تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
گونگی بچی!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 13 شوال 1436هـ - 30 جولائی 2015م KSA 18:25 - GMT 15:25
گونگی بچی!

بالی ووڈ نے حال ہی میں دو ایسی فلمیں بنائی ہیں جن کے چرچے پاکستان کے گلی کوچوں سے بھی سنائی دے رہے ہیں۔ پاکستانی میڈیا پر بھی ان فلموں پر تبصرے اور پیروڈی جا رہی ہے۔ بھارت کا متعصب طبقہ ان فلموں سے نالاں دکھائی دیتا ہے جبکہ پاکستانیوں میں ان فلموں کو پذیرائی ملی۔ فلم ”پی کے“ میں ہندو ذہنیت اور مذہبی تعصب کو ہائی لائٹ کیا گیا جبکہ حالیہ فلم ”بجرنگی بھائی جان“ میں جموں کشمیر کو متنازعہ تسلیم کر لیا گیا۔ گو کہ یہ فلم بھی کچھ پاکستانیوں کی نظر میں تنازعہ بنی ہوئی ہے لیکن فلم ہو یا کالم‘ ہر انسان اپنی سوچ کے مطابق اس سے نتیجہ اخذ کرتا ہے مگر لکھنے والا باصلاحیت ہو تو کڑوی سے کڑوی حقیقت کو بھی بڑی خوبصورتی سے بیان کر جاتا ہے۔ اس فلم کی کہانی بظاہر منفرد معلوم ہوتی ہے لیکن اس فلم کا ”تھیم“ پاکستان بھارت کے حساس ایشو پر مبنی ہے۔ دونوں ممالک کے مابین تناﺅ کا اصل سبب مسئلہ کشمیر ہے۔

اس فلم میں پاکستانیوں اور کشمیریوں کی محبت کو ایک گونگی محبت سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ گمشدہ گونگی محبت کو اگر منزل مل جائے تو دونوں ملکوں کو نفرت اور دشمنی سے نجات مل سکتی ہے۔ اس فلم میں پاکستانیوں کو محبت کرنے والی قوم دکھایا گیا ہے او ر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان کے لوگ کشمیر کے معاملہ میں جذباتی ہیں ۔ اس فلم میں آزاد کشمیر کی ایک گونگی بچی کا پاکستانی پرچم کو چومنا ،اس کو دیکھ کر دیوانہ وار جھومنا ،اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ کشمیر یوں کا دل پاکستان کے ساتھ کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ دونوں ملکوں میں مسلمان بستے ہیں، ایک دوسرے کے رشتے دار دوست احباب آباد ہیں، ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھنا چاہتے ہیں ، دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے مذہبی مقامات موجود ہیں ،دونوں ملکوں کے لوگ آمدو رفت میں آسانیاں چاہتے ہیں لیکن ویزہ کے معاملہ میں بھارت زیادہ متعصب پایا جاتا ہے۔ سکھ برادری کو مذہبی رسومات کے لیئے پاکستان کا ویزہ دیا جا سکتا ہے تو پاکستانیوں کو درگاہوں پر جانے کا اجازت نامہ کیوں نہیں مل سکتا ؟

امریکی پاسپورٹ ہولڈر پاکستانیوں کے لیئے انڈین ویزہ قریبََا نا ممکن بنا دیا گیا ہے ۔ امریکہ سے دہلی میں محبوب الہی حضرت نظام الدین اولیاءؒ، اجمیر میں حضرت معین الدین چشتی ؒ ،بریلی میںحضرت نیاز بے نیاز ؒ کی درگاہوں پر جانے کے لیئے ویزہ اپلائے کیا جائے تو بھارتی سفارتخانہ سے یہی جواب ملتا ہے کہ تحقیق میں دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے اور ویزہ پھر بھی نہیں ملتا۔ اس فلم میں عندیہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ تنازعہ کشمیر کا حل کسی غیبی طاقت کے بغیر ممکن دکھائی نہیں دیتا، اس غیبی طاقت کو بجرنگی کے کردار میں پیش کیا گیایعنی پاکستان بھارت کشیدگی کے خاتمے کا اختیار بھارت کے پاس ہے، اگر بھارتی سرکار نیک نیت ہو جائے تو نا ممکن کو ممکن بنا یا جا سکتا ہے ، اس محبت کو گونگی مت سمجھا جائے، ایک روز یہ محبت اپنا کرشمہ ضرور دکھا سکتی ہے۔ اس قسم کی فلموں سے نظریہ پاکستان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ۔ با شعور طبقہ فلم اور تحریر کے پس پشت پیغام سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ہم ہندوﺅں سکھوں کے ساتھ رہتے ہیں،ہندو کمیونٹی امریکہ جیسے لبرل ملک میں بھی تعصب کا شکار ہے۔ اس فلم کا ایک مقبول کردار صحافی چاند نواب ایک حقیقی کردار ہے۔ چاند نواب ایک پاکستانی صحافی ہیں جن کا تعلق کراچی سے ہے۔ چھ سال پہلے ایک نجی ٹی وی چینل کے لیئے رپورٹ شوٹ کروا رہے تھے جو مزاح کی نذر ہو گیا۔ کچھ شرارتی لوگوں نے چاند نواب کا وہ کلپ انٹر نیٹ پر ڈال دیا۔ چاند نواب کی بہت سبکی ہوئی اور انہیں مذاق کا نشانہ بنایا گیا۔ان کی ملازمت چلی گئی۔ پاکستان کا کوئی میڈیا انہیں جاب دینے کے لیئے تیار نہ تھا ۔چاند نواب اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ جائے نماز تھام لیا اور درود ابراہیمی کے ورد کو وظیفہ بنا لیا ۔ اللہ تعالیٰ کا ایسا کرم ہوا کہ اس فلم کے توسط سے چاند نواب کی چاندی ہوگئی اور اب پاکستان تا بھارت ہر میڈیا کا دروازہ ان کے لیئے کھلا ہے ۔ فلم میں چاند نواب کا کردار ایک مسلمان اداکار نے کیا جس کا تمام کریڈٹ حقیقی پاکستانی صحافی چاند نواب کو جاتا ہے۔بابائے قوم محمد علی جناح ؒ نے قوم کو محبت کا سبق دیا ہے ۔

پاکستانی قوم کسی سے نفرت نہیں کرسکتی ۔ قائد ؒ کا پیغام بڑا واضح ہے کہ آج جس چیز کو تم عجیب سمجھتے ہو ،کل وہی چیز تمہارے لیئے عجیب نہیں رہے گی ۔ جرنلسٹس ایسو سی ایشن،الہ آباد نے محمد علی جناح کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی جناح نے کہا ”میں اتفاق کرتا ہوں کہ آج ہندوﺅں اور مسلمانوں میں بہت بڑا فرق ہے ۔لیکن میں نے متعدد بار یہ کہاہے کہ اختلافات کچھ بھی ہوں میرے دل میں ہندوﺅں کے خلاف یا کسی اور فرقے کے خلاف عداوت پیدا نہیں ہوتی۔آپ یہاں ہندو ہیں یا مسلمان پارسی یا عیسائی،میں آپ سے جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ مجھ پر جتنی چاہے تنقید کی جائے ،جتنا بھی چاہے مجھ پر حملہ کیا جائے اور آج بعض حلقوں میں مجھ پر نفرت کا الزام بھی لگایا جاتا ہے لیکن میں اس کا قائل ہوںکہ وہ دن آئے گا جب نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو بھی میرے لئے دعائے خیر کرے گا،میری زندگی میں نہ سہی میری موت کے بعد ہی سہی۔

آج ہم ایک دوسرے سے اتفاق نہیں کرتے لیکن میں آپ کو ایک مثال دوں گا ،جب پہلا آدمی چھتری لے کر سڑک پر نکلا تو لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا اور ہجوم نے اسے گھمنڈی کہا کیوں کہ لوگوں نے اس سے قبل اپنی زندگی میں چھتری نہیں دیکھی تھی ۔میں ایک چھتری اٹھائے ہوئے ہوں ،آپ میرا مذاق اڑا سکتے ہیںلیکن وہ وقت جلد آسکتا ہے جب آپ یہ سمجھ لیں گے کہ چھتری کیا چیز ہے ،بلکہ آپ میں سے ہر ایک اپنے فائدے کی غرض سے اسے استعمال بھی کرے گا“۔ کاش پاکستانی بانی پاکستان کی سوچ کی وسعت کو پا سکتے۔ دو قومی نظریہ تعصب کا نام نہیں بلکہ حقوق کی جدوجہد کا نام ہے۔ پاکستان بن گیا مگر جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ جب تک مسئلہ کشمیر گونگی بچی کی طرح اپنی منزل کو نہیں پہنچ جاتا ،یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

دونوں ملکوں میں محبت کی زبان سمجھی جاتی ہے مگر بھارتی سرکار نفرت کو ہوا دے رہی ہے۔دنیا کے احمق ترین وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کو بجرنگی کی سمجھ نہیں آئی ورنہ سلمان خان کو بھی پاکستان جانے کا طعنہ دے دیتا۔سلمان خان عدالت میں بیان دے چکا ہے کہ اس کی ماں ہندو اور باپ مسلمان ہے لہذا وہ ”ہاف اینڈ ہاف“ ہے۔ عامر خان یہ فلم دیکھ کر رو پڑا ،شاید یہ سوچ کر کہ ہندو عورت سے شادی بھی کر لیں پھر بھی یہ متعصب قوم ہمیں ہندوستانی تسلیم نہیں کرتی اور شاہ رخ خان کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ ہندو بیوی کے باوجود ہندو اسے مسلمانی کا طعنہ دیتے ہیں، اب تو ہندﺅں کے تعصب کا یہ حال ہو گیا ہے کہ بھارت میں کہیں دھماکہ ہو جائے، بنا تحقیق پاکستان کو ملوث قرار دیا جاتا ہے۔ الزام تراشی سے صورتحال مزید بگاڑ کا شکار ہو گی۔ مودی کے خلاف سازشیں زور پکڑ رہی ہیں۔ پہلے اپنے گھر کا جائزہ لے، بھارتی سرکار مت بھولے کہ گونگی بچی کی منزل کشمیر ہے اور وہ ایک دن اپنی منزل پر پہنچ کر رہے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند