تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اگلے تین سال ون پارٹی رول، ذمہ دار کون؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 12 شوال 1436هـ - 29 جولائی 2015م KSA 13:20 - GMT 10:20
اگلے تین سال ون پارٹی رول، ذمہ دار کون؟

2018ء تک ن لیگ کی یک جماعتی حکومت قائم ہو چکی ہے، قوم کو بھگتنا ہو گا۔ ذمہ دار کون ہے؟ عوام الناس نے تو دلجمعی سے دوسری بڑی پارٹی اورموثر اپوزیشن کا سہرا تحریک انصاف کے سر باندھ دیاتھا ، اس کو خرچ کس نے کیا؟ عزت اور اصول کے اپنے تقاضے ۔ تادم ِ تحریر تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں پر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ جبکہ شاہ محمود قریشی منت ترلوں کے ساتھ اسمبلی کا حصہ رہنے پر مصر۔کاش تحریک انصاف اپنے موقف سے مکر جانے کا کاروبار بند کر سکتی۔ جوڈیشل کمیشن رپورٹ نے وہ سب کچھ مسترد کر دیا جس کا ڈھنڈورا عمران خان اپریل 2014ء سے تسلسل کے ساتھ پیٹ رہے تھے۔ عمران خان کی نالائقی ہی کہ وہ تحریک انصاف کو ایسی بند گلی میں دھکیلنے کے مرتکب ہو ئے ، جہاں سے اب واپسی کے سارے راستے مسدود ہو چکے۔ تخت یا تختہ؟۔۔۔’’ تخت‘‘ کی محبت میں استوار سیاست غیر جمہوری اور زُعم، رعونت کااکثر انجام’’ تختہ‘‘ ہی۔ اچھنبے کی بات ، کہ ناقص منصوبہ سازی میں چیئرمین بنفس نفیس ملوث پائے گئے۔ حدیث قدسی’’ ہم اس وقت تک کسی ذی نفس کو موت نہیں دیتے ،جب تک جس کا جو بھی زُعم ہو اُسے باطل نہ کردیں(فرمان باری تعالیٰ)‘‘۔

6 اگست 2014 یہی کچھ لکھ دیا تھا، ملاحظہ فرمائیں۔’’جمہوری حکومت کے دوپہیے ایک حکومت دوسری اپوزیشن۔حکومت ن لیگ کے تصرف میں جبکہ اپوزیشن کے خانے کو پُر کرنے کے لئے جنگ وجدل کا آغاز ہوچکا۔عمران خان کوبہاولپور کا ملتوی جلسہ دوبارہ منعقد کروانا پڑا۔ دوران ِ تقریر14 اگست کو آزادی مارچ کا انکشاف کر دیا ۔کیا یہ مارچ تحریک ِانصاف کوایک مرتبہ پھربند گلی میں دھکیل دے گا؟ یقین کامل کہ دھرنا تحریک ِ انصاف کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا۔ خبط ِعظمت ایک مہلک بیماری،اگر میرے جیسے کسی عامی کو گھیر لے توذہنی دیوالیہ پن، عموماََ بڑے آدمی ہی اس کی گرفت میں، ایسوں کا HALLUCINATION اور تصوراتی ہیجان وارتعاش پر منتج ہونا لازم ۔ اوائل سیاست میں توہین آمیز نا کامیوں نے انا اور وقار کو سخت مجروح رکھا ۔ سیاست میں اپنی کوتاہی ، نا اہلی، کمزوری، اور کمتری کا شدید احساس اپنی جگہ۔

آج سیاسی کسمپرسی اور ہیجان، شخصیت کا جزو بن چکی۔ مجھے ترس آتا ہے جب آج احساس کو دبانے کے لئے اپنی ہی شخصیت کا سحر، بڑھ چڑھ کر اپنے آپ کو پیش کرنے کا برملا اظہار،شعار بن چکا۔ جبکہ سیاست، اضطراری فیصلوں کی بھینٹ چڑھ چکی۔ اس میں باک نہیں کہ’’ آزادی مارچ‘‘ نے ایک ارتعاش برپا کر رکھا ہے،پوری قوم متاثر نظر آتی ہے۔مگرمیری بات بھی پلو سے باندھ لیں ، کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اگرچہ عمران خان نا دیدہ قوتوں کے اشاروں پر چلنے میں مصروف ومجبور۔ اگر حکومت نے انہونی نہ کی ، ’’مزید حماقتوں‘‘ سے پہلو تہی کی تو مارچ کے ڈھول کا پول اسلام آباد میں ندامت اور شرمندگی ہی لائے گا۔ وزیراعظم نوازشریف کی سیاست ان کی ذات کے اندر گم، قابلیت اور اہلیت مشکوک۔ منطقی نتیجہ کہ بے سمت حکومتی گھوڑا، سوارمیاں صاحب ، سرپٹ دوڑ رہا ہے ، ’’ لگام ہاتھ میں نہ پائوں رکا ب میں ‘‘ ۔

ایسی ساری سہولتیں موجود پھر بھی دھرنے کی شرطیہ ناکامی دیوار پرکندہ ۔ جنگ ہے کس کے خلاف؟ کہیں آئین ِ پاکستان کا مکو ٹھپنے کی تگ ودو تو نہیں ؟۔جسٹس وجیہہ الدین، جاوید ہاشمی ، حامد خان،ہے کوئی تحریک انصاف میں، جو آئین کی حفاظت کا علم اٹھائے؟ اگر نادیدہ ہاتھ قانون ہاتھ میں لیتے ہیںتو پھر صرف تباہی ہی، مملکت کا پارہ پارہ ہونا لازم ہے۔ یہ پاکستانی تاریخ کا پہلا دھرنا ہوگا کہ جس کے اہداف اور گول چیئر مین کو بھی معلوم نہیں۔ الزامات، بیانات اور موقف کپڑوں کی طرح ڈیلی بنیاد پر بدلنا ، عادت ۔ کارکنان و قائدین ایک دوسرے سے معلوم کرتے پھرتے ہیں ، نادیدہ قوتوں کا مضبوط ہاتھ پشت پرواقعی یاکوئی ’’ پر کھنڈ‘‘تو نہیں؟ راہِ اللہ ! حکومت ِ وقت سے التجا ، مارچ کو رُکوانے کے جتن نہ کریں، یہ بلبلہ اپنے زور سے انجام کے قریب ہے۔ کیا عمران خان، شیریںمزاری، شاہ محمود قریشی ، جہانگیر ترین اپنے نجی مفادات کے لئے تحریک انصاف کو بند گلی میں دھکیلنے کا لائسنس رکھتے ہیں۔ ہے کوئی !جو تحریک کو بند گلی میں دھکیلے جانے سے روکے؟‘‘(جنگ: 6 اگست 2014)

عمران خان کی پرزور خواہش پر پچھلے چند مہینو ںمیں دو عددجوڈیشل انکوائری کمیشن وجود میں آئے ۔ جسٹس وجیہہ الدین کمیشن نے انٹرا پارٹی الیکشن میں ہونیوالی دھاندلیوں کی تحقیق کرنا تھیں۔ جسٹس وجیہہ الدین نے انٹرا پارٹی الیکشن پر بین ہی وہ فیصلہ صادر فرمایا جو عمران خان جنرل الیکشن کے بارے میں چیف جسٹس امیرالملک کمیشن سے سننے کے متمنی تھے۔ خلاصے کا خلاصہ، ’’انٹرا پارٹی الیکشن مبنی پر منظم دھاندلی، مینڈیٹ چرایا گیا، غلط کاروں کی اکثریت منتخب ہوئی۔ جہانگیر ترین ، پرویز خٹک اور علیم خان کو انتخابات میں منظم دھاندلی پر بنیادی رکنیت سے محروم کیا جائے‘‘۔

انصاف کے اپنے تقاضے، جہانگیر ترین اور علیم خان کی جدائی کے عمران خان متحمل کیسے ہو سکتے تھے ؟ دونوں دوست ببانگ دہل فرماتے ہیں کہ ہم چیئرمین پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ دونوں رہنما پارٹی شمولیت سے بہت پہلے محنت مزدوری سے کمایا،رزق حلال چیئرمین کو چکھا چکے تھے۔ جہانگیر ترین 1997ء میں جب شہباز شریف کے مشیر برائے زرعی ترقی (چیئرمین ایگریکلچرل ٹاسک فورس) لگے تو ایسے رخصت ہوئے کہ 25000 ہزار ایکڑکے طفیل پاکستان کے سب سے بڑے زمیندار تھے جبکہ علیم خان کی شہرت، شبانہ روز محنت ومشقت کی مرہون منت، ہر زبان خاص وعام، زدعام۔ جہانگیر ترین نے شمولیت سے پہلے جب 5 کروڑ کی بلٹ پروف گاڑی کا تحفہ بھیجا تو خان صاحب نے ہنسی خوشی قبول کرلیا، اشارۃ ًکنایتہ توجہ دلائی ، بھنا کرجواب دیا ’’تمہارا خیال ہے مجھے کوئی خرید سکتا ہے، بھلا میری قیمت ایک گاڑی ہے‘‘۔ عرض کیا کرپٹ آدمی کو خریدنا مشکل کہ قیمت زیادہ ، جبکہ دیانت دارمعمولی فائدوں کا اسیر رہتا ہے۔

اسی ضمن میں، لودھراں کے موجودہ دونوں MNA اور چارو MPA تحریک انصاف میں شمولیت پر آمادہ تھے مگر شرط کہ جہانگیر ترین (ہار یقینی) کو لودھراں سے ٹکٹ نہ دیا جائے ۔جہانگیر ترین تب تک ذاتی مجبوری بن چکے تھے کہ ’’ دانہ نہ چوگتی تو کیوں پھانستی‘‘، چیئرمین کو پھنسا چکے تھے۔یہی وجہ کہ آج عمران خان اپنے قائم جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ بوجہ جہانگیر ترین ،ردی کی ٹوکری میں پھینک چکے ہیں۔اب ذرا اصل موضوع ،چیف جسٹس کمیشن رپورٹ پر مختصراََ طبع آزمائی بھی ہوجائے۔ عمران خان کے حکومت پر لگائے گئے سارے الزامات مسترد کر دئیے گئے۔ گو نواز شریف نے 12 اگست ’’آزادی مارچ‘‘ سے پہلے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کر دیا تھا مگراس وقت ایمپائر کی انگلی دماغ میں گھس چکی تھی۔

خمار نے سنی ان سنی کردی ،اسلام آباد جا کر حکومت کا تختہ الٹنا واحداور اکلوتا مطالبہ تھا ۔ عوام الناس کی جذباتی وابستگی اور توقعات کا سودا کھلے عام، سربازار کر دیا۔نادیدہ ایمپائر کی انگلی کے عوض سب کو ڈیل سے لف کر دیا۔ نئے پاکستان کے سہانے خواب دکھائے ۔ یقین کامل ایسا کہ نواز شریف کے استعفیٰ پر روانی میں اپنی ہونے والی طے شدہ شادی کوبھی نئے پاکستان سے نتھی کردیا۔ شریف آدمی کی عزت تارتار رکھنے میں مستعدی اور رعونت نقطہ عروج پرنظر آئی ۔ قانون کی دھجیاں اور عزم بغاوت کوٹ کوٹ ، امڈ امڈ باہر آیا۔ 29 اگست کی رات کو جب جنرل راحیل کو ملنے کے لئے روانہ ہوئے تو چشم تصور میں نواز شریف کا لکھا استعفیٰ اپنی جیب میں پایا۔ باچھیں کِھل کُھل گئیں، سنجیدہ طبقے کو گھائل کر گئیں۔ اعلامیہ بھی یہی کہ ’’نواز شریف کا استعفیٰ لے کر ہی آئوں گا‘‘ ۔ نتیجہ ناکامی، واپسی پر کنٹینرمیں گھستے ہی جنرل راحیل کو برابھلا کہتے پائے گئے۔

بہرحال جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ توقعات کے برعکس اینٹی کلائمکس ، احمقانہ خوابوں پر پانی پھیر گیا۔چنانچہ جوڈیشل کمیشن کے بارے میں مسلم لیگ ن سے کئے اپنے معاہدے پر بھی آئیں بائیں شائیں ضروری ہے۔ سیاسی ساکھ کی غیرموجودگی،ایسی سیاست پر ’’تفنن اور تعفن ‘‘نے راج کرنا ہی تھا۔ عادت وہی بے ڈھنگی، نجی محفلوں میں دونوں کمیشنوں کو آڑے ہاتھوں لے رکھا ہے۔جبکہ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا پر دونوں کمیشن پرلعنت ملامت اور دشنام طرازی نے سنجیدہ طبقے کی طبیعت مکدر کر رکھی ہے۔

عوام الناس اور پاکستان کے انتہائی پڑھے لکھے طبقے نے اپوزیشن کا بلا شرکت غیرے سہرا جناب عمران خان کے سر باندھا۔بدقسمتی کہ کمال نالائقی اور مہارت نے اسے بے کار اور ناکارہ بنا دیا۔حیرت کیسی کہ تاریخ کی نااہل ترین حکومت آج اکیلی دندناتی پھرتی ہے۔ وطن عزیز ون پارٹی رول کی گرفت میںجکڑا جا چکا ہے۔ 2018ء تک ن لیگ نے تحریک انصاف کوجوڈیشل کمیشن رپورٹ کے زیر بار رکھنا ہے کہ یہ ان کا سیاسی حق ہے۔میڈیا پر اگلے تین سالوں میں بے توقیر ی بنتی ہے۔ ذمہ دار کون؟ عمران خان کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند