تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایبٹ آباد آپریشن ۔ مغربی میڈیا کے من گھڑت انکشافات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 ذوالحجہ 1440هـ - 25 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 29 شعبان 1436هـ - 17 جون 2015م KSA 17:27 - GMT 14:27
ایبٹ آباد آپریشن ۔ مغربی میڈیا کے من گھڑت انکشافات

مغربی میڈیا کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ دہشت گردی کے مختلف واقعات کو بنیاد بنا کر یا اسامہ اور ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے نئے نئے انکشافات کر کے پاکستان کو بدنام کیا جائے۔ گزشتہ دنوں معروف امریکی صحافی سیمور ہرش نے لنڈن ریویو آف بکس کیلئے لکھے گئے اپنے مضمون میں ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے من گھڑت انکشافات کر کے اسامہ بن لادن کے گڑے مردے کو ایک بار پھر اکھاڑنے کی کوشش کی ہے۔ سیمور ہرش کے بقول پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے قتل کے حوالے سے صرف ڈرامہ رچایا گیا تھا۔ ہرش نے اپنی رپورٹ میں یہ دعوی بھی کیا ہے کہ اسامہ 2006ء سے پاکستانی ایجنسی کے کنٹرول میں تھا جسے برادر عرب ملک کی مالی مدد سے ایبٹ آباد میں روپوش رکھا گیا تھا۔ ہر ش کے بقول سی آئی اے کو اسامہ بن لادن کے ٹھکانے سے متعلق علم کسی خط یا کوریئر سے نہیں بلکہ پاکستانی انٹیلی جنس کے ایک اہلکار کے ذریعے ہوا جس نے امریکی سی آئی اے کو اسامہ سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ امریکی صحافی کے بقول پاکستانی ایجنسی کا ایک افسر اسلام آباد میں قائم امریکی سفارتخانے آیا جس نے اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا انکشاف کرتے ہوئے انعام کے طور پر 25ملین ڈالر طلب کئے لیکن مذکورہ مخبر کو اہل خانہ سمیت امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن منتقل کر دیا گیا جہاں وہ آج کل امریکی سی آئی اے کیلئے بطور کنسلٹنٹ خدمات انجام دے رہا ہے۔

ہرش سیمور نے اپنی رپورٹ میں یہ دعوی کیا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والا امریکی آپریشن ، امریکہ کی خفیہ کارروائی نہیں تھی بلکہ آپریشن کے بارے میں پاکستانی اداروں کو بھی علم تھا۔ ہرش کے بقول پاکستان اور امریکہ کے مابین طے پانے والے معاہدے کی رو سے امریکہ کو اسامہ کی موت کا اعلان ایک ہفتے کی تاخیر سے کرنا تھا تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ اسامہ کی مود افغانستان میں ڈرون حملے میں ہوئی لیکن بد قسمتی سے ایبٹ آباد آپریشن کےدوران امریکی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جس کے بعد امریکہ کو یہ خدشہ ہوا کہ اسامہ کی موت کی خبر زیادہ دیر تک خفیہ نہیں رکھی جا سکتی چنانچہ اسی رات امریکی صدر نے پاکستان کو ڈبل کراس کر کے اپنی قوم سے خطاب کے دوران یہ اعلان کیا کہ کئی ماہ کی سخت جدوجہد، محنت اور کوششوں کے بعد امریکی نیوی سیلز کے کمانڈوز نے پاکستان کو بتائے بغیر پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں آپریشن کر کے اسامہ کو مار ڈالا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نیڈ پرائس نے سیمور ہرش کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ سیمور ہرش کا مضمون اغلاط اور بے بنیاد دعوؤں سے پر ہے، اسکا یہ کہنا درست نہیں کہ ایبٹ آباد آپریشن امریکہ کی یکطرفہ کارروائی نہیں بلکہ پاکستان بھی آپریشن میں شریک تھا۔ بدقسمتی سے ہرش کی اسامی بن لادن کے بارے میں لکھی گئی کہانی پہلے پیراگراف سے اختتام تک جھوٹ کے سوا کچھ بھی ثابت نہیں کرتی کیونکہ ہرش کا بغض و عناد کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جا ایسی کہانیاں لکھ کر پاکستان اور پاکستان کی مسلح افواج کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ہرش کا یہ دعوی تسلیم کر لیا جائے کہ ایبٹ آباد آپریشن پاکستان اور امریکہ کا مشترکہ آپریشن تھا تو آپریشن کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدگی کا شکار نہ ہوتے۔ میں آج کل میک اے وش فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی کانفرنس میں شرکت کیلئے یورپ آیا ہوا ہوں۔ یہاں کے اخبارات اسامہ بن لادن کے لکھے گئے وہ خطوط شائع کر رہے ہیں جو اسامہ نے ایبٹ آباد میں قید کے دوران اپنے اہل خانہ کو لکھے تھے۔ اس سے قبل امریکی اخبارات بھی اسامہ کے لکے گئے خطوط شائع کر چکے ہیں جن کے بارے میں امریکہ نے یہ دعوی کیا ہے کہ یہ خطوط اسامہ بن لادن کے کمپیوٹر سے برآمد ہوئے تھے جنہیں امریکی ایجنسیاں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد اپنے ساتھ لے گئی تھیں۔

قابل غور بات یہ ہپے کہ کسی خط میں بھی اسامہ نے ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ پاکستانی ایجنسیوں کی قید یا تحویل مین ہیں۔ امریکی صحافی سیمور ہرش کی رپورٹ سے قبل ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں کئی مضامین اور کتب شائی ہو چکی ہیں جبکہ متعدد فلمیں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں اسامہ بن لادن کے گڑے مردے اکھاڑنے اور ایبٹ آباد آپریشن پر نئے نئے سوالات اٹھانے کی کوشش کی جا چکی ہیں تاکہ اسامہ بن لادن اور ایبٹ آباد آپریشن کے معاملے کو ہوا دے کر پاکستان اور پاکستان کی مسلح افواج کو بدنام کیا جا سکے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2011ء میں وزیر اعظم یوست رضا گیلانی نے ایبٹ آباد آپریشن کے اصل حقائق منظر عام پر لانے کیلئے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایبٹ آباد کمیشن قائم کیا تھا جس نے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا سمیت 200 سے زائد فوجی افسران ، سیاستدانوں اور اعلی حکام کے بیانات قلمبند کئے تھے لیکن صدر پاکستان وزیر اعظم اور آرمی چیف نے اپنے بیانات قلمبند نہیں کروائے تھے۔

ذرائع کے مطابق ایبٹ آباد کمیشن نے رپورٹ منظر عام پر آنے کے خدشے کے پیش نظر حکومت کو 100 سے زائد سفارشات ہاتھ سے لکھ کر پیش کی تھیں کیونکہ کمیشن کی رپورٹ میں بعض خفیہ اور حساس معلومات بھی شامل تھیں۔ ذرائع کے بقول ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال سمیت تمام اراکین نے وزیر اعظم پاکستان کو ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ پیش کرنے سے قبل رپورٹ منظر عام پر نہ لانے کا حلف لیا تھا اور کمیشن کے آخری اجلاس میں کمیشن کے سربراہ نے رپورٹ کی سفارشات و نتائج خود اپنے ہاتھ سے لکھی تھیں۔ ذرائع کے مطابق کمیشن کی رپورٹ دو حصوں پر مشتمل تھی جس میں کمیشن نے افواج پاکستان اور حساس اداروں کے حوالے سے بعض خفیہ معلومات منظر عام پر نہ لانے کی سفارش کی تھی جبکہ منظر عام پر آنے والی رپورٹ دراصل وہ رپورٹ ہے جسکے بعض مندرجات کمیشن کے اراکین نے تحقیقات کے دوران نوٹ کئے تھے۔

ذرایع کے مطابق ایبٹ آباد کمیشن نے وزیر اعظم پاکستان کو اپنی رپورٹ 4 جنوری 2013ء کو پیش کی تھی جسے اب تک منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مئی 2011ء کو ایبٹ آباد میں ہونے والا امریکی آپریشن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جسکے بارے میں قوم آج 2 تک تذبذب کا شکار ہے اسے آپریشن کے حوالے سے مسلسل اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے نئے نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں، ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہ لانے سے مختلف خدشات جنم لے رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے تاکہ عوام کو نہ صرف اصل حقائق سے آگاہی حاصل ہو سکے بلکہ مغربی میڈیا کے من گھڑت نئے نئے انکشافات کا سدباب بھی کیا جا سکے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند