تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یونان عوام نے کشکول توڑ دیا!س
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 23 رمضان 1436هـ - 10 جولائی 2015م KSA 08:59 - GMT 05:59
یونان عوام نے کشکول توڑ دیا!س

دہائیوں سے حکمرانوں کے کشکول توڑنے کے بیانات سن سن عوام کے کان پک گئے ہیں۔ انہیں اچھا طرح معلوم ہے کہ آئی ایم ایف جیسے سامراجی مالیاتی اداروں کے یہ کاسہ لیس، کارپوریٹ سرمائے کے کمیشن ایجنٹ ہیں جو اپنے آقاؤں سے آنکھ ملا کر بات بھی نہیں کرسکتے۔

سامراجی ڈاکہ زنی کا سب سے بڑا ہتھیار قرض اور سودر سود کا گھن چکر ہے، استحصال پر مبنی نظام کے حکمران اس چکر سے کبھی نہیں نکل سکتے۔ محنت کش طبقہ ہی ان لٹیروں کے سامنے سینہ سپر ہو سکتا ہے۔ یونان میں 5 جوالئی کے ریفرنڈم کے نتائج اس حقیقت کے گواہ ہیں۔ ریفرنڈم سے قبل ٹرائیکا ، یورپ کے سرمایہ داروں اور اس نظام کے دوسرے حواریوں نے اپنے کارپوریٹ میڈیا کے ذریعے یونان کے عوام کو کھلی دھمکیاں دی تھیں کہ انکے احکامات کے خلاف ووٹ نہ ڈالیں۔ اسی طرح کی ایک پراپیگنڈا مہم اس سال جنوری کے عام انتخابات میں بھی چلائی گئی تھی جس میں عام کو نجکاری اور تنخواہوں ، پنشن اور ریاستی سہولیات میں کٹوتیوں کے فضائل گنوائے گئے تھے۔ عوام نے اس ریفرنڈم کی ہی طرح تب بھی تمام تر دھونس اور فریب کو رد کرتے ہوئے بائیں بازو کی ایک نومولود قوت سائریزا کو کامیابی دلائی تھی۔ انا نتخابات میں دہاؤں سے عوام کی سیاسی روایت سمجھی جانے والی سیاسی جماعت PASOK کو بری طرح شکست ہوئی۔ اسکا کردار یونان میں کم و بیش وہی بن گیا تھا جو یہاں پیپلز پارٹی کا بن چکا ہے۔

سائریزا کی فتح نے پورے یورپ مین سیاسی زلزلہ پیدا کیا لیکن انتہای بائیں بازو کی لفاظی کے باوجود پارٹی قیادت کے پاس کوئی ٹھوس انقلابی پروگرام نہیں تھا۔ الیکسز سپراس اور اسکی ٹیم برسراقتدار آ کر بائیں بازو کی اصلاح پسندی کی مخصوص سوچ کے تحت آئی ایم ایف اور دوسرے قرض دہندگان سے رحم کی بھیک مانگتے رہے۔ لیکن سرمائے کے نظام میں سرمائے کی منطق ہی چلتی ہے، سرمایہ دار اور سود خور اگر انسانی ہمدردی کے تحت اچھے ہو جائیں تو دوسرے دن کنگلے ہو کر سڑک پر آ جائیں گے۔ گھوڑا گھاس سے دوستی نہیں کر سکتا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے استحصال پر مبنی اس نظام کو ٹھیک کرنے کے شوقین اصلاح پسند اسکا ادراک کرنے سے انکاری ہیں۔

سائریزا کی قیادت اوپر سے مفاہمت کی سرتوڑ کوششیں کرتی رہی لیکن نیچے سے عوام کے دباؤ کی وجہ سے جزوہ مزاحمت پر بھی مجبور تھی۔ ٹرائیکا کے قرض دہندگان بضد تھے کہ اگر معیشت کو زندہ رکھنے کیلئے مزید قرض چاہئے تو ریاست تمام اثاثوں کی نجکاری کرے، عوام کو حاصل روزگار ، صحت اور تعلیم وغیرہ کی تمام سہولیات کا خاتمہ کیا جائے، پنشن اور تنخواہیں مزید کم کی جائیں، بالواسطہ ٹیکسوں میں مزید اضافہ کیا جائے۔ سائریزا کی قیادت کے لیے یہ اقدامات سیاسی خودکشی کے مترادف تھے کیونکہ انہی کے خلاف نعرے لگا کر وہ برسراقتدار آئے تھے۔ ڈیڈلاک کھلنے کے امکانات نہ تھے چنانچہ سائریزا حکومت نے قرض دہندگان کی شرائط سے متعلق ریفرنڈم کا اعلام کر دیا۔

رعونت سے بھرے یورپی حکمرانوں کے نزدیک یہ ناقابل معافی گستاخی تھی۔ انہوں نے دھونس خوف اور عدم استحکام کا ہر حربہ استعمال کیا۔ یورپی بینک نے یورو کرنسی کی سپلائی منقطع کر کے یونانی حکومت کو مجبور کر دیا کہ بینک کچھ دنوں کیلئے بند کرے اور اے ٹی ایم پر 60 یورو روزانہ کی حد لگائی جائے۔ کارپوریٹ میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا تھا کہ اگر عوام نے ٹرائیکا کی منشا کے خلاف ووٹ ڈالا تو برباد ہو جائیں گے، انکی جمع پونجی لٹ جائے گی، بھوکے مر جائیں گے ۔ یونان کے حکمران طبقے اور دائیں بازو کے سیاسی جغدری بھی میدان میں لائے گئے اور قرض دہندگان کی شرائط کے پیکج کے حق میں ہاں ووٹ کی بھرپور مہم چلائی گئی۔ نام نہاد سروے کروا کے پرپیگنڈا کیا گیا کہ عوام کی اکثریت ہان کو ہی ووٹ ڈالے گی۔ لیکن جیسا نیم انقلابی یا انقلابی کیفیت بھی ہوتا ہے کہ عوام جب حرکت میں آتے ہیں تو سرمائے کی بڑی سے بڑی چالبازیاں نامراد ہو جاتی ہیں۔

5 جولائی کی رات آنے والے ریفرنڈم کے نتائج کارپوریٹ میڈیا اور انکے سامراجی آقاؤں کے منہ پر تھپڑ سے کم نہیں تھے۔ تمام تر جعلی قیاس آرائیوں کے برعکس 61.3 فیصد لوگوں نے OXI یا ناں پر مہر لگا کر ٹرائیکا کی تمام شرائط کو مسترد کر دیا۔ ہاں کو صرف تمام شرائط کو مسترد کر دیا۔ ہاں کو صرف 38.7فیصد ووٹ پڑے۔ اس ریفرنڈم نے یونا نمیں کئی سالوں سے جاری انقلابی تحریک میں نئی روح پھونک دی ہے۔ ووٹنگ سے قبل جمعہ 3جولائی کو ایتھنز کے مرکزی چوک میں تین لاکھ سے زائد افران نے ٹرائیکا کے خلاف احتجاج کیا جسے پچھلے کئی دہائیوں میں یونان کا سب سے بڑا سیاسی اجتماع قرار دیا جا رہا ہے۔ ریفرنڈم کے بعد دائیں بازو کی اپوزیشن کا سب سے بڑا رہنما ، سماراس استعفی دے کر سیاست سے ہی دستبردار ہو گیا۔ ہر طرف سوشلزم اور زنجیروں کو توڑ ڈالو کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔

لیکن یہ جوش و ولولہ لمبے عرصے تک اسی حالت میں برقرار نہیں رہ سکتا۔ یونان میں طبقاتی جنگ کی صفیں بالکل سیدھی ہو چکی ہیں۔ سیاسی تفریق 50 سال بعد دائیں اور بائیں بازو کی شکل میں اتنی واضح ہوئی ہے کہ صورتحال ونزویلا سے خاصی مماثلت رکھتی ہے۔ عوام نے تو اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، وہ اس نظام سے نفرت کرتے ہیں اور لڑںے کو تیار ہیں۔ سوال اب یہ ہے کہ سائریزا کی حکومت کیا کرتی ہے۔ پارٹی کی قیادت اصلاح پسندوں کے پاس ہے لیکن تنظیمی اداروں اور عام کارکنان میں انقلابی سوشلسٹ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پارٹی میں بائیں بازو کی اپوزیشن کا سب سے منظم اظہار سائریزا کا کمیونسٹ رجحان ہے۔

سائریزا کی قیادت سمجھ رہی ہے کہ اس ریفرنڈم کے ذریعے ٹرائیکا کے ساتھ مذاکرات میں انکا پلہ بھاری ہو گیا ہے جو سراسر خوش فہمی اور حماقت ہے۔ یہ چھٹے ہوئے ساہوکار اپنی روز سے ہٹنے والے نہیں۔ انہوں نے ریفرنڈم کے بعد مالیاتی بلیک میلنگ زیادہ بڑھا دی ہے۔ ٹرائیکا کو درست طور پر دہشت گرد قرار دینے والے یونان کے وزیر خزانہ یانس واروفاکس کو مستعفی ہونا پڑا کیونکہ قرض دہندگان اسے مذاکرات کی میز پر برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے، یہ سائریزا حکومت کی ایک اور پسپائی ہے۔ سائریزا کی قیادت کو شاید اندازہ نہیں ہے کہ وہ ایک قدم پیچھے ہٹیں گے تو ٹرائیکا انہیں دس قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے گا۔

یہ کیفیت صرف یونان تک محدود نہیں ہے۔ سپین ، اٹلی ، پرتگال ، آئرلینڈ سمیت کئی یورپی ممالک کی معای کیفیت زیادہ مختلف نہیں ہے ۔ لیکن یونان ایک فوکل پوائنٹ بنا ہوا ہے اور پورے یورپ کے نوجوان اور محنت کش یونان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے مظاہرے کر رہے ہیں۔ یونان میں ہونے والی پیش رفت کے سیاسی اور معاشی نتائج پورے یورپ مر مرتب ہوں گے۔ ٹرائیکا اگر معاشی ناکہ بندی بڑھا کر یونان کے عوام کو مزید نڈھال کرنے کی کوشش کرت اہے تو الٹ نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور تحریک زیادہ شدت سے پھٹ سکتی ہے۔ اسی طرح یونان کو یوروزون یا یورپی یونین سے نکالنا بھی اتنا آسان نہیں ہے۔ اس سے ساہوکاروں کے قرضے ڈوب جائیں گے۔ مزید برآں دوسرے ممالک کے عوام بھی معاشی ذلت پر ڈیفالٹ ہونے کو ترجیح دیں گے، پورے یورپ میں یورو مخالف جذبات پہلے ہی بھڑک رہے ہیں۔ لیکن ٹرائیکا کوئی رعایت بھی نہیں دے سکتا کیونکہ قرضوں میں ڈوبی دوسری ریاستیں عوام کے خون کا آخری قطرہ بھی چوس لینا چاہتے ہیں۔

نیو لبرل اور نہ ہی کینشین اسٹ سرمایہ داری کی بنیادوں پر یونان کی کوئی نجات ممکن ہے۔ سرمایہ داری میں فلاحی ریاست اب قصہ ماضی ہو چکی ہے۔ آگے بڑھنے کا واحد راستہ پورے یورپ کے عوام سے یکجہتی کی اپیل کرتے ہوئے سوشلسٹ بنیادوں پر یونان کی یوروزون اور یورپی یونین سے علیحدگی ہے۔ بینکنگ اور مالیاتی اثاثوں سمیت معیشت کے کلیدی شعبے نیشنالائز کر کے ہی عوام سے اب تک چھینی گئی روزگار ، تعلیم، علاج ، رہائش جیسے تمام سہولیات کہیں احسن طریقے سے فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اگر یہ انقلابی اقدامات بروقت نہیں کئے جاتے تو معاشی بحران شدت پکڑ سکتا ہے اور سائریزا حکومت اپنی ساکھ کھو کر معزول ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں پارٹی بھی اصلاح پسندوں اور انقلابی سوشلسٹوں کے درمیان پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔ دائیں بازو اور فاشزم کی قوتیں بہر حال بہت کمزور ہیں۔

یونان کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے جس انقلابی جرات اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے وہ دنیا بھر کے عوام کے لئے مشعل راہ ہے۔ یہ نئے عہد کا آغاز ہے جو انقلابی سوشلزم کے ذریعے نسل انسان کی آزادی اور نجات کے راستے کھولے گا!

بہ شکریہ روزنامہ دنیا`
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند