تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عید کے بغیر عید
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 5 شوال 1436هـ - 22 جولائی 2015م KSA 09:58 - GMT 06:58
عید کے بغیر عید

امی کے بغیر یہ پہلی عید تھی۔ اس روز یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ آفتاب عید تو آنگن میں اترا۔ لیکن عید نہیں آئی۔ ماں کے بغیر آتی بھی کیسے؟ کچھ خوشیاں، تہوار کی بجائے عزیز از جاں ہستیوں کی موجودگی سے مشروط ہوتی ہیں۔

ڈیڑھ سال کے قلیل عرصہ میں صابر و شاکر ابو اور اولاد کی عاشق زار امی آگے، پیچھے رخصت ہو گئے۔ ابو تو علیل تھے اور بیماری سے لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار گئے۔ آخری چند روز ڈاکٹروں کی غفلت، سفاکیت اور بیماری کی شدت کے باعث نیم بے ہوشی میں گزارے۔ ہم سب، جو ان کے پاس تھے، معلوم تھا کہ وہ چند روز کے مہمان ہیں۔ ہم جانتے تھے کہ وہ ہماری مٹھی میں بند ریت کی طرح ہیں۔ جو ہمارے ہاتھوں سے ذرہ ذرہ پھسل رہی ہے۔ لیکن امی کے معاملہ میں تو ایسا بالکل نہ تھا۔ اپنی زندگی کا آخری ہفتہ بہت بھرپور طریقے سے گزارا۔ اتفاق سے گرمیوں کی تعطیلات کی وجہ سے سارے بہن بھائی اسلام آباد میں موجود تھے۔ حتیٰ کہ طاہر بھائی بھی فرانس سے بغیر کسی پیشگی پروگرام کے پہنچے۔

وفات سے صرف ایک ہفتہ پہلے پریس کلب میں فیملی لنچ میں شرکت کی۔ اتوار کا وہ دن، آخری موقع تھا جب ہم سب بہن بھائی اور امی کے پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں، ایک چھت تلے، کھانے کی میز پر موجود تھے۔ اگلے اتوار اور سوموار کی درمیانی شب وہ چپ چاپ رخصت ہو گئیں۔ اپنے قدموں پر چل کر وہ چھوٹے بھائی کے گھر گئیں۔ جاتے ہوئے حسب معمول رمضان المبارک کی تیاری کے لئے چھوٹی چھوٹی ہدایات دیں۔ نواسی، فاطمہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے امی سے لپٹ گئیں۔ روتے ہوئے کہا کہ دادا ابو بھی ایسے ہی چاچو کے ساتھ گئے تھے اور واپس نہیں آئے۔ آپ بھی نہیں آئیں گی۔ امی سوموار کی صبح واپس آنے کا وعدہ کر کے گئیں۔ سوموار کی صبح وہ کفن میں لپٹ کر آئیں۔ میرے گھر جہاں سے وہ آخری سفر پر روانہ ہوئیں۔ امی کو رخصت ہوئے ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا۔

وقت اپنی معین اور متعین رفتار سے چلتا رہتا ہے۔ امی کا چہلم بھی ہو چکا۔ ہمیں معلوم ہی نہ تھا کہ برسی کیا ہوتی ہے؟ چہلم کسے کہتے ہیں؟ حالات اور زمانہ، سخت گیر معلم ہے۔ ایک ہی جھٹکے میں تمام اسباق سکھا دیتا ہے۔ امی کے بغیر پہلی عید گزر گئی۔ سب بہن بھائی ایک مرتبہ پھر، ایک چھت تلے جمع تھے۔ بس امی موجود نہ تھیں۔ ہم سب جو کہنا چاہتے تھے، جو سننا چاہتے تھے، کہہ سکے، نہ سن سکے۔ ادھر، ادھر کی باتیں کر کے دل بہلاتے رہے۔ حقائق سے نظریں چراتے رہے۔ دل روتے رہے۔ ایک دوسرے سے منہ پھیر کر اپنی نم آنکھوں کو چھپاتے رہے۔ اڑتالیس سالوں میں یہ پہلی عید تھی جب امی ہمارے ساتھ موجود نہ تھیں۔ ماں، باپ کا ساتھ بھی عادت کی طرح ہوتا ہے۔ جس طرح عادت وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتی چلی جاتی ہے اسی طرح کچھ ہستیاں بھی عادت بن جاتی ہیں۔ ماں کی موجودگی بھی ایسی ہی عادت ہے۔ اب وہ موجود نہیں تو سمجھ نہیں آتی کہ اس پختہ عادت کا کیا بنے گا۔

پہلی عید تو گزر گئی۔ آئندہ عیدوں، شب براتوں پر کیا ہوگا؟ فی الحال معلوم نہیں۔ قانون قدرت ہے کہ انسان پر ایسی کوئی آزمائش، کوئی بوجھ نہیں ڈالا جاتا جو اس کی برداشت سے زیادہ ہو۔ سو اب باقی ماندہ زندگی اس دکھوں کی صلیب کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر زندہ رہنا ہے۔ میری امی، بھی دنیا کی تمام ماؤں کی طرح تھیں۔ مائیں، جن کے لئے ساری اولاد برابر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد صرف ماں ہی وہ ہستی ہے جو انصاف کرتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ اپنی تمام تر سستی، نالائقی اور آوارہ گردی کے باوجود یہ قلمکار اپنی ماں کا لاڈلا تھا۔ میں بچپن میں سکول نہیں جاتا تھا تو امی نے ایک نئی اختراع نکالی۔ گاؤں کے پرائمری سکول میں ماسٹر جی کے پاس میٹھی گولیوں کا سٹاک رکھوا دیا۔ میں ہر روز ٹافیوں کے شوق میں سکول جاتا۔

ایک طویل عرصہ بعد جا کر سکول جانے کی عادت پختہ ہوئی۔ ہمارے بچپن میں عید آتی تو امی اپنے ہاتھ سے ہمارے کپڑے سیتیں۔ رات گئے کوئلے سے چلنے والی استری سے کپڑے پریس کر کے دیتیں۔ تاکہ ہمیں کسی کے سامنے سبکی محسوس نہ ہو۔ اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق چند آنوں پر مشتمل عیدی دیتیں۔ سردیوں کی آمد سے بہت پہلے اپنے ہاتھ سے سویٹر بنتیں۔ شب برات، دیگر تہواروں کے موقع پر اپنے آپ کو مشقت میں ڈال کر اپنے ہاتھ سے سوئیاں تیار کرتیں۔ میری فرمائش پر خصوصی ست رنگی سوئیاں تیار کرتیں۔ سردیوں میں السی کی ’’پنیاں‘‘ تیار کرتیں۔ اولاد کی بیماری پر ہر ماں تڑپ اٹھتی ہے۔ میری امی تو حد سے گزر جاتیں۔ 20 سال پرانی بات ہے۔ میں اسلام آباد میں بڑے بھائی کے پاس رہتا تھا۔ شدید بیمار ہوا۔ دوا دارو کے باوجود افاقہ نہ ہوا۔ امی کو پتہ چلا تو مضطرب ہو کر اکیلے اسلام آباد کیلئے نکل پڑیں۔ اس سے پہلے وہ کبھی اکیلے اسلام آباد نہیں آئیں تھیں۔ گھر کا ایڈریس بھی معلوم نہ تھا۔

اتنا معلوم تھا کہ ہم آئی ٹین میں رہتے ہیں اور ہمارا گھر برساتی نالہ پر قائم گرین بیلٹ کے سامنے ہے۔ دسمبر کی سخت سردی میں سحری کے وقت سٹیشن سے ٹیکسی لیکر آئی ٹین آ پہنچیں۔ آفرین ہے اس اجنبی ڈرائیور پر جس نے ماں کے عزم و حوصلہ کی لاج رکھی۔ ہر گلی اور ہر مکان کو چھان مارا اور آخرکار گھر تلاش کر لیا۔ صرف 24 گھنٹے کے اندر معدہ کا اذیت ناک مرض جاتا رہا۔

موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ اوروں کی طرح ہمارا خوش فہم دل آخری وقت تک امید کی ڈور سے بندھا رہا۔ نہیں، ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ ہماری امی ہمیشہ رہیں گی۔ ہمارے درمیان، ہمارے ساتھ، وہ عید پر ہمارے ساتھ رہیں گی۔ وہ نہیں آئیں گی تو فون کر کے سختی سے تاکید کریں گی کہ بچوں کو لیکر فوراً ساہیوال پہنچو۔ ہم پہنچ جاتے۔ دل خوش فہم نے دھوکہ دیا۔ موت حقیقت بن کر سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اب اس حقیقت کے ساتھ زندہ رہنا ہے۔ ادھیڑ عمری کی دہلیز پر کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں کمسن بچہ ہوں، جو ماں باپ کی انگلی کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔ اب کوئی حقیقی غم گسار اور محرم راز نہیں۔ کوئی دعائیں دینے والا ہے نہ ڈھال بن کر حفاظت کرنے والا۔

باپ مرے، سر ننگا ہوے، ماں مرے کنڈ خالی
ماواں باہج محمد بخشا، کون کرے رکھوالی

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند