تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ملا عمر کا افغانستان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 29 جمادی الاول 1441هـ - 25 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 16 شوال 1436هـ - 2 اگست 2015م KSA 10:06 - GMT 07:06
ملا عمر کا افغانستان

امریکہ میں 14سال قبل پیش آنے والے 9/11 حملے کے تمام اہم کردار جہانِ فانی سے کوچ کرچکے ہیں۔ اسامہ بن لادن مئی 2011ء حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما نصیر الدین حقانی ء2013 اور اب ملاعمر اور جلال الدین حقانی کے بھی انتقال کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات آچکی ہیں۔ یکے بعد دیگرے افغانستان سے آنے والی ان دو بڑی خبروں نے پورے خطے کی صورتحال کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امیر المومنین کا لقب پانے والے ملا عمر مجاہد کی موت کی خبر پاکستان سمیت دنیا بھر کے اشاعتی و نشریاتی اداروں پر بجلی بن کر گری۔پاکستان کے عسکری اداروں کی کاوشوں سے افغانستان میں امن کے لئے مذاکرات کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا ۔اس خبر کے آنے کے بعد وہ بھی عارضی طور پر معطل ہو چکا ہے۔امریکہ اور افغانستان کے انٹیلی جنس اداروں کی بھرپور کوشش رہی کہ کسی طرح ملاعمر کی موت کو پاکستان سے جوڑ کر ایک بار پھر پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا جائے کہ پاکستان شدت پسندوں کی آماجگاہ ہے۔آج کے کالم میں تذکرہ کریں گے کہ ملاعمر کے بعد کا افغانستان کیسا ہوگا ؟اور جلال الدین حقانی کی موت کے حقانی نیٹ ورک پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔

افغانستان پر 2001ء میں امریکہ کی لشکر کشی کے بعد کسی شخص نے آج تک یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس نے ملاعمر کو دیکھا یا ان سے ملاقات کی ہے۔ حتیٰ کہ ملا عمر کے سابق ترجمان نصیر الدین حقانی جو ذبیح اللہ کے نام سے جانے جاتے تھے۔انہوں نے بھی اس عاجز سے متعدد ملاقاتوں میں ملاعمر کے حوالے سے کبھی کوئی مصدقہ بات نہیں کی۔جلال الدین حقانی کے شدید علیل ہونے کے بعد نصیر الدین حقانی اپنے والد کی جگہ پر امارات اسلامیہ افغانستان کی رہبر شوریٰ میں باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔مگر ملاعمر کے حوالے سے انہوں نے کبھی کوئی بات نہیں کی۔ حالانکہ اپنے بھائی سراج الدین حقانی سمیت دیگر جنگجوؤں کا وہ تواتر سے تذکرہ کیا کرتے تھے۔

اسی طرح نصیر الدین حقانی کی موت کے بعد شدید علیل جلال الدین حقانی سے بھی ملاقات ہوئی۔حقانی نیٹ ورک کے دیگر ذمہ داران سے بھی ملاقاتوں کا سلسلہ رہا مگرکبھی ملاعمر مجاہد کے حوالے سے بالا شخصیات نے کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ملاعمر کے قریبی تصور کئے جانے والے ان رہنمائوں سے کئی درجن ملاقاتوں کے بعد یہ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ملاعمر خود گمنامی کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اور ان کی ہدایت پر ان کے قریبی لوگ بھی ان سے ملاقات کا تذکرہ نہیں کرتے۔بلکہ یہ ایک مرتبہ حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما نے بتایا کہ ملاعمر کی یہ عادت امریکی و نیٹو فورسز کے حملوں کے بعد نہیں بنی ، بلکہ 1996ء سے لے کر 2001ء تک افغانستان کے 90 فیصد سے زائد حصے پر ان کی حکومت رہی ۔

مگر دلچسپ طور پر ملا عمر نے بمشکل دو یا تین راتیں افغانستان کےدارالحکومت کابل میں گزاری ہوں گی۔ سادہ طبیعت کے حامل ملاعمر کا زیادہ عرصہ قندھار میں ہی گزرا۔حتیٰ کہ افغانستان پر امریکی حملے سے قبل جو طالبان کا سرکاری وفد پاکستان آیا تھا ۔اس میں بھی ملاعمر کی نمائندگی جلال الدین حقانی نے کی تھی۔ملاعمر کی حالیہ موت کی خبر جس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا افغان سیکورٹی سروس جو سی آئی اے کے زیر اثر ہے کی جانب سے سامنے آئی کہ ملا عمر دو برس قبل پاکستان میں علالت کے بعد انتقال کرگئے تھے۔برطانوی جریدے کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور ملاعمر کے خاندان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں ان کی موت کااعلان کرتے ہوئے یہ تو نہیں بتایا گیا کہ ملا عمر کا انتقال کب اور کہاں ہوا تاہم یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ’’ان کی صحت آخری دو ہفتے میں بہت بگڑ گئی تھی۔‘‘

جبکہ ان کی جانب سے تردید کی گئی ہے کہ ملا عمر کا انتقال پاکستان کے شہر کراچی کے ایک اسپتال میں ہوا تھا۔ طالبان نے کہا ہے کہ ’’امریکہ کی افغانستان پر فوج کشی کے بعد گزشتہ 14 برس میں ملا عمر نے پاکستان سمیت کسی بھی غیر ملک کا ایک دن کیلئے بھی سفر نہیں کیا۔‘‘ اطلاعات ہیں کہ ملاعمر کی موت آج سے کافی عرصہ قبل ہوگئی تھی۔ مگر افغان انٹیلی جنس نے سی آئی اے کے کہنے پر جان بوجھ کر ایک ایسے موقع پر اس خبر کو نشر کرایا جب افغانستان میں امن کیلئےپاکستان کے حساس ادارے مثبت کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ جھوٹا پروپیگنڈا کرنے کے لئے ملاعمر کی موت کو بھی پاکستان سے جوڑ دیا گیا تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کا امیج متاثر ہو۔ عالمی میڈیا میں ابھی ملاعمر کی موت کے اثرات زائل نہیں ہوئے تھے کہ ایک اور خبر منظر عام پر آگئی کہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی بھی اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں۔

ویسے تو حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی گزشتہ چند سالوں سے علیل تھے مگر نصیر الدین حقانی کی موت کے بعد ان کی طبیعت خاصی بگڑ گئی تھی۔ مگر 1980ء کی دہائی میں شمالی وزیرستان سے سابقہ سوویت یونین کے افغانستان میں قبضے کے دوران منظم کارروائیوں کا آغاز کرنے والے جلال الدین حقانی کی موت کا حقانی نیٹ ورک پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے حقانی نیٹ ورک کی عملی کمان باضابطہ طور پر ان کے بیٹے سراج الدین حقانی کے پاس ہے۔ جنہیں ملا اختر منصور نے اپنا نائب بھی مقرر کیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی نے مغربی طاقتوں کے خلاف شدت پسندوں پر مشتمل ایک مزاحمتی گروپ تشکیل دیا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں اس گروپ نے جتنا نقصان مغربی افواج کو پہنچایا کسی اور گروپ نے نہیں پہنچایا۔

حقانی نیٹ ورک افغانستان کے شمال مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار اور جنوب میں زابل، قندھار اور ہلمند میں مضبوط گروپ کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ ملاعمر کے بعد اگر افغان طالبان کسی کا بےحد احترام کرتے تھے اور جنہیں افغان طالبان کے متعدد گروپوں پر اخلاقی کنٹرول حاصل تھا تو وہ جلال الدین حقانی تھے۔ افغان طالبان کے لئے یکے بعد دیگرے دو اموات کی خبر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

اب جب طالبان کی رہبری شوریٰ اور علماء کرام کی اکثریت نے ملا اختر منصور کو نیا امیر مقرر کردیا ہے مگر کئی اہم رہنمائوں، ملا محمد رسول، ملا محمد حسن رحمانی اور ملا عبدالرزاق نے اس پر اختلاف کیا ہے۔ ایسے موقع پر ملا اختر کے لئے مذاکرات کا عمل فوری شروع کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ملا اختر منصور کے لئے ملا عمر جیسا مقام حاصل کرنا بھی ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔ کیونکہ ملاعمر کو 2 ہزار سے زائد جید علماء اور طالبان کے گروہوں نے امیر المومنین کا لقب دیا تھا اور ملا اختر منصور اب تک اس سے محروم ہیں۔ جب تک طالبان کے تمام دھڑے ان کی ذات پر متفق نہیں ہوتے تو مذاکرات دوبارہ شروع کرنا بے مقصد ہوں گے۔ افغانستان کے حالات بتارہے ہیں کہ ملاعمر کی موت کی خبر کے بعد مذاکرات کا مستقبل وہی ہوگا جو پاکستان میں حکیم محسود کی موت کے بعد ہوا تھا۔ ملاعمر کے بعد افغان طالبان کا شیرازہ بکھرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس لئے ملاعمرافغانستان کے پہلے اور آخری امیرالمومنین معلوم ہوتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند