تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تہذیبی کشمکش کا نیا باب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 21 رمضان 1436هـ - 8 جولائی 2015م KSA 20:22 - GMT 17:22
تہذیبی کشمکش کا نیا باب

26 جون کو امریکہ کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخ ساز فیصلہ دیا۔ عدالت نے شادی کے اس تصور کو یکسر بدل دیا، صدیوں سے انسان جس سے واقف تھا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اب دو مرد اور دو خواتین بھی ایسے ہی میاں بیوی ، شمار ہوں گے جیسے مرد و عورت۔ اگر دو مرد یا خواتین ایک دوسرے سے ازواجی رشتہ قائم کرنا چاہیں تو قانونا وہ اسکا حق رکھتے ہیں۔

یہ ایک غیر معمولی فیصلہ ہے جو صرف امریکہ پر نہیں، ساری دنیا پر اثر انداز ہو گا۔ اسکے نتیجے میں تہذیبوں کا وہ تصادم امر واقعہ بن سکتا ہے ، پروفیسر ہٹنگٹن نے 1993ء میں جس کی پیش گوئی کی تھی۔ تاہم یہ تصادم دو جغرافیائی وحدتوں کے درماین نہیں ہوگا۔ یہ تصادم معاشرتی ہے جو مغرب کے معاشروں میں ہوگا اور مشرق میں بھی۔ پاکستان کے سوشل میڈیا پر یہ آج کا سب سے زیادہ زیر بحث آںے والا موضوع ہے۔ نامور لوگ اس بحث کا حصہ ہیں اس لیے میرا خیال ہے کہ اسے محض امریکی سماج کا مسئلہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں اسکا سامنا کرنا ہوگا ، اس سے پہلے کہ تاریخ کا جبر ہمین اس پہ مجبور کردے۔

ہم جنسیت ایک ایسا رویہ ہے جس سے کوئی سماج کبھی خالی نہیں رہا۔ تاہم یہ فعل چند افراد یا ایک طبقے تک محدود رہا ہے جسے کبھی یسماجی قبولیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ سیدنا لوط کی مخاطب قوم وہ پہلا سماج ہے جس نے اسے بطور کلچر اختیار کیا۔ سیدنا لوط، سیدنا ابراہیمؑ کے بھتیجے اور انکے ہم عمر تھےل۔ حضرت ابراہیم کے بارے میں مورخین کیا خیال ہے کہ وہ سیدنا مسیح سے دو ہزار سال قبل کے عہد سے تعلق رکھتے تھے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ چار ہزار سال قبل اس زمین پر ایک ایسا سماج موجود تھا جہاں اس اخلاقی انحراف کو سماجی قبولیت حاصل ہوئی۔

یہ سعادت پھر اب دور جدید کے مقدر میں لکھی گئی کہ ابن آدم ایک بڑی تعدد نے ہم جنسیت کو ایک فطری جنسی رویہ قرار دے کر بطور کلچر اسے اختیار کر لیا۔ امریکہ میں یہ بحث برسوں سے جاری ہے۔ 2004ء میں پہلی مرتبہ میسوچیٹس کی ریاست نے اسے قانونی حیثیت دی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب یہ ریاستیں بھی پابند ہو گئی ہیں کہ مرد اور مرد کے تعلق کو نکاح قرار دیں اور اسکی قانونی حیثیت کو تسلیم کر لیں۔ اس سے قبل یورپ کے اٹھارہ ممالک اس ہم جنس پرستوں کو یہ قانونی حق حاصل تھا۔ نیدر لینڈ پہلا ملک ہے جس نے 2001ء میں اس عمل کو قانونی حیثیت دی ۔

یہ الہامی روایات اور لبرل ازم کے درمیاں جاری کشمکش کا فیصلہ کن موڑ ہے۔ انسان، سماج اور زندگی کے باب میں جوہری طور پر دو ہی نقطہ ہائے نظر رہے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان خدا کی ایک مخلوق ہے۔ یہ حق خدا کا ہے کہ وہ اس کے مقصد حیات کا تعین کرے اور اسکے ساتھ اس کے لیے آداب زندگی بھی طے کرے۔ یہ خدا ہی ہے جس نے انسان کی فطرت کو تخلیق کیا۔ فطرت میں خیر و شر کا تصور رکھا اور پھر اس فطری تصور کی یاددہانی کیلئے اپنے پیغمبروں کو مبعوث کیا۔ دوسرا نقطہ نظریہ ہے کہ انسان کسی خالق کی مخلوق نہیں۔ زندگی اصلا ایک ارتقائی عمل ہے۔ اسکا آغاز ایک سیل کے جاندار سے ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زندگی کی صورت تبدیل ہوتی گئی۔ انسان اس تبدیل شدہ حیات کا ایک ارتقائی مرحلہ ہے۔ اس کی زندگی کا نصب العین کیا ہے۔ اس نے جینے کیلئے کن آداب کا لحاظ رکھنا ہے ، اسکا فیصلہ وہ اپنی عقل سے کرے گا۔ فطرت کسی مستقل ضابطے کی پابند نہیں ہے ۔ یہ خارجی عوامل سے متاثر ہوتی ہے اور یوں اسکے مطالبات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

مغرب میں جن سماجی علوم کو فروغ ملا ہے، وہ اس لبرل روایات کے تحت آگے بڑھے ہیں۔ جدید انتھروپالوجی اور علم نفسیات ہم جنسیت کو ایک فطری رویہ قرار دیتے ہیں۔ انکا کہنا یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر اس رجحان کے ساتھ جنم لیتا ہے۔ جیسے پیدائشی طور پر کوئی صنف مخالف کی کشش محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح سماجی عوامل ہیں جو اسے فروغ دیتے ہیں۔ دونوں حوالوں سے اسے ایک فطری رویہ ہی سمجھنا چاہیے۔ علم نفسیات پہلے اسے ایک سماجی مرضی قرار دیتا تھا۔ آج وہ اسے فطری رویہ کہتا ہے۔ الہامی یا مذہبی روایت میں ہم جنس پرستی کو اخلاقی مسئلہ سمجھا گیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ نہ صرف ابراہیمی بلکہ دوسرے ادیان میں بھی اسے قبول نہ کیا گیا۔ مسیحیت یا یہودیت میں بھی شادی کو مرد و زن کا ہی تعلق کہا گیا ہے۔ اس سے انحراف ، مذاہب کے نزدیک ایک اخلاقی جرم ہے۔

امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے خود امریکہ یں جاری اس بحث میں شدت آ گئی ہے۔ الہامی روایات پر یقین رکھنے والے اسے ماننے کیلئے تیار نہیں۔ یہ بحث اب یہاں نہیں رکے گی۔ لوگ اب کہنے لگے ہیں کہ شادی کی یہ تعریف یہاں تک کیوں محدود رکھی جائے۔ اسکے بعد تو گروپ سیکس یا تعداد ازواج کو بھی قانونی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ یہ تہذیبی کشمکش اب آگے بڑھے گی۔ تاہم اسکے فریقین کا تعین ویسے نہیں ہوگا جیسے ہنٹنگٹن نے کیا یا ہمارے ہاں بعض لوگ کرتے ہیں۔

یہ اسلام اور مغرب کے مابین کشمکش نہیں ہے۔ یہ الہامی روایات کو ماننے والوں اور لبرل اقدار کے علم برداروں کے درمیان ن ہے۔ عالمگیریت کے زیر اثر آج ہم ایک ایسے تمدن میں جی رہے ہیں جسکی ایک خصوصیت کثیر المدنیت ہے۔ دونوں روایات کو ماننے والے ہر سماج میں موجود ہیں۔ یوں یہ کشمکش مغرب کے سماج میں ہونی ہے اور مشرق کے معاشروں میں بھی۔ میرے نزدیک اس میں یہودی ، مسیحی اور مسلمان ایک طرف کھڑے ہیں اگر وہ اپنی اپنی مہبی روایات کو مانتے ہیں۔ دوسرے طرف وہ سب لوگ ہیں جو کسی الہامی روایت کے بجائے ، لبرل ازم کے قائل ہیں۔

ہماری سماجی روایت جو ہری طور پر الہامی روایت ہے ۔ ہمارے نزدیک ہم جنسیت فطرت سے انحراف ہے اور یوں ایک اخلاقی مسئلہ ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بعض افراد میں اس کی نوعیت ایک مرض کی ہو۔ مریض کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاملہ اخلاقی ہو تو پھر اسکا حل تعلیم و تربیت اور ایک مرحلے میں سزا ہے۔ ہمیں اگر اپنی نئی نسل کو اس اخلاقی انحراف سے بچانا ہے تو سب سے پہلے ہمیں یہ معرکہ استدلال اور علم کے میدان میں سر کرنا ہے۔ مثال کے طور پر اگر علم نفسیات اسے فطری رویہ قرار دیتا ہے تو ہمیں اس علم کے بنیادی مسلمات کو چیلنج کرنا ہے۔ ہمیں بتانا ہے کہ کیسے یہ علم لبرل اقدار کے زیر اثر پروان چڑھا ہے اور یوں غیر اقداری نہیں ہے ۔ ہمیں اسکے جواب میں اس علم کو نئی بنیادیں فراہم کرنا ہوں گی جو مسلمات کہلانے کی مستحق قرار پائیں۔ وحی کا علم اس باب میں ہمیں جو رہنمائی دیتا ہے ہمیں اسے علمی مسلمہ کے طور پر لوگوں کے سامنے رکھنا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ کا فیصؒہ تاریخ ساز ہے ۔ دنیا کا کوئی معاشرہ اب اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔ اگر ہمیں اپنی سماجی اقدار پر اصرار ہے تو ہمیں ابھی سے پیش بندی کرنی ہے ۔ یہ کام غصے، گالیوں اور جذباتی استحصال سے نہیں ہوگا۔ میں عرض کر چکا کہ ہمیں پہلے یہ مقدمہ علم اور استدلال کے حضور میں پیش کرنا ہے ۔ نئی نسل کو ہم بالجبر کسی رویے کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند