تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی۔ کنعان ایورن کا مارشل لاء(3)
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 23 صفر 1441هـ - 23 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 20 رمضان 1436هـ - 7 جولائی 2015م KSA 10:51 - GMT 07:51
ترکی۔ کنعان ایورن کا مارشل لاء(3)

ترکی کا تیسرا مارشل لاء ترکی کی سیاسی تاریخ میں درحقیقت ایک بڑے آپریشن کی حیثیت رکھتا ہے۔ کنعان ایورن کے مارشل لاء نے سخت گیر آپریشن کے سبب سیاسی تاریخ پر ملے جلے اثرات تو مرتب کیے، لیکن ایک بات طے ہے کہ بکھرتے سماج اور کمزور ہوتی ریاستی رٹ کو بحال کرنے کا سہرا انہی کے سر ہے۔ ستر اور اسّی کی دہائی میں ترکی خانہ جنگی کے دہانے پر، انارکی اور مسلح گروہوں اور علیحدگی پسند تحریکوں کا شکار نظر آتا ہے۔ ان کے حمایتی اس دَور کو ترکی کا دوسرا انقلاب قرار دیتے ہیں جو فوجی طاقت اور عوام کی بڑی حمایت سے کامیاب بنایا گیا۔ کنعان ایورن کے حمایتی انہیں ایک نجات دہندہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے حمایتوں کے نزدیک ڈانوا ڈول ریاست کو بھرپور انداز میں کھڑے کرنے کا سہراانہی کے سر ہے۔

ترک فوج کے حوالے سے ہمارے ہاں جو تجزیہ پیش کیا جاتا ہے، وہ بنیادی حقائق سے ذرا بھی تعلق نہیں رکھتا۔ ترک فوج نے سلطنت عثمانیہ کے بکھرنے کے بعد ایک نئی ریاست کے قیام میں بیرونی حملہ آوروں کو مختلف جنگوں میں شکست دی، جن میں برطانیہ، فرانس، روس، اٹلی، یونان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سرفہرست ہیں۔ ترک معاشرے میں ترک افواج کا ایک احترام ہے، حتیٰ کہ جنگ آزادی کے بعد 1974ء میں قبرص کے مسئلے پر ترک افواج کی فتح نے ترک افواج کی ساکھ میں مزید اضافہ کیا۔ یاد رہے کہ ترک افواج سماج کا اہم حصہ ہیں اور ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ دو سال کی فوجی تربیت حاصل کرے۔ اس کے بغیر آپ کو مکمل شہری، وطنی حقوق میسر نہیں ہوتے۔ ترک افواج کو پولیٹیکل سائنس کی تعریف میں Nationalist Army قرار دیا جاتا ہے، جبکہ ہمارے تجزیہ نگار تجزیہ کرتے ہوئے برصغیر کی افواج کو مدنظر رکھتے ہیں جو 1857ء کے بعد برٹش راج نے قائم کی۔ برٹش انڈین آرمی کے دو اہم کردار طے کیے گئے تھے، Colonized India پر حکمرانی اور عالمی محاذوں پر برٹش انڈین آرمی کو جنگی ایندھن کے طور پر استعمال کرنا، جنگ عظیم اوّل اور دوئم میں برٹش انڈین آرمی نے جاپان، حجاز، افریقہ سے لے کر یورپ تک اپنے ماسٹرز کی جنگیں لڑیں۔ برٹش انڈین آرمی پولیٹیکل سائنس کی اصطلاح میں Colonial Army کہلائی جاتی ہے۔

اس لحاظ سے کلونیل آرمی کا نیشنل آرمی سے تقابل کیا ہی نہیں جا سکتا۔ برصغیر میں برٹش راج کی قائم کردہ کالونیل فوج کا ڈھانچا، ترکی کی نیشنلسٹ آرمی کے ڈھانچے سے یکسر مختلف ہے اور تاریخ بھی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ترکی میں کنٹونمنٹ کا کوئی تصور نہیں، وہاں پر فوجی بیرکس، فوجی میس، فوجی ہسپتال اور دیگر فوجی محکمات عام شہری علاقوں میں ہوتے ہیں۔ کنٹونمنٹ (چھاؤنی) کا وجود آپ کو صرف بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان، جنوبی افریقہ، سنگاپور، ملائیشیا، سری لنکا اور نیپال میں ملتا ہے۔ اس کا حقیقی مطلب ہے Fort Hood، یعنی مفتوحہ علاقوں میں قلعہ بندی۔ عام زبان میں ہم اسی لیے یہ محاورہ استعمال کرتے ہیں، ’’اس نے چھاؤنی ڈال دی‘‘ یعنی قبضہ جما لیا۔

برٹش راج کی وراثت سے ملنے والی افواج کو سامنے رکھ کر ترک تاریخ کا تجزیہ غیر منطقی ہے۔ کنعان ایورن نے تادمِ مرگ کہا کہ ان کو اپنے کیے اور بے رحم فوجی حکمرانی پر کوئی ندامت نہیں۔ مجھے کنعان ایورن کے مارشل لاء کے دوران تقریباًدو ماہ (اگست، ستمبر 1983ء) ترکی کے ایک سے دوسرے کونے تک سفر کرنے کا موقع ملا۔ اس فوجی حکمرانی کا رعب ناقابل بیان ہے، دراز قد فوجی جوان چوراہوں اور عام شاہراہوں پر بندوقوں کے ٹریگر پر ہاتھ رکھے کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکوت ، خاموشی اور خوف کا سماں تھا۔ جب بھی کوئی ترک مجھے پاکستانی جان کر قریب ہوا تو اس نے سیاست، حکومت اور کنعان ایورن کے خلاف سے بات کرنے سے اجتناب نہیں بلکہ صاف کہہ ڈالا ہم اس موضوع پر بات نہیں کریں گے۔ ترکی کے شہروں، دیہات، قصبات، سڑکوں، چوراہوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور پبلک مقامات پر فوجی یوں کھڑے نظر آتے تھے جیسے ترکی حالتِ جنگ میں ہے۔ اس حوالے سے اب متعدد کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں جس میں جنرل کنعان ایورن کے مارشل لاء کی سخت گیر حکمرانی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ان میں ایک ناول ’’کرفیو‘‘ کے نام سے اُردو میں بھی شائع ہوا ہے جس کی مصنفہ عدالت آعولو ہیں۔ کنعان ایورن کا مارشل لاء ترک تاریخ میں لوگوں کے ذہنوں پر ابھی تک نقش ہے۔

لیکن ایک بات بڑی اہم ہے کہ جس طرح جدید ترکی فوج کی تاریخ پر شکست کا کوئی داغ نہیں، اسی طرح جدید ترکی کی فوج پر کرپشن کا بھی کوئی داغ نہیں اور ایسے ہی جنرل کنعان ایورن پر اقربا پروری،کرپشن اور اپنے ’’رفقائے کار‘‘ کو نوازنے کا بھی کوئی الزام نہیں۔ جنرل کنعان ایورن نے مارشل لاء کے تحت تقریباً تین سالوں میں فوجی حکومت کی طاقت سے ترکی کے اندر بڑے آپریشن کو پایہ تکمیل پہنچا کر 1983ء میں عام انتخابات کروا کر ترکی کو جمہوریت کی شاہراہ پر ڈال دیا۔ ترگت اوزال، مادرِ وطن پارٹی کے رہنما کے طور پر وزیراعظم بن کر ترکی کے مقبول رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ ترکی میں جمہوریت مکمل طور پر بحال، ریاست کی رٹ مضبوط اور قانون کی بالادستی قائم ہوگئی۔ اس دوران ترک معیشت نے بھی بڑا موڑ کاٹا اور وزیراعظم ترگت اوزال نے ترکی میں نئے معاشی انقلاب کی بنیاد ڈالی۔ ایک جدید اور نیا انفراسٹرکچر تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔

جنرل کنعان ایورن بدستور صدر رہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی صدارت کی میعاد سے دو سال پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔ 9 نومبر 1989ء کو صدارتی عہدہ سے مستعفی ہو کر وہ بحیرۂ روم کے کنارے آرموتلان کے قصبے میں ریٹائرڈ زندگی گزارنے لگے۔ ان کا زیادہ تر وقت مصوری کرتے ہوئے گزرا۔ ان سے جب بھی پوچھا گیا کہ آپ کی فوجی حکومت میں جس جبر کا مظاہرہ کیا گیا، آپ کو اس پر ندامت ہے؟ انہوں نے ہمیشہ ہی یہ موقف اپنایا کہ انہوں نے ترک ریاست کے دفاع کے لیے سب کچھ کیا اور ان کے مارشل لائی آپریشن کے بعد ترکی نے جمہوری اور معاشی ترقی میں لاجواب کامیابیاں حاصل کیں۔ البتہ جب بلندایجوت کا انتقال ہوا تو انہوں نے کہا کہ انہیں صرف اس بات پر ندامت ہے کہ انہوں نے بلند ایجوت جیسے رہنماؤں کے خلاف سخت اقدامات اورمقدمات قائم کیے۔

1983ء کے انتخابات میں جہاں ترگت اوزال کی شکل میں اعلیٰ قومی قیادت ابھری، وہیں پر ترک سیاست سینکڑوں کی تعداد میں نئے چہروں سے متعارف ہوئی۔ قومی اور صوبائی اور بلدیاتی سطح تک، چلتے چلتے اس قیادت نے نوے کی دہائی میں مزید طاقت پکڑی اور اگر ہم انصاف و ترقی پارٹی (AKP) کا گہرا مطالعہ رکھتے ہوں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ آج کی قومی قیادت 1983ء کے انتخابات میں متعارف ہوئی تھی۔ جنرل کنعان ایورن نے ترکی میں تیسرے مارشل لاء کے تحت جہاں سخت گیر اقدامات کرکے ترک تاریخ میں ایک خاص شناخت حاصل کی، وہیں ان کے حوالے سے یہ بھی شناخت انہی کے حصے میں آئی ہے کہ انہوں نے لڑکھڑاتے ترکی کو ایک طاقتور ریاست، خوشحال معیشت اور مضبوط جمہوری نظام پر گامزن کیا۔ ان کو قتل کرنے کی دو مرتبہ 1996ء اور 2006ء میں ناکام کوششیں بھی ہوئیں۔ 9 مئی 2015ء کو وہ انقرہ کے فوجی ہسپتال میں اپنی طبعی موت دنیا سے رخصت ہوئے اور 12مئی کو ان کو ترکی کے ریاستی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ (ختم شد)

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند