تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جنات کی سرزمین
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 16 رمضان 1436هـ - 3 جولائی 2015م KSA 08:40 - GMT 05:40
جنات کی سرزمین

پیر صاحب نے اس ٹیلے کے نیچے ایک جن کو قید کر رکھا ہے ورنہ وہ باہر آ کر تمام بستی کو کھا جاتا۔ سوئی ویہاڑ کے قریب ایک گاؤں کی عورت نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے کھیتوں کے درمیان گنبد نما بلند عمارت اور اسکے قریب ہی ایک چھوڑے سے مزار کے بارے میں بتایا۔ اسکے نزدیک اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ گد 1800 سال پہلے بدھ تہذیب سے تعلق رکھتا تھا جبکہ پیر صاحب حال ہی میں دفن ہوئے تھے۔ بہرحال دیو مالائی کہانیاں اسی طرح جنم لیتی ہیں۔ اس علاقے کے کچھ بوڑھے افراد نے کچھ غیر ملکی سیاحوں کا ذکر کیا جو ٹوٹ پھوٹ کے شکار ان گنبدوں کو دیکھنے آئے تھے۔ بہاولپور میں موجود تاریخی اہمیت کے حامل بہت سے مزارات یا انکی باقیات کے ساتھ بھی ایسی کہانیاں منسوب کی جاتی ہیں۔ اس گاؤں، سوئی ویہاڑ سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک جگہ ہے جہاں ہڑپہ تہذیب سے بھی قبل کے آثار پائے جاتے ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ ان مقامات سے یقینی طور پر آگاہ ہوگا لیکن وفاقی اور صوبائی محمکہ آثار قدیمہ کے درمیان ان مقامات کی ذمہ داری کا تعین کرنے پر ہونے والی چپقلش کی وجہ سے کوئی بھی ان کا خیال رکھنے کی زحمت نہیں کرتا؛ چنانچہ ان مقامات سے بہت سے افراد نوادرات نکالتے رہتے ہیں اور بعض اوقات وہ انہیں دیگر ممالک میں فروخت بھی کر دیتے ہیں۔

ذرا تصور کریں کہ ان مقامات بشمول دراوڑ کے مشہور قلعے کو دیکھنے کے لیے کتنے سیاح آتے ہیں۔ اس قلعے کی تصاویر اکثر پوسٹرز پر شائع کی جاتی ہیں لیکن نواب آف بہاولپور کے خاندان کی کم نگاہی کی وجہ سے آج یہ تاریخی قلعہ خستہ حالی کا شکار ہے۔ ماضی کی پرنسلی سٹیٹ بہاولپور قدیم قلعوں اور محلات کے درمیان پھیلی ہوئی تھی اور ان مقامات کی حفاظت تاریخی ورثہ سمجھ کر کی جانی چاہیے تھی، لیکن اسکے لیے صرف نواب صاحب کے خاندان کو ہی کیوں مورد الزام ٹھہرایا جائے، صوبائی حکومت بھی لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894ء کے تحت ان مقامات کو اپنی تحویل میں لے کر انہیں ایکوزیشن ایکٹ 1975ء کے تحت قومی یادگاریں قرار دے سکتی تھی۔

شاید اس علاقے کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کی کچھ اور وجوہ بھی ہیں۔ میں مختلف حکومتوں کی طرف سے جنوبی پنجاب کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا حوالہ دے رہی ہوں۔ اس علاقے کو ووٹ اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کے بعد نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اس لیے یہاں وسطی اور شمالی پنجاب جیسی ترکی دکھائی نہیں دیتی۔ چنانچہ اس علاقے کے تاریخی مقامات بھی اسی تناسب سے کم اہمیت کے حامل ہیں۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ لاہور میں صوبائی حکومت نے تاریخی مقامات کی حفاظت کیلئے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی لیکن جنوبی علاقوں میں ایسی کوئی کاوش دکھائی نہیں دیتی۔ اس رویے کے تیجے میں جنوبی پنجاب میں عمومی طور پر بےچینی پائی جاتی ہے کیونکہ یہاں کے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک بڑے صوبے کا حصہ تو ہیں لیکن اس کی تمام تر طاقت اور اختیارات کا ارتکاز لاہور میں ہے۔

اس دلیل کے جواب میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب کی حکمران اشرافیہ بھی ریاست کی طرف سے روا رکھی جانے والی ان زیادتیوں میں برابر کی شریک ہے۔ پی پی پی کی سابق حکومت کے دور میں اس علاقے کے سب سے بڑے شہر ملتان کو توجہ نصیب ہوئی اور یہاں ترقیاتی کام ہوتے دکھائی دیے۔ اب وفاقی حکومت ان ترقیاتی کاموں کو کچھ آگے بڑھنا چاہتی ہے لیکن ان علاقوں میں جنہیں اندرونی سندھ کی طرح ریاست نے پراکسی گروہوں کے ذریعے کنٹرول کیا اور مسلسل نظرانداز کیے رکھا، کیے جانے والے کام ہنگامی اوروقتی اقدامات کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ قارئین اسے کوئی ذاتی احساس سمجھیں کیونکہ میرا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے ہے لیکن ایسا نہیں۔ میں نے یہ بات اسوقت کی جب میں نے آکسفورڈ سے تعلق رکھنے والے ماہرین معاشیات عدیل ملک اور رنچن علی مرزا پر مشتمل ٹیم کی جنوبی پنجاب کے دو شہروں ملتان اور بہاولپور کے حوالے سے تیار کردہ ایک فکر انگیز رپورٹ دیکھ لی ۔ اگرچہ یہ تحقیقی رپورٹ اس مواد کی بنیاد پر تیار کی گئی جو مزارات اور اس علاقے میں موجود شرح خواندگی کو فوکس کرتا ہے لیکن یہ مضمون نوآبدیاتی طاقتوں اور بعد میں ریاست کی طرف سے اس علاقے کا نظم و نسق چلانے کے لیے بنائے گئے شخصیت پرستی پر مبنی روایتی نظام کو بھی زیر بحث لاتا ہے۔ یہ مطالعہ ملتان اور بہاولپور کے کچھ مخصوص مزارات کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے ظاہر کرتا ہے کہ اس علاقے میں کس طرح پیر اور زمیندار گھرانوں نے زمین ، مذہب اور سیاست کے ادغام سے وجود میں آنے والی اجارہ داری کے ذریعے عوام کو تعلیم تک جیسی سہولیات سے محروم رکھا۔

اس مطالعہ کے مطابق جہاں تک مزارات کی تعداد کا تعلق ہے، اس میں شمالی ، وسطی اور جنوبی پنجاب میں کوئی فرق نہیں۔ درحقیقت انکا سب سے بڑا ارتکاز لاہور میں ہے۔ جنوب اور جنوب مغربی پنجاب میں مزارات سے وابستہ پیر گھرانے روایتی طور پر سیاست سے بھی وابستہ ہیں۔ مصنفین نے جنوبی پنجاب کی جن 115 تحصیلوں کا مطالعہ کیا ان میں سے 64 مزارات کا سیاست سے براہ راست تعلق تھا۔ یہ تعلق صوفی تعلیمات کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ مزارات کی طاقت کو پہلے مغلوں اور برطانوی راج اور پھر ریاست پاکستان کی طرف سے ایک ادارے کی طرح استعمال کرنے پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح مذہبی شخصیات کا نام استعمال کرتے ہوئے معاشرے پر اختیار حاصل کیا گیا۔

اس طاقت کے سٹرکچر کا دارومدار زمیندار پیر کی ریاست اور معاشرے کے ساتھ ڈیل کرنے کی صلاحیت پر ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ زمین اور اختیار کی تقسیم میں ابہام رہے گا۔ برطانوی افسران نے اس طاقت کا ادراک کرتے ہوئے پیروں کو زرعی طبقے میں شمار کیا اور ان میں 1900 کے لینڈ ایکٹ کے تحت زمینیں بھی تقسیم کی گئیں۔ اسکے پیچھے کارفرما تصور یہ تھا کہ مقامی طاقت کے مرکز کو اپنے بس میں کیا جائے۔ جنوبی پنجاب سماجی تصورات اور ریاست کے عوام کے ساتھ سلوک کے حوالے سے بہت حد تک سندھ سے مطابقت رکھتا ہے۔

اس موضوع کا مطالعہ دلچسپی سے کالی نہیں ہوگا کہ شمالی اور وسطی پنجاب کے مزارات براہ راست سیاست پر اثر انداز نہیں ہوئے لیکن انکی وجہ سے دیگر سیاسی کھلاڑیوں کو تقویت ضرور ملی۔ اس حوالے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے گرد و نواح میں واقع مزارات کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اس بحث سے اس نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے کہ مزارات کا ان علاقوں میں تعلیم کے فروغ پر منفی اثر ہوا جنکا فاصلہ دریا سے دس کلو میٹر یا اس سے کم تھا؛

تاہم ان علاقوں (دریاؤں کے قریب والے) کی تعلیمی پسماندگی کی وجہ صرف مزارات نہیں بلکہ انکی وجہ سے وجود میں آنے والا سیاست اور مذہب کا ادغام تھا جس کی وجہ سے ریاست دور افتادہ علاقوں کو آسیب زدہ سمجھ کر ان سے کنارہ کشی اختیار کرتی رہی۔ جنوبی پنجاب میں دریاؤں کے نزدیک والے علاقے غربت اور نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے جرائم اور انتہا پسندی کے گڑھ بن چکے ہیں۔ ان علاقوں کو ترقی دینے میں ریاست بھی اتنی لاپروا ہے جتنی یہاں راج کرنے والے پیر نما زمیندار۔ جنوبی پنجاب پر مطالعہ کے دوران مجھے پتا چلا کہ یہاں بھی غیر آباد سکولوں میں اسی طرح مقامی زمیندار جانور باندھتے ہیں جیسے سندھ میں۔ یہاں تعلیم دینے والے اساتذہ پر مقامی زمینداروں اور انتہا پسند گروہوں کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ بالآخر نوآبادیاتی نظام کے اختتام کے بعد شمالی اور وسطی پنجاب کے حالات توجہ ملنے والی کی بدولت تبدیل ہوتے گئے۔ حکومت کو احساس ہونا چاہیے کہ ملتان میں میٹرو بس چلانا یا بہاولپور میں سولر پلانٹ لگانا اس مسئلے کا حل نہیں۔ اس علاقے کو توجہ کی ضرورت ہے توجہ کے بغیر یہاں رہنے والے اس عورت کی طرح یہی سمجھتے رہیں گے کہ پیروں نے جنات کو قابو کیا ہوا ہے ورنہ وہ بستیوں کو کھا جاتے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند