تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نیا ترکی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 شوال 1440هـ - 20 جون 2019م
آخری اشاعت: بدھ 22 شعبان 1436هـ - 10 جون 2015م KSA 10:31 - GMT 07:31
نیا ترکی

مسلم دنیا کے نئے ابھرتے ہوئے ہیرو کے قدموں کو ترک عوام نے زنجیر پہنا دی۔ جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کا اقتدار اب دوسری جماعتوں کے رحم و کرم پر ہے۔ کیا تیرہ سالہ عروج کے سفر کا یہ آخری پڑاؤ ہے؟

ترکی اس خطے کے مسلمانوں کیلئے خواب و خیال کی سرزمین ہے۔ ہماری عظمت گم گشتہ کا آخری باب یہیں رقم ہوا۔ خلافت کا رومان یہیں سے وابستہ ہے۔ نجم الدین اربگان سے شروع ہونے والا سفر اسلام پسندوں کیلئے ایک آئیڈیل ہے۔ قدرت نے اس ملک کیلئے جس طرح اپنا حسن ارزاں کیا، اس کے باعث یہ ہر طبقے کیلئے ایک دلکش سیر گاہ کی مثل ہے۔ تصوف کے کئی طلسم کدے یہاں آباد ہیں۔ کسی کو اسکی تفصیل جاننا ہو تو راشد شاز کا سفرنامہ ترکی لستم پوخ پڑھ لے۔ سیاسی اسلام، ماڈریٹ اسلام اور صوفی اسلام ہی نہیں سیکولرازم ، نیشنلزم ، کمیونزم، ہر مذہبی تعبیر اور ہر جدید سیاسی فکر کے مظاہر یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اب لوگ کہتے ہیں کہ اس جمہوریت کی کوکھ سے امیر المومنین بعنوان صدر جنم لے رہا تھا کہ حادثہ ہو گیا۔

ہمارے حکمرانوں کو بھی ترکی سے بہت دلچسپی ہے۔ شریف برادران ترکی کو ایک رول ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ طیب اردوگان صاحب سے انکی ذاتی مراسم ہیں۔ دکھائی دیتا ہے کہ وہ جماعت اسلامی سے زیادہ نواز شریف صاحب سے قریب ہیں ، حالانکہ انکی نظریات قربت جماعت سے ہے۔ اسکی وجوہ تجزیے کا ایک الگ موضوع ہیں۔ سردست تو مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ متنوع تاریخی، نظریاتی اور سیاسی اسباب ہیں جنکے باعث ہم ترکی سے دلچسپی رکھتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ ترکی کے انتخابی نتائج سے کیسا منظر ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ میں صرف ایک پہلو کو یہاں زیر بحث لانا چاہتا ہوں۔

ترکی اسلامی خلافت کا آخری مرکز تھا، جنگ عظیم دوم کے بعد جن دنیا کا موجودہ نقشہ وجود میں آیا تو ترکی کی قیادت مصطفی کمال کے ہاتھ میں تھی۔ انہوں نے ترکی کو ایک نئی شناخت دینا چاہی۔ یہ عالم گیر خلافت سے قومی ریاست کی طرف مراجعت تھی۔ شناخت کے اس سفر میں انہوں نے چاہا کہ ہر اس تہذیبی مظہر کی نفی کی جائے جو ترکوں کا رشتہ عربوں سے جوڑت اہے۔ اسلام کی بنیاد بھی عرب میں ہی رکھی گئی۔ یوں اسلام کی آفاقیت اور عرب کلچر میں فرق کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ قومی شناخت کیلئے انکے خیال میں لازم تھا کہ قدیم سے ہر وہ رشتہ ختم کر دیا جائے، جسکی اساسات ترکی کی سرزمین سے باہر ہیں۔ ترک سماج نے مصطفی کمال کی سیاسی قیادت اور بصیرت پر بھروسہ کیا لیکن انکے فکر و فلسفے سے پوری طرح اتفاق نہیں کیا۔ اتاترک نے یہ بات نظر انداز کی کہ اسلام عرب کی سرحدوں سے نکل چکا ہے اور اس نے ترک کلچر میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ انہوں نے بطور قوم ترکی کو زندہ کر دیا۔ یورپ کا مرد بیمار اب ایشیا کا مرد حر تھا۔ اسکا کریڈٹ مصطفی کمال سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

اسلام کی سخت جانے کے بارے میں مگر انکے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ صوفی سلسلوں اور سعید نورسی جیسے لوگوں نے ترکی کی اس نئی شناخت میں اسلام کو بھی شامل رکھا۔ دیہات میں چونکہ روایت کا غلبہ ہوتا ہے اس لیے ترکی کے کلچر سے اذان نکل سکی نہ نماز۔ عربی زبان اجنبی ہوئی لیکن دل قرآن کی تلاوت سے آباد رہے اور تہذیت بھی۔ نظری کشمکش کے ساتھ تہذیب کا ارتقا بھی جاری تھا جسے کوئی نظریہ روکنے پر قادر نہیں ہوتا۔ ایک طرف جمہوریت کا مطالبہ بڑھ رہا تھا ور دوسری طرف دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف منتقلی کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ دیہاتی شہروں میں آئے تو اپنی تہذیبی شناخت بھی ساتھ لائے۔ یوں شہروں کا کلچر بھی بدلنے لگا۔ جمہوریت مضبوط ہوئی تو مختلف نقطہ نظر کو سامنے آنے کا موقع ملا۔ اسلام پسندوں نے چاہا کہ وہ اسلامی تیاست کی تعبیر تلاش کریں۔ یہ کوشش ایک حد سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اربگان کے بعد اس خواب نے ایک نئی تعبیر تلاش کی۔ اسکا مظہر طیب اردوگان تھے۔

اردوگان نے سیکولرازم اور کمال ازم کو موضوع بنائے بغیر، ترکی کو معاشی اور سماجی ترقی کا ایک ماڈل دیا۔ اسے پزیرائی ملی۔ انہوں نے سیکولرازم کو اسکے حقیقی مفہوم میں لیا۔ اس سے پہلے ترکی سیکولرازم، ریاستی جبر کا ایک ہتھیار تھا۔ یہ سیکولرازم حجاب اتارنے کی اجازت تو دیتا تھا پہننے کی نہیں۔ جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے سیکولرازم کے پورے تصور کو واضح کیا کہ اگر کوئی اپنی مرضی سے حجاب پہننا چاہتا تو اسے اتارنے پر مجبور کرنا سیکولرازم کی نفی ہے۔ شہروں میں اس پیغام کو پزیرائی ملی کہ اب بہت سے دیہاتی یہاں آباد ہو چکے تھے، جو دیہات سے حجاب سمیت، مسلم تہذیب کے بہت سے مظاہر اپنے ساتھ لائے تھے۔ اردوان کے اس ترقیاتی ماڈل کو مقبولیت ملی جس نے ترک عوام کو معاشی ترقی اور تہذیبی آزادی کا تحفہ دیا۔ یہاں سے لیکن یہ کہانی ایک موڑ لیتی ہے۔ ایسا ہی موڑ اس نے مصر میں بھی لیا تھا اور الجزائر میں بھی۔

اردوان کی کامیابیوں نے انہیں ایک نیا راستہ دکھا دیا۔ اب انہوں نے اپنے لیے ایک عالمی کردار تلاش کرنا شروع کیا۔ قائد عوام سے فخر ایشیا، یہ ایک سینڈ روم ہے جسکا وہ شکار ہوئے۔ اب فخر ایشیا کا تو نہیں امت مسلمہ کی قیادت کا منصب خالی تھا۔ بطور حکمت عملی انہوں نے جس سیکولرازم اور ترک قومیت سے مفاہمت کی تھی۔ اب وہ اس سے ہٹنے لگے۔ خلافت عثمانیہ کا احیا، جدید اسلوب میں، انکے پیش نظر تھا۔ اس کے لیے پہلے مرحلے پر ضروری تھا کہ وہ مطلق العنان بنیں۔ انہوں نے چاہا کہ ترکی صدارتی نظام کی طرف مراجعت کرے۔ صدر کی ذات میں ارتکاز اختیار ہو اور صدر وہ پہلے ہی سے ہیں۔ 1150 کمروں کے محل میں وہ منتقل ہو چکے تھے جس پر 615 ملین ڈالر کی لاگت آئی۔ اب ایک ریفرنڈم کی ضرورت تھی جو ترکی کو پارلیمانی کے بجائے صدارتی جمہوریت کے راستے پر ڈال دے۔ اسکے لئے 2015ء کے انتخابات میں کامیابی لازم تھی۔ افسوس کہ کمنڈ ٹوٹ گئی دوچار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا۔
مغرب کی ریشہ دوانیاں اپنی جگہ مگر میرے نزدیک یہ وہ گرہ ہے جو مسلم تہذیب کی پہچان بن گئی ہے اور کھل نہیں پا رہی۔ جمہوریت معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان رہنماؤں کیلئے محض ایک سیڑھی ہے۔ وہ اس پر چڑھ کر اقتدار تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ اسکے بعد وہ اقتدار میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہتے۔ بھٹو، مہاتیر محمد، محمد مرسی اور اب اردوگان۔ سب اسی کے مظاہر ہیں۔ نواز شریف صاحب عمران خان صاحب اور دوسرے رہنماؤں کا دل چیریں تو یہی خواہش انگڑائیاں لیتی ملے گی۔ اسی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ مسلم سماج جمہوریت کے لیے سازگار نہیں۔ اسکا بھی تجزیہ ہونا چاہیے۔ مسلم معاشروں میں بادشاہت، فوجی آمریت اور پاپائیت تو تاریخ کی ناقابل تردید شہادت ہے۔

ترکی میرا احساس ہے کہ اسلام، سیکولرازم اور قومیت کا ایک قابل عمل امتزاج بن چکا تھا۔ اگر اس امتزاج کو سامنے رکھتے ہوئے ترکی کا سفر جاری رہتا تو اس میں مسلم دنیا کیلئے ایک رول ماڈل بننے کے امکانات موجود تھے۔ میرے دوست فرخ سہیل گوئندی اگر اس موضوع پر قلم اٹھائیں تو یہ بحث آگے بڑھ سکتی ہے۔ ترکی پر انکے کالموں کا مجموعہ ترکی ہی ترکی معاصر ترکی کو سمجھنے کیلئے بہت اہم ہے۔ مسلم دنیا کو آج ایک نیا فکری پیراڈائم چاہیے۔ تیونس کے راشد غنوشی شاید واحد آدمی ہیں جو اس بات کو سمجھ رہے ہیں۔

---------------------
بشکریہ روزنامہ "دنیا"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند