تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ریس کے گھوڑے کی موت!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 21 رمضان 1436هـ - 8 جولائی 2015م KSA 20:51 - GMT 17:51
ریس کے گھوڑے کی موت!

نیب نے ایک فہرست سپریم کورٹ میں پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کون کون سے مقدمات زیر تفتیش ہیں۔ فہرست پڑھ کر آپ حیران ہوں گے کہ برسوں سے مقدمات پڑے ہیں، انہیں دیمک کھا گئی اور نیب افسران مال بٹورنے میں لگے رہے، جبکہ نیب کے تمام ملزمان اس ملک کے اہم عہدوں پر فاہز ہونے کے بعد کب کے گھروں کو لوٹ چکے۔

مجھے یہ پڑھ کر حیرانی نہیں ہوئی کہ نیب کی کارکردگی صفر ہے۔ اس معاشرے میں اگر کرپشن عروج پر ہے اور کسی کو خوف نہیں رہا تو اس میں نیب کو قصور زیادہ ہے، جہاں باڑ کھیت کو کھانے لگ جائے وہاں کیا بچتا ہے۔

میں خود سپریم کورٹ جاتا رہا ہوں۔ نیب کے حوالے سے میں نے ایک بات نوٹ کی تھی کہ جو بھی چیئرمین، عدالت میں پیش ہوا، طوقت ور ملزمان کا وکیل بن کر پیش ہوا۔ سن نے اپنی کرسی کے نام پر بڑے لوگوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی۔ بوض دفعہ حھیرانی ہوتی تھی کہ کیا نیب ملزمان کا ساتھی ہے یا پراسیکیوٹنگ ایجنسی کا ہے جسکا کام انکے خلاف تحقیقات کرنا ہے۔ عدالت میں بھی کئی دفعہ انہیں کہا گیا کہ وہ ملزمان کے وکیل ہیں یا انکو جیل بھجوانے والے؟

یہ سب کام جنرل پرویز مشرف نے شروع کیا۔ جنرل مشرف سمجھدار تھے کہ انہوں نے فوری طور پر جنرل امجد کو ہٹا دیا تھا کیونکہ انہیں اب سیاست میں دلچسپی ہو گئی تھی اور اب انہیں لٹیروں کا ساتھ چاہیے تھا جنہیں جیل میں ڈالنے کیلئے جنرل امجد کو استعمال کیا گیا تھا۔ جب جنرل امجد ہو ہٹایا گیا تو یہ بات ثابت ہو گئی تھی کہ اگر کسی کا کچھ احتساب ہو بھی رہا تھا تو اب نہیں ہوگا اور وہی ہوا۔ جنرل خالد مقبول تشریف لائے۔ انہوں نے معاملات کو سیٹل کرنا شروع کیا جیسے جنرل مشرف چاہتے تھے۔ یوں ایک سیاسی پارٹی کھڑٰ ہوئی اور جنرل مشرف نے اس پارٹی کی بنیاد پر حکمرانی شروع کر دی۔ جو ان کے ساتھ مل گئے انہیں نیب سے ضمانتیں مل گئییں اور جو یوسف رضا گیلانی کی طرح ڈیل نہ کر سکے وہ جیل جا بیٹھے۔ ابھی جنرل مشرف کو نیب سے مزید مدد چاہیے تھی، لہذا خالد مقبول کو صلہ دینے کے لیے گورنر پنجاب بنا دیا گیا اور جنرل منیر حفیظ کو لایا گیا۔ منیر حفیظ بھی وہی کرتے رہے جو جنرل مشرف کے سیاسی مفادات کا تقاضا تھا۔

ان لوگوں نے ایک کام سمجھداری کا کیا۔ نیب کے ایک ملزم اقبال زیڈ احمد جسے نیب نے ایل پی جی سکینڈل میں پکڑا تھا، سے ہی ایل پی جی کے کوٹ؁ لر کر کاروبار شروع کر دیا اور ہر ماہ گھر بیٹھے تیس تیس لاکھ کماتے رہے۔ اسی طرح جن فوجی افسران نے اقبال زیڈ احمد سے بارگین کی تھی انہیں بھی ایل پی جی کو کوٹے ملے۔ ایک سابق وزیر داخلہ نے اپنے بھتیجے کے نام پر کوٹہ لیا۔ ایک بڑے ایماندار نیب چیئرمین نے بھی خاموشی سے اپنے ایک دوست کے نام پر ایل پی جی کا کوٹہ لیا اور ایمانداری کا چغہ آج تک پہن کر معزز کہلواتے ہیں اور شام کو گولف کھیلتے ہیں۔ اقبال زیڈ احمد سے اگر پوچھ گچھ کی جائے تو وہ بہت کچھ بتائیں گے کہ ان سے نیب کے کن کن فوجی اور سول افسران نے ایل پی جی کے کوٹے لیے تھے۔

جنرل مشرف کی فرمائش پر چند خوبصورت لوگوں کو بھی ایل پی جی کوٹ؁ ملے۔ پکڑا تھا اقبال زیڈ احمد کو، ایل پی جی سکینڈل کی پوچھ گچھ کے لیے کہ کس پیپلز پارٹی کے پیڈر کو کیا دیا تھا اور اسکے بدلے الٹا نیب نے ہی اپنی دکان کھولنے کا فیصؒہ کیا۔ آج نیب کے سویلین اور فوجی افسران ہر ماہ اوسطا تیس لاکھ روپے گھر بیٹھے کماتے ہیں۔

جب سیاسی حکومت آئی تو ایک روایتی بیوروکریٹ نوید احسن کو نیب کا چیئرمین لگا دیا گیا۔ مگر وہ بھی نیب کو واپس اس راستے پر نہ لا سکے کیونکہ نیب کا کام کرپشن کو روکنا نہیں بلکہ خود کرپشن کرنا تھا۔ ایف آئی اے سے ڈیپوٹیشن پر آئے افسران نے نیب میں مزید کرپشن کی کئی داستانیں رقم کیں۔ ان دنوں مشہور ہو گیا تھا کہ نیب اغوا برائے تاوان کا ادارہ بن گیا ہے۔ جس افسر کو پیسوں کی ضرورت پڑتی، وہ کسی کو اٹھا لیتا۔ اس کے گھر والوں کو ڈرا کر پلی بارگین پر مجبور کرتا اور اس میں سے اپنا مال بنا لیتا۔ نیب کے سب ملزم ایک ایک کر کے رہا ہوتے گئے کیونکہ نیب کو مال چاہیے تھ انہ کہ انہیں سزائیں دلوانا تھیں۔ نیب کے ملزم ہی ایک دن ملک کے وزیر اعظم، صدر اور اہم وزیر بن گئے اور نیب ان کے نیچے کام کرنے لگا جن کے خلاف کبھی وہ کارروائی کرتا تھا۔ جب نیب کے افسران کو یہ سیاستدان سر سر کہتے سنتے تو عجیب سی راحت محسوس کرتے۔

نوید احسن بہت جلد چھوڑ گئے تو انکی جگہ سندھ کا ایک ریٹائرڈ جج لگایا گیا۔ اس پر چوہدری نثار علی خان سپریم کورٹ جا پہنچے ۔ الزام لگا کہ وہ جج بنے سے پہلے پیپلز پارٹٰ کے ٹکٹ پر بلدیاتی الیکشن لڑے تھے۔ پتہ چلا یہ وہی جج تھے جنہوں نے جنرل مشرف کے دباؤ کے باوجود نواز شریف کو طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں پھانسی کی سزا دینے سے انکار کر دیا۔ آج اسی جج کو نواز لیگ نے ذلیل کر کے سندھ واپس بھیج دیا کہ ایسے جج کی ضرورت نہیں جو جنرل مشرف کے آگے بھی کھڑا ہو گیا تھا۔

یوں راستہ کھلا جناب فصیح بخاری کیلئے۔ انکی رپوٹٰشن اچھی تھی۔ تاہم پتہ چلا کہ انکی تقرری بھی جناب زرداری سے ایک طاقتور مشترکہ دوست نے کرائی تھی اور انہی کے بندے تھے۔ مجھے یقین نہ آتا اگر میں خود عدالت میں فصیح بخاری کی جناب زرداری اور انکے ہمنواؤں کو بچانے کی کوششوں کا عینی گواہ نہ ہوتا۔ افسوس ہوا کہ ایک اچھے انسان اور سابق نیوی چیف کا کیا انجام ہوا تھا۔ اس عمر میں بھی ملک اور قوم کی خدمت کی بجائے وہ چند لوگوں کی نوکری پر مامور تھے۔ یوسف رضا گیلانی سے لے کر زرداری اور راجہ پرویز اشرف یا پھر امین فہیم ہر جگہ بخاری صاحب نے پیپلز پارٹٰ کی سپورٹ کی اور یوں نیب ایک مردہ گھوڑا بن کر رہ گیا۔

میں نے مایوس ہو کر سپریم کورٹ جانا ہی چھوڑ دیا۔

فصیح بخاری نے انہی لوگوں کی خدمت کی جو انہیں اس پوزیشن پر لائے تھے۔ جب انہیں سپریم کورٹ کے حکم پر جانا پڑ گیا تو نئے گھوڑے کی تلاش شروع ہوئی کہ اب کی دفعہ ریس کون دوڑے گا۔ سب کی نگاہ مردمومن قمرالزماں چوہدری پر پڑیں ۔ جو لوگ انہیں جانتے تھے انہیں علم تھا کہ یہ چوہدری صاحب کے بس کی بات نہیں۔ وہ ضرورت سے زیادہ ہی نفیس انسان ہیں۔ برسوں کی نوکری سے وہ سیکھ چکے ہیں کہ جو لوگ آپ کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں ان سے پنگا مت لیں۔ ایک دفعہ انہوں نے ترکی میں چند صحافیوں سے خود کہا تھا کہ ذرا پتہ کریں کہ سرت ارب روپے کس وفاقی وزیر داخلہ نے چینی کمپنی کو سیف سٹی پراجیکٹ کے نام پر ایڈوانس دلوائے تھے اور وہ کمنی کام پورا کیے بغیر چلی گئی تھیْ اس وقت وہ خود وزارت داخلہ میں سیکرٹری تھے۔ جب چیئرمین نیب بنے تو بھول کر بھی کبھی اس اسکینڈل کا ذکر نہ کیا۔

پھر وہ دور آیا کہ کچھ افراد کے خلاف مقدمات ختم ہونے لگے۔ گویا نیب ایک لانڈری بن کر رہ گی اہے جس کے کپڑے میلے ہو گئے اس نے آرڈر پر دھلوا لیے اور جاتے ہوئے معاوضہ کے طور پر چند ٹکے پھینک دیے۔ ایک دن ذوالفقار مرزا کے منہ سے سنا کہ اگر سابق پٹرولیم منسٹر ڈاکٹر عاصم حسین کو گرفتار کر کے رگڑا لگایا جائے تو وہ اربوں روپے اگل دے گا۔ کچھ دن بعد مرزا نے ایک اور انکشاف کیا کہ جناب عاصم حسین کا نام ایک سکینڈل میں تھا جسکا ریفرنس نیب کے پاس تھا، تاہم الزام لگا کہ موجودہ چیئرمین نے خاموشی سے ان کا نام اس سکینڈل اور ریفرنس سے نکال دیا تھا، پتہ چلا کہ ایف ٹین کے فلیٹس میں دونوں کے ایک مشترکہ دوست کی ہونیوالی ملاقاتیں رنگ لائی تھیں۔

اب پتہ چلا ہے کہ ایک دن نیب کے چیئرمین کو بلا کر سمجھایا گیا کہ وہ سیاستدانوں کی وفاداری ترک کریں اور سنجیدگی سے اپنا کام کریں اور مقدمات کو دوبارہ شروع کرائیں۔ ساری عمر سرکاری نوکری کے بعد چیئرمین نیب یہ تو جانتے ہیں کہ جس طرف ہوا کا رخ ہو اس طرف ہی چلنا چاہیے لہذا اچانک آپ نے دیکھا ہو گا کہ وہ بھی ایکٹو ہو گئے ہیں۔

تاہم برسوں سے لٹکے مقدمات کی فہرست پڑھ کر افسوس ہو رہا ہے کہ کیسے کیسے لوگ ملک لوٹتے رہے اور نیب اور عدالتوں میں انکا ہی دفاع کرتا رہاْ۔ شیرپاؤ نے چھ ارب روپنے کا نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے ساتھ فراڈ کیا اور ادائیگی کرے گا۔ نیب کو سپریم کورٹ نے اسکے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ تین برس گزر گئے نیب اسے ہاتھ تک نہ لگا سکا۔ اس نے نیب کے ایک افسر سے دعا سلام کی اور آزاد پھرتا رہا۔

جب ریس میں اپنا گھوڑا ہی بیکار نکلا اور چند ٹکے لے کر اسکا سوار ہی مخالفوں سے مل گیا تو پھر ان بڑے بڑے لٹٰروں سے کیا شکایت ۔ کیسا گلہ۔ کیسی سینہ کوبی۔ کیسا ماتم کیسا وعظ

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند