تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مغربی ممالک میں داعش کے جہادی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 12 رمضان 1436هـ - 29 جون 2015م KSA 10:28 - GMT 07:28
مغربی ممالک میں داعش کے جہادی

جب تین داؤد بہنوں نے برطانیہ میں اپنے شوہروں کو چھوڑ کر داعش کی صفوں میں شامل ہونے کیلئے شام کی راہ لی تو برطانیہ بھر کے اخبارات نے اس خبر کو شر سرخیوں میں شائع کیا۔ سیاست دان، سیاسی تجزیہ کار اور سماجی علوم کے ماہرین سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ کس طرح نو بچوں (جنکی عمریں تین سے پندرہ سال کے درمیان ہیں) کی مائیں ایسا قدم اٹھا سکتی ہیں کہ وہ دنیا کے محفوظ ترین اور انتہائی لبرل معاشرے کو چھوڑ کر انتہائی عدم برداشت رکھنے والے خطرناک خطے کی طرف روانہ ہو جائیں۔ پاکستانی نژاد تینوں شوہروں کو متعدد بار ٹی وی پر دکھایا گیا۔ وہ بھیگی آنکھوں سے اپنی بیگمات سے التجا کر رہے تھے کہ وہ گھر لوٹ آئیں۔ کالم نگاروں اور ادارتی نوٹ لکھنے والوں نے صفحات کے صفحات سیاہ کرتے ہوئے اپنے قارئین کو سمجھانے کی کوشش کی کہ سینکڑوں برطانویہ شہری اپنے پرسکون گھروں کو چھوڑ کر داعش میں شامل ہونے کیلئے شام کیوں جا رہے ہیں۔

یورپ اور امریکہ جنکے شہری فضائی سفر کرتے ہوئے ترکی اور پھر وہاں سے زمینی راستے کے ذریعے شام میں داخل ہو رہے ہیں، میں بھی یہی سوال پوچھا جا رہا ہے۔ اگرچہ آج کل ترکی جہادی بننے کے آرزومندوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن چند ماہ قبل تک ایسی کوئی روک ٹوک نہ تھی اور ایسے لوگ آرام سے سرحد پار کر لیتے تھے۔ بہت حال یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ترکی شام میں لڑنے والے انتہا پسندوں کی کسی نہ کسی طور پر حمایت کر رہا ہے۔

بے چینی کے عالم میں یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ داعش کے دستوں میں شامل ہونے والے یورپی مسلمانوں کی وجہ سے ان ممالک میں دہشت گردی کے حملوں کا خطرہ کس حد تک بڑھ چکا ہے؟ خدشہ ہے کہ شام جانے والے یورپی شہریوں میں سے اگر کچھ زندہ بچ کر لوٹ آئے تو وہ اپنے اپنے ممالک کی سکیورٹی کیلئے سنگین خطرہ بن جائیں گے۔ چونکہ وہ تربیت یافتہ اور انتہائی جنونی جہادی بن چکے ہوں گے ، اس لیے وہ دہشت گردی کی کارروائیں کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ ایسے بہت سے افراد کو واپس لوٹنے پر برطانیہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں انسداد دہشت گردی کے سخت قانون کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تیز و تند کالم لکھنے والے روڈ لیڈل جنکا تعلق دائیں بازو سے ہے، نے سپیکٹیٹر میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں ایک پندرہ سالہ لڑکی، عمیرہ عباس کے بارے میں لکھا جو گزشتہ فروری کو اپنی دو دوستوں کے ہمراہ لندن سے فرار ہو کر شام چلی گئی تھی۔ اس کے والد حسن عباس جو ایتھوپیا سے ہجرت کر کے یہاں آئے تھے، نے پولیس کو مورد الزام ٹھہرایا کہ اس نے گٹ وک ایئرپورٹ پر اسکی بیٹی کو نہیں روکا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس نے دو ایسے جلسوں میں شرکت کی تھی جنکا اہتمام ایک انتہا پسند گروہ ، المہاجرون نے کیا تھا۔ حسن عباس کی تصویر بھی دکھائی دی جب وہ ریلی میں شامل ہو کر امریکی پرچم جلا رہا تھا۔ لیڈل لکھتے ہیں کہ حسن عباس ایسی ہی دو ریلیوں میں اپنی نو عمر بیٹی عمیرہ کو بھی ساتھ لے کر گیا تھا۔ لیڈل کے بقول ۔ حسن کا تعلق ایتھوپیا سے ہے اور وہ یقینی طور پر بےروزگار تھا۔ وہ اس ملک میں آزادی اور جمہوریت کے ثمرات سے بہرہ مند ہونے آیا تھا۔ اسے اور اسکے خاندان کو برطانوی ٹیکس دہندگان کی محنت سے کمائی ہوئی رقم سے سبسڈی دی گئی۔

اس احمقانہ، بلکہ پاگل پن قرار دی جانے والی فیاضی کا صلہ انھوں نے یوں دیا کہ انھوں نے اس معاشرے کو تہذیب کی تباہی کی علامت قرار دینے والوں کی آواز کے ساتھ آواز ملانا شروع کر دی۔ اس طرح حسن اور اس جیسے بہت سے ہمارے پیسوں پر پلتے ہوئے ہماری مکمل تباہی کا سامان کرنے کیلئے آتے ہیں۔ ایک اور کالم میں لیڈل کا کہنا ہے کہ داعش کیلئے لڑنے والوں کو واپس برطانیہ آنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ بہت سے لبرل افراد بھی اس موقف کے ساتھ متفق دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں تیونس کے ساحل پر تفریح کرنے والوں پر حملے، جنکے نتیجے میں چالیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے کے بعد داعش کے تربیت یافتہ افراد کی کارروائیوں کا خطرہ اور خوف بڑھ گیا ہے۔

اس موضوع پر سوچا جا رہا ہے کہ مڈل کلاس برطانوی مسلمانوں کیلئے داعش کی دہشت میں کیا کشش ہے؟ دکھائی یہی دیتا ہے کہ سیاہ یونیفارم میں ملبوس، ہاتھ میں کلاشنکوف لیے مغرب اور اسکے عرب اتحادیوں سے لڑنے والے نوجوانوں کی تصاویر بہت کشش رکھتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسی ہیجان خیز تصاویر، ویڈیوز اور متعدد نو عمر لڑکیوں کو بطور بیوی حاصل کرنے کی توقع یقینا نوجوانوں کے دل کی دھڑکن بڑھا دیتی ہے۔ ایسے امکانات ان نوعمر لڑکوں کو بہت بھاتے ہیں جو یورپی معاشرے میں گرل فرینڈز کی تلاش میں ناکام رہتے ہیں۔

لڑکیوں اور ہتھیاروں میں لڑکوں کو کشش ایک طرف، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نوجوان عورتیں داعش کی صفوں میں کیوں شامل ہو رہی ہیں؟ ایک صحافی جس نے بہت سی جہادی دلہنوں سے انٹرویو کیا ہے کا کہنا ہے کہ والدین یا شوہروں کی طرف سے کی جانے والی سختی گھر سے بھاگنے کی ایک اہم وجہ ہے۔ مثال کے طور پر داؤد سسٹرز برطانیہ میں پیدا ہوئیں لیکن انکی شادی والدین کی مرضی سے پاکستان ی مردوں سے کی گئی۔ اس میں انکی پسند شامل نہ تھی۔

دوسری طرف داعش دیگر اسلامی معاشروں کے برعکس عورتوں کو آسانی سے طلاق کا حق دیتی ہے۔ برطانیہ میں مقیم قدامت پسند مسلم خاندان معاشرے سے دور رہتے ہوئے اپنی لڑکیوں کو یہاں میسر سماجی آزادی سے محروم کر دیتے ہیں۔ اس لیے مردوں اور عورتوں دونوں کیلئے داعش ایک مساوی اور منصفانہ معاشرے کا وعدہ کرتی ہے۔

جب ایک مرتبہ داعش میں شامل ہو جائیں تو پھر وہاں سے واپس آنا آسان نہیں۔ رپورٹس کے مطابق چارسو کے قریب ایسے یورپی رضاکاروں کو داعش کے جنگجو ہلاک کر چکے ہیں جو بھیانک حقائق کا علم ہونے کے بعد وہاں سے واپس اپنے ملکوں میں آنے کی کوشش میں تھے۔ شام اور عراق سے آنے والی خون منجمد کر دینے والی کہانیوں کے باوجود مغربی ممالک سے اس طرف سفر کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں ڈیوڈ کیمرون نے برطانوی مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے خاندانوں کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو شام کے اندھیروں میں کھونے سے بچائیں۔ انھوں نے انکے دقیانوسی نظریات پر تنقید بھی کی۔ بہت سے لبرل مبصرین نے برطانوی وزیر اعظم کو اس تقریر کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ اگر یورپی مسلمان نوجوان داعش میں شامل ہونے کیلئے جا رہے ہیں تو اس میں بنیادی قصور انکے اہل خانہ کا ہی ہے، لیکن درحقیقت ان نوجوانوں ، جو اسلامی روایات سے نسبتا دور ہوتے ہیں، کو داعش کی طرف سے ترغیب آن لائن ذرائع سے ملتی ہے اور انکے والدین اور مقامی علماء کا اثر ان پر بہت کم ہوتا ہے۔ یہ رویہ ایسا ہی ہے جیسے اپنے گھر والوں سے بغاوت کر کے نوجوان جرائم پیشہ گروہوں میں شامل ہو جائیں۔ گزشتہ چند برسوں سے برطانیہ پریونٹ کے نام سے ایک مہم چلا رہا ہے جسکا مقصد نوجوان مسلمانوں کو انتہا پسندی سے بچانا ہے۔ اس پر لاکھوں پاؤنڈز خرچ کیے جا رہے ہیں لیکن فی الحال کسی خاطر خواہ کامیابی کی شہادت نہیں ملی۔ بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی طرز پر بنائے گئے برطانوی GCHQ کے ذریعے آن لائن پرائیویسی میں نقب زنی ناگزیر ہو جائے گی۔ بہر حال داعش کے پرتشدد کھیل اور اس میں برطانوی مسلمانوں کی شمولیت کی وجہ سے یورپ میں مسلمان تارکین وطن کی پوزیشن مزید خراب ہو رہی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند