تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی۔ کنعان ایورن کا مارشل لاء 2
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 17 رمضان 1436هـ - 4 جولائی 2015م KSA 09:54 - GMT 06:54
ترکی۔ کنعان ایورن کا مارشل لاء 2

کنعان ایورن نے 12 ستمبر 1980ء میں مارشل لاء کا حتمی جواز خانہ جنگی کی صورتِ حال کے علاوہ سلیمان ڈیمرل اوربلند ایجوت کے مابین سیاسی کشمکش کو قرار دیا۔ بلندایجوت نے بحیثیت اپوزیشن لیڈر وزیراعظم سلیمان ڈیمرل کو بار بار اپنے خدشات سے آگاہ کیا کہ اگر ہم دونوں سیاسی دھڑوں نے جمہوریت میں برابر اپنا کردار ادا نہ کیا تو جمہوریت کی بساط لپیٹی جا سکتی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سلیمان ڈیمرل کو اپنی پارٹی کے ساتھ مشروط حکومت بنانے کی پیشکش بھی کی۔ 6 ستمبر 1980ء کو مارشل لاء کے نفاذ سے صرف 6 دن قبل انہوں نے ترک مزدور فیڈریشن میں مزدوروں کے ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا ،’’جمہوریت خاتمے کی طرف گامزن ہے، میں سلیمان ڈیمرل کو پیشکش کرتا ہوں کہ آئیں مل کر وسیع تر مخلوط حکومت تشکیل دیں۔ جمہوریت میں تماشائی بننا جائز نہیں۔ عوام کو چاہیے کہ بھرپور طریقے سے اس عمل میں دلچسپی لیں۔ ایک صحت مند جمہوریت کے لیے یہ شرط لازمی ہے جمہوریت اوپری طبقات سے نہیں چل سکتی اور مزدور تماشائیوں کی قطار میں کھڑے نہیں رہ سکتے، ان کا کام صرف کھیل کو دیکھنا نہیں۔ مزدورو آؤ، آگے بڑھو اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرو۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ایک وسل بجانے والا آئے گا اور کہے گا کہ کھیل ختم اور اب سب اپنے اپنے گھر جائیں۔‘‘

مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ترکی کی تمام اعلیٰ سیاسی قیادت کوگرفتار کر لیا گیا اور ان کے خلاف سنگین مقدمات قائم کیے گئے۔ آئین ختم، تمام سیاسی جماعتیں ممنوع قرار دے دی گئیں۔ ترکی میں کنعان ایورن کے مارشل لاء نے ایک سخت گیر فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا۔ 21 ستمبر کو ریٹائرڈ ایڈمرل بلند اولوسو کی قیادت میں ٹیکنوکریٹس کی حکومت نامزد کی گئی۔ وزیراعظم اولوسو نے صدر اور چیف آف جنرل سٹاف کنعان ایورن کی سرپرستی میں ایک نامزد اسمبلی تشکیل دی (یاد رہے پاکستان میں جن حلقوں کی طرف سے ایک طویل عرصے سے جس ٹیکنوکریٹ حکومت کی خواہش کی جاتی ہے، اُن کے سامنے کنعان ایورن کی سرپرستی میں اس حکومت کا ہی خاکہ ہے)۔

اس اسمبلی کو مشاورتی اسمبلی قرار دیا گیا۔ اس مشاورتی قومی اسمبلی میں 160 ٹیکنو کریٹس اراکین تھے جن میں چالیس افراد نیشنل سکیورٹی کونسل کے نامزد کردہ تھے۔ اس مشاورتی قومی اسمبلی میں نامزد اراکین میں پروفیسرز، ریٹائرڈ فوجی، ماہرین اقتصادیات، انجینئر سمیت زندگی کے مختلف شعبوں کے لوگ شامل تھے۔ اس مشاورتی قومی اسمبلی کے ذمہ ترکی کا نیا آئین تشکیل دینا بھی تھا۔ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل قومی اسمبلی نے اپنا کام نوماہ کی مدت میں مکمل کر لیا اور اس دوران ترکی میں مارشل لاء حکومت سیاست سے لے کر زندگی کے ہر شعبے میں بے رحم فوجی آپریشن کرتی رہی۔ 17 جولائی 1982ء کو مشاورتی قومی اسمبلی نے حتمی آئین پیش کر دیا اور 7 نومبر 1982ء کو عوامی ریفرنڈم کا انعقاد ہوا۔ 91.3 فیصد لوگوں نے آئین کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔ ترکی میں ووٹ ڈالنا قانوناً لازمی ہے۔ اس آئین کے تحت ترکی میں ماضی کی تمام سیاسی جماعتوں پرپابندی لگا دی گئی اور نئی جماعتوں کے قیام کا حق دیا گیا۔

اس آئین کے تحت ترکی کے دو بڑے سیاست دانوں، سلیمان ڈیمرل اور بلندایجوت پر دس سال تک ہر لحاظ سے سیاسی پابندیاں لگا دی گئیں۔ نئے آئین کے مطابق مستقبل میں سینٹ کا ایوان بالا ختم کر دیا گیا۔ نیشنل سکیورٹی کونسل کے مشاورتی اختیارات کو بڑھا دیا گیا۔
جنرل کنعان ایورن نے مکمل اختیارات کے ساتھ نئے قائم کردہ سیاسی ڈھانچے پر اپنی گرفت قائم رکھی اور انہوں نے ترکی کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے ترگت اوزال کو چنا۔ ترگت اوزال ماضی میں ورلڈ بینک میں ملازمت بھی کرتے رہے تھے اور ان کی شناخت ایک ماہر اقتصادیات کی تھی، حالاں کہ پیشے کے لحاظ سے وہ الیکٹریکل انجینئر تھے۔ انہوں نے 1977ء میں نیشنل سالویشن پارٹی میں انتخابات میں حصہ لیا، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد انہوں نے سلیمان ڈیمرل کی وزارتِ عظمیٰ میں انڈر سیکریٹری کے طور پر مختصر عرصے کام کیا۔

جنرل کنعان ایورن کے مارشل لاء کے تحت انہوں نے ترکی میں معیشت کی بحالی کے لیے گراں قدر اقدامات اٹھائے جس نے ترک معیشت کو ایک نئی اٹھان دی۔ انہوں نے ترک معیشت کو پرائیویٹائزیشن یا تھیچر ازم سے متعارف کروایا۔ نئے آئین کی تشکیل کے بعد انہوں نے مادرِ وطن پارٹی قائم کی، ترگت اوزال کو اس سارے عرصے میں کنعان ایورن کی بھرپور سیاسی حمایت حاصل رہی اور 1983ء میں جب نئے آئین کے تحت انتخابات ہوئے تو ترگت اوزال کی مادرِ وطن پارٹی ایک مقبول جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ ان کے ووٹرز کا تعلق درحقیقت سلیمان ڈیمرل کی جماعت سے تھا۔ ترگت اوزال کی عوام میں مقبولیت وہ معاشی اور اقتصادی اصلاحات تھیں جو انہوں نے جنرل کنعان ایورن کی فوجی حکومت میں ڈپٹی وزیراعظم کی حیثیت سے کیں۔

ترکی میں جنرل کنعان ایورن کا بے رحم مارشل لاء ایک جانب اپنی بے رحمی سے متعارف ہوا تو دوسری جانب معاشی، اقتصادی اور دیگر قومی اصلاحات کے حوالے سے، جس میں امن کا قیام سرفہرست ہے۔ کنعان ایورن نے علیحدگی پسند کُردوں اور مختلف مسلح گروہوں کے خلاف بے رحم اقدامات اٹھائے۔ اس دوران بائیں بازو کے مختلف دھڑوں کے خلاف کنعان ایورن نے سخت گیر فیصلے کیے۔ ان کے مارشل لاء میں جبر کا بڑا نشانہ عملاً بائیں بازو کے مختلف دھڑے اور تنظیمیں تھیں۔ کنعان ایورن نے ترگت اوزال کی شکل میں دوسری طرف معیشت کی بحالی کا ایک مسیحا فراہم کر دیا اور یوں ترکی میں کنعان ایورن کے مارشل لاء کے دوران ایک نئے معاشی انقلاب کاآغاز ہوا۔

ترک عوام نے کنعان ایورن کے مارشل لاء کو ایک Protector کے طور پر قبول کیا۔ کنعان ایورن نے ترک معاشرے میں جڑ پکڑتی دہشت گردی، انتہا پسندی اور غیر ملکی سرمائے پر چلنے والی مسلح تنظیموں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن کیا۔ جدید ترکی کی تاریخ میں، کنعان ایورن کو بکھرتے سماج میں ایک Saviour کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ کنعان ایورن نے مارشل لاء حکومت کی قیادت اپنے سمیت پانچ افراد کے ہاتھوں میں رکھی۔ کنعان ایورن کے مارشل لاء کے دوران ان کے داماد کو بھی بائیں بازو کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر فوجی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے بے رحم مارشل لاء کو درست قرار دیا اور اس پر کبھی ندامت کا اظہار نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بے رحم وطن دشمن، لوگوں کو قتل اور مادرِوطن کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی کر سکتے ہیں تو ان وطن دشمنوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا سکتی؟

(جاری ہے )

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند