تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ٹارگت کلنگ : کشمیر نئے عفریت کی زد میں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 6 رمضان 1436هـ - 23 جون 2015م KSA 12:08 - GMT 09:08
ٹارگت کلنگ : کشمیر نئے عفریت کی زد میں

بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کے اس بیان نے کہ عسکریت کے خاتمے کیلئے جنگجوؤں کا استعمال کیا جائے گا اور ٹارگٹ کلنگ کی جائے گی۔ جموں کشمیر میں تشویش اور فکر مندی کی لہر تو دوڑا ہی دی تھی۔ مگر اب لگتا ہے کہ اس پالیسی پر عملی کارروائی بھی شروع ہو چکی ہے اور اسکی زد میں فی الحال شمال کشمیر کا معروف قصبہ سوپور ہے۔ پچھلے کئی ہفتوں سے اس شہر میں ٹارگٹ کلنگ نے خوف و دہشت کی فضا پیدا کر دی ہے۔ نہ ہی ہلاک ہونے والوں کو اپنا قصور معلوم ہے اور نہ ہی قاتل کے مقصد کا پتہ ہے۔ اس وقت ٹارگٹ کلنگ ، عوامی حلقوں سمیت سیاسی پارٹیوں ، مذہبی تنظیموں اور چوک چوراہے میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ چونکہ اکثر مقتول حریت کانفرنس بالخصوص سید علی گیلانی کے ہمدرد یا حمائتیوں میں شمار کئے جاتے ہیں، لہذا لگائے جا رہے ہیں کہ قاتلوں کا مقصد آزادی پسند لیڈرشپ کے اندر خوف و دہشت کی فضا قائم کرنا یا براہ راست گیلانی کی قیادت کو چیلنج کرنا ہے۔

کیونکہ خاص طور پر 2008ء کے بعد گیلانی ہی تحریک آزادی کی معتبر اور موثر آواز کے طور پر کشمیر کی سیاسی بساط پر ابھرے اور پھر چاہے عسکریت پسند بھارت کے ہوں یا پاکستان، انکی آواز یا فیصلہ کو نظر انداز کرنے کا اب حوصلہ کسی کے پاس نہیں۔ 1989ء میں جب تحریک آزادی کے خد و خال سامنے آئے تو لگتا تھا کہ شیخ عبداللہ کی غداری سے سبق حاصل کر کے اسکے خالقوں نے یہ تہیہ کر رکھا تھا کہ اسکی لیڈرشپ مشترکہ ہو تاکہ یہ کسی ایک شخصیت کے حصار میں مرکوز نہ ہونے پائے اور بالخصوص سیاسی لیڈرشپ کو بے وزن کر کے سبھی مہرے نئی نویلی عسکری لیڈرشپ کے پانسے میں ڈالے جائیں۔ اس نقشے میں رنگ بھرنے کا کام بلاواسطہ اس وقت کے بھارتی گورنر جگ موہش نے کیا، جب اس نے پوری سیاسی قیادت کو گرفتار کروا کے بھارت کے دور دراز کے علاقوں کی جیلوں میں ڈال دیا ، جہاں سالوں تک انہیں اخباروں یا کسی اور ذرائع ابلاغ تک رسائی نہیں تھی، حتیٰ کہ ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد تھی۔

اسکا نتیجہ ظاہر ہے، طوائف الملوکی شروع ہو گئی۔ ایک وقت میں کشمیر میں 100 سے بھی زائد عسکری تنظیمیں وجود میں آ چکی تھیں۔ جو بھارتی فوج کا مقابلہ تو کیا کرتیں ، آزادی اور الحاق پاکستان کی بحث میں الجھ کر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگیں۔ عالقائی برتری قائم رکھنے کے مقابلہ کیلئے پاکستان نواز گروپوں نے بھی ایک دوسرے کو شدید نقصان پہنچایا۔ برطانوی مصنفین اینڈرسن لیوی اور کیتھی اسکارٹ نے اپنی مشترکہ تصنیف The Meadows میں لکھا ہے کہ کس طرح جنوبی کشمیر سے حزب المجاہدین کا صفایا کروانے کیلئے بھارتی سکیورٹی فورسز نے ایک اور عسکری گروپ حرکت الانصار کی مدد کی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس وقت حرکت کے سیکرٹری جنرل مولانا مسعود اظہر تھے، جو بھارت سرکار کو انتہائی مطلوب تھے۔

دیگر علاقوں کا بھی یہی حال تھا۔ شمالی کشمیر میں مسلم مجاہدین نامی تنظیم نے بھی اسی طرح کا قہر برپا کئے رکھا، اسکا مالی اور سیاسی کنٹرول آزاد کشمیر کے رہنما سردار عبدالقیوم کے پاس تھا، کسی نے انہیں یہ پٹی پڑھائی تھی کہ وہ بھی لائن آف کنٹرول کے اس طرف قدم جما کر کشمیر کے مقبول لیڈر بن سکتے ہیں۔ اس قتل و غارت کا انجام بہر حال محمد یوسف پرے عرف ککہ پرے عرف جمشید شیرازی کی روپ میں سامنے آیا۔ جس نے سکیورٹی ایجنسیوں کی ایما پر ایک ملیشیا اخوان المسلمون کی بنیاد ڈالی۔ اس نے پہلے جماعت اسلامی اور بعد میں سبھی تنظیموں چن چن کر ہدف بنایا، جو کل تک ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے تھے۔ اخوان نے اس خطے میں قتل و غارت گردی کی ایسی داستان رقم کی کہ کلیجہ دہل جاتا ہے۔ چونکہ کشمیر کی تحریک آزادی کی بنیاد بنگلہ دیش کی مکتی باہنی کی طرز پر رکھی گئی تھی۔ اس لئے سیاسی قیادت کو نظر انداز کرنا یا مخلص لیڈران کو بے وزن کرنا کسی بھی طور پر دانشمندی نہیں تھی۔ کشمیر کا موازنہ جنگ افغانستان سے کسی بھی طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ 1989ء میں عوامی بغاوت اور عسکریت نے نہ صرف انتظامیہ کو مفلوج کر دیا تھا، بلکہ 1989ء سے 1995ء تک کشمیر میں برسرپیکار فوج اور خفیہ محکموں کے افسران کا بھی ماننا تھا کہ عام طور پر سمجھا گیا کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا، بس سفارتی یا فوجی سطح پر ایک دھکے کی دیر ہے۔ عسکری جدوجہد نے تو ابتدائی دور میں ہی اپنے اہداف حاصل کر لیے تھے، مگر ویسا دھکا جو مشرقی پاکستان مٰں بھارتی فوجی مداخلت کی صورت میں آیا کشمیر میں نہیں آ سکا۔ انہی دنوں عراقی آمر صدام حسین نے کویت پر فوج کشی کر کے دنیا کی سفارتی توجہ کشمیر سے ہٹا کر مغربی ایشیا کی طرف موڑ لی۔

2008ء میں کشمیر کی آزادی کی تحریک نے ایک نئی کروٹ لی، جب امرناتھ لینڈایجی ٹیشن کی آڑ میں سیاسی قیادت نے عسکری لیڈرشپ کو پس پشت ڈال کر پہلی بار کمان اپنے ہاتھوں میں لی۔ اب ایسا لگتا ہے کہ سوپور میں ہوئی ہلاکتوں کے ذریعے اس سیاسی قیادت کو کوئی پیغام دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔ چونکہ یہ ہلاکتیں بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے فورا بعد ہوئیں ، اس لئے لگتا ہے کہ حریت پسند قیادت کے اندر خوف و دہشت قائم کرنے کیلئے انہوں نے اس پالیسی کو روبہ عمل لانا شروع کر دیا ہے۔ یا بصورت دیگر کوئی نادیدہ شخصیت سیاسی قیادت سے تحریک کی لگام دوبارہ عسکری لیڈران کے سپرد کروانا چاہتی ہے۔ لیکن سوال ہے کہ آخر سوپور کو ہی کیوں ٹارگٹ کلنگ کیلئے چنا گیا۔ اس سے قبل اس علاقہ میں موبائل ٹاور مالکان کو نشانہ بنایا گیا اور اسکے بعد سماج کے دیگر طبقوں کو یکے بعد دیگرے نشانہ بنا کر دہشت پھیلائی گئی۔

تحریک مزاحمت کے حوالے سے سوپور کو ایک طرح سے مرکزیت حاصل ہے۔ 90ء کی دہائیوں میں بھی جب اخوان یا ککہ پرے کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا، یہ قصبہ انکے شر سے محفوظ رہا شاید اسکی وجہ یہ رہی ہو کہ یہاں کے عوام نے گروہی تصادموں کو اس علاقہ کی طرف رخ نہیں کرنے دیا، 880ء میں راجہ اونتی ورمن کی ایما پر ایک انجینئر حکیم سویہ کے ذریعے دریائے جہلم کے کنارے بسے اس شہر کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ کشمیر کی تاریخ مین اس نے اکثر ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی۔ ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد ہو یا حق خودارادیت کی تحریک، اس شہر نے شیخ محمد عبداللہ کو تب تک پذیرائی بخشی ، جب انہوں نے 1975ء میں وزیر اعظم گاندھی کے ساتھ سمجھوتے پر دستخط کر کے حق خود ارادیت کی تحریک کو دفن کر کے، وزارت اعلی کا منصب سنبھالا۔ شیخ صاحب نے یہاں کے باشندوں کو زندہ دلان سوپور کا نام دیا تھا۔ مگر اسی قصبہ نے اس سمجھوتے کے خلاف بغاوت کر کے ایک نوجوان غلام محمد بلا کی صورت میں پہلا شہید پیش کیا۔ شیخ صاحب کے دست راست صوفی محمد اکبر، جو اس معاہدے کے بعد ان سے الگ ہوئے اسی قصبہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس قصبہ کی سیاسی افادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا ٹیگ ہونے کے باوجود شیخ عبداللہ ہر سال یہاں ایک پبلک جلسہ ضرور کرتے، حتی کہ آنجہانی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی جب کشمیر کے دورہ پر ہوتی تھیں تو یہاں پبلک جلسہ کا انعقاد کرتی تھیں، اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ یہ علاقہ شمالی کشمیر کی تجارتی گزرگاہ پر واقع ہے اور دو تین دہائی قبل تک شمالی کشمیر کا واحد تعلیمی ادارہ گورمنٹ کالج سوپور اور ریاست کا واحد ایگریکلچر کالج یہاں ہی واقع تھا۔ گورمنٹ کالج تو اپنی سیاسی اور سماجی تحریکوں کا مرکز بھی رہا ہے۔ حریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ ، محمد اشرف صراف ، ریاستی کانگریس کے سابق صدر پروفیسر سیف الدین سوز یہاں استاد رہے ہیں۔

اس علاقے کے لوگ زرخیز زمینوں، سیبوں کے وسیع باغات اور تجارتی راہگزر پر ہونے کی وجہ سے لوگ عمومی طور پر آسودہ حال تھے۔ 1990ء میں گورنر جگ موہن نے اس علاقہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ سوپور سے ہی بھارت مخالف تحریک کو مالی معاونت حاصل ہوتی ہے، جسکا سد باب ہونا چاہیے۔ گو کہ جگ موہن اس سد باب کو عملی جامہ تو نہیں پہنا سکے، مگر انکے جانشینوں نے اس قصبہ کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے میں کوئی دقیقہ فرگزاشت نہیں کیا۔ پچھلے 25 سالوں میں آٹھ بار اس شہر کے بارونق بازاوں اور بستیوں کو نذر آتش کیا گیا ۔ کئی معززین شہر کے سیب کے باغات تباہ کئے گئے، تاکہ وہ نان شنینہ کے محتاج ہو جائیں۔ اب لگتا ہے کہ زندہ دلوں کا یہ شہر ایک بار پھر نشانہ پر ہے۔ مطلب صاف ہے کہ اس قوم کو کسی نہ کسی طرح کے ظلم و ستم سے دبا ڈرا کر اور مجبور کر کے سکون قلب سے محروم کیا جائے۔ یہ المیوں کی سرزمین ہے جہاں کسی کا خون ناحق کر کے مقتول کو ہی دہشت گرد اور کبھی شہید بھی ثابت کیا جا سکتا ہے۔ نہ صرف آزادی پسند قیادت بلکہ کشمیر کی سبھی سیاسی و سماجی تنظیموں کو ایک مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ نظاہر ان ہلاکتوں کا مقصد یہاں خانہ جنگی پیدا کرنا ہے۔ ایسے واقعات کو غیر سنجیدگی سے نہیں لیا جا سکتا بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ اس حقیقت کے باوجود

 حکومت کی جانب سے انکی مذمت کی جارہی ہے اور حکومت کا دعوی ہے کہ نہ صرف سکیورٹی انتظامات بلکہ احتیاطی اقدامات بھی کیے گئے ہیں، پھر یہ ہلاکتیں کیوں کر ہو رہی ہیں۔ معاملے کی تہہ تک جانے کی ضرورت ہے کہ کیوں بے گناہوں کو ٹارگٹ بنایا جا رہا ہے؟ محسوس تو یہی ہو رہا ہے کہ اسکے پیچھے کوئی خفیہ ایجنڈا ہے کوئی پالیسی ہے جو کشمیر میں خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جسے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند