تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکہ کی ساحل پر یورپ کے طوفان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م
آخری اشاعت: اتوار 2 شوال 1436هـ - 19 جولائی 2015م KSA 11:52 - GMT 08:52
امریکہ کی ساحل پر یورپ کے طوفان

یونان کئی ہفتوں سے شہ سرخیوں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ ملک یورپی سرمایہ داری کی سب سے کمزور کڑی ثابت ہوا ہے۔ اور بھی کمزور کڑیاں ہیں۔ سپین، پرتگال، آئرلینڈ اور اٹلی بھی انہی راستوں پر گامزن ہیں، جو یونان کو اس نہج تک لے آئے ہیں۔ یونان کے دیوالیہ ہونے نے ثابت کیا ہے کہ سرمایہ داری اپنی ترقی یافتہ ترین حالت مٰں بھی ویلفیئر ریاست کو برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہی۔ یورپی یونین اور یونانی حکومت کے درمیان 13 جولائی کو جس معاہدے پر دستخط ہوئے اسکے تحت عوامی سہولیات پر ریاستی اخراجات مزید کم کر دیے جائیں گے، عام لوگوں پر ٹیکس بڑھائے جائیں گے، بڑے پیمانے پر نجکاری ہو گی اور تنخواہوں اور پنشن وغیرہ میں مزید کمی لائی جائے گی۔ یاد رہے کہ یہ 2008ء کے بعد اس طرح کا تیسرا معاہدہ ہے۔ اس عرصے میں یونان کے عوام پر بدترین معاشی حملے کئے گئے اور ملک کی معیشت 25 فیصد تک سکڑ گئی۔ نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح پچاس فیصد سے تجاوز کر گئی۔ حالیہ معاہدہ درحقیقت یونان کو بڑی یورپی طاقتوں کی کالونی بنانے کے مترادف ہے۔

وزیر اعظم الیکسس سپراس نے بائیں بازو کی اصلاح پسندی کی روایتی روش اختیار کی اور اپنے تمام تر وعدوں اور دعووں کو کوڑے دان مین پھینک کر یونانی عوام کا سودا یورپی حکمرانوں اور آئی ایم ایف کے ساتھ کر آئے ہیں۔ یونان کے عوام کو اس بغاوت کی سزا دی جا رہی ہے جو انہوں نے 5 جولائی کے ریفرنڈم میں no کو ووٹ دے کر یورپی ساہوکاروں اور سرمایہ داروں کے خلاف کی تھی۔ سائریزا کی قیادت تو یورپی بینکاروں اور آئی ایم ایف کے سامنےسر تسلیم خم کر چکی ہے لیکن یونان کے محنت کش اور عام ہار مانیں گے نہ مان سکتے ہیں۔ یونان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ درحقیقت ایک دھماکہ خیز انقلاب کی شروعات ہے۔ تلخ ترین شرقئط پر طے پانے والے اس معاہدے سے بھی کوئی معاشی بحالی یا استحکام نہیں آئے گا۔ پارلیمنٹ میں دائیں بازو کی پارٹیوں کی مدد سے سائریزا کی قیادت نے معاہدے کی توثیق تو کروالی، لیکن پارٹی کے اندر پھوٹ کا آغاز ہو چکا ہے۔ سائریزا کے یوتھ ونگ اور اتحادی ٹریڈ یونین تنظیموں نے اس ڈیل کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اسی طرح پارٹی کے لیفٹ پلیٹ فارم کے ممبران پارلیمنٹ نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ سائریزا سے تعلق رکھنے والی ڈپٹی وزیر خزانہ اور یورپی امور کے وزیر نے احتجاجا استعفی دے دیا ہے ۔ ووٹنگ کے وقت پارلیمنٹ کے سامنے بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا اور پولیس کے ساتھ ٹکراؤ کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ قیادت کی جانب سے کھلی غداری کے بعد پارٹی کے اندر بائیں بازو کے دھڑوں ، خاص طور پر کمیونسٹ رجحان کی مقبولیت تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

یونان مین ہونے والے واقعات غیر معمولی ہیں، جو نہ صرب یورپی بلکہ پوری دنیا پر اپنے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام عالمی سطح پر شدید گراوٹ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ عوام پر معاشی حملے اور معیار زندگی میں مسلسل گراوٹ ، عالمگیر مظاہر کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں نئی نسل ایک بار پھر بڑے پیمانے پر مارکسزم کے نظریات اور سوشلزم میں دلچسپی لے رہی ہے۔ اسکا اظہار مختلف ممالک مین مختلف سطحوں اور اشکال میں ہو رہا ہے ۔ برطانوی لیبر پارٹٰ کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والا جرمی کوربائین ، خاصی مقبولیت سے پارٹی لیڈر کے ایکشن میں حصہ لے رہا ہے۔ سپین میں پوڈیموس کی شکل میں بائیں بازو کی نئی سیاست قوت ابھری ہے جس میں کئی ریڈیکل رجحان موجود ہیں۔

امریکہ میں صورت حال خاص طور پر دلچسپ ہےْ دنیا بھر میں اینٹی کمیونسٹ سمجھے جانے والے اس ملک کے محنت کش اور نوجوان انگڑائی لے رہے ہیں اور بیدار ہو کر تاریخ کے میدان میں اترنے کو ہیں۔ پورے ملک میں ریاستی مشینری کے لسانی تعصب کے خلاف عوام کا غم و غصہ احتجاجی تحریکوں کی شکل میں پھٹ رہا ہے۔ مختلف اداروں اور صنعتوں میں ہڑتالوں کی تعداد میں اگرچہ گزشتہ کچھ مہینوں میں اضافہ ہوا لیکن محنت کش طبقے کی بغاوت ٹریڈ یونینز میں مرکوز ہو کر اپنا اظہار نہیں کر رہی ہے۔ اس کی اہم وجہ ٹریڈ یونین قیادتوں کی موقع پرستی اور سرمایہ دارانہ نظام کی مکمل تابعداری ہے۔ مزدور تحریک اگر آگے بڑھتی ہے تو ریڈیکلائزیشن میں اضافہ ہوگا اور ناگزیر طور پر روایتی قیادتوں کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا۔ لیکن فی الوقت محنت کش طبقہ آکوپائی وال سٹریٹ سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی قیمتی ہیں اور 15 ڈالر فی گھنٹہ اجرت جیسی تحریکوں کے ذریعے اپنی امنگوں کا اظہار کر رہا ہے۔

امریکی سیاست میں سب سے اہم پیش رفت برنی سینڈرز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ برنی سینڈرز امریکی ریاست ورمونٹ کا سینیٹر ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لئے الیکشن مہم چلا رہا ہے۔ اس نے سیاسی انقلاب اور جمہوری سوشلزم کا نعرہ لگایا ہے جسے کروڑوں امریکی شہریوں میں مقبولیت ملی ہے۔ یہ مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ ایک ایسے ملک میں خود کو دھڑ لے سے سوشلسٹ قرار دینے والے سیاستدان کو پذیرائی مل رہے ہے جہاں حکمرانوں نے سوشلزم اور کمیونزم کے الفاظ اپنے لئے گالی بنا دیا ہے۔ برنی سینڈرز امریکہ میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور ارب پتی طبقے کی لوٹ مار کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے اور ریاستی ہیلتھ کیئر سسٹم کے تحت ہر شہری کو مفت علاج کی فراہمی کا پروگرام دے رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک امریکی سیاست میں ایسی باتوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

برنی سینڈرز کی ذاتی خواہشات کچھ بھی ہوں لیکن ڈیموکریٹک پارٹی امریکی حکمران طبقے کا ہی ایک سیاسی دھڑا ہے جسکی معاشی پالیسیاں ری پبلکن پارٹی سے چنداں مختلف نہیں۔ ویڈال گورنے امریکہ کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ میں سرمایہ داروں کی ایک پارٹی ہے جس کے دو دائیں بازو ہیں، ڈیموکریٹ اور ری پبلکن۔ برنی سینڈرز اگر ڈیموکریٹک پارٹٰ کی جانب سے نامزد ہو کر صدارتی الیکشن جیت بھی لیتا ہے تو جارج بش یا بارک اوباما سے مکتلف کچھ نہیں کر پائے گا۔ یونان کے واقعات نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ آج سرمایہ دارانہ نظام میں اصلاحات کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔ انقلابی پروگرام سے لیس، ٹھوس تنظیمی ڈھانچوں پر مشتمل اور وسیع عوامی بنیادین رکھنے والی محنت کش طبقے کی پارٹی کے بغیر سرمائے کے حصار کو توڑا نہیں جا سکتا۔

 لیکن تمام تر نظریاتی اور سیاسی محدودیت کے باوجود برنی سینڈرز کی انتخابی مہم سے امریکی میڈیا اور سماج میں سوشلزم کی بحث جس پیمانے پر شروع ہو چکی ہے، اسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ سینڈرز اگر ڈیموکریٹک پارٹی سے ہٹ کر آزاد صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آتا تو محنت کش طبقے کی اپنی سیاسی قوت کی بنیادیں استوار ہو سکتی تھیں۔ مستقبل میں شاید حالات اسے یہ کرنے پر مجبور بھی کریں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 47 فیصد امریکی شہری ایک سوشلسٹ صدر کو منتخب کرنا پسند کریں گے۔ اگر ڈیموکریٹ، ری پبلکن اور آزاد امیدوار کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے تو یہ 47 فیصد ووٹ یقینی فتح کے ضامن ہیں۔ یاد رہے کہ 1860ء میں ایبراہم لنکن صرف 39.7 فیصد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئا تھا اور غلام داری کے خلاف انقلابی جنگ کی قیادت کی تھی ۔ امریکہ کا حکمران طبقہ آج ان انقلابات کا ذکر کرنے سے بھی ڈرتا ہے جن کے ذریعے جدید سرمایہ دارانہ امریکی سماج کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ 150 سال بعد انکا نظام تاریخی طور پر متروک ہو کر بند گلی مین داخل ہو چکا ہے اور سماج ایک نئے نظام کا متقاضی ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تاریخ میں کسی حکمران طبقے نے اپنی ملکیت مراعات اور اقتدار کو رضاکارانہ طور پر نہیں چھوڑا ہے اور ایک نظام کی کوکھ سے نئے نظام کا جنم انقلابات کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔

نہ صرب یورپ اور امریکہ بلکہ پوری دنیا میں ایک نیا عہد طلوع ہو رہا ہے۔ 2011ء میں عرب انقلاب اور آکو پائی تحریک کے واقعات نے سوویت یونین کے انہدام سے جنم لینے والا جمود توڑ ڈالا تھا۔ آج دہائیوں پرانی سیاسی روایات اور بظاہر چٹان نظر آنے والی ریاستین ٹوٹ کر بکھر رہی ہیں۔ بولیویا سے لے کر ونزویلا ، ایکواڈور اور چلی تک، لاطینی امریکی میں ریڈیکل بائیں بازو کی تحریکیں سیاست پر حاوی ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے پورے یورپ میں طبقاتی جدوجہد کا نیا ابھار ہو رہا ہے۔ گلوبلائزیشن کے اس عہد میں کسی ایک ملک میں انقلابی واقعات کے اثرات بھی گلوبل ہیں۔ امریکہ کے محنت کش اور نوجوان بھی اس انسان دشمن نظام کے خلاف عالمی جدوجہد میں پیچھے نہیں رہیں گے۔ پوری دنیا کا محنت کش طبقہ آج یہ ادراک حاصل کر رہا ہے کہ ہمارے پاس کھونے کو صرف زنجیریں اور پانے کو سارا جہان پڑا ہے

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند