تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جنت سے جہنم تک کا سفر!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 26 رمضان 1436هـ - 13 جولائی 2015م KSA 15:08 - GMT 12:08
جنت سے جہنم تک کا سفر!

’’کیا خوبصورت صبح ہے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے، درخت ایک سرمستی کے عالم میں جھوم رہے ہیں اور میں خود کو بہت تروتازہ محسوس کررہا ہوں۔ جو بدنصیب خدا پر یقین نہیں رکھتے وہ جوش ملیح آبادی کا یہ شعر ہی پڑھیں؎

ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لئے
اگر رسول نہ آتے تو صبح کافی تھی

میں اس وقت اگر خود کو تروتازہ اور بہت خوش محسوس کررہا ہوں تو اس کی وجہ صرف صبح کی خوبصورتی نہیں اس میں جنت کی وہ آسودگی بھی شامل ہے جس کا تجربہ میں نے رات کو کیا۔ جی ہاں، میں نے گزشتہ رات جنت میں گزاری ہے۔

میں نے خواب دیکھا کہ میں جنت میں ہوں (خواب دیکھنے میں کیا حرج ہے) میرے اردگرد خوبصورت حوریں ’’پیلاں‘‘ ڈال رہی ہیں۔ ان میں سے ایک مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں مشغول ہے مگر آخر میں انسان ہوں ایک ہی وقت میں سب کو مناسب ٹائم کیسے دے سکتا ہوں۔ ان میں سے ایک حور ڈیل ڈول والی ہے اور وہ Possessive بھی بہت ہے، میں جب ادھر ادھر نظر دوڑاتا ہوں تو وہ میرے منکے کو جھٹکا دے کر کہتی ہے ’’بندے کے پتر بنو، اتنے ندیدے پن کی ضرورت نہیں، تم نے اب ہمیشہ یہیں رہنا ہے‘‘ میں خوفزدہ نظروں سے اس کی طرف دیکھتا ہوں اور پوچھتا ہوں ’’واقعی؟‘‘ وہ بولی ’’ہاں تمہارے اعمال ہی ایسے ہیں‘‘ کچھ دیر بعد میں نے اپنی پوری قوت صرف کر کے اس حور سے اپنا منکا واگزار کروایا اور جنت کے دوسرے نظاروں سے اپنی آنکھیں شاد کرنے کے لئے وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا، اب میرے دونوں طرف نہریں بہہ رہی تھیں، درمیان میں پھولوں بھری رہگزر تھی، جس پر میں خراماں خراماں، معطر معطر چلا جارہا تھا، میرے دائیں طرف والی نہر دودھ اور بائیں طرف والی نہر شہد کی تھی، میں نے ابھی ناشتہ نہیں کیا تھا، چنانچہ میں نے تالی بجائی، ایک حور شمائل میرے سامنے آن کھڑی ہوئی، میں نے کہا ہم ناشتہ کرنا چاہتے ہیں، فوری طور پر اس کا انتظام کیا جائے!‘‘

اس نے سر جھکا کر پوچھا ’’سر! آپ ناشتے میں کیا لیں گے؟‘‘ میں نے کہا ’’دودھ کا ایک کپ شہید، بریڈ اور انڈے!‘‘ اس نے پوچھا ’’سر انڈے فرائی یا آملیٹ؟‘‘ میں نے اس حور شمائل کو آنکھ بھر کر دیکھنے کی کوشش کی مگر اس کے حسن کی تاب نہ لاسکا اور آنکھیں نیچی کر کے کہا ’’جوآپ کھلا دیں‘‘ اس نے دودھ کی نہر میں سے ایک کپ دودھ اور شہد کی نہر میں سے دو چمچ شہد لا کر میرے آگے رکھ دیا اورکچھ دیر بعد وہ بریڈ اور انڈے بھی لے آئی، اس نے جھک کر سات بار فرشی سلام کہا اور پوچھا ’’کوئی اور خدمت؟‘‘ میں نے شکریہ ادا کیا لیکن وہ بضد نظر آئی کہ اس سے کوئی اور خدمت بھی لی جائے۔ یہ میرے لئے ممکن نہیں تھا کیونکہ میں ناشتے میں یہی کچھ لیتا ہوں، زیادہ کھا لوں تو طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے، تاہم میں نے اس سے پوچھا ’’میں صبح سے نہایا نہیں، کیا میں دودھ کی نہر میں نہا سکتا ہوں؟‘‘ بولی ’’شوق سے، مگر یہاں کچھ جنتیوں نے بلیاں بھی پالی ہوئی ہیں، آپ نہا کے نکلیں تو انہیں قریب نہ پھٹکنے دیں یہ جسم چاٹنا شروع کردیتی ہیں‘‘۔

میں نے اس حور شمائل کا شکریہ ادا کیا اور آگے کی طرف چل دیا، میں نے دیکھا کہ میرے سامنے ایک نہایت خوبصورت ندی بہہ رہی ہے اور اس میں ایک نوجوان جس کی ابھی مسیں بھی نہیں بھیگیں، تین چار حوروں کے جلو میں کشتی رانی کررہا ہے، مجھے اس نوجوان کی شکل کچھ جانی پہچانی سی محسوس ہوئی، میں نے غور کیا تو یہ حاجی بشیر صاحب تھے، مگر ان کے چہرے پر تو داڑھی ہوتی تھی اور جب میں ان سے ملا تھا وہ اس وقت 80 کے پیٹے میں تھے، مگر یہ تو اب حسین جوان نظر آرہے ہیں، تب مجھے اچانک یاد آیا کہ جنت میں سب جوان ہو جائیں گے، مجھے حاجی بشیر کو جنت میں دیکھ کر بالکل حیرانی نہیں ہوئی، کیونکہ حاجی بشیر صاحب بہت عبادت گزار ہونے کے علاوہ نہایت ایماندار بھی تھے، اور ہمہ وقت خدمت خلق میں مشغول بھی رہتے تھے، اتنے میں حاجی صاحب نے کشتی کنارے پر لاکھڑی کی، ان کی نظر مجھ پر پڑی تو سیدھے میری طرف چلے آئے اور بولے ’’ارے آپ بھی یہاں؟‘‘

میں نے کہا ’’حاجی صاحب! مجھے خود سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھ جیسا گہنگار انسان یہاں کیسے آگیا؟‘‘ فرمایا اللہ کو تمہاری کوئی ادا پسند آگئی ہوگی، مگر ایک بات بتائو، میں نے عرض کی ’’پوچھیں!‘‘ بولے ’’میں تمہیں دنیا میں بھی منع کیا کرتا تھا کہ مجھے حاجی صاحب نہ کہو اب تم نے یہاں آکر بھی حاجی صاحب کی گردان شروع کردی ہے،‘‘ میں نے پوچھا ’’قبلہ! اس میں حرج ہی کیا ہے؟‘‘ بولے ’’دین کے پانچ ارکان میں سے صرف ایک حج ہے۔ تم حاجی صاحب، حاجی صاحب کہنے میں لگے رہتے ہو، لیکن کیا کسی نمازی کو تم نے کبھی ’’نمازی صاحب‘‘ کہا ہے؟ کسی زکوٰۃ دینے والے کو ’’زکوٰتی صاحب‘‘ کہہ کر پکارا ہے؟‘‘میں نے ہنستے ہوئے کہا ’’نہیں‘‘ مسکرا کر بولے پھر بیچارے حاجیوں کا کیا قصور ہے کہ انہیں حاجی صاحب، حاجی صاحب کہتے رہتے ہو، میں نے محسوس کیا کہ حاجی صاحب کی حس مزاح ابھی تک ویسی کی ویسی ہے جیسی دنیا میں تھی! اس ساری گفتگو کے دوران ان کی ہمراہی حوریں مسلسل ان پر صدقے واری ہوتی رہیں، چنانچہ میں نے محسوس کیا کہ حاجی صاحب کو اب یہاں میری مزید موجودگی کھٹک رہی ہے …… ٹھیک ہے، حاجی صاحب، ٹھیک ہے۔

میں جنت کی حسین فضائیں اپنے دل و دماغ میں بساتا آگے بڑھتا چلا جارہا تھا میں اس کی ہوائوں کی لذت بیان نہیں کرسکتا، اس کے سامنے باد نسیم کی کوئی حیثیت نہیں تھی، یہاں درختوں پر ایسے لذیز اور انوکھے پھل لگے تھے جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں چکھے یہاں یاقوت کے محل تھے، یہاں اللہ تعالیٰ کی موجودگی باقاعدہ محسوس ہوتی تھی اور شاید جنت کا سب سے بڑا انعام یہی تھا میں آگے بڑھتے بڑھتے ایک دیوار کے پاس پہنچا، میں نے دیوار کی دوسری جانب جھانک کر دیکھا تو ادھر دوزخ کا میدان تھا، دوزخیوں میں زیادہ تر چہرے میرے جانے پہچانے تھے، ان میں حاکم تھے، سیاستدان تھے، جرنیل تھے، دانشور تھے۔ عالم دین تھے، تاجر تھے۔ وکیل تھے، جج تھے غرض یہ کہ وہ سب لوگ یہاں موجود تھے جو دنیا میں دیکھنے میں کچھ اور تھے، اور اپنے اعمال میں کچھ اور ! میں نے دیکھا کہ ایک خوفناک دلدل ہے جس میں وہ گردن گردن غرق ہیں ان سب کے ہاتھ میں چائے کا ایک ایک کپ ہے اور وہ مزے سے اس کے گھونٹ لے رہے ہیں۔ مجھے یہ منظر بہت عجیب لگا کیونکہ میں نے سنا تھا کہ دوزخیوں کو عبرتناک سزائیں ملیںگی مگر یہ سزا تو ان سزائوں کے مقابلے میں بہت معمولی تھی جو میں نے سن رکھی تھیں اتنے میں داروغہ جہنم کی کرخت آواز فضا میں گونجی ’’چائے کا وقفہ‘‘ ختم اب سارے جہنمی دلدل میں دوبارہ سر کے بل کھڑے ہو جائیں! پتہ چلا کہ جہنم کا یہ گوشہ کم گناہ گاروں کے لئے ہے۔

مگر میرا یہ خواب اس وقت چکنا چور ہو جاتا ہے۔ جب میرا ایک ہمسایہ میرے پاس آتا ہے اور آتے ہی اپنا پرانا سوال دہراتا ہے ’’قاسمی صاحب، یہ موت کیا چیز ہے؟‘‘ میں پرندوں کی چہچہاہٹ سے صرف سماعت نہیں کرنا چاہتا، میں اسے کہتا ہوں، اگر زندگی خدا کی عبادت اور خلق خدا کی خدمت میں گزاری ہے تو موت جنت کا نام ہے ورنہ موت جہنم ہے!

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند