تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مولوی صاحب کی تلاش میں!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 8 رمضان 1436هـ - 25 جون 2015م KSA 11:23 - GMT 08:23
مولوی صاحب کی تلاش میں!

رمضان کا مقدس مہینہ آگیا ہے اور اس کی برکتیں سمیٹنے والے دونوں ہاتھوں سے سمیٹنے میں مشغول ہیں۔ کل بھولا ڈنگر میرے پاس آیا اور مجھے حیرت ہوئی کہ وہ روزے سے تھا۔ میں نے اسے چھیڑنے کے لئے کہا’’بھولے مبارک ہو تم نے اسلام قبول کرلیا ہے‘‘مگر اسے میرا یہ مذاق اچھا نہ لگا، بولا’’میں تم سے کہیں زیادہ اچھا مسلمان ہوں اور آج سے نہیں، ہمیشہ سے ہوں!‘‘ میں نے استہزائی انداز میں ’’اچھا؟‘‘واقعی؟‘‘ اس پر وہ باقاعدہ ناراض ہوگیا، اس نے مجھے مخاطب کیا اور بولا ’’میں اگر کبھی کبھار روزہ نہیں رکھتا تو ہمیشہ اس کا کوئی شرعی عذر ہوتا ہے!‘‘مگر میں نے محسوس کیا کہ یہ کہتے ہوئے وہ ایک دم ناراضگی کی کیفیت سے نکل کر خوشگوار موڈ میں آگیااور چہچہانے لگا’’تمہیں پتہ ہے اللہ تعالیٰ نے میرے لئے جنت کا وعدہ کیا ہےاور تمہیں پتہ ہے جنت کیا ہے؟‘

میں اسے چھیڑنے کے موڈ میں تھا، میں نے کہا’’ تم شاید جنت بی بی کی بات کررہے ہو؟‘‘ بھولے نے حیرت انگیز طور پر میری اس بات پر اپنا ردعمل ظاہر نہ کیا، بولا ’’کون سی جنت بی بی؟قاسمی صاحب جنت میں ہزاروں حوریں میرے انتظار میں ہوںگی۔ ان میں سے ایک ایک حور نے بیک وقت ہیروں سے جڑے ہوئے ستر ستر سوٹ پہنے ہوں گے، مگر یہ سوٹ ایسے ہوں گے کہ ایک سوٹ کے نیچے سے دوسرا، دوسرے سے تیسرا اور اسی طرح آخر تک کا سوٹ صاف نظر آئے گا اور آخری سوٹ میں سے حور کا حسن لشکارے مارتا دکھائی دے گا!‘‘ یہ کہتے ہوئے بھولا ایک لمحے کے لئے رکا اور بولا’’یہاں میں خود لوگوں کی ملازمت کرتا ہوں، وہاں اسی ہزار لوگ خود میری خدمت پر مامور ہوں گے اور ہاں میرے لئے وہاں یاقوت کا محل ہوگا، جس کے باہر دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں گی!میں جب صبح سیر کے لئے نکلا کروں گا تو میرے دائیں بائیں حوریں ہوں گی، خدمت کے لئے بہت خوبصورت غلمان ہوں گے، اس کے علاوہ جو کچھ ہوگا وہ میں فی الحال تمہیں بتانا نہیں چاہتا‘‘۔

یہ سن کر میں نے قہقہہ لگایا اور کہا’’ بھولے لوگ تمہیں اگر ڈنگر کہتے ہیں تو تمہاری انہی بے وقوفی کی باتوں کی وجہ سے کہتے ہیں، تمہارا کیا خیال ہے، میں جنت میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں گا اور جنت کا جو احوال تم نے سنایا ہے کیا وہ مجھ سے مخفی ہوگا؟‘‘ بھولا بولا ’’تمہیں یہ وہم کس نے ڈالا ہے کہ تم بھی جنت میں جائو گے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’یہ میرا وہم نہیں، میرے محلے کے مولوی صاحب نے مجھے یقین دلایا ہے کہ تمہاری جنت پکی ہے کیونکہ تم حج کر چکے ہو، نماز پنجگانہ ادا کرتے ہو، کوئی روزہ نہیں چھوڑتے، تراویح باقاعدگی سے ادا کرتے ہو، اس کے برعکس تم نے نہ حج کیا ہے، تمہاری عبادات میں بھی بے قاعدگی ہے، کبھی نماز پڑھتے ہو،کبھی نہیں پڑھتے، طبیعت خراب ہو تو روزہ چھوڑ دیتے ہو اور تراویح کی نماز میں تو میں نے کبھی تمہیں مسجد میں دیکھا ہی نہیں اور میرے مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ایسا شخص جنت کے پہلے دروازے میں بھی داخل نہیں ہوسکتا‘‘۔

یہ سن کر بھولا جو میری باتیں سن کر گہری سوچ میں گم نظر آرہا تھا، دوبارہ میری طرف متوجہ ہوا اور بولا ’’تمہارے مولوی صاحب نے تمہارے لئے اگر جنت کی خوشخبری سنائی ہے وہ جزوی طور پر صحیح ہے لیکن میرے مولوی صاحب نے مجھے جنت کی جو بشارت دی ہے ، وہ مکمل طور پر درست ہے‘‘۔میں نے کہا’’بھولے یہ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھووالی پالیسی چھوڑو، تم میری عبادات کا مقابلہ نہیں کرسکتے‘‘۔ میں نے جواب دیا’’میں تمہاری عبادات اور اس کے صلے میں تمہاری جنت میں جانے سے انکاری نہیں ہوں، مگر اس کی کچھ شرائط ہیں، شاید وہ تمہارے مولوی صاحب نے تمہیں نہیں بتائیں،مثلاً کیا تم نے اور تمہارے قبضہ گروپ نے لوگوں کے جن پلاٹوں پر قبضہ کیا ہے، وہ انہیں واپس کردئیے ہیں‘‘۔ میں نے جواب دیا ’’نہیں‘‘ اس نے پوچھا ’’تمہاری ایک جعلی ادویات بنانے کی فیکٹری ہے جہاں تیار ہونے والے انجکشنز اور دیگر ادویات کی وجہ سے ہزاروں انسان ہلاک ہوچکے ہیں۔

کیا حقوق العباد کی رو سے تمہارا یہ گناہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کریں گے یا وہ انسان تمہیں معاف کردیں گے جو تم نے ہلاک کئے ہیں؟ تم اپنا پسندیدہ’’ اسلامی نظام‘‘ نافذ کرنے کے لئے دہشت گرد تنظیموں کی مالی امداد بھی کرتے ہو، ان دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کے نالے کیا تمہیں جنت کے دروازے میں داخل ہونے دیں گے؟‘‘بھولا ابھی اور بھی بہت کچھ کہنے کو تھا، جو اس کے نزدیک پاکستانی معاشرے کو تباہی کے کنارے لانے کا سبب بنتی ہیں مگر میں نے اسے درمیان ہی میں ٹوک دیا اور غصے سے کہا’’بھولے، یہ دین کا معاملہ ہے، تم اپنا ڈنگر پن نہ دکھائو اور خواہ مخواہ مفتی بننے کی کوشش نہ کرو، مجھے مولوی صاحب نے بتایا ہے کہ حج کرنے کی صورت میں انسان سارے گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے اور معصوم ہوتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے جنم لینے والا بچہ……

اور اس کے علاوہ وہ سب عبادات میں کرتا ہوں، جن میں ہر عبادت کے طفیل لاکھوں گناہ معاف ہوجاتے ہیں، شب برات گناہوں کی معافی کی رات ہے، میں ہر شب برات کو ساری ساری رات عبادت کرتا ہوں، خدا غفور الرحیم ہے تم اس کو کیوں صرف قہار و جبار ثابت کرنے پر تلے ہوئے؟‘‘ یہ سب کچھ کہنے کے باوجود میر اغصہ کم نہیں ہوا تھا، میں نے دوبارہ اس پر چڑھائی کردی‘‘ اور تم خود کو جنتی سمجھتے ہو، کیا تم عبادات میں میرا مقابلہ کرسکتے ہو، کبھی نہیں! تمہیں تو حج تک کی توفیق نہیں ہوئی، ساری عمر حج کے لئے پیسے جمع کرتے رہے اور جب پیسے جمع ہوگئے اور حج پر جانے کی تیاری کرنے لگے تو تمہیں پتہ چلا کہ تمہارے محلے میں ایک غریب بچی کی شادی صرف اس لئے رکی ہوئی ہے کہ اس کے والدین کے پاس بیٹی کی رخصتی کے لئے درکار پیسے نہیں ہیں، تم نے اپنی ساری جمع پونجی ان کے حوالے کردی اور سمجھتے ہو کہ اس کے طفیل تمہیں جنت مل جائے گی؟ تم اس سے ملتے جلتے کام سارا سال کرتے رہتے ہو، نماز، روزہ بھی کرلیتے ہو، مگر کبھی ساری ساری رات جاگ کر میری طرح عبادت کی ہے؟

یہ نیکی تو تمہارے نصیبوں ہی میں نہیں…..اس کے باوجود تم جنت کی بات کرتے ہو، حوروں کی بات کرتے ہو، یاقوت کے محل کی بات کرتے ہو، بھول جائو،یہ سب کچھ، تم دوزخ کی آگ میں جل رہے ہو گے اور میں تمہیں جنت کے جھروکوں میں سے دیکھ رہا ہوں گا، افسوس بھولے ڈنگر میں اس وقت تمہارے لئے کچھ نہیں کرسکوں گا!‘‘۔

میرا خیال تھا کہ بھولا میری باتیں سن کر آگ بگولہ ہوجائے گا مگر اس نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا اور کہا’’غصہ تھوکو، ملازم سے کہو میرے لئے چائے کا ایک کپ اور تمہارے لئے ایک ٹھنڈا کلاس پانی کا لائے!‘‘، یہ خبیث میرے بچپن کا دوست ہے چنانچہ میں نے بھی نارمل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے ملازم سے اس کے لئے چائے کا کپ لانے کو کہا اور بھولے سے پوچھا’’ کیا چائے میں تھوڑا سا زہر نہ ملادیا جائے تاکہ تم جلد سے جلد اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائو‘‘بھولے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا’’تھوڑا سا زہر اپنے پانی کے گلاس میں بھی ملادو تاکہ ہم دونوں دوست جلدی سے جلدی اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیں‘‘ اور پھر وہ سنجیدہ ہوگیا اور بولا’’ میرے دوست! دنیا بھر کے مسلم علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کے حقوق میں کوتاہی ،اللہ چاہے تو معاف کرسکتا ہے مگر اس کے بندوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی معافی کا حق اس نے خود بندوں کو دیا ہے، ہمارے مولوی حضرات اپنی ہر تقریر میں اللہ تعالیٰ کی شرائط کا ذکر کئے بغیر’’عام معافی‘‘ کااعلان کرتے رہتے ہیں…….

وہ توبہ کے  آنسوئوں کو جنت کا وسیلہ بتاتے ہیں، مگر کون سی توبہ؟ حضور اکرمؐ کے لاکھوں امتیوں اللہ کی دیگر مخلوق کو مختلف طریقوں سے ہلاک کرنے کے بعد کے آنسو، بیوائوں ،یتیموں اور بے نوائوں کی جائیدادوں پر قبضہ برقرار رکھتے ہوئے آنسو یاد رکھو میرے دوست یہ آنسو کسی کے کچھ کام نہیں آئیں گے،ایسے ظالموں نے دوزخ کی آگ میں جلنا ہی جلنا ہے، تم مجھے عزیز ہو کہ میرا تمہارا بچپن کا ساتھ ہے تم جن ہزاروں بے گناہوں کا خون کرچکے ہو، وہ توقابل معافی نہیں، آئندہ کے لئے توبہ کرو اور ہاں لوگوں کی جائیدادیں انہیں واپس کردو شاید تمہارے عذاب میں تھوڑی بہت کمی آجائے‘‘۔مجھے لگا بھولا مجھے جنت سے محروم کرنے کے چکر میں ہے اور میری دنیا بھی برباد کرنے پر تلا ہوا ہے، میں نے اسے کہا’’میں تم ایسے کافر اور ملحد سے بات نہیں کرنا چاہتا….میں روزے سے ہوں، چنانچہ گالی دیئے بغیر کہہ رہا ہوں کہ تم میری نظروں سے دور ہوجائو، تم میرے مولوی صاحب سے بڑے عالم نہیں ہو‘‘۔یہ سن کر بھولا اپنی نشست سے اٹھا اور دروازے کے قریب جاکر بولا’’میں جارہا ہوں اور اس مولوی کی تلاش میں جارہا ہوں جو تمہیں جنت کے نام پر جہنم کی طرف دھکیل رہا ہے ‘‘…..اور پھر وہ چلا گیا۔

میں اس بیہودہ آدمی سے آئندہ کبھی نہیں ملوں گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند