تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی اور سری لنکا امیں جمہوری احتساب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 27 شعبان 1436هـ - 15 جون 2015م KSA 10:07 - GMT 07:07
ترکی اور سری لنکا امیں جمہوری احتساب

وہ لوگ جو جمہوریت کو بے عملی کے طعنے دیتے ہیں، کو ترکی کی طرف دیکھنا چاہیے کہ وہاں جس طرح عوام نے اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے کل انتہائی پرکشش اور طاقت ور سیاست دان اور جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال کو گھر کی راہ دکھائی تھی، اسی طرح آج طیب اردوان جو 2002ء سے اقتدار میں تھے، کے طاقتور صدر بننے کے خواب کو بھی عوام نے ووٹ کی طاقت سے ہی چکنا چور کیا ہے۔ ترکی سے ہزاروں میل دور، سری لنکا میں ایک اور طاقت ور حکمران ، مہندارا جاپاکسی، کی مطلق العنانی کو بھی ووٹروں نے ہی زمین بوس کیا تھا۔ انتخابات میں شکست سے پہلے مہندارا جاپاکسی نے اپنی صدارت کے دور میں حکومت کو اپنی مٹھی میں اس طرح جکڑ رکھا تھا کہ سری لنکن حکومت ایک خاندان کی حد تک سمٹ چکی تھی۔ تاہم انھوں نے یہ امید کرتے ہوئے قبل ازوقت انتخابات کا اعلان کر دیا کہ وہ اپوزیشن کو اچانک جا لیں گے، اس وقت اپوزیشن انتخابات کے لیے تیار نہیں ہوگی، چنانچہ وہ ایک مرتبہ پھر فاتحانہ طریقے سے ایوان مین داخل ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ تاہم ہوا یوں کہ اچانک اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد ایک دیوار بن کر ان کے راستے کھڑا دکھائی دیا۔ اس نے ایک خاندان کو حکومت سازی اور اپنی من مانی کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

ایک مرتبہ سر ونسٹن چرچل نے کہا تھا۔ جمہوریت سوائے ان کے جنہیں ابھی تک آزمایا نہیں گیا ہوتا، بدترین نظام ہی تشکیل دیتا ہے۔ بے شک ترکی میں فوجی حکمرانی کوئی نئی بات نہیں۔ اس ملک نے بار ہا براہ راست یا پس پردہ فوجی جنرلوں کو حکومت چلاتے دیکھا ہے۔ اسکا کریڈٹ بہت حال طیب اردوان کو جاتا ہے کہ انھوں نے جنرلوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے واپس بیرکوں میں بھیج دیا۔ مسٹر اردوان کی جماعت اے کے پارٹی کے دور میں ترکی کی معیشت نے بھی خاطر خواہ ترقی کی، تاہم حال میں یہ انحطاط پذیر ہونا شروع ہو گئی اور اس سے اردوان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ حالیہ انتخابات میں اے کے پارٹی کے حاصل کردہ ووٹ پچاس فیصد سے کم ہو کر اکتالیس فیصد رہ گئے تھے۔ کولیشن حکومت کے قیام کے امکانات سے سٹاک مارکیٹ آٹھ فیصد تک گر چکی ہے جبکہ ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر بھی تیزی سے کم ہوتی دکھائی دی۔

سری لنکا میں بھی یہی صورت حال دکھائی دی جہاں روپے کی قدر کئی برسوں کی نچلی ترین سطح پر ہے۔ کولیشن حکومت نے کئی ایک ترقیاتی منصوبے ختم کر دیے جبکہ آنے والے عام انتخابات کی وجہ سے سیاسی اور معاشی عدم استحکام دکھائی دیتا ہے۔ یکے بعد دیگرے نکالے گئے کئی ایک جلوسوں میں راجا پاکسی کے حامیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے رہنما وزیر اعظم کے عہدے کے لیے میدان میں آئیں۔ ایسا لگتا ہے کہ راجاپاکسی اپنے حامیوں کے اس مطالبے کو منظور کرتے ہوئے وزارت عظمی کے امیدوار بن کر سامنے آئیں گے۔ گزشتہ جنوری کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں راجا پاکسی کو غیر متوقع طور پر شکست سے دوچار ہوتا دیکھ کر میرے سری لنکن دوست بہت خوش ہوئے تھے، لیکن وہ بھول گئے کہ شکست خوردہ سابق صدر بہر کیف 47 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ وہ آج بھی دیہی علاقوں میں موجود سنہالی آبادی کے مقبول ترین رہنما ہیں۔

ترکی میں اے کے پارٹی ڈالے گئے ووٹوں کا 41 فیصد لینے میں کامیاب رہی، اور اس طرح یہ 258 نشستوں کے ساتھ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت بن گئی۔ تاہم حکومت سازی کے لیے اسے اٹھارہ ووٹ مزید درکار ہیں۔ اس مقصد کے لیے کسی اور جماعت کے ساتھ مل کر حکومت بنانا بہر حال ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ اسکی قریب ترین نظریاتی جماعت نیشنل ایکشن پارٹی ہے۔ یہ جماعت پی کے کے ، جو علیحدگی پسند کردوں کی جماعت ہے اور انقرہ کے خلاف کئی عشروں سے جاری جد و جہد کو لیڈ کر رہی ہے، کے ساتھ اے کے پارٹی کے مذاکرات کی سختی سے مخالفت کر رہی ہے۔ ترکی میں ہونے والے انتخابات کا سب سے حیران کن پہلو پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کا ابھر کر سامنے آنا ہے۔ یہ بھی کرد پارٹی ہے جس نے بائیں بازو کے سیکولر سوچ رکھنے والے ترکوں کو متاثر کیا ہے۔ انتخابات میں یہ جماعت 13 فیصد ووٹ لینے میں کامیاب رہی۔ ترکی کے انتخابی قوانین کے مطابق ایک جماعت کو پارلیمنٹ میں داخلے کے لیے کم از کم دس فیصد ووٹ لینا ضروری ہوتا ہے۔ اگر یہ ایسا نہ کر سکے تو اس کی نشستیں سب سے بڑی جماعت کو مل جاتی ہیں۔ اس سے پہلے بہت سے کرد شہری اے کے پارٹی کی حمایت کرتے تھے ، چنانچہ اسے حکومت سازی کے لیے کسی کولیشن پارٹنر کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ چونکہ اب اسے کسی کولیشن پارٹنر کی ضرورت ہے تو ہم ترکی میں افہام و تفہیم کو فروغ پاتے دیکھیں گے۔

تاہم اس وقت بہت سے کرد شہری حکومت سے ناراض ہیں کیونکہ اس نے عراق اور شام میں ان کے کرد رشتہ داروں کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ درحقیقت ترک حکومت کے بارے میں تاثر ہے کہ شام میں لڑنے والے انتہا پسند گروہوں ، بشمول داعش، کی حمایت کر رہی ہے۔ ہمسایہ ممالک میں ہونے والی خانہ جنگی میں غری ضروری مداخلت کے نتیجے میں ترکی میں پناہ گزینوں کی بھاری تعداد بھی آباد ہو چکی ہے۔ اس سے خارجہ امور اور معیشت کے حوالے سے طیب اردوان کی شہرت کو یقینی طور پر نقصان پہنچا لیکن سب سے بڑھ کر انہیں ایک غیر لچک دار رہنما کے طور پر دیکھا جانے لگا تھا۔ دو سال پہلے استنبول کے غازی پارک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اردوان انتظامیہ نے بہت سختی سے کام لیا۔ ان کے سیاسی مخالف ان پر سی آئی اے، موساد اور کرد علیحدگی پسندوں کا ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ کئی برسوں سے بننے والے عظیم الشان منصوبے دراصل اردوان کی انا کا اظہار تھے۔ حتی کہ وہ یروشلم کو آزاد کرانے کا دعوی کرتے ہوئے دور جدید کے صلاح الدین کہلانے کے لیے تیار تھے۔ ان کے انقرہ میں بننے والے نئے صدارتی محل کے ایک ہزار سے زائد کمرے ہیں اور اس پر تقریبا 650 ملین ڈالر لاگر آئی ہے۔ اس نئی عظیم الشان عمارت کی تعمیر کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ پرانی عمارت میں کاکروچ بہت تھے۔

ترکی اور سری لنکا میں پیش آنے والے حالیہ سیاسی واقعات میں ایک اور مشابہت یہ ہے کہ دونوں ممالک میں دبی ہوئی اقلیتوں ، کرد اور تامل کے لیے کچھ امکانات پیدا ہوتے دکھائی دیئے ۔ ترکی میں پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کا ابھر کر سامنے آنا خوش آئند پیش رفت ہے کیونکہ اس سے کردوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اسی طرح سری لنکا میں متھرائی پالاسری سینا اپنے پیش رو مہندرا راجاپاکسی کی نسبت تامل آبادی کے مطالبات پر کان دھرنے کے لیے زیادہ تیار ہیں۔ سری سینا نے تامل اکثریت والے علاقوں میں فوجی کیمپوں کی تعداد بھی کم کرتے ہوئے خوف اور جبر کی جگہ ہم آہنگی اور برداشت کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ترکی میں نئی پارلیمنٹ کی حلف برداری کے پینتالیس دن کے اندر اندر کولیشن کا بننا لازمی ہوتا ہے۔ اس طرح اے کے پارٹی کو جلد ہی کسی سے اتحاد بنانا ہوگا۔ اس طرح ترکی اور سری لنکا آنے والے دنوں میں دلچسپ سیاسی تبدیلیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ عوام دوست فیصلے کیے جائیں گے۔ دوسری طرف غیر جمہوری ملک جنگ و جدل کے ذریعے اپنے معاملات طے کرنے کے در پے ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند