تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امیچور بلاول ہی بہتر ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 2 رمضان 1436هـ - 19 جون 2015م KSA 10:14 - GMT 07:14
امیچور بلاول ہی بہتر ہے؟

پس ثابت ہوا اگر اینٹ سے اینٹ بجائے جانے سے بچنا ہے تو پھر کرپشن برداشت کرنا پڑے گی۔ زرداری صاحب کی تقریر سن کر یاد آیا سکندر بھی پوری دنیا فتح کرنے نکلا تھا اور ہمارے ہی علاقے میں مارا گیا تھ۔ وہ گورے جنکی سلطنت پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا وہ بھی جنگ عظیم دوم کے بعد امریکہ سے ایک ارب ڈالر کا قرضہ مانگ رہے تھے کہ بھاڑ میں جائے سلطنت باقی ماندہ برطانیہ ہی بچا لیں تو بڑی بات ہے۔

تقریر سن کر شیکسپیئر اور قدیم یونانی ڈراموں کے کردار یاد آئے جو اپنے ہی Tragic Flaw کا شکار ہو کر تقدیر کے ہاتھوں مارے گئے۔ خدا نے ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی ایسی خامی رکھ چھوڑی ہے جو اسکے زوال کا سبب بنتی ہے۔

زرداری صاحب کی تقریر کو کیا نام دیا جائے؟ Tragic Flaw یا پھر زرداری کا واٹرلو۔ جو کچھ نپولین کے ساتھ ہوا تھا۔ اتنا غرور کس چیز کا؟

میرا اپنا خیال ہے زرداری صاحب زیادہ ہی خوداعتمادی کا مظاہرہ کر کے پھنس گئے ہیں۔ دوسرے وہ جنرل راحیل شریف کے بارے میں بھی اندازہ لگانے میں غلطی کر گئے ہیں۔ زرداری صاحب کا واسطہ اب تک جنرل مشرف، کیانی اور پاشا سے پڑا تھا۔ جنرل مشرف اقتدار کی شدید ہوس کا شکار تھے اور انہوں نے مارشل لاء کے ایک سال بعد سیاسی کھیل شروع کر دیا تھا۔ جنرل مشرف زرداری سے ڈیل کرتے رہے ، وہ بینظیر بھٹو سے بھی خفیہ ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔ اس لیے زرداری صاحب کو علم تھا کہ جنرل مشرف کو ڈرایا جا سکتا ہے۔ جنرل مشرف کو دھمکی دے کر جھکایا بھی جا سکتا ہے۔ اس لیے جو کچھ بینظیر نے مانگا وہ دینے پر تل گئے تھے۔ تاہم زرداری صاحب کسی دن کونڈولیزا رائس اور وزیر دفاع رمز فلیڈ کی کتابیں پڑھ لیں، یہ دراصل امریکن تھے جو جنرل مشرف کو اس ڈیل پر تیار کر رہے تھے۔ اس سے پہلے جتنی محنت بینظیر بھٹو اور زرداری صاحب نے امریکہ کو رام کرنے کیلئے کی تھی اسکی کہانی اگر کبھی حسین حقانی نے لکھی تو بہت دلچسپ ہوگی۔ اور چھوڑیں زرداری اور بینظیر بھٹو کو۔ بش کے سالانہ روایتی ناشتے کی دعوت لینے کیلئے کیا کیا ترلے کرنے پڑ گئے تھے تاکہ پاکستان میں تاثر دیا جائے کہ وہ بش کے قریب ہو گئے تھے۔

زرداری بھول گئے ہیں وہ جنرل مشرف کی جیل میں تو رہے ہیں لیکن وہ انہی جرنیلوں سے خفیہ ڈیل کرتے رہے اور جیل سے زیادہ وقت انکا پمز ہسپتال میں گزرتا تھا۔ ایک رات وہ بینظیر بھٹو کو بتائے بغیر پز ہسپتال سے امین فہیم کے ساتھ غائب ہوگئے۔ بینظیر بھٹو نے امریکہ سے ویسے ہی فون کیا تو فون بند ملا۔ وہ گھبرا گئیں۔ انہوں نے امریکہ میں ہر پاکستانی صحافی کو فون کر کے کہا کہ انکے خاوند کو جنرل مشرف نے اغوا کر لیا ہے تاکہ انہیں بلیک میل کیا جائے۔ کچھ دیر بعد پتہ چلا زرداری اس وقت آئی ایس آئی کے ایک جنرل کےساتھ اپنے ڈیل فائنل کر رہے تھے کہ وہ پاکستان سے کیسے غائب ہوں گے اور دوبارہ پاکستان نہیں آئیں گے۔ ایک جنرل نے تو زرداری کو اتنا بیوقوف بنایا اور یقین دلایا کہ اگر وہ دبئی سے پاکستان کی فلائٹ لے کر لاہور اتریں اور کچھ ہنگامہ کریں تو ملک مین دوبارہ الیکشن 2005ء میں ہو سکتے ہیں۔ اس جنرل نے اتنی سنجیدگی سے وہ سودا زرداری کو بیچا کہ موصوف فورا تیار ہو گئے۔

وہ منجن زرداری صاحب نے بینظیر بھٹو تک کو بیچ دیا حالانکہ بی بی کو شک تھا انہیں اتنی جلدی جنرل مشرف اقتدار میں کیسے لائے گا۔ زرداری صاحب نے بیانات دینے شروع کر دئے کارکن تیاری کریں۔ اس سال الیکشن ہوں گے۔ چودھری پرویز الہی نے جنرل مشرف سے پوچھا کہ کیا واقعی وہ ان سے جان چھڑا کر پیپلز پارٹی سے اتحاد چاہتے ہیں۔ جنرل مشرف نے چودھری پرویز الہی کو اجازت دی جیسے چاہیں وہ زرداری اور انکے ورکرز کو پھینٹی لگائیں۔ زرداری صاحب کو علم نہ تھا کہ انکے لاہور پہنچنے سے قل بازی پلٹ چکی ہے۔ وہ جنرل انہیں ابھی بھی یہ چونا لگا رہا تھا کہ وہ جونہی اتریں گے انقلاب آ چکا ہوگا۔ ورکر سندھ سے چلے، سب کو پولیس نے پھینٹی لگائی، خود زرداری جہاز سے اترے، ایس پی کیپٹن مبین کا ہاتھ پکڑا اور مرسیڈیز گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے، ورکرز اور صحافی چودھری پرویز الہی کی پولیس کے ہاتھوں مار کھاتے رہے اور بعد میں اسی چودھری پرویز الہی کو ڈپٹی وزیر اعظم بنا دیا۔

اسکے بعد انہیں حوصلہ نہ ہوا کہ پاکستان میں انقلاب لاتے کہ پتہ چل گیا تھا کہ جنرل مشرف اور اسکے جنرل نے انہیں بیوقوف بنایا تھا ۔ اس دن لوٹے جب بینظیر قتل ہوئیں۔

زرداری صاحب کیلئے اقتدار میں آنے کے بعد جنرل کیانی کے ساتھ ڈیل کرنا سب سے آسان کام تھا۔ سب نے بانٹ کر کھایا۔ جنرل پاشا بھی اس بندر بانٹ میں توسیع کی شکل میں حسہ لیتے رہے۔ تاہم جنرل کیانی کو چھ سال آرمی چیف کا عہدہ ملا۔ جنرل کیانی کے ٹھیکیدار بھائیوں کی کہانیاں الٹا زرداری صاحب کے کانوں میں موسیقی بنتی رہیں۔

اس لیے زرداری صاحب خوش تھے کہ ماضی کے جرنیلوں کو جس طرح وہ حصہ دیتے رہے ہیں یا ان سے ڈیلیں کرتے رہے ہین ناب کی بار بھی ان کا غصہ کم دکھائے گا اور جنرل راحیل بھی جنرل کیانی اور پاشا اور جنرل مشرف کی طرھ دب جائیں گے اور ایک آدھ دھمکی کام کر جائے گی۔ سارے غلط زرداری بھی نہیں تھے کیونکہ ماضی میں زرداری کی دھمکی کے بعد مشرف نے صدارت سے استعفی دے دیا تھا جب زرداری نے انہیں پیغام بھیجا تھا کہ وہ چھوڑ دیں وگرنہ پارلیمنٹ انکا ٹرائل کرے گی۔

شاید مقصد اس دفعہ بھی یہی تھا۔ تاہم ایک فرق زرداری نہ سمجھ سکے کہ جنرل راحیل کے کندھوں پر مشرف جیسا بوجھ نہ تھا، کہ ایک دور وہ بھی آیا تھا جب وہ عوام میں اتنے ان پاپولر ہو گئے تھے کہ جی ایچ کیو نے خط جاری کیا تھا کہ فوجی وردی پہن کر مارکیٹ نہ جائیں۔ اس طرح جنرل کیانی کی طرح جنرل راحیل کے بھائی ٹھیکوإ میں الزامات کا سامنا نہیں کر رہے یا زرداری انہیں تین سال مزید توسیع نہیں دے سکتے۔ اس لیے اب کی دفعہ جنرل مشرف اور کیانی کی طرح جنرل راحیل کو زرداری کوئی فائدہ نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں تھے لہذا ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر نہ ہونا تھا۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی نے زرداری صاحب کے اس بیان کو یہ جواز دینے کی کوشش کی کہ بھٹو اور بینظیر بھٹو بھی فوج پر تنقید کرتے رہے۔ میں نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ بھٹو نے کب فوج کے خلاف اسٹینڈ لیا تھا؟ ہاں جنرل ایوب کے خلاف لیا تھا جب وہ صدر تھے اور وہ انکے وزیر خارجہ بن کر رہے۔ اسکے بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ بھٹو تو فوج کے سب سے بڑے حامی تھی۔ جنرل یحییٰ کو بچانے والے وہ تھے۔ نوے ہزار فوجی وہ واپس لائے، ان جرنیلوں کو ترقیاں دیں جو مشرقی پاکستان سے بھاگ آئے تھے۔ سب سے بڑھ کر بھٹو نے حمود الرحمن کمشین رپورٹ شائع نہیں ہونے دی کہ اس سے فوج کا مورال ڈاؤن ہوگا۔ آپ بھٹو کا سپریم کورٹ مین دیا گیا آخری بیان پڑھ لیں جس میں انہوں نے فوج کے لیے دی گئی تمام خدمات کا ذکر کیا کہ وہ ہر موقع پر فوج کے لیے کیا کچھ کرتے رہے۔ فوج کو مضبوط کرنے کیلئے ایٹم بم کی بنیاد رکھی۔ یہ تو جنرل ضیاء تھے جنہوں نے انکو پھانسی لگایا ورنہ بھٹو نے فوج کو کبھی کچھ نہیں کہا۔ فوج کے خلاف پیپلز پارٹی کے جذبات اس وقت مجروح ہوئے جب بھٹو کو پھانسی دی گئی۔

اسی طرح بینظیر بھٹو نے کب فوج کو ٹارگٹ کیا؟ ہاں البتہ جنرل ضیاء کو ٹارگٹ کیا مگر وہ تو درست کیا تھا کیونکہ انکے باپ کو پھانسی دی گئی تھی۔ تاہم بینظیر بھٹو کو پتہ چل گیا تھا کہ انکے باپ سے دو بڑی غلطیاں ہوئی تھیں جنہیں درست کرنے کی انہوں نے بے پناہ کوشش کی اور آخر وہ کامیاب ہو گئیں۔ انکے والد کی پہلی غلطی تھی کہ وہ امریکہ سے ٹکر گئے تھے حالانکہ امریکہ ہی انہیں اقتدار میں لایا تھا۔ امریکہ سے بھٹو کو دشمنی کا کیا فائدہ ہوا؟ پھانسی لگ گئے اور کوئی گھر سے باہر نہ نکلا۔ دوسری غلطی یہ تھی کہ وہ فوج کی طاقت کا غلط اندازہ لگا بیٹھے تھے اور انکا خیال تھا کہ فوج اب بغاوت نہیں کرے گی۔ اس لیے بینظیر بھٹو نے سب سے پہلے امریکہ سے تعلقات درست کیے اور پھر جنرل اسلم بیگ کی شرائط پر ہی اقتدار قبول کیا۔ ہاں بینظیر بھٹو نے اگر فوج پر تنقید بھی کی تو ڈھکے چھپے انداز میں کہ انکا الیکشن چرا لیا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو نے کبھی نہیں کہا کہ وہ فوج کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گی۔

مجھے ترس بلاول پر آ رہا ہے۔ زرداری صاحب کی ایک تقریر نے انکے لیے وہی مشکلات پیدا کر دی ہیں جو کبھی جنرل ضیاء نے بینظیر کیلئے پیدا کی تھیں اور بھٹو خاندان کو سکیورٹی رسک کا درجہ ملا اور ایک ایک کر کے سارے بھٹوز مار دیے گئے۔ بینظیر بھٹو نے بڑی محنت کی تھی کہ وہ امریکہ اور افواج کی پسندیدہ لیڈر بن کر ابھریں۔ انہوں نے فوج کے کہنے پر ہی طالبان کا کھیل افغانستان میں کھیلا اور انہی طالباننے ہی بعد میں انہیں قتل کیا۔ اب بھی وہ فوج کے ساتھ چلنے کیلئے تیار تھیں اس لیے انہوں نے جنرل مشرف سے ڈیل کی تھی۔

زرداری اپنی اننگز تو کھیل چکے لیکن وہ بلاول کیلئے بہت سارے کانٹے بچھا گئے ہیں۔ بلاول کو اب وہیں سے شروع کرنا پڑے گا جہاں سے کبھی بینظیر بھٹو نے شروع کیا تھا۔ ہو سکتا ہے اس دوران بلاول ایک میچور سیاستدان بن کر ابھرے لیکن کیا بلاول کے پاس اپنی ماں کی طرح دس برس کا وقت ہے کیونکہ واٹس ایپ ، ٹوئیٹر اور جدید میڈیا کی موجودگی میں اب دنیا بہت بدل گئی ہے۔
ویسے بلاول بھی سوچتا ہوگا کہ اس کے والد نے اسے ملک سے یہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ اس نے ایم کیو ایم کے خلاف سخت تقریر کر کے سیاسی امیچورٹی کا ثبوت دیا تھا، اب جو کچھ زرداری نے کہا ہے اسکے بعد بلاول چھوڑیں، پیپلز پارٹی کے لیڈرز بھی سوچتے ہوں گے اس میچور زرداری سے تو امیچور بلاول ہی بہتر ہے۔!

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند