھایا جا رہا ہے، انہیں اتنا تو بتادیا جائے کہ اِن ٹیکسوں کے عوض حکومت اُنہیں کون کون سی سہولیات اور مراعات فراہم کرے گی؟ غریب عوام کو ٹیکسوں کی بھرمار کے بدلے میں کیا کیا ملے گا؟ انہیں کس کس شعبے میں تکلیفوں اور پریشانیوں سے نجات مل جائے گی۔آیا حکومت ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم سے اپنے اللے تللے جاری رکھے گی یا ٹیکسوں کی یہ رقم عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے خرچ کی جائے گی؟ غریب پر اتنا تو واضح کردیا جائے کہ حکومت وصول کیے جانے والے ٹیکسوں کی رقم سے اپنی عیاشی کا سامان کرتی ہے یا وہ رقم عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے خرچ کی جاتی ہے؟ آیا حکومت محصولات کی رقم اپنے آنے جانے پر اُڑاتی ہے یا اس سے عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے مکمل کیے جاتے ہیں؟

قارئین کرام!! گھروں میں مائیں کھانا بناتی ہیں تو سب سے پہلے خود چکھتی ہیں تاکہ بدمزا کھانا کھاکر کہیں ان کے بچے کھانے سے ہی منہ نہ موڑلیں اور اگر کھانا مزیدار نہ ہوتومائیں کوشش کرتی ہیں کہ ہنڈیا دوبارہ چولہے پر چڑھادیں۔ اگر یہ ریاست بھی ماں جیسی ہے تو پھر بجٹ کی دیگ پہلے خود کیوں نہیں چکھتی؟اگر یہ ریاست ماں کی ممتا سے لبریر ہے تو اِس کیلئے اس کے سارے بچے برابر کیوں نہیں ہیں؟ ریاست ماں جیسی ہے توطاقتور طبقے کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرکے غریب کی ہنڈیا کا نمک مرچ پورا کرکے دے، ورنہ ٹیکسوں کی گٹھڑی تلے دبے ایک غریب کیلئے کیا ریاست اور کیسی ماں!

----------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے