تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارتی میڈیا کا رویہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 16 شوال 1436هـ - 2 اگست 2015م KSA 10:50 - GMT 07:50
بھارتی میڈیا کا رویہ

ضلع گورداس پور میں دہشت گردی کے واقعہ کی پاکستانی نے مذمت کی ہے اور ایک بار پھر کہا ہے کہ دہشت گردی اس خطے کا مشترکہ مسئلہ ہے، لیکن بھارت کی سوچ اس سے بالکل مختلف ہے۔ بھارت پاکستان کے خلاف ازل سے کینہ رکھتا ہے اور اسے ایک ایجنڈے کے تحت کمزور کرنا چاہتا ہے۔ جس طرح اس نے بنگلہ دیش کو ایک آزاد مملکت بنانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا اور جس کا برملا اعتراف وزیر اعظم بھارت مودی نے اپنے دورہ بنگلہ دیش میں کیا تھا۔ پہلے بھی باشعور پاکستانیوں کو علم تھا کہ شیخ مجی الرحمن بھارت کے پے رول پر تھا۔ چھ نکات کی بنیاد پر غریب اور ان پڑھ بنگالیوں کا جذباتی استحصال کرکے انہیں اپنا ہمنوا بنایا اور مغربی پاکستان کے خلاف نفرتوں کا طوفان کھڑا کر کے علیحدگی کی بنیاد ڈالی تھی، تاہم مشرقی پاکستان کے سلسلے میں خود ہمارا اپنا بھی قصور تھا اور ہمارے اس وقت کے حکمرانوں کا رویہ میں بیوروکریسی بھی شامل تھی، انتہائی نامناسب تھا جس نے بنگالیوں کے دلوں میں مزید نفرت پیدا کی تھی۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے اور دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے سے نہ پہلے باز آیا ہے اور نہ اب ، گورداسپور کے واقعہ میں ایک بار پھر بھارت کے وزراء اور انکا میڈیا پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارتی صحافیوں کی گفتگو میں جو زہر بھرا ہوا ہے، اسے بہ آسانی محسوس بھی کیا جاسکتا ہے ۔ اس انداز بیان سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی اور دوری پیدا ہو رہی ہے، جو اگر اسی طرح جاری و ساری رہی تو مسلح تصادم میں بدل سکتی ہے۔ پاکستان کے باشعور عوام یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ جب مودی اقتدار میں آیا ہے، اسکی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے ساتھ اچھے ہمسائیگی قائم کرنے کا ایجنڈا نہیں ہے، بلکہ کشیدگی کو فروغ دینا مقصود ہے، یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور مودی کے درمیان روس کے شہر اوفا میں ملاقات اور پانچ نکات پر اتفاق رائے ہو جانے کے بعد ایک بار پھر ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی کشیدگی کی طرف گامزن ہیں جو اپنی جگہ تشویش کا باعث ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینے اور نفرتوں کو پھیلانے میں بھارتی میڈیا کا کردار انتہائی افسوسناک ہے۔ وہ پاکستان دشمنی میں اندھا ہوگیا ہے۔ گورداس پور واقعہ سے تمعلق جو لغو اور بے بنیاد باتیں کی جارہی ہیں ، انکا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان کو ہر سطح پر بدنام کیا جائے اور عالمی برادری کو بتایا جائے کہ پاکستان اس خطے میں دہشت گردی کو پھیلا رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ضرب عضب کی وجہ سے فاٹا میں بھارت نواز دہشت گردوں کا صفایا کیا جا رہا ہے، جس پر بھارت واویلا مچا رہا ہے۔ اسے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے سلسلے میں پاکستان کی حمایت کرنی چاہئے، لیکن بھارت اسکے برعکس کام کر رہا ہے۔ اس حقیقت سے ساری دنیا واقف ہے کہ وہ بلوچستان کے وزیر اعلی اور وزیر داخلہ نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے دہشت گردوں کی امداد کی وجہ سے بلوچستان میں امن قائم نہیں ہو سکا جسکا براہ راست ترقیاتی کاموں پر اثر پڑ رہا ہے۔ بھارت ان حقائق کو نہ تو رد کر سکتا ہے اور نہ ہی اس میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ اس پراکسی وار کو پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کے وسیع تر مفاد میں روکنے کی کوشش کرے۔

ایک تجزیہ نگار کے بقول گورداس پور کے واقعے میں بھارت کے اندر جاری آزادی کی تحریکوں کے کارندے شامل ہو سکتے ہیں، کشمیری حریت پسند اس میں شامل نہیں ہیں، کیونکہ انکی جدوجہد مقبوضہ کشمیر کے اندر ہے جو جاری رہے گی۔ اب بھارتی میڈیا اس واقعہ کے پس منظر میں بھارت کے عوام میں پاکستان کے خلاف جنونی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور بی جے پی کے انتہا پسند وزیر اعظم کو مجبور کر رہا ہے کہ پاکستانی کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ یہ سوچ بھارتی فوج کے سربراہ کی بھی ہے، جو اندر سے بی جے پی کا زبردست حمایتی ہے اور مودی کی طرح پاکستان کے خلاف مسلح تصادم کی سوچ رکھتا ہے بلکہ اس نے بعض مواقع پر اسکا اظہار بھی کیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرنے سے آئندہ کے لئے بھارت اور پاکستان کی انتہا پسند تنظیمیں شو سینا اور آر ایس ایس فائدہ اٹھائیں گی اور حالات کو پاکستان کے خلاف مسلح تصادم کی طرح دھکیلنے کی کوشش کریں گی۔ بھارتی میڈی اکو سوچنا چاہئے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ دونوں ملکوں کیلئے غیر معمولی تباہی و بربادی کا باعث بن سکتی ہے۔ مزید برآں کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اس لئے اگر بھارت نے فوجی طاقت کے ذریعہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو پھر اس صورت میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو کون روک سکتا ہے؟ بھارتی حکمرانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان 1971ء کا نہیں بلکہ 2015ء کا پاکستان ہے جس کے عوام اور سیاست دان اپنے عسکری اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اگر خدانخواستہ بھارت کی جانب سے کسی قسم کی مہم جوئی ہوتی تو پاکستانی عوام اسکا بہادری اور قومی وحدت کے ساتھ ھمقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جہاں تک پاکستان میڈیا کا تعلق ہے اسکے لب ولہجہ میں بھارت کے خلاف وہ نفرت نظر نہیں آتی جسکا اظہار بھارتی میڈیا کرتا ہے۔ یہ اچھی بات ہے لیکن بھارت پاکستانی میڈیا کے نرم لب و لہجہ کو ہماری کمزوری نہ سمجھے، بلکہ پاکستانی میڈیا کے طرز عمل سے امن و بھائی چارے کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرے جس میں دونوں ممالک کے عوام کا فائدہ ہے اور جسکی اکثریت غربت و افلاس اور محرومی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔

حقیقت میں پاکستان اور بھارت کے اصل مسائل ان کے عوام میں پائی جانے والی غربت اور تنگ دستی ہے جسکا ازالہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اسی طرز عمل میں ان دونوں ممالک کی بھلائی ہے۔ بھارتی میڈیا کو پاکستان کے خلاف نفتت پھیلانے سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہ ہوگا، بلکہ حالات مزید تلخی کی جانب جائیں گے جسکی وجہ سے انتہا پسندی مزید پھیلے گی اور امن کاز کو نقصان پہنچے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند