تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نیرو سے جمی کارٹر تک۔۔۔۔!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 12 شوال 1436هـ - 29 جولائی 2015م KSA 13:57 - GMT 10:57
نیرو سے جمی کارٹر تک۔۔۔۔!

نیو یارک ایک خوبصورت شہر ہے۔ جس نے نیو یارک نہیں دیکھا، اس نے شاید دنیا ہی نہیں دیکھی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا یہاں اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی رہتے ہیں۔ پاکستانی صحافی دوست محسن ظہیر کی خبروں اور کالموں کے ذریعے پتہ چلتا تھا کہ نیو یارک میں کیا کچھ ہوتا رہتا ہے۔ ویسے میں بور ٹائپ شخص ہوں، جو ایک کمرے میں کئی دن تک باہر نکلے بغیر رہ سکتا ہے۔ ہاں کچھ کھانے کو فریج میں موجود ہو، کتابوں کا ڈھیر لگا ہو اور فلمیں۔

گاؤں میں اماں نے شہر جانا ہوتا تو انکی نظریں میرے اوپر ٹھہرتیں کہ یہ گھر کی رکھوالی کرے گا، کہیں نہیں جائے گا۔ میاں مشتاق جاوید کو شاید اندازہ تھا کہ ہم سرائیکی کتنے سست واقع ہوئے ہیں، لہٰذا انہوں نے میامی سے فون کیا کہ لانگ آئی لینڈ پر پاکستانی ہر سال عید ملن کرتے ہں، بہتر ہیں آپ چلے جائیں۔ انہوں نے ایک دوست لیاقت صاحب کو فون کر کے کہا کہ وہ مجھے لے جائیں ورنہ کمرے میں ہی لیٹا رہوں گا۔ چار گھنٹے ڈھائی تین سو پاکستانیوں کے درمیان گزارنے کا موقع ملا۔ ہر کوئی ناراض، ہر کوئی خفا کہ کیا حشر کر دیا ہے۔ سبکا خیال ہے کہ پاکستان امریکہ بن سکتا ہے۔ یہاں یہ کچھ ہوتا ہے تو وہاں کیوں نہیں ہو سکتا۔

میں بھی ایسے موقعوں پر ملزم کی طرح چپ چاپ سنتا رہتا ہوں۔ کچھ دوستوں نے بہت اصرار کیا کہ تقریر ہو جائے۔ میں نے معذرت کر لی۔ ہر وقت بولتا رہتا ہوں۔ یہ بے چارے چپ چاپ ٹی وی پر ہمیں سنتے رہتے ہیں۔ اگر آج نہیں بولنے کا موقع ملا ہے تو سن لیا جائے۔ اکثریت یہاں عمران خان کی حامی نکلی۔ وہ نواز شریف اور زرداری سے بیزار ہو چکے ہیں۔ عدالتی کمیشن نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ بہت سوں کا کہنا تھا کہ چھوڑیں جی، اب اس ملک میں کیا بچ گیا ہے۔ کسی نے پوچھا کوئی امید، کوئی اچھائی کی توقع؟ انہیں لگتا ہے کہ ملک لٹ گیا ہے اور جنہوں نے اس لوٹ مار کو روکنا تھا وہ بھی انہی لٹیروں کے ساتھ مل گئے۔

جنرل راحیل شریف یہاں بھی بہت زیادہ مقبول پائے۔ طالبان کے کلاف کی گئی کارروائی نے جنرل راحیل کو یہاں خاصا مقبول کر دیا ہے۔ جنرل کیانی کے چھ برسوں میں جتنا نقصان ہوا، انکے خیال میں جنرل راحیل نے ڈیڑھ برس مین اس کا ازالہ کر دیا ہے۔ کراچی میں بھی جس طرح فوج نے اسٹینڈ لیا ہے اس پر بھی وہ کافی خوش ہیں۔ تاہم ایان علی کی رہائی پھر انہیں مایوس کر گئی کہ کچھ بھی ہو جائے طاقتور اب بھی ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اور بجاتے ہیں۔ انکا خیال تھا کہ شاید ایان علی کو رعایتیں اس لیے بھی دی گئی تھیں کہ ایک صاحب بھی کئی کلو گرام سونا بیرون ملک سمگل کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے اور انکا براہ راست تعلق بھی شاہی خاندان سے نکل آیا تھا لہذا ایان علی کا مقدمہ انکے لیے مسائل کھڑے کر سکتا تھا۔

تاہم ایک لفظ سے میں بہت چڑتا ہوں۔ وہ ہے سسٹم۔ سب کہتے ہیں کہ پاکستان میں سسٹم ٹھیک کر دو تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ سسٹم کس بلا کا نام ہے؟ یہ کہاں پائی جاتی ہے۔ اسے کون درست کرے گا؟ اسکا جواب کوئی نہیں دیتا۔ ایک رومانس سب نے سسٹم کے ساتھ باندھ لیا ہے اور وہ دن رات اسکی گردان کرتے رہتے ہیں ۔ میں نے جب دو تین لوگوں سے یہی بات کہی کہ پلیز یہ سسٹم والی کہانی مزید نہ سنائیں تو وہ کچھ حیران ہوئے کہ میں کیا بونگی مار رہا ہوں۔ میرے خیال مین سسٹم کوئی چیز نہیں ہوتا۔ جو لوگ اس سسٹم کو چلا رہے ہوتے ہیں دراصل وہ سسٹم ہوتے ہیں۔ جب کوئی اچھا بندہ اوپر آجاتا ہے تو اسی مردہ سسٹم مین جان پڑ جاتی ہے۔

اخبار کا ایڈیٹر اچھا آجائے تو اچانک اخبار میں آپ کو شاندار تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ ایک ہوٹل کو اچھا مینجر مل جائے تو راتوں رات سارا عملہ چست ہوجاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی پولیس کو آئی جی ناصر درانی نے کیسے اچھا کر دیا ہے۔ ان سے پہلے جو آئی جی تھے وہ چار ارب روپے کے اسلحہ سکینڈل مین آج کل جیل میں ہیں۔ اب آپ سسٹم کو برا بھلا کہیں گے۔؟ ایک آئی جی کرپشن رکتا ہے جبکہ دوسرا فورس کو تیار کر کے بہادر بنا دیتا ہے۔ ناصر درانی کی ایک ویڈیو فیس بک پر دیکھی جس میں وہ اپنی فورس کو کونسلنگ کر رہے ہیں۔ یقین کریں سن کر دل خوش ہوگیا۔ کمانڈر ایسا ہونا چاہیے۔ ناصر درانی کا وہ ایڈیو کلپ دیکھ کر میرا اپنا جی چاہا کہ صحافت چھوڑ کر پولیس مین بھرتی ہوجاؤں۔

چھ برس جنرل کیانی فوج کے سربراہ رہے۔ جب روانہ ہوئے تو طالبان پے درپے حملے کر رہے تھے۔ جنرل راحیل نے انہی طالبان کو چند ماہ میں شکست دی۔ جنرل کیانی ایک برس سوچتے رہے۔ جنرل کیانی کے حمایتیوں کے پاس بچ بچا کے سوات آپریشن کی کہانی ہے۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ آخر وہاں اتنی بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو جمع کس نے ہونے دیا؟َ کس نے سیاستدانوں کو مجبور کیا کہ دہشت گردوں کو مرضی کی ریاست دے دیں۔ پھر جتنے بے گناہوں کا لہو وہاں بہا، اسکا ذمہ دار کون تھا؟ پھر یہ کیسا آپریشن تھا کہ سب دہشت گرد بچ نکلے اور کسی اور جگہ اکٹھے ہو کر پھر فوجیوں کے گلے کاٹںے لگے۔ اگر سوات آپریشن کامیاب بھی ہوا تو کیا سوات آپریشن کے بعد سو جانا چاہیے تھا کہ جناب کام مکمل ہو گیا ہے، آپ کسی اور علاقے مین جا کر دہشت گردی شروع کر سکتے ہیں آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا؟

جنرل راحیل کے آنے سے سسٹم میں ایسی کونسی تبدیلی آئی کہ طالبان کو شکست ہوئی؟ ایک جنرل کے آ جانے سے فرق پڑا وگرنہ چھ سال تک ہم ایک ہی کہانی سنتے آئے تھے کہ اگر طالبان کو چھیڑا گیا تو وہ ہمین تباہ کر دیاں گے۔ خود فوج نے جب وزیرستان پر قبضہ کیا تو بتایا گیا کہ دہشت گردوں کے پاس بیس سال تک لڑنے کا اسلحہ موجود تھا۔ شکر کریں کہ کمانڈر تبدیل ہوا اور اسکے ساتھ ہی چھ سالہ پرانی جنگی حکمت عملی بدلی اور راتوں رات حالات بدل گئے، ورنہ ہمارے بیس برس تو اسی جنگ میں گزر جانے تھے۔ ابھی سے بہت سوں نے ڈرنا شروع کر دیا ہے کہ جنرل راحیل کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس ملک کا کیا ہوگا؟ پھر وہی دہشت گردی اور دہشت گرد اور ہمارے منت ترلے!

تو پھر سسٹم کہاں گیا؟
کسی تھانے کو اچھا ایس ایچ او مل جاے تو تھانہ بدل جاتا ہے۔ ایک ڈی پی او کسی ضلع مین بہتر آجائے تو پورے ضلع کو پتہ چلتا ہے کہ تبدیلی آئی ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ طارق کھوسہ ایف آئی اے کے سربراہ بنے تھے اور اس ایجنسی کا رنگ ہی بدل گیا تھا۔ وزیر اعظم گیلانی نے فورا انہیں بدل دیا تھا کہ کہیں وہ پورا ماحول ہی نہ بدل دیں۔ ایجنسی کے افسران تک کی چال ڈھال بدل گئی تھی۔ آج کل جو ایف آئی اے کا حشر ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ تو پھر کہاں گیا سسٹم؟

کیا آپ نے اسلام آباد ایئر پورٹ پر سرکاری وردی کے نام پر دھبہ ڈالنے والے افسر کی نئی ویڈیو دیکھی ہے جو مسافر سے رشوت لے رہا ہے؟ کیا یہ سسٹم کا قصور ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ اس ائرپورٹ کے اہلکاروں کے افسر کا قصور ہے کہ سسٹم کام نہیں کر رہا۔ یہ ویڈیو دیکھ کر شرم سے بندہ ڈوب مرے کہ ہم کہاں جا گرے ہیں۔ بھکاری بھی بہتر ہوتے ہیں ان سرکاری اہلکاروں سے جو اس بے شرمی سے چند سو روپے کے لیے اپنی اور اپنے ملک کی عزت بیچتے ہیں۔ شاید انکا خیال ہے کہ اگر نواز شریف، زرداری ، اسحاق ڈال سمیت ایک سو پچاس میگا سکینڈل کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش ہوتی ہے اور وہ اس ملک کے حکمران ہیں تو وہ چند سو روپے لیتے ہوئے کیوں جھجکیں گےْ

نیو یارک میں بھی برسوں سے میئر چلے آ رہے تھے۔ سسٹم بھی موجود تھا۔ کیا ہوا؟ جرائم بڑھتے ہی چلے گئے۔ جیولانی نے سب کچھ بدل دیا۔ سسٹم ہے نام ایک اچھے حکمران یا اچھے افسر کا جو اپنی ڈیوٹی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو۔ چھوڑیں، آپ کو کس چکر مین ڈال دیا ہے۔ نیو یارک مین ویک اینڈ پر شاندار فلم دیکھی ہے Southpaw۔

دل چاہتا ہے فلم پر پورا کالم لکھوں۔ کیا خوبصورت کہانی اور اداکاری ہے۔ فلم آپ کو اپنی گرفت مین لے لیتی ہے حالانکہ مجھے باکسنگ کے موضوع پر بننے والی فلموں سے چڑ ہے۔ شاید زندگی مین پہلی دفعہ دیکھی اور دل کو بھا گئی۔ کچھ کتابیں خریدی ہیں۔ جہاں رہتا ہوں، قریب ہی کتابوں کی بہت بڑی دکان ہے۔ دن کا زیادہ تر حصہ وہیں گزرتا ہے۔ جمی کارٹر نے نوے برس کی عمر مین کتاب The Full Life لکھی ہے۔ جی ہاں نوے برس بعد اس نے زندگی کو دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ کیا شاندار تحریر ہے۔ جان ایف کینڈی کی اہم کتاب Profiles in Courage دوبارہ خریدی ہے۔ پچھلے برس پاکستان لے گیا تھا لیکن گم ہو گئی تھی۔ ہاں The Twelve CaesarsX۔ بھی خریدی ہے کہ باقی سیزر چھوڑین آپ کو چھٹے بادشاہ سلامت نیرو کی کہانیاں سنانی ہیں۔ پاکستان میں نیرو کے بارے میں صرف اتنا جانا جاتا ہے کہ روم جل رہا تھا اور وہ بانسری بجا رہا تھا۔ نہیں جناب، نیرو کے کارنامے ایسے ہیں کہ مجھے شاید کئی کالم لکھنے پڑیں۔

سپریم کورٹ مین ایک سو پچاس سکینڈلز پر دل چھوٹا نہ کریں کہ انسانی تاریخ میں صرف پاکستانی حکمران ہی نہیں جو اپنے ہی لوگوں کو لوٹتے ہیں، انسانی تاریخ ایسے لالچی اور حرص کے مارے کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ جس طرح کی لوٹ مار نیرو نے روم میں کی تھی، اسکے بعد آپ کو اپنے حکمران فرشتے لگیں گے!

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند