تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ایک تقریر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 28 رمضان 1436هـ - 15 جولائی 2015م KSA 09:07 - GMT 06:07
شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ایک تقریر

رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی رخصت ہونے کو ہے، قرآن عظیم کے مطابق روزوں کا مقصد تقویٰ ہے ، یعنی جیسے ہم خدائے بزرگ و برتر کے حکم کے مطابق دوران روزہ حلال چیزوں سے بھی خود کو دور رکھتے ہیں اسی طرح بعد رمضان اگر حرام چیزوں سے خود کو باز رکھنے میں کامیاب ٹھہرتے ہیں تو گویا یہی رمضان المبارک کا گوہر مقصود تھا۔ سادہ الفاظ میں ہم روزے کے دوران کھانے پینے سے اجتناب کرتے ہیں، اگرچہ یہ حلال ہیں لیکن چونکہ حکم خداوندی اب یہی ہے کہ ان حلال چیزوں سے بھی پرہیز کیا جائے، ہم ایسا ہی کرتے ہیں، تو پھر کیوں نہ بعد رمضان ان حرام سے بھی دور رہا جائے ، جو ہر صورت میں حرام ہیں ؟ کیا ایسا ہوتا ہے یا آئندہ اس کے امکانات ہیں !؟ اس سوال کے جواب کے تناظر میں ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم نے تقویٰ کس قدر پالیا ہے؟

اس ماہ مبارک کی شان ہی نرالی ہے ، توجہ بس خیر ہی خیر پر مرکوزرہتی ہے ، گزشتہ روز ایک خبر پڑھی کہ ’’ رمضان المبارک کے آخری عشرے کے سلسلے میں مسجد الحرام میں عمرے کیلئے آنے والوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوگیاہے ، انتظامیہ کی طرف سے مسجد کی صفائی کیلئے تین ہزار کارکن تعینات کئے گئے ہیں جو ہر روز نماز مغرب کے فوراً بعد صرف 55 منٹ میں مسجد کی پوری عمارت کو دھو کر صاف کر دیتے ہیں، مسجد کا تعمیر شدہ رقبہ 23 لاکھ 88 ہزار مربع میٹر جبکہ کعبہ کے گرد طواف کیلئے استعمال ہونے والے صحن ( مطاف ) کا رقبہ 2لاکھ 17 ہزار مربع میٹر ہے۔ طواف کرنے والوں کے ہجوم کے باوجود اس صحن کی صفائی 20 منٹ میں مکمل کر لی جاتی ہے اور اس کام میں بہت کم پانی استعمال کیا جاتا ہے ۔ مسجد کے اندر سے روزانہ 100 ٹن استعمال شدہ اشیاء اکٹھی کی جاتی ہیں‘‘ یہ خبر پڑھکر جہاں سعودی حکمرانوں کیلئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں تو وہیں اس سے اس امر کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ صحرائی سرزمین نے کس قدر ترقی کی منازل طے کر لی ہیں، صفائی کا یہ معاملہ صرف حرمین تک محدود نہیں ہے، پوراسعودی عرب اس حوالے سے ایک مثالی مملکت ہے۔

سعودی عرب کے نظام سے ہم جیسے بعض لوگ اگرچہ اختلاف رکھتے ہیں ، لیکن وہاں کی ملوکیت نے اپنے عوام کو وہ سب کچھ دے رکھا ہے ،ہمارے ہاں کی جمہوریت میں جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بلاشبہ فی زمانہ جمہوریت بہترین انتظام ہے، لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ اچھے سے اچھا نظام بھی بُرے لوگوں کے ہتھ چڑھ جانے سے وہ نتائج نہیں دے پاتا جو اس کا خاصہ و لازمہ ہوتا ہے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ ہمارے ہاں کی جمہوریت میں صفائی کی ایسی مثالیں کیوں نہیں مل سکتیں جو سعودی ملوکیت یا پھر مغربی جمہوریت میں موجود ہیں، اور پھر یہ کہ ہم جمہوریت میں اسی طرح خوش کیوں نہیں ہیں جس طرح لوگ ملوکیت یا پھر بعض ’آمریتوں‘میں ہیں! یہاں ہم یہ عرض کر دیں کہ ہمارے ہاں نتائج مختلف اس لئے آتے ہیں کہ ہمارے حکمران اور سیاسی و مذہبی لیڈر ہر کسی سے تو مخلص ہوسکتے ہیں لیکن اپنے ملک و عوام سے وہ مخلص کبھی نہیں رہے ، لوٹ لوٹ کر اس ملک کو کنگال کرنے میں کیا حکمرانوں اور سیاسی و مذہبی لیڈروں سے بھی زیادہ اور کسی کا ہاتھ ہے !!

اب جب ہم بیرون ملک دیکھتے ہیں تو ہر ملک کا حکمراں خواہ وہ کسی دوسرے ملک یا غیر ملکی باشندے کے متعلق جو بھی سوچ یا عمل رکھتا ہو، لیکن وہ اپنے ملک و عوام کا خیر خواہ ہی ہوتا ہے ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ جمہوریت میں منتخب نمائندے و حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں لیکن عملی اعتبار سے پاکستان میں ہمیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، دوسری طرف گزشتہ ماہ سعودی حکمران شاہ سلمان نے جس طرح ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے احتساب کیلئے دعوت عام دی وہ بلاشبہ اپنی مثال آپ ہے ۔

آیئے دیکھتے ہیں کہ ایک ایسا حکمران جس کے آبائو اجداد نے اس ملک کو بنایا و سنوارا اور جسے اقتدار ووٹ کی بجائے وراثت میں ملا وہ اپنے آپ کو کس طرح عوامی عدالت کے سپرد کرتا ہے’ ہم وطن بھائیوں اور فرزندو ! میرے لئے سعادت کی بات ہے کہ ہم آج یہاں جمع ہوئے ہیں، میں یہ واضح کردوں کہ مسائل کے حل کاسب سے بڑا ذریعہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہے ، میں آپ کو بالکل دو ٹوک الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مملکت کتاب و سنت کی بنیاد پر قائم ہے، میں یہ بھی واضح کر دوں کہ کچھ ممالک ایسے ہیں جن کے شاہی سربراہان اور حکمران ہمہ قسم کی قانونی گرفت سے بالاتر ہیں، لیکن سعودیہ میں کوئی بھی شہری، بادشاہ یا ولی عہد اور شاہی خاندان کے کسی بھی فرد کے خلاف دعویٰ دائر کر سکتا ہے ، میں آپ کو اس کی ایک مثال دیتا ہوں، میرے والد شاہ عبدالعزیز اور ایک عام شہری کے درمیان ایک تنازع کھڑا ہوگیا ، میرے والد محترم نے کہا ،’’ قانون کے مطابق فیصلہ کروا لیتے ہیں‘‘ تو دونوں ریاض کے قاضی شیخ سعد بن عتیق کے پاس چلے گئے ،جس وقت شیخ سعد کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا ’’ کس لئے آئے ہو؟‘‘ دونوں نے کہا، ’ ہمارا ایک تنازع ہے جس کے فیصلے کیلئے آئے ہیں‘ شیخ سعد نے کہا ’ ڈیوڑھی میں انتظار کریں‘ پھر جب ان کی بات سن لی اور فیصلہ کرلیا تو اس کے بعد کہا کہ ’’ آئیں بیٹھک میں قہوہ پیتے ہیں‘‘ ہم اس واقعہ کو نفاذ شریعت سے متعلق بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ الغرض شاہ عبدالعزیز کے حق میں فیصلہ ہوا لیکن وہ مدعی کے حق میں اپنے حق سے دستبردار ہوگئے۔

چنانچہ میں یہ بات پھر دہراتا ہوں کہ بادشاہ، ولی عہد یا شاہی خاندان کے کسی بھی فرد کے خلاف کوئی بھی شہری دعویٰ دائر کر سکتا ہے،لہذاہمارے پاس کوئی بھی شہری آئے اور نام لیکر دعویٰ کرے، بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے والد کو مخاطب کیا گیا تھا۔ ہم سب سے کہتے ہیں کہ ، مجھے میرے عیوب بتلانے والے پر اللہ رحم فرمائے، جب بھی کوئی ایسی چیز دیکھو جس سے کسی بھی شہری چاہے فرد ہو یا قبیلہ، یا علاقے کو نقصان پہنچ رہا ہو اس کی فوری اطلاع دیں، ہمارے فون نمبر ہر وقت کھلے ہیں، آپ کی بات سننے کیلئے ہمارے کان حاضر ہیں، ہمارے دروازے آپ کیلئے ہمہ وقت کھلے ہیں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں اور ہر جگہ ببانگ دہل کہتا ہوں کہ اس ملک کیلئے اعزاز اور فخر کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے قبلہ کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر ہے ، اسی سر زمین پر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عربی زبان میں وحی نازل ہوئی، اس لئے بھائیو! ہماری ذمہ داری دیگر لوگوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ مجھے اور آپ سب کو انسانیت ،تمام مسلمانوں اور اپنی قوم کیلئے اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ الحمد اللہ ! الحمد اللہ! الحمد اللہ! ہم امن و امان اور استحکام کی حالت میں ہیں، چنانچہ کوئی بھی شخص ملک کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک مکمل سکون کیساتھ سفر کرسکتا ہے ، خلیج سے بحر احمر تک اور جنوب سے شمال تک کوئی بھی شخص اپنے اہل و عیال کیساتھ بغیر کسی محافظ کے آجا سکتا ہے ، پہلے ایسا ممکن نہیں تھا، یہ اللہ تعالیٰ کی ہم پر نعمت ہے ،میں آپ سے ایک بار پھر یہ کہوں گا اور بار بار کہتا رہوں گا کہ مجھے میرے عیوب بتلانے والے پر اللہ رحم فرمائے، جب بھی تمہیں کوئی قابل اصلاح چیز نظر آئے تو مجھے ضرور آگاہ کریں کیونکہ میرے نزدیک عام شہری کا حق میرے ذاتی حق سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ‘‘۔ آپ نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی تقریر ملاحظہ فرمائی! طالبعلم کے نظریات سے آگاہ اصحاب یہ کہہ سکتے ہیں کہ نہ جانے راقم کو آج کیا ہوگیا ہے !!

تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہم جب کبھی کسی ملک کے حکمران کو اپنے ملک و ملت کے ساتھ پر خلوص پاتے ہیں تو رونا آجاتا ہے کہ ہم پاکستانیوں نے بھی کیا قسمت پائی ہے کہ تقریباً سات عشروں میں اسے کوئی ایک بھی ایسا حکمران نہیں ملا جو اگر گھی، دودھ، دہی، مکھن خود کھاتا ہو تو کم از کم لسی تو اس قوم کیلئے چھوڑ دے !! ہم جیسے لوگ اگر ملوکیت کی مثالیں دیتے ہیں یا ان دنوں جنرل راحیل شریف سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، تو وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ہمارے سیاستدانوں، مذہبی رہنمائوں اور حکمران طبقات نے اس ملک و ملت کو مایوسی کے ماسوا کچھ نہیں دیا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند