تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغان ایوان پر حملہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 10 رمضان 1436هـ - 27 جون 2015م KSA 12:23 - GMT 09:23
افغان ایوان پر حملہ

افغان ایوان پر طالبان نے حملہ کر دیا۔ سبھی حملہ آور مارے گئے، البتہ کوئی بھی بھارتی ہلاک نہیں ہوا لیکن کیا آپ سمجھ رہے ہیں کہ یہ حملہ صرف افغان پارلیمنٹ پر ہی ہوا ہے؟ نہیں یہ بھارت پر بھی ہوا ہے۔ کابل میں بنی پارلیمنٹ کی عمارت کس نے بنائی ہے؟ بھارت نے ۔ یہ شاندار عمارت بھارت افغان دوستی کی زندہ نشانی تو ہے ہی، یہ افغانستان کی جمہوریت کی مشعل بھی ہے۔ اس پر حملہ کر کے طالبان نے افغانستان بھارت اور جمہوریت تینوں کو للکارا ہے۔

یوں تو طالبان نے کابل کے بھارتی قونصلیت، ہرارت کے قونصلیٹ اور دلارام مارگ پر کئی حملے کئے، لیکن افغان ایوان پر کیے گئے اس حملے کا خاص مقصد ہے۔ جیسے بھارت کی پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا تھا، ویسے ہی افغانستان کی پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا۔دونوں حملوں کا نمونہ ایک جیسا ہے۔ کیا انکے حملہ آور بھی ایک جیسے ہی ہیں؟ کیا انکے حملہ آوروں کی پشت ٹھوکنے والے بھی ایک جیسے ہی لوگ ہی؟ ان سوالات کے جوابات تو افغان سرکار کی تفتیش کے بعد ہی ملیں گے لیکن اس حملے سے افغانستان کے دوستوں کو خبردار ہو جانے کی ضرورت ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکی واپسی کے بعد افغانستان میں امن کے آثار بہت کم ہیں۔ جب تک مسئلے کا ٹھوس حل تلاش نہیں کر لیا جاتا، دنیا کی کوئی طاقت ان حملوں کو نہیں روک سکتی۔ دوسری بات، اشرف غنی کے صدر بننے کے بعد کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے۔ انکے ہاتھ ناامیدی ہی لگی ہے۔ قندوز جیسے فارسی زبان والے صوبہ کے دو اضلاع پر بھی طالبان کا قبضہ ہو گیا ہے۔ افغان فوج میں پٹھانوں کی اکثریت ہے اور طالبان تو ہیں ہی پٹھان، اسی لئے افغان فوج کا بھی کوئی بھروسہ نہیں ہے کہ وہ کب کون سی کروٹ لے لے۔ افغانستان کی اقتصادی حالت بھی سنگین ہے۔ اس کے علاوہ صدر غنی اور وزیر اعظم عبداللہ عبداللہ میں بھی اتحاد نہیں ہے۔ حالات خاصے خطرناک ہیں۔

ایسے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا ٹھیک نہیں ہے۔ امریکہ کا پچھ لگو بنے رہنے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔ سب کو مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

ششما ، وسندھراراجے معاملے کا کیا کریںَ؟

للت مودی کو لے کر نریندر مودی بڑے کنفیوژن میں ہیں۔ بھاجپا اور سنگھ بھی پریشان ہے لیکن اس سارے معاملے میں بھاجپائیوں اور سنگھیوں کی ایک بڑی خوبی ابھر کر سامنے آئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اپنے ساتھیوں کو مصیبت میں اکیلا نہیں چھوڑتے۔ سشما سوراج اور وسندھراکا جیسے سرعام اور ڈٹ کر وہ حمایت کر رہے ہیں، کیا کانگریسیوں نے کبھی ششی تھروریا ابھیشیک سنگھوی کی ویسی حمایت کی تھی؟ یہ دونوں خواتین لیڈر ایسی ہیں، جو مودی کے اندھے بھگت نہیں ہیں بلکہ انہیں مودی کے مخالف بھی بتایا جاتا تھا۔ اسکے باوجود مودی نے اس موقع کا استعمال ان دونوں کے پنکھ کاٹنے کیلئے نہیں کیا، یہ بڑی بات ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مودی کی پختگی میں اضافہ ہو رہا ہے، ورنہ وہ ان دونوں کا وہی حال کر سکتے تھے، جیسا انہوں نے گجرات کے کئی بھاجپائی لیڈروں اور سنگھ کے پرچارکوں کا کیا ہے۔

خیر، جو بھی ہو نریندر مودی کے مونی (خاموش) بابا بنے رہنے سے کام نہیں چلے گا۔ یہ یوگ مدرا نقصان دہ ہوگا ، آپ کے لیے اور آپ کی سرکار کے لیے بھی! بہتر یہ ہے کہ دونوں لیڈر سشما اور وسندھرا پریس کانفرنس کریں ۔ ہر سوال کا ڈٹ کر جواب دیں ۔ ذرا مجھ سے سیکھیں۔ حافظ سعید والے معاملے میں کئی ارکان پارلیمنٹ اور لگ بھگ سبھی ٹی وی چینل مجھ کر پس طرح ٹوٹ پڑے تھے۔ فولادی مرد کی یہ سرکار موم کی پتلی بن گئی تھی۔ میرے کانگریسی دوست بوکھلائے گئے تھے لیکن میں نے دو دن میں ہی سب کی ہوا نکال دی۔ سانچ کو آنچ نہیں۔

اگر سشما سوراج اور وسندھرا نے دوستی یا لحاظ داری یا انسانیت کے ناتے متاثر ہو کر کوئی انسانی بھول کی ہے تو اسے وہ پر اخلاق طریقے کے ساتھ قبول کریں۔ لوگ انکی بات سمجھیں گے اور انکی جانب صحت مند رویہ اپنائیں گے۔ نہ تو انہیں مستعفی ہونے کی ضرورت ہو گی اور نہ ہی اپوزیشن والے اسکا کچھ بگاڑ سکیں گے۔ اسکے ساتھ ساتھ دونوں خواتین اور مودی سرکار للت مودی کو پکڑنے میں متحرک ہو جائیں ۔ اسے فورا بھارت لے آئیں اور اس نے جو اربوں روپے غیر ممالک میں چھپا رکھے ہیں، اس کالے دھن کو سفید کر دیں۔ اگر وہ ایسا کر سکیں تو کیا انکی بھولوں کو اور مودی کی خاموشی کو لوگ معاف نہیں کر دیں گے؟ لیکن اگر سشما اور وسندھرا چھپتی چھپاتی رہیں اور مودی منہ پر پٹی باندھے رہے تو اگلے ایوانی سیشن مین سرکار کی رہی سہی عزت بھی مٹی میں مل جائے گی۔

رمضان میں گائے کے گوشت کا ترک

اتر پردیش کے کئی نامی گرامی مولاناؤں اور مسلم جماعتوں نے اس بار کمال کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ رمضان کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اس پاک مہینے میں وہ گائے کا گوشت استعمال نہیں کریں گے۔ یوں بھی اتر پردیش کے مسلمان گئے کا گوشت کم کھاتے ہیں لیکن یہ شاید پہلا موقت ہے جب اتر پردیش مسلم تجارتی جماعت نے ایسا اعلان کیا ہے۔ اس کے اعلان کی حمایت سنی اور شیعہ دونوں فرقوں کے لیڈروں نے کی ہے۔ کئی معاملات ایسے ہیں، جن پر دونوں فرقوں کی جانب سے اختلاف رائے ہو جاتے ہیں لیکن گائے کے مدعہ پر دونوں کی متفقہ رائے ہونا خوش آئند ہے۔

کیوں ہے؟ کیونکہ دونوں چاہتے ہیں کہ رمضان کے پاک مہینے میں جبکہ ملک کے لگ بھگ سبھی مسلمان بھائی روزے رکھتے ہیں، وہ اپنے ہندو بھائیوں کے جذبات کا دھیان رکھیں۔ انہیں گائے یا کسی بھی طرح کا گوشت کھانے سے کوئی روک نہیں سکتا لیکن وہ اپنی مرضی سے یہ ترک کر رہے ہیں، یہ اپنے آپ میں بڑی بات ہے۔ اس بات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ انکے گائے گوشت چھوڑنے سے ہندوؤں اور سکھوں کے دل میں رمضان کے لیے عزت اپنے آپ پیدا ہو گی۔ روزہ جسم اور روح کیلئے مفید ہوتا ہے۔ اس میں صحت بھی اچھی ہوتی ہے اور صبر بھی بڑھتا ہے۔ یہی ہر مذہب کی تعلیم بھی ہے۔ خود کو امام ظاہر کرتے ہوئے مسلم تجارتی جماعت کے صدر شمیم شمسی نے کہا ہے کہ: گائے کا گوشت تو زہر ہے جبکہ گائے کا دودھ آب حیات ہے۔

میں تو اس سے بھی تھوڑا آگا جانا چاہتا ہوں۔ گوشت تو گوشت ہے۔ کیا گائے کا گوشت کیا سور کا گوشت؟ کیا مرغی کا گوشت اور کیا بکرے کا گوشت؟ کوئی بھی گوشت کھانا ضروری کیوں ہے؟ جو آدمی گوشت نہیں کھاتا، کیا وہ اچھا مسلمان نہیں ہو سکتاَ کیا فقط سبزی خور ہونا اسلام میں منع ہے؟ ساری دنیا کے ڈاکٹر مانتے ہیں کہ سبزی ہی آدمی کی فطری غذا ہے۔ کچھ جانور ضرور ایسے ہیں جو گوشت کے بنا نہیں رہ سکتے۔ وہ سداحملہ آور ہوتے ہیںَ آدمیوں کو ویسا کیوں ہونا چاہیے؟ اگر رمضان جیسے پاک مہینے اور روحانی موقع پر دنیا کے سارے مسلمان عزم کر لیں کہ وہ شراب کی طرح ہر قسم کے گوشت کا استعمال نہیں کریں گے تو وہ اپنی صحت اور صبر کو طاقتور بنائیں گے ہی وہ دنیا کے سبھی ہندوؤں ، عیسائیوں ، یہودیوں اور منکروں کیلئے بھی ایک مثال پیش کریں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘
ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند