تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جنوبی ایشیاء میں مودی کا گھناؤنا کھیل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 29 رمضان 1436هـ - 16 جولائی 2015م KSA 09:51 - GMT 06:51
جنوبی ایشیاء میں مودی کا گھناؤنا کھیل

ہم سفارتی کاری کے پیچیدہ گورکھ دھندے میں الجھے ہوئے ہیں یا پھر ٹریک 2 کے خوابوں اور سرابوں کے پیچھے ہلکان ہو رہے ہیں جبکہ نریندر مودی ٹھوس بنیادوں پر ہر شعبے میں پاکستان کی راہ روکنے کیلئے منظم منصوبہ بندی کے تحت پیش قدمی کر رہا ہے، چین کے علاقائی اور عالمی رابطہ کاری کے راہداری منصوبوں کے مقابل مودی نئی جہتیں تلاش کر رہے ہیں نئی سمتوں میں شاہراہیں تشکیل دے رہے ہیں کامل خاموشی کے ساتھ دوسری طرف ہم ہیں کہ ادنیٰ سیاسی اور معاشی مفادات کیلئے اقتصادی راہداری کے ان عظیم الشان منصوبوں کو متنازعہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

نریندر مودی کا تازہ ترین منصوبہ عالمی ، شمال، جنوبی ٹرانسپورٹ راہداری کی تشکیل و تعمیر ہے جو ریل ، سڑک اور بحری راستے سے بھارت کو روس، ایران ، آذربائیجان، وسطی ایشیائی ریاستوں کے ذریعے براہ راست یورپ سے منسلک کر دے گا، اس بین الاقوامی تجارتی راہداری کا بنیادی مقصد ممبئی، ماسکو، تہران ، باکو، آستر خان کو ایرانی بندرگاہ عباس اور آذربائیجان کی جغرافیائی اہمیت کو ختم کیا جا سکے۔ اس تجارتی شاہراہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے حصے میں ممبئی کو ایرانی بندرگاہ ، بندر عباس کے ذریعے باکو سے جوڑا جائے گا۔ دوسرے حصے میں ممبئی کو آذربائیجان کے شہر آستر خان سے بندر عباس ، بندر غزالی اور تہران سے منسلک کیا گیا ہے۔

عملی مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے گذشتہ مارچ 2014ء میں سامان تجارت کے آزمائشی قافلے تجرباتی مراحل سے کامیابی کے ساتھ گذر چکے ہیں جسکا بنیادی مقصد اس راہداری کی مشکلات کا تجربہ کر کے انہیں ختم کرنا تھا آزمائشی تجارتی قافلے کے نتائج بڑے حوصلہ افزا تھے 15 ٹن کارگو کی ترسیل پر لاگت 25 سو ڈالر کم آئی ہے۔ مودی ایک طرف بھوٹان، نیپال اور بنگلا دیش کی مدد سے چین کی راہ روکنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں تو دوسری طرف سارک میں پاکستان کو تنہا کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

چین نے تیز رفتاری سے سامان تجارت کی عالمی منڈیوں تک ترسیل اور رسائی کیلئے ایک شاہراہ ایک خطہ کی فلاسفی کا نیا تصور پیش کر کے چین کے صدیوں پرانے زمینی راستے شاہراہ ریشم کے احیاء کا انقلابی منصوبہ بنایا جس میں پاکستان کی نو تعمیر شدہ بنددرگاہ، گوادر کو مرکزی مقام حاصل ہے جو کہ بحر ہند اور بحیرہ عرب کے سنگم پر جواہرات کا تاج بن کر جگمگا رہی ہے جسکو ناکام بنانے کیلئے اپنے پرائے ، سبھی میدان میں نکلے ہیں وہ برادر خلیجی ریاستیں ہوں یا پھر ازلی دشمن بھارت کسی کو بھی استثناء نہیں ہے۔ سب اپنے اپنے ادنی مفادات کے لیے پاکستان کے اقتصادی خوشحالی اور معاشی آزادی کے خوابوں کو سراب بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

بھارت نے بلاجواز اور بلاوجہ اس عظیم الشان اقتصادی منصوبے کی مخالفت شروع کر دی تھی کہ خوشحال پاکستان اسے کسی صورت گوارا نہیں لیکن چین سمیت ہمسائی ممالک خاص طور پر ایران کی سرد مہری نے بھارت کو خاموش ہونے پر مجبور کر دیا۔

بھارتی حکمت کار علاقائی اور عالمی شاہراؤں کی چین سے روس کے ذریعے یورپ تک رسائی اور قدیم شاہراہ ریشم کے احیاء سے گوادر بندرگاہ تک پہنچ کو اپنا اقتصادی محاصرہ تصور کرتے ہیں خاص طور پر بحری راستوں اور چہار اطراف سے نیپال ، برما اور بنگلا دیش کے زمینی راستوں سے دہلی کی طرف چینی یلغار بھارتی نیتاؤں کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکی ہے جسکا مقابلہ کرنے کیلئے بھارتی منصوبہ سازوں نے بندر عباس کو مرکز بنا کر ممبئی کو وسط ایشیائی ریاستوں ، روس کے ذریعے مشرقی یورپ سے باہم منسلک کرنے کے منصوبے پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے خود بھارتی سرمایہ کار بھی نئے تجارتی راستوں کی تلاش میں بے تاب رہے ہیں تاکہ عالمی تجارت میں اپنی حصہ بڑھا کر مثبت سیاسی اہمیت حاصل کر سکیں جسکا سب سے بڑا اظہار ڈھاکہ یونیورسٹی میں مودی جی کی تقریر سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔

سارک مین پاکستان تنہا کرنے کے لیے منظم حکمت عملی کے تحت نریندر مودی نے رکن ممالک کا دورہ شروع کیا انکی پہلی منزل بھوٹان تھی خالص ہندو ریاست جسکی تمام معاشیات کا انحصار بھارت کو فروخت کی جانے والی بجلی پر ہے۔ مودی نے دربار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے گھر آپ کی بجلی سے روشن ہیں جبکہ آپ کے چولہے ہمارے ایندھن سے جل رہے ہیں پھر انہوں نے کھٹمنڈو، کولمبو ، اور ڈھاکہ کے ہنگامی اور طوفانی دورے کیے اور تمام ممالک کو ایک ارب ڈالر قرض کی سہولت دینے کا اعلان کیا لیکن مالدیپ اور پاکستان کو دانستہ نظر انداز کیا کہ مالدیپ کی حکومت تو برسوں سے بحری قزاقوں سے بچاؤ کے لیے بھارت کی دست نگر ہے اور مالدیپ میں بھارتی بحریہ کے مستقل اڈے کے لیے درخواست گزار ہے جبکہ پاکستان کے لیے بھارتی بغض ، کینہ اور عناد کی بڑی پرانی کہانی ہے۔ جناب مودی تو اس گروہ کے سرخیل ہیں جو اکھنڈ بھارت کے نعروں کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے ہیں، بھارت ماتا کے وجود کو کاٹ کر بننے والے پاکستان کو دوبارہ اکھنڈ بھارت کا حصہ بنانا انتہا پسند مودی کا مقصد حیات ہے۔ پاکستان میں بھارت سے دوستی کے دن میں خواب دیکھنے والے حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں۔

بنگلادیش کی تشکیل میں بھارت کے سازشی کردار کا اعتراف کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ مکتی باہنی کے ساتھ ساتھ بھارتی فوجی جوانوں نے بھی بنگلادیش کی آزادی کے لیے اپنا خون بہایا تھا۔ پہلے ہم پاس پاس تھے لیکن اب عالمی برادری دیکھ رہی ہے کہ بھارت بنگلادیش کے ساتھ ساتھ ہیں۔

میں نے اپنی جوانی میں بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے ستہ گری کر کے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کا شکار رہنے کے باوجود بنگلادیش نے بہت سے میدانوں میں اپنا سکہ منوایا ہے خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں چینی قیادت بھی بنگلادیش کی کامیابیوں کا اعتراف کر رہی ہے۔ خوش حال بنگلادیش بھارت سمیت سارے خطے کے مفاد میں ہے۔ بیگم حسینہ واجد کا معاشی ترقی کا ایجنڈا نشان منزل بن چکا ہے بھارت اور بنگلہ دیش نوجوان اقوام ہیں ہمارے خواب بھی جوان ہیں معاشی ترقی کی ترنگ دونوں اطراف پائی جاتی ہے۔ عالمی سیاست میں جارحانہ توسیع پسندی کا دور لد چکا ہے اب معاشی ترقی کا دور دورہ ہے۔

مودی نے سرحدی تنازعات کے حل کے لیے ہونے والے دو طرفہ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دیوار برلن کے ٹوٹنے جیسا اہم اور تاریخی واقعہ ہے انہوں نے کہا کہ بھارت اور بنگلادیش عظیم بدھا کی روایات سے جڑے ہوئے ہیں جہاں بدھا ہو گا وہا یدھا نہیں ہو سکتی ۔ بھارت، بنگلا دیش ، بھوٹان اور نیپال نے تجارتی ہم آہنگی اور تجارتی شاہراؤں کے قیام کی سمت تیزی سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت اور بنگلا دیش نے 36 گھنٹوں میں 22 معاہدے کیے ہیں جس کے لیے میں بنگلا دیش کی بالغ نظر قیادت اور وزیر اعظم حسینہ واجد کو سلام پیش کرتا ہوں۔

برصغیر میں بجلی کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خلا سے جنوبی ایشیاء کی لے جانے والی تصاویر میں یہ سارا علاقہ اندھیروں اور تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے ہم چاروں اقوام مل کر ان اندھیروں کو روشن اجالوں میں بدل دیں گے، مودی نے شاعرانہ ردھم کے ساتھ اعلان کیا کہ پنچھی یون اور پانی کو سیاسی سرحدوں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔

خوبصورت شاعرانہ طرز تکلم سب کے دل کو بھاتا ہے لیکن عملی حقائق بڑے تلخ ہوتے ہیں ، مودی صاحب بھول گئے کہ وہ سرسبز و شاداب چناب پر غیر قانونی ڈیم بنا کر پانی کو سیاسی سرحدوں میں قید کر رہے ہیں۔ وہ شکوہ کناں ہیں کہ آج ہر چھٹا شخص بھارتی ہے لیکن ہمیں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت نہیں دی جا رہی اسکی سب سے بڑی وجہ بھارتی حکمرانوں کا اپنا رویہ ہے، مسئلہ کشمیر کے مستقل حل تک بھارت سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا دعویدار نہیں ہو سکتا جس کے لیے مودی سمیت تمام بھارتی نیتاؤں کو اپنا دل بڑا کرنا ہوگا۔ تنگ دلی اور تنگ نظری سے جان چھڑانا ہو گی وہ بنگلا دیشی کرکٹر سلمی خاتون کے دیو ہیکل بورڈز کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے یہ بھول گئے کہ خواتین کے بے حرمتی کے سب سے زیادہ واقعات آج بھی بھارت کے شہری علاقوں میں ہو رہے ہیں۔ نئی دہلی کو تو عالمی سطح پر ریپ کیپیٹل کی شہرت حاصل ہے ۔ مودی بھارت کے عالمی کردار کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں ہمارے 90 ہزار جوان راہ وفا میں مارے گئے تھے لیکن وہ آسانی سے یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ ان قربانیوں میں پاکستان کے پختونوں ، پنجابی پوٹھوہاریوں کا بھی بہت بڑا حصہ تھا، وہ سیاسی مصلحتوں کی بنء پر تاریخ کو مسخ کر رہے ہیں جبکہ تاریخ کا جبر اور پکڑ بڑٰ شدید ہوتی ہے اسے وہ بھول رہے ہیں۔ تاریخ اپنے مسخ کرنے والوں کو بے نام و نشان بنا دیا کرتی ہے۔ یہی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے اے کاش! مودی یہ نوشتہ دیوار پڑھ سکتے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند