تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تنہا کون ۔۔۔؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 15 ربیع الاول 1441هـ - 13 نومبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 15 رمضان 1436هـ - 2 جولائی 2015م KSA 08:50 - GMT 05:50
تنہا کون ۔۔۔؟

تپتے موسموں کی شدت تو کم ہوتی، بڑھتی رہے گی۔ البتہ سیاسی افق پر تندوتیز ہواؤں کے ساتھ، بحرانوں کے بادل منڈلاتے صاف نظر آ رہے ہیں۔ رمضان المبارک میں بیان بازی، ہلکے پھلکے مظاہروں، الزام تراشیوں کے ذریعے پوائنٹ سکورنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اصل میدان تو رمضان المبارک کے گزرتے ہی ماہ جولائی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے طبل جنگ بجا دیا جائے گا۔ شائد پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا کہ اپنی اپنی، الگ الگ وجوہات کی بناء پر اپوزیشن جماعتوں کے تیور بگڑ رہے ہیں۔ سیاسی تاریخ میں یہ منظر نامہ نیا نہیں۔ نئی بات ہے تو یہ کہ اس وقت حکومتی جماعت اور اپوزیشن پارٹیاں سب تنہا اور بقاء کی جنگ اکیلے ہی لڑ رہی ہیں۔ شائد یہ منفرد رہنے کا شوق ہے۔ سیاسی طاقت کا زعم یا پھر تنہا پرواز کا شاخسانہ۔

2013ء کے وسط میں پاکستان کی ایک بڑی سیاسی اور دوسری بڑی نیم سیاسی، نیم مذہبی جماعت تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے انقلاب اوردھرنا کا اعلان کیا تو پلان پہلے سے تیار تھا۔ اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کچھ پس پردہ زیرنقاب چہرے بھی اس پلاننگ میں شامل تھے۔ کیوں؟ وجہ فی الحال صیغہ راز ہے۔ کچھ واقفان حال کا کہنا ہے کہ مقصد حاکم وقت پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ وہ بھاری مینڈیٹ ہی کو کافی سمجھنے کی بجائے اشارے سمجھنے کا گر بھی سیکھ لیں۔ ایک مقصد یہ بھی تھا کہ حکمران جماعت پاک بھارت دوستی کے حوالے سے فارن پالیسی کی ریڈ لائن عبور نہ کریں۔ بلکہ صراط مستقیم پر چلتے رہیں۔ بہرحال وجوہات بہت سی ہو سکتی ہیں تاہم اتنا ضرور تھا کہ انقلاب اور دھرنا کے مسکچر سے اٹھی قیادت کو سو فیصد یقین تھا کہ ماہ ستمبر کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی حکومت وقت کے اقتدار کا سورج غروب ہو چکا ہوگا۔ انقلابی قائدین عجلت میں ’’ڈیزائنر‘‘ سے یہ پوچھنا بھول گئے کہ کیوں اور کیسے ؟ منتخب پارلیمنٹ، چاروں صوبوں میں منتخب حکومتوں، بیدار مغز اپوزیشن، متحرک میڈیا اور آزاد و خودمختار عدلیہ کی موجودگی میں انگلی کیسے اٹھے گی؟

اب تقریباً ایک سال گزرنے کے بعد بہت سی سربستہ باتیں افشا ہو چکی ہیں۔ مثلاً قائدین انقلاب نے سو فیصد یقین دلایا تھا کہ وہ کم از کم 10 لاکھ افراد کو ہمراہ لیکر دارالحکومت پہنچیں گے۔ لہٰذا ابتدائی اندازہ ایک ہفتہ کا تھا۔ انقلابی قافلے لاہور سے روانہ ہوئے تو قائدین اور نمایاں کارکنوں کے لئے مختلف گیسٹ ہاؤسز میں کمرے صرف ایک ہفتہ کے لئے بک کرائے گئے۔ پی ٹی آئی تو اپنے اخراجات کے معاملہ میں خودکفیل تھی اور آج بھی ہے۔ وطن کی محبت میں سرشار اوورسیز پاکستانی، نئے پاکستان کی تعمیر کے لئے جھولیاں بھر بھر کر ڈونیشن دیتے ہیں۔ وہ پاکستان جس کی دھرتی کو چھوڑ کر انہوں نے کسی نئی سرزمین کو اپنا وطن بنا لیا۔ ابتداء میں چونکہ اندازہ نہ تھا کہ معاملہ چند روز کا ہے۔ حکومت صرف ایک جھٹکے کی مار ہے۔ لہٰذا چوہدری صاحبان نے بھی غصہ نکالنے کے لئے ہاتھ بٹانے کی پیشکش کی۔ یہ پیشکش، تحریک انصاف کو نہیں کی گئی تھی۔ اس امدادی پیکیج میں دامے درمے سخنے۔ ہر طرح کی کنٹری بیوشن شامل تھی۔ چوہدری صاحبان آخری روز تک حسب استطاعت وعدہ نبھاتے رہے۔

حالانکہ فیصل آباد کے جلسہ میں تو بڑی رقم بطور خرچہ دینے کے باوجود بھی چوہدری برادران کو خطاب کے لئے بھی بمشکل چند منٹ ملے۔ برسبیل تذکرہ انقلاب کی بساط لپٹی جا رہی تھی کہ چوہدری برادران کو بھی اس کی بھنک مل گئی۔ فوراً رہنما کے پاس پہنچے۔ قبلہ نے خبر کی تردید کی۔ کئی روز سے امدادی پیکیج پر عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ کیا۔ منشی بھاگتا ہوا گیا جو کچھ زر نقد میسر تھا وہ پیش کیا۔ چوہدری یقین دہانی لے کر واپس گھر پہنچے تو بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ انقلاب سمٹ گیا۔ خیر یہ تو ضمنی بات تھی۔ دھرنا کو تین وجوہات نے ناکام کیا۔ 30 اگست کی شام جاوید ہاشمی کنٹینر سے اتر کر فکس میچ کی خبر دے گئے۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سمیت تمام جماعتیں پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔ نئے انقلابیوں کا تجزیہ تھا کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی ایک سٹیج پر نہ صرف دھرنا جائن کریں گی بلکہ بوقت ضرورت اسمبلیوں سے مستعفی بھی ہو جائے گیں۔ دونوں بڑی جماعتیں یہ فیصلہ کرتیں تو چھوٹی جماعتیں بھی ان کو فالو کرتیں۔ یہ تجزیہ ناکام ہوا۔ ورنہ یکم ستمبر کو مسلم لیگ (ق) اور کئی آزاد شخصیات بہت عجلت میں شیروانیوں اور واسکٹوں سمیت کیپٹل میں پہنچے۔ کئی مہینے کی محنت شاقہ کے باوجود نیا پاکستان بنا نہ انقلاب آیا۔ انقلاب اور دھرنا اپنی موت آپ مر گیا۔ علامہ طاہر القادری علاج کے لئے بیرون ملک چلے گئے۔ کپتان کا مطالبہ مانا گیا، اب وہ باقاعدہ وزیٹر کارڈ گلے میں لٹکا کر جوڈیشل کمیشن کی وکٹ پر بیٹنگ کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کی سیاست اب عدالتی فیصلے کے دھاگے سے لٹکی ہوئی ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ تقریباً ایک سال تک باہم شیرو شکر رہنے کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان فاصلوں کی خلیج گہری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ دھرنا کے وقت حکومت کا ساتھ دینے والی ایم کیو ایم اب اپنے ماضی کے آسیب کی زد میں ہے۔ باخبر کہتے ہیں پیپلزپارٹی اگلا نشانہ ہے۔ اس سے اگلا کون؟ یہ ابھی کسی کو معلوم نہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ گزشتہ سال کی طرح اس مرتبہ بھی وسط 2015ء میں بھی ایک مرتبہ وہی آثار نظر آتے ہیں۔ جیسے سال گزشتہ میں تھے۔ علامہ طاہر القادری، ایک مرتبہ پھر لوٹ آئے ہیں۔ آتے ہی باور کرا دیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سے کزن کا رشتہ نہیں ٹوٹا۔ تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات سے پہلے جنرل الیکشن کی پیش گوئی کر رہی ہے۔ لوڈشیڈنگ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے۔ ایسے میں کوئی بڑی تحریک چلی تو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے نواز حکومت تنہا ہے۔ گزرے ایک سال میں اس نے مزید اتحادی کھوئے ہیں، پائے نہیں۔ اکیلی مسلم لیگ (ن) متوقع جنگ کیسے لڑے گی؟

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند