تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سابق وزیراعظم۔ دشمن ملک کے بزنس مین کا ملازم کیوں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 21 رمضان 1436هـ - 8 جولائی 2015م KSA 19:41 - GMT 16:41
سابق وزیراعظم۔ دشمن ملک کے بزنس مین کا ملازم کیوں

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر لکھے گئے میرے گزشتہ کالم ’’سابق وزیراعظم اور ترک خاتون اول کا ہار‘‘ کو بے شمار لوگوں نے پسند کیا اور اس سلسلے میں مجھے متعدد ای میلز بھی موصول ہوئیں۔ ابھی ان ای میلز اور خطوط کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ پاکستان کے ایک اور سابق وزیراعظم کی مقامی اخبار میں شائع ہونے والی خبر نے مجھے حیرت زدہ کردیا اور یقین نہیں آیا کہ یہ سچ ہوسکتا ہے۔ خبر کے مطابق ’’سابق وزیراعظم پاکستان شوکت عزیز نے بھارتی بزنس مین لکشمی متل کی بطور فنانشل ایڈوائزر ملازمت اختیار کرلی ہے۔‘‘ خبر کی تصدیق کیلئے میں نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل سے رابطہ کیا تو انہوں نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’’پاکستان کی یہ بدقسمتی رہی کہ عالمی بینکوں کے ’’معاشی ہٹ مین‘‘ کو پاکستان کا وزیراعظم بنایا گیا جس کا کوئی پرچم اور سرحد (Flag or Frontier) نہیں تھی اور وہ اپنا مشن پورا کرکے پاکستان سے چلاگیا۔‘‘ جنرل (ر) حمید گل کے تبصرے اور خبر نے مجھے مزید صدمے سے دوچار کردیا اور یقین نہیں آیا کہ پاکستان کا کوئی سابق وزیراعظم ایک دشمن ملک کے بزنس مین کی ملازمت بھی اختیار کرسکتا ہے۔ اگر یہ خبر کسی عام پاکستانی کے بارے میں ہوتی تو شاید اسے نظر انداز کردیتا کیونکہ ملازمت اختیار کرنے کے سلسلے میں ہر شخص آزاد ہے اور اپنی مرضی کی ملازمت اور آجر (Employer) چن سکتا ہے لیکن یہ خبر ایک ایسے شخص کے بارے میں تھی جو 3 سال تک پاکستان کا وزیراعظم رہ چکا تھا۔ لکشمی متل کا شمار دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے، وہ بھارت کے ’’اسٹیل ٹائیکون‘‘ تصور کئے جاتے ہیں اور ان کی دنیا کے کئی ممالک میں اسٹیل ملز ہیں۔ وزیراعظم شوکت عزیز کے دور حکومت میں پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کے دوران بھی لکشمی متل کا نام پاکستانی میڈیا پر آتا رہا اور یہ افواہیں گرم رہیں کہ پاکستان اسٹیل ملز کو کوڑیوں کے دام خریدنے والے کنسوریشم کے پیچھے اصل چہرہ لکشمی متل کا ہے اور وزیراعظم شوکت عزیز، لکشمی متل کو پاکستان اسٹیل ملز فروخت کرنا چاہتے تھے لیکن نجکاری کے عمل میں شفافیت نہ ہونے کے سبب سپریم کورٹ نے یہ خریداری منسوخ کردی جس کے بعد وزیراعظم شوکت عزیز کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے تعلقات خراب ہونے کی ابتداء ہوئی اور شوکت عزیز کی شکایت پر صدر پرویز مشرف نے افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ آج شوکت عزیز کے لکشمی متل کی ملازمت اختیار کرنے کے بعد ان افواہوں کو تقویت ملی ہے کہ لکشمی متل ہی کنسوریشم کے پیچھے تھے جو پاکستان اسٹیل کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لکشمی متل اس سے قبل دنیا کے کئی ممالک میں اسٹیل ملز خریدتے رہے ہیں تاکہ وہ اسٹیل بزنس کے ’’بے تاج بادشاہ‘‘ بن سکیں۔
سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے مذکورہ فیصلے نے مجھ جیسے ہر پاکستانی کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ انسان کی دولت حاصل کرنے کی ہوس کہاں جاکر ختم ہوتی ہے اور اُسے اپنی زندگی گزارنے کیلئے کتنی دولت درکار ہوتی ہے؟ شوکت عزیز کا شمار پاکستان کے امیر ترین ارب پتی لوگوں میں ہوتا ہے۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں تحریر کیا تھا کہ شوکت عزیز وزیراعظم ہائوس سے رخصت ہوتے وقت توشہ خانے سے 700 سے زائد تحائف اپنے ہمراہ لے گئے تھے جن کی مالیت کروڑوں روپے تھی۔ شوکت عزیز، لکشمی متل کی ملازمت کے علاوہ نہ صرف China Soverign Fundsکے بورڈ پر ہیں بلکہ آغا خان فنڈز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل ہیں جہاں سے انہیں کئی ملین ڈالرز کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
یہ بات بڑی مضحکہ خیز ہے کہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے سے قبل عہدے پر فائز ہونے والے شخص کیلئے سیکورٹی کلیئرنس لازمی قرار دی جاتی ہے اور یہ کلیئرنس ہماری سیکورٹی ایجنسیاں بڑی جانچ پڑتال کے بعد دیتی ہیں تاکہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر کوئی ایسا شخص فائز نہ ہوسکے جو ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ثابت ہو مگر اس عہدے پر کئی سال گزارنے کے بعد جب وہ شخص ملک کی سلامتی و دفاع سے متعلق اہم رازوں سے آگاہ ہوجاتا ہے تو پھر اُسے کسی بھارتی بزنس مین کی ملازمت اختیار کرنے کیلئے ملک کی کسی سیکورٹی ایجنسی کی کلیئرنس کی ضرورت نہیں ہوتی؟ وقت آگیا ہے کہ ملک میں ایسے قوانین وضع کئے جائیں جن کی رو سے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور ملکی سلامتی سے متعلق اہم عہدوں پر فائز شخص کیلئے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد پاکستان یا بیرون ملک ملازمت اختیار کرنے سے قبل سیکورٹی ایجنسیوں سے کلیئرنس لازمی قرار دی جائے۔ میڈیا پر آج کل ایسی خبریں عام ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کی مالی مدد کرتی رہی ہے تاکہ پارٹی کے کارکنوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرسکے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے سابق وزیراعظم کے دشمن ملک کے بزنس مین کی ملازمت اختیار کرنے سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ یہ بھی شبہ کیا جارہا ہے کہ کہیں ’’را‘‘ اپنے بھارتی شہری کے ذریعے پاکستان کے سابق وزیراعظم سے ملکی سلامتی سے متعلق اہم رازوں کے بارے میں ایسی معلومات حاصل نہ کرلے جن کا تعلق پاکستان کی سلامتی سے ہو۔
وزیراعظم شوکت عزیز سے ان کے دور حکومت اور سبکدوش ہونے کے بعد لندن میں مشترکہ دوستوں کے ہاں میری ملاقاتیں رہی ہیں اور جب وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز تھے تو میں ان کے سرکاری دورہ مراکش، یونان اور لیبیا کے وفد کے ارکان میں شامل تھا۔ اس طرح مجھے شوکت عزیز کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جنہیں میں نے انہیں انتہائی مہم جو (Ambitious) شخص پایا۔ کسی بھی ملک کے صدر اور وزیراعظم کا عہدہ ملک کا سب سے بڑا عہدہ تصور کیا جاتا ہے اور سبکدوش ہونے کے بعد بھی عہدے پر فائز شخص کا نام ملک سے جڑا رہتا ہے، اس طرح وہ زندگی بھر سابق وزیراعظم پاکستان کہلاتا ہے۔ آج ایک بھارتی بڑے فخر سے یہ کہتا ہوگا کہ ’’پاکستان کا سابق وزیراعظم میرا ملازم ہے۔‘‘ شاید شوکت عزیز کو اس میں کوئی قباحت محسوس نہ ہوتی ہو مگر ان کے اس اقدام سے مجھ سمیت لاکھوں پاکستانیوں کو نہ صرف ذلت محسوس ہورہی ہے بلکہ دل آزاری بھی ہوئی ہے۔ شوکت عزیز سے میری درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ملک کے سب سے بڑے عہدے پر فائز ہونے کا شرف بخشا اور آپ زندگی بھر ’’سابق وزیراعظم پاکستان‘‘ کے نام سے دنیا میں پہچانے جائیں گے، ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز رہنے کے بعد آپ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ ایک دشمن ملک کے بزنس مین کی ملازمت اختیار کریں جس سے نہ صرف آپ کا وقار مجروح ہو بلکہ ہم پاکستانیوں کے سر بھی شرم سے جھک جائیں، مجھے امید ہے کہ آپ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند