تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 3 رمضان 1436هـ - 20 جون 2015م KSA 09:58 - GMT 06:58
پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی

حالی ہی میں پاکستان اور بھارت کے سیاست دان ایک دوسرے کی طرف دھمکیوں اور الزامات کی بوچھاڑ اس طرح جاری رکھے ہوئے ہیں جیسے فیڈرر اور رافیل نڈال بیس لائن سے سٹروکس کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اگرچہ ہمارے سیاست دان ٹینس کے سٹار کھلاڑیوں جیسے گریس اور چستی سے محروم ہیں لیکن میں میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے پر الزامات برسانے میں پوری طرح مستعدد رہتے ہیں۔ یہ کھیل کئی عشروں سے جاری ہے۔ اس سنجیدہ کھیل میں کچھ مزاحیہ موڑ بھی آ جاتے ہیں جیسے بھارت میں سرحد کے قریب محو پرواز کبوتر کو پابند سلاسل کر کے جیل میں بند کر دیا گیا کیونکہ اس پر مبینہ طور پر پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام تھا۔ یہ مضحکہ خیز کارروائی یہ یاد دلانے کے لیے کافی ہے کہ کس طرح پرانی دشمنی کی پختہ زنجیریں تعلقات کو جکڑے ہوئے ہیں۔ کشمیر اور دہشت گردی جیسے الفاظ اسلام آباد اور نئی دہلی کے ورد زبان بن کر دلدل سے ہمہ وقت اٹھنے والی ناخوشگوار بو کی طرح حواس پر اس طرح چھائے رہتے ہیں کہ کچھ اور سجھائی نہیں دیتا۔

کئی برسوں سے میں اس اخبار اور بہت سے دیگر جرائد کے لیے لکھ رہا ہوں اور میرے قاری جانتے ہیں کہ میں نے کسی بھی اور موضوع سے زیادہ ان دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت پر لکھا ہے، لیکن اب تک احساس گہرا ہو چکا ہے کہ ایسا میری زندگی میں ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ایک ایسا وقت بھی تھا جب میں انڈیا سے زیادہ پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتا کہ وہ تعلقات کو معمول کی سطح پر لانے میں پس و پیش سے کام لے رہا ہے لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ اس میں بھارتی پالیسیوں اور رویے کا زیادہ عمل دخل ہے۔ یو این فارمولے سے ہٹ کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مشرف کے آؤٹ آف دی باکس فارمولے ، جسے بھارت نے مسترد کر دیا ، کے بعد سے اس ضمن میں کوئی نئی پیش رفت دکھائی نہیں دی ، چنانچہ یہ معاملہ جمود کا شکار ہے۔

بھارت کی طرف سے یہ مبہم مطالبہ کہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے ، ناقابل فہم ہے اور اس سے مسائل حل ہونے کی طرف مطلق پیش رفت نہیں ہوگی۔ یہ مانا کہ ممبئی حملوں نے کروڑوں بھارتیوں کو لرزا کر رکھ دیا تھا لیکن یہ بات بھارتی پالیسی ساز اور میڈیا اور اسکے ذریعے عام بھارتی بھی جانتے ہیں کہ پاکستان ان گروہوں کے خلاف زندگی موت کی جنگ لڑتے ہوئے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔

اصل اور بنیادی بات یہ ہے کہ انڈیا موجودہ صورتحال سے مطمئن ہے اور اگر نئی دہلی کیلئے کوئی چیز تشویش ناک ہے تو یہ کہ وہ زمینی راستے سے افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے یہ بات واضح الفاظ میں میں بتا رکھی ہے کہ اسکے بارڈر بھارتی ٹرکوں کے لیے صرف اسی وقت کھیلیں گے جب بھارت تمام تنازعات کے مربوط تصیفے پر رضا مند ہوگا۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت دونوں ممالک کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند ہے اور اس سے سرحد پار لاکھوں افراد کی زندگیوں میں آسانی آسکتی ہے مگر ایسے امکانات حکمرانوں کی ترجیح کبھی نہیں رہے۔ دونوں طرف سے شہریوں کے لیے دوسرے ملک کا سفر اختیار کرنا آج بھی اتنا ہی دشوار ہے جتنا پہلے تھا۔ درحقیقت دونوں ممالک پہلے سے زیادہ ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں۔

ایک وقت تھا جب پاکستانی ملٹی اسٹیبلشمنٹ کو اپنے بھاری بھرکم بجٹ کے لیے بھارتی خطرے کا جواز فراہم کرنا پڑتا تھا۔ لیکن اب جہادی گروہ بھارت کی جگہ ہمارے دشمن نمبر ون بن چکے ہیں، لہذا ہمیں بھارتی جارحیت کا ہوا کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں۔ سرحد پار، بھارت کے پاس بھی بھاری بھرکم فوجی اخراجات کیلئے چین کا بہانہ موجود ہے۔ اب چونکہ دونوں ممالک کے پاس فوجی اخراجات کیلئے اپنے اپنے معقول جواز مووجد ہیں، اس لیے کم از کم اسی نکتے کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اسلام آباد اور نئی دہلی باہمی تعلقات کو معمول کی سطح پر لانے میں کوئی قباحت نہیں سمجھیں گے۔ لیکن یہ بھی اپنی جگہ پر حقیقت ہے کہ عشروں سے پروان چڑھنے والی ذہنیت آسانی سے تبدیل نہیں ہوتی۔ چند سال پہلے ایک حاضر سروس جنرل سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس بات کا تصور بھی مشکل ہے کہ بھارت کسی اشتعال کے بغیر ہم پر حملہ آور ہو جائے گا۔ انکا جواب تھا کہ فوج نے دشمن کی حملہ کرنے کی صلاحیت پر نظر رکھنی ہوتی ہے، نیٹ اور ارادوں پر نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کسی بھارتی فوجی افسر سے چین کے حوالے سے یہ سوال کیا جاتا تو اسکا جواب بھی یہی ہوتا۔

اس عرصے میں ایک تبدیلی ضرور آئی، وہ یہ کہ بھارتی رائے عامہ پاکستان کے حوالے سے سخت لب و لہجہ اختیار کر چکی ہے۔ اسکی بنیادی وجہ انتہائی قوم پرست بھارتی میڈیا کی جلتی پر تیل گرانے کی پالیسی ہے۔ یہی میڈیا ہاک سرحد کے دونوں طرف موجود ہیں اور پنچہ آزمائی کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ان حقائق کا جائزہ لینے کے لیے کہ حالیہ برسوں میں نفرت کا توازن کس حد تبدیل ہوا ہے، پاکستان کے 2013ء کے انتخابات کو ایک مثال کے طور پر لے لیں۔ یہاں نواز شریف صاحب نے اپنا انتخابی وعدہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا قرار دیا اور کامیاب ٹھہرے ۔ تاہم بھارتی انتخابات میں آج ایسا منشور کسی بھی رہنما کو یقینی طور پر ووٹوں سے محروم کر دے گا۔ حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شریک ایک بھارتی خاتون نے لکھا کہ جب وہ پاکستان آئی اور لوگوں کو پتہ چلا کہ انکا تعلق بھارت سے ہے تو انھوں نے اسے بے پناہ اپنائیت دی۔

انکے ساتھ بہت دوستانہ انداز میں برتاؤ کیا گیا۔ اپنے آرٹیکل کے اختتام پر وہ لکھتی ہیں کہ پاکستان سے بھارت آنے والے سیاح کو یہاں اس اپنائیت اور گرم جوشی کا عشر عشیر بھی نہیں ملے گا۔ اگر مسئلہیہیں تک ہی محدود ہوتا تو کوئی بات نہ تھی، کیونکہ پاکستانیوں اور بھارتیوں کی نئی نسل مشترکہ تاریخ اور ثقافت سے لاعلم ہے، اس لیے گرم جوشی کی کمی کو نظر انداز کیا جاسکتا تھا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سرحد کے دونوں طرف خوفناک اسلحے کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے اسلحہ خانوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے اضافے نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے ارٹ رینج میزائل فوج کے حوالے کیے ہیں۔ صرف 35 میل کے فاصلے پر ایٹم بم پھینکا بظاہر خودکشی کے مترادف معلوم ہوتا ہے، لیکن اس سے پاکستان کا ارادہ بہت واضح دکھائی دیتا ہے۔

ایسے ہتھیاروں کے استعمال سے نہ صرف دشمن کی بڑھتے ہوئے فوجی دستوں کو تباہ کیا جائے گا بلکہ بھاری شہری ہلاکتیں بھی ہوں گی۔ ہلاکتوں کے بعد عشروں تک زمین تابکاری سے آلودہ رہے گی۔ ان حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جہاں تک ممکن ہو سکے امن کو موقع ملنا چاہیے۔ لیکن امن کے لیے ووٹ دینے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ سرحد کے دونوں طرف سرگرم عمل جنگجو میڈیا اور انتہائی جوشیلے سیاست دانوں کے ہوتے ہوئے امن کی خواہش کا پورا ہونا ممکن نہیں، بس یہی امید کی جانے چاہیے کہ لفظی تصادم کی جگہ ہتھیارنہیں لے لیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند