تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بالادستی کیلئے بھارتی ہتھکنڈے !
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 9 شوال 1441هـ - 1 جون 2020م
آخری اشاعت: پیر 27 شعبان 1436هـ - 15 جون 2015م KSA 10:19 - GMT 07:19
بالادستی کیلئے بھارتی ہتھکنڈے !

سچائی ہزار پردوں میں بھی اپنا جلوہ دکھا کر رہتی ہے۔ گمراہ کرنے اور ورغلانے کے لاکھ جتنوں کے باوجود بھارت کے حکمران بنگلہ دیش کو اپنی ذیلی ریاست بنا سکے ہیں نہ بنگلہ دیشی عوام کے ذہنوں پر اپنا تسلّط جما سکے ہیں۔ جھوٹی دوستی اور پُرفریب خیرسگالی کے ہتھکنڈے کارِ لاحاصل ہی رہے ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف بھارتی تھنک ٹینک ابوالکلام آزاد انسٹی ٹیوٹ آف ایشیئن سٹڈیز کے چیئرمین سیتا رام شرما کو ان الفاظ میں کرنا پڑا ہے۔ ’’بھارت بنگلہ دیش کے عوام کو یہ باور کراتا ہے کہ پاکستان ان کا دشمن ہے لیکن بنگلہ دیش میں ہر پریشان کن واقعہ کے پیچھے بھارتی ہاتھ تلاش کرنے کا قدرتی رجحان موجود ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ بنگلہ دیش میں پاکستانی پرچم جلانے اور پاکستانی سفارت کاروں کو نکالنے جیسے مطالبات میں بھارت کا ہاتھ ہے۔‘‘ جہاں تک حسینہ واجد کی حکومت کا تعلق ہے یہ تو بھارتی سرپرستی اور حمایت کی بیساکھی پر ہی کھڑی ہے۔

2014ء کے انتخابات میں بنگلہ دیش اپوزیشن نے الیکشن کے بائیکاٹ کا غیر دانشمندانہ اور غیر سیاسی فیصلہ کیا جسکے نتیجے میں عوامی لیگ کے امیدوار بڑی تعداد میں کامیاب قرار دے دیئے گئے پوری دنیا نے ان انتخابات کو تسلیم نہیں کیا تھا حتیٰ کہ اقوام متحدہ اور دولت مشترکہ نے تو مبصرین بھیجنے سے انکار کر دیا تھا لیکن بعد ازاں حسینہ واجد حکومت کو تسلیم کر لیا گیا۔ اس کا پس منظر بھی چشم کشا ہے۔ 2013ء میں بنگلہ دیش کے سب سے بڑے دینی ادارے دارالعلوم ہٹ ہزاریہ کے شیخ الحدیث مفتی احمد شفیع نے ’’حفاظتِ اسلام‘‘ کے نام سے عوامی لیگ کی اسلام مخالف پالیسیوں کیخلاف ایک بڑی تحریک چلائی جسے حسینہ واجد نے ظالمانہ انداز سے کچل دیا اس سے ملک میں اسلامی انقلاب کی پیدا ہونیوالی اُمید قدرے دم توڑ گئی‘ تاہم یہ امریکہ اور مغرب کو گوارا نہیں تھی اس لئے امریکی پالیسی سازوں کی خواہش تھی کہ ملک میں اسلامی انقلاب کی راہ روکنے کیلئے خالدہ ضیاء کی بی این پی کو اقتدار میں آنے دیا جائے جس کی پالیسیاں اگرچہ اسلامی نہیں ہوں گی مگر اسلام مخالف بھی نہیں ہونگی اور اس طرح اسلامی انقلاب کے حامیوں کی سرگرمیوں میں ٹھہراؤ آ جائیگا اور انہیں ظالمانہ انداز سے کچلنے والی حسینہ واجد کا چہرہ اقتدار کے منظر نامے سے غائب ہونے کی صورت میں شدید ردِعمل کی فضا باقی نہیں رہے گی لیکن اپوزیشن کے بائیکاٹ کے فیصلے نے حسینہ واجد کے اقتدار کی راہ دوبارہ ہموار کر دی۔

حسینہ واجد اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ سے نہیں بلکہ اپوزیشن بائیکاٹ کے نتیجے سے اقتدار میں آئی ہیںاور اسکی کمزور حکومت اسلامی ذہن رکھنے والوں کے شدید ردِعمل کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ چنانچہ اس نے اسلام پسندوں کو دباؤ میں لانے کیلئے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو 1970ء میں پاکستانی فوج کی مدد کرنے کے ’’جرم‘‘ میں پھانسیاں دینے کا سلسلہ شروع کیا حکومت پاکستان کی جانب سے ’’پُراسرار‘‘ خاموشی اسکی تقویت اور اسلام پسندوں پر نفسیاتی دباؤ کا باعث بنی جس پر امریکہ اور مغرب نے بھی اسکی جانب سے آنکھیں بند کر لیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ بنگلہ دیش میں نہ صرف مکتی باہنی کی قبروں پر حاضری دی اور کھل کر کہا کہ بنگلہ دیش کا قیام ہربھارتی خواہش تھی بنگلہ دیش کے صدر عبدالحمید نے اٹل بہاری واجپائی کیلئے فرینڈ آف بنگلہ دیش کا ایوارڈ مودی کے حوالے کیا جو بنگلہ دیش کے قیام میں معاونت کا اعتراف ہے۔ ایسے ہی ایوارڈز پاکستانیوں کو دیئے گئے جن میں فیض احمد فیض، حبیب جالب، غوث بخش بزنجو اور وارث میر شامل ہیں میں گمان رکھتا ہوں یہ افراد زندہ ہوتے تو شاید یہ ایوارڈز قبول نہ کرتے انکے لواحقین کو یہ ایوارڈز واپس کر دینے چاہئیں بصورتِ دیگر انکی حب الوطنی داغدار رہے گی۔

’’را‘‘ سمیت بھارت کی خفیہ ایجنسیاں اکھنڈ بھارت کا خواب پورا کرنے کیلئے ایک نیا کھیل شروع کر چکی ہیں بنگلہ دیش کو بھارت میں ضم کرنے کیلئے تقسیم بنگال کیخلاف پروپیگنڈہ مہم شروع کر دی گئی ہے اور بنگلہ دیش کے عوام بالخصوص نوجوانوں کے ذہنوں میں جو زہر بھرا جا رہا ہے کہ قائداعظم کی ضد کی وجہ سے بنگال تقسیم ہوا حالانکہ بنگال اور پنجاب کی تقسیم پنڈت نہرو کی ہٹ دھرمی کا نتیجہ تھی جسکی گواہی خود ہندوؤں کے بھارتی اخبارات نے بھی دی ہے۔ 20 جون 1946ء کو بنگال کی قانون ساز اسمبلی کے 58 ہندو ارکان نے تقسیم بنگال کے حق میں 21 مسلمان ارکان نے تقسیم کیخلاف ووٹ دیئے۔ ہفت روزہ ’’جھنڈا‘‘ کی 13 مئی 1992ء کی اشاعت میں ہے کہ پنڈت نہرو نے ہندوئوں کو اس خوف میں مبتلا کردیا تھا کہ اگر بنگال تقسیم نہ ہوا تو آبادی میں 6 فیصد زیادہ مسلمان ہمیشہ ان پر راج کرینگے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بنگال کی تقسیم کا ذمہ دار ہمیشہ مسلم قائدین کو ٹھہرایا گیاہے جبکہ اخبار ’’دی ہندو‘‘ اشاعت 13 مئی 1947ء میں لکھتا ہے کہ ’’ اگر پاکستان بھارت کے مغربی حصے میں قائم کیا جائے تو محمد علی جناح کو آئین ساز اسمبلی میں بنگال کی شمولیت پر اعتراض نہیں جبکہ ’’مہاتما گاندھی، دی لاسٹ فیز‘‘ جلد دوم صفحہ 178 پر تحریر ہے۔ جواہر لعل نہرو کا موقف یہ تھا کہ اگر بھارت کو تقسیم کرنا ہے تو بنگال کو تقسیم کرنا ہوگا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کے بقول قائداعظم نے پرزور اور وزنی دلائل دیئے کہ بنگال اور پنجاب کی تقسیم کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔‘‘

قائداعظم کو لارڈ مائونٹ بیٹن کی اس دھمکی پر تقسیم بنگال بادل نخواستہ قبول کرنا پڑی کہ اگر 3 جون کی تجویز کو قبول نہ کیا گیا تو بھارت کی باگ دوڑ اکثریتی کانگریس پارٹی کے سپرد کردی جائیگی۔ ان تمام حقائق کے باوجود بنگلہ دیشی عوام کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ بنگال میں پائی جانیوالی لکیر(سرحد) قائداعظم کی ضد کا نتیجہ ہے جسے ختم ہونا چاہیے بھارت نے پاکستان کو سارک میں بے اثر کرنے کیلئے بی بی آئی این کے نام سے ہی پلیٹ فارم بنایا ہے جس میں بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال شامل ہونگے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ ریل اور روڈ کے رابطے بھی بحال کیے جارہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے عوام کو رجھانے کیلئے 20 کروڑ امریکی ڈالر کی امداد اور دو ارب ڈالر کا قرضہ دیا جائیگا اسکے ساتھ ہی سائوتھ ایشین یونین کی نئی اصلاح متعارف کرانے کی کوشش کی جارہی ہے اسکے پرچارک کلدیپ نائر کی کتاب کی رونمائی دہلی کی بجائے ڈھاکہ میں کی گئی جسے بنگلہ دیش پر بھارت کی عملی بالادستی کی جانب ایک قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

 بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند