تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جناب وزیراعظم، کیا سب کچھ معاف کردیا جائے!…
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 8 شوال 1436هـ - 25 جولائی 2015م KSA 15:37 - GMT 12:37
جناب وزیراعظم، کیا سب کچھ معاف کردیا جائے!…

جیوڈیشل کمیشن کی رپورٹ وہ توپ ثابت ہوئی ہے جس نے 21 گولوں کی سلامی بھی دی اور زمین پر فساد پھیلانے والوں کا قلع قمع بھی کردیا۔ اس اعلیٰ ترین کمیشن نے ہمارے قومی اداروں الیکشن کمشن، پارلیمنٹ اور نادرا وغیرہ پر انتخابات میں دھاندلی کے لگائے گئے الزامات اور تہمتوں کو غلط قرار دیا ہے، اس طرح وزیراعظم نوازشریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی، سابق چیف جسٹس (ر) افتخار حسین، جسٹس (ر) خلیل رمدے اور اسی قدوقامت کی بعض دوسری شخصیتوں کی انٹیگریٹی کو جس طرح مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی تھی، وہ سب کچھ بھی ہوا میں اڑا دیا گیا، جیوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں 2013ء کے انتخابات کوصاف شفاف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں کوئی دھاندلی ثابت نہیں ہوئی، اس طرح پارلیمنٹ کو عوام کی طرف سے دیا گیا مینڈیٹ بھی کسی قسم کے شک وشبہ سے بالاہوگیا ہے!

گزشتہ روز وزیراعظم محمد نوازشریف نے قوم سے خطاب کیا اور اس تقریر میں کوئی نخوت نہیں تھی، اتنی بڑی فتح کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ سب کچھ بھلا کر قومی استحکام کے لئے ہم سب کو مل جل کر کام کرنا چاہئے۔ نا ہوئے اپنے خواجہ آصف وزیراعظم، انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت کو مخاطب کر کے اپنی تقریر کا آغاز ہی ’’شرم کرو، حیا کرو، غیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے،‘‘ کے جملوں سے کرنا تھا اور اختتام بھی اسی پر، سچ پوچھیں تو صرف خواجہ آصف ہی نہیں، دل میں ہر کوئی خواجہ آصف صاحب ہی کے جملے دہرا رہا ہے تاہم قومی مفاد کا تقاضا معاف کرنے ہی میں ہے جس کا عملی ثبوت سنجیدہ اور متانت بھرے انداز میں وزیراعظم نے کیا، یہ قومی مفاد بھی بعض اوقات انسان کو کتنی مشکل میں ڈال دیتا ہے کہ مجھ ایسے شخص کو اسے اپنے دلی جذبات کا اظہار بھی نہیں کرے دیتا۔ جس جماعت کے قائد نے پاکستان کے دو سال ضائع کئے، ارب ہا روپے دھرنوں پر لگا دیئے، لوگوں کی پگڑیاں اچھالیں، قوم کو ہیجان میں مبتلا رکھا، چینی وزیراعظم کا دورہ پاکستان منسوخ کرا دیا، پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کی، پی ٹی وی کے اسلام آباد سینٹر میں داخل ہو کر پارٹی کے جیالوں نے کروڑوں روپوں کی مشینری کوڑ کباڑ میں تبدیل کر دی، اسلام آباد کے شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالی، ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ڈالی گئی، ’’جیو‘‘ کے دفتر پر مسلسل سنگ باری کی گئی، اپنے جیالوں کو قائد تحریک عمران خان خود تھانے سے چھڑا کر لے آئے، خان صاحب کے کان میں جو کوئی افواہ ڈالتا تھا وہ کان خان صاحب اسی لمحے حقیقت کے طور پر دھرنے کے مجمع کو سنا دیتے تھے اور مجمع ڈی جے بٹ کے میوزک پر بھنگڑے ڈالنے لگتا تھا۔ آج کل بٹ صاحب اپنے کروڑوں اربوں کے بل ڈوب جانے پر المیہ گانے گاتے نظر آتے ہیں، بس ایک طوفان بدتمیزی تھا جو برپا کیا گیا، وزیراعظم کے استعفیٰ کی روز ایک ڈیٹ دی جاتی تھی اور وہ ڈیٹ گزرنے کے بعد ایک اور ڈیٹ دے دی جاتی تھی، اتنی ڈیٹس تو جج بھی سائلوں کو نہیں دیتے۔ جب کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہ آیا تو عمران خان نے ایک بہانہ بنا کر دھرنا ختم کردیا اوراپنے ارکان سمیت اس پارلیمنٹ میں آکر بیٹھ گئے جسے وہ جعلی پارلیمنٹ قرار دیتے تھے۔ یہ وہی لمحہ تھا جب خواجہ آصف نے ان لفظوں سے اپنے دل کی بھڑاس نکالی تھی جو آج زباں زد خواص و عام ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کلچر کا فرق ملاحظہ کریں کہ عدالتی کمیشن کی طرف سے کلین چٹ ملنے کے بعد اس کے ارکان اتنی بڑی کامیابی کا جشن مناتے نظر نہیں آتے بس ایک دوسرے کو مبارک بادیں دے رہے ہیں۔ ان کے لیڈر میاں نوازشریف نے اپنی تقریر میں ماضی کو فراموش کرنے کی بات کی ہے اور یوں سب کچھ معاف کردیا ہے، دوسری طرف آپ ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ اگر فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں آیا ہوتا تو کیا ہوتا؟ اس وقت سارے شہروں میں جیالے سڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہوتے، مسلم لیگ کے دفتروں پر حملہ آور ہوتے، پارلیمنٹ اور ٹی وی چینلز پر پتھرائوکرتے نظر آتے، انہیں مسلم لیگ کا کوئی حامی نظر آجاتا تو اسے پھینٹی لگاتے، فیس بک پر ایک کہرام مچا ہوتا، غرضیکہ کسی کی عزت، جان اور مال تک محفوظ نہ رہتی۔ ’’سونامی‘‘ نے ہر طرف تباہی پھیر دینا تھی۔

چلیں جناب وزیراعظم نے فراخدلی سے کام لیتے ہوئے عمران خان کو معاف کردیا، لیکن کیا وہ لوگ بھی اس جماعت کے غنڈوں کو معاف کردیں جنہوں نے ان کی عصمت مآب مائوں، بیٹیوں اور بہنوں کو گندی گالیاں دیں، ہر اختلاف کرنے والے کو کرپٹ کہا، راہ چلتے لوگوں پر آوازے کسے، پولیس والا جہاں کہیں اکیلا نظر آیا اسے زمین پر لٹا کر بری طرح مارا پیٹا اور اس کے منہ پر تھوکا، یہ صرف کارکنوں کا معاملہ نہیں تھا کہ کارکنوں نے یہ سب کچھ اپنے لیڈر عمران خان سے سیکھا تھا، خود عمران خان نے دھرنے کے دوران بہت سے محترم لوگوں کے بارے میں بازاری زبان استعمال کی۔

’’جیو‘‘ کے مالکان کو گالیاں دیں، اس کے کارکنوں کا گھیرائو کیا، عمران خان کو یقین نہیں آتا تھا کہ وہ ایک قومی سطح کے لیڈر بن چکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے مجھ جیسے ایک ادنیٰ سے کالم نگار کو بھی معاف نہیں کیا اور ایک ٹاک شو میں کہا ’’عطاء الحق قاسمی جھوٹا ہے‘‘ اور اس کے پیروکاروں نے اس مصرع طرح پر سہ غزلے کہے ، کسی نے کہا قاسمی کو عمران خان کے خلاف لکھے گئے ہر کالم پر نوازشریف کی طرف سے ایک لاکھ روپیہ ملتا ہے اور یوں میاں صاحب کی طرف میرے پانچ چھ کروڑ روپے نکلتے ہیں۔ دیکھیں انصافیوں کی یہ بات کب سچ ثابت ہوتی ہے، بہت سے دوسرے میڈیا پرسن اور سیاسی شخصیات پر بھی گھنائونےالزامات لگائے گئے۔ مجھے تو قتل کی دھمکیاں بھی ملیں۔ جس کا ذکر میں نے اپنے ایک کالم میں بھی کیا، کالم کی اشاعت پر کسی ایجنسی کے ایک نہایت فرض شناس اور مہربان افسر کا فون مجھے آیا ، انہوں نے اپنا نام ظاہر کئے بغیر مجھ سے وہ فون نمبر مانگا جس نمبر سے فون آیا تھا مگر میں نے ان کے بے حد اصرار کے باوجود یہ نمبر نہیں دیا کہ اسکا پکڑا جانا یقینی تھا اور پھر اس جذباتی سے کارکن کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں ہونا تھا۔

وزیراعظم محمد نوازشریف کی تقلید میں میں بھی یہ سب تلخ یادیں فراموش کرتا ہوں اور ان سب کو معاف کرتا ہوں جنہوں نے میری کردار کشی میں کوئی کمی نہیں کی، امید ہے دوسرے میڈیا پرسنز اور سیاسی کارکن بھی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان نادانوں کی نادانیاں معاف کردیں گے، لیکن کیا میں اپنی مرحومہ والدہ کو دی گئی گندی گالیاں معاف کرسکتا ہوں؟ کیامیری بہنوں کو جو مغلظات دی گئیں میں وہ معاف کردوں؟ میں اپنی بہنوں سے کہوں گا کہ وہ ان سب کو معاف کردیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سب کو اور ان کے لیڈر کو ہدایت دے کہ وہ اس جماعت کو غنڈوں کی جماعت نہ بنائیں، جہاں تک والدہ مرحومہ کا تعلق ہے انہیں دی گئی گالیوں کے حوالے سے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، وہ کب سے اللہ کے حضور ہیں! چنانچہ ان لوگوں کو معاف کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وہ اللہ ہی کے حضور خود کریں گی

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند