تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی کے حالیہ انتخابات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 29 شعبان 1436هـ - 17 جون 2015م KSA 16:23 - GMT 13:23
ترکی کے حالیہ انتخابات

پارٹی کی کامیابی حکومت سازی کے لیے مطلوب نشستوں میں پندرہ سولہ کی کمی پر اٹک گئی ہے ۔ملک کے اندر لبرل، سیکولر، سوشلسٹ حلقے توان نتائج پر شادیانے بجا ہی رہے ہیں لیکن بیرونِ ترکی وہ ساری قوتیں اس پر بے انتہا خوشی کا مظاہرہ کر رہی ہیں جن کو طیب اردگان اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ (AK) پارٹی کانٹے کی طرح کھٹک رہی تھی ۔اس پارٹی کو تیرہ برس کی مسلسل کامیابیوں کے بعد یہ دھچکا لگا ہے اور وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔عالمی اسلامی تحریکیں جو اردگان اور AK پارٹی کی سیاسی فتح مندیوں کو اسلام کی فتح مندی،اسلامی کاز کی تقویت اور دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں اٹھنے والی ایک مضبوط اور مؤثر آواز سمجھتی تھیں وہ بھی اس شکست پر کسی قدر دل گرفتہ محسوس ہو رہی ہیں۔

یاد رکھنے کی چیز یہ ہے کہ اللہ سُبحانہٗ تعالیٰ کی اپنی سُنت یہ ہے کہ وہ دنوں کے اُلٹ پھیر سے سب کو دوچار کرتا رہتا ہے۔تِلْکَ الًاَیَّامُ نُدَاوِ لُہَا بَیْن َ النَّاسِ (یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں) کا قانونِ اِلٰہی حرکت میں رہتا ہے۔میدانِ جنگ کی طرح گروہوں اور پارٹیوں کو سیاست اور انتخابات میں بھی زخم لگتے ہیں۔اِنْ یَمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗ (اگر تمہیں (شکست کی) چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے (سیاسی) مخالفین کو بھی لگ چکی ہے )۔کبھی کبھی کوئی گروہ اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر اور ناقابلِ شکست سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتا ہے ۔اپنی (ووٹروں کی ) کثرتِ تعداد پر اسے ناز ہوتا ہے تو وہاں وہ اصول کارفرما ہوتا ہے جو غزوہِ حنین میں اہلِ ایمان پر لاگو ہوا تھا۔AKP کی بلدیاتی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد اس کے صدارتی امیدوار جناب طیب اردگان کی ظفرمندی ابھی کل کی بات ہے لیکن دلوں کی دنیا کو وہی ذات جانتی ہے جو عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْر ہے۔

کیا معلوم پے در پے کامیابیوں نے AKP والوں کو کیسی کیسی خوش فہمیوں میں ڈالا ہو اوران کے دلوں میں فخر و تکبّرکی کیسی کیسی لہریں اٹھی ہوں۔جناب طیب اردگان کے لیے ہمارے دلوں میں جو عقیدت و محبت تھی اور ان کی کامرانیوں کے لیے جو خواہشیں تھیں،ان کے پیچھے ان کی دینی غیرت، جُرأت و بے باکی ، اُمتِ مسلمہ کے لیے دردِ دل اور ان کی بہت سادہ طرزِ بود و باش بنیادی چیزیں تھیں۔نئے صدارتی محل پر ان کے سیاسی مخالفین نے جو اعتراضات کیے، خود ان کے چاہنے والوں کو بھی یہ محل ان کی سادہ زندگی سے میل کھاتا محسوس نہیں ہوا۔ اب بھلے وہاں کیسے کیسے تھِنک ٹینک بیٹھے مستقبل کی سیاسی، سماجی،معاشی نقشہ گری ، تحقیق اور منصوبہ سازی میں مصروف ہوں لیکن انہوں نے ترکی کو اقتصادی اعتبار سے جن بلندیوں سے ہمکنار کیا اور عالمی برادری میں اسے جو باوقار مقام دلایا اس کی ساری پلاننگ یہ تھِنک ٹینک اس صدارتی محل میں بیٹھے بغیر بھی کرتے رہے۔

شاید ترک عوام بھی اس پر خوش نہیں تھے ۔انتخابی مہم کے دوران میں وزیرِ صحت اپنے حلقے میں campaign چلا رہے تھے تو ایک بزرگ ووٹر نے انہیں کہا:’ …اب کی بار ہم AKP کے بہت سختی سے کان کھینچیں گے ۔‘وزیرِ موصوف نے بزرگ سے جواب میں کہا:’..ہمارے کان ضرور کھینچیں لیکن یہ یاد رکھیے گا کہ کہیں ہمارے کانوں کے سوا آپ کے ہاتھوں میں کچھ بھی نہ آئے ..‘ . وہی ہوا ۔ ترک عوام نے AKP کی گوشمالی کر لی لیکن ان کے پلے کچھ نہیں پڑا۔اگر ملکی اور قومی مفاد ذاتی اور پارٹی مفاد پر فوقیت رکھتا ہو، نظام مستحکم ہو، سیاسی روایات مثبت ہوں، آئین کی بالا دستی ہو اور تمام ادارے اپنے اپنے حدود میں کام کرنے کے عادی ہوں تو کسی بھی سیاسی جماعت کی فتح یا شکست کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔امریکہ اور برطانیہ میں حریف پارٹیاں آٹھ دس سال بعد آگے پیچھے ہوتی رہتی ہیں۔میرے خیال میں AKPکے تیرہ سالہ نشۂِ اقتدار کو اعتدال پر لانے کے لیے یہ دھچکاقدرت کے نظام میں گویا ضروری تھا۔

’محبت فاتحِ عالَم ‘ کا فارمولا سیاست میں سب سے زیادہ کارگر اور مفید ہوتا ہے۔قدامت پسند اور اسلام سے وابستگی رکھنے والے وہ کرد جو امن ، آبرو اور اعتماد کے خواہاں تھے پچھلے تین انتخابات میں ان کے لاکھوں ووٹ AKPکو پڑتے رہے ۔لیکن گزشتہ ایک برس میں طیب اردگان کے لب و لہجے میں کردوں کے بارے میں تلخی غالب رہی۔بندوق اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہ رکھنے والے امن کے خواہاں کردوں نے اس لب و لہجے میں اپنے لیے توہین محسوس کی ۔ان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی سے ہمدردی میں تیزی سے کمی آئی اور حالیہ انتخابات میں ان لاکھوں ووٹوں سے یہ پارٹی محروم رہی۔یہ سارے ووٹ کرد نواز پارٹی HDP کو ملے اور وہ ایک اہم پارٹی کی صورت میں ابھری ہے۔HDP اور AKP میں اتنے فاصلے ہیں کہ اول الذکر کا طیب اردگان کی پارٹی سے کوئی قریبی تعلق بہت دور کی بات ہے۔اب جب کہ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد میں سے AKP سولہ نشستوں کی کمی ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ کسی اور پارٹی کو شریکِ اقتدار کرے اورایک مخلوط حکومت وجود میں آئے۔ انتخاب میں کچھ نہ کچھ وزن حاصل کرنے والی دیگر پارٹیاں ابھی اپنا وزن اور اپنی بولی بڑھانا چاہتی ہیں اور AK پارٹی کے ساتھ شراکتِ اقتدار کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ دیگر سیاسی جماعتوں میں سے بھی کوئی اس قابل نہیں ہے کہAKP سے بالا بالا اکیلی حکومت بنا سکے۔

AKP کی مخالف ساری پارٹیوں کے آپس میں ملنے کے بھی بظاہر کوئی امکانات نہیں ہیں ۔یہ صورتِ حال برقرار رہی تو دوبارہ انتخاب کرانے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔یہاں تول تول کر بولنے والے متواز ن اور معتدل فکر کے مدبر سیاست دان، طیب اردگان کے سابق رفیق اور ایک لحاظ سے محسن اور سابق صدر عبد اللہ گل کا ذکر ضروری محسوس ہوتا ہے۔ان کے بارے میں قیاس کیا جا رہا ہے کہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی اگلے کسی مرحلے پر ان سے پارٹی کی قیادت سنبھالنے کی درخواست کر سکتی ہے۔انہوں نے انتخابی نتائج سامنے آنے پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کوچاہیے کہ سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کریں اوربحران کے حل کے لیے انا کے بجائے وطن دوستی کے جذبے کو بروئے کار لائیں ۔ماضی میں مخلوط حکومتیں بنتی رہی ہیں۔صدر طیب اردگان نے بھی اپیل کی ہے کہ سیاست میں ذاتی انا اور پارٹی تعصب کا دخل نہیں ہونا چاہیے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اردگان جن پارٹیوں کو انا اور تعصب سے بالا ہو کر موجودہ سیاسی صورتِ حال سے نکلنے کی تلقین کر رہے ہیں وہ سب ان پر بھی یہی الزام دھرتی ہیں کہ ان کے اندر انا، تکبر، آمرانہ مزاج اور دوسرے سیاست دانوں کو اہمیت نہ دینے کا رویہ ہے۔ وہ اپنے وزیرِ اعظم اور کابینہ کے ارکان کو بھی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ وزیرِ اعظم کے کرنے کے کام خود اپنے ہاتھ میں لے لیتے تھے۔ خارجہ امور تو گویا وہ خالص اپنی مرضی سے چلاتے تھے۔

10 جون کو انہوں نے ری پبللکن پیپلز پارٹی کے بزرگ پارلیمنٹیرین اور عبوری مدت کے لیے سپیکر جناب دنیز بیکال سے وزیرِ خارجہ کی قیامگاہ پر جو اچانک ملاقات کی وہ وزیرِ اعظم اور سینئر پارٹی ارکان سے مشورے کے بغیرایسی اچانک ملاقات تھی جس پر وزیرِ اعظم داؤد اوغلو کا ردِ عمل گویا ایک نوعیت کا احتجاج تھا ۔ انہوں نے اس ملاقات کے بارے میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر کا حکومت سازی کے عمل میں AKP پارٹی کی طرف سے مذاکرات کے عمل میں کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔یہ کام پارٹی یا عبوری حکومت کا ہے کہ وہ دوسری جماعتوں سے مخلوط حکومت میں شمولیت کے لیے مذاکرات کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدارتی طرزِ حکومت کے بارے میں ’ہمارے ‘ جو ارادے تھے ترک عوام نے اس تصور کو مسترد کر دیا ہے ۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہنا چاہیے کہ جناب طیب اردگان دستوری طور پرAK پارٹی کے نمائندے کے بجائے صدرِ مملکت کی حیثیت میں ملک کی سیاسی جماعتوں کو بحران کے حل کے لیے قائل کرنے کی خاطر ان سے بات چیت کر سکتے ہیں۔مخالفین کا جو اعتراض ہے وہ یہ ہے کہ طیب اردگان اس فریب سے نکلنے کے لیے تیار نہیں کہ وہ ملک کے صدر بھی ہیں، جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ہمہ مقتدر اور مختارِ کل بھی ہیں اور حکومت بھی ان کے تابع ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند