تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اچھے طالبان کو پھر خوش آمدید۔ !
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 26 شوال 1436هـ - 12 اگست 2015م KSA 10:33 - GMT 07:33
اچھے طالبان کو پھر خوش آمدید۔ !

جب کابل میں پچھلے ہفتے ملا عمر کے جانشین ملا منصور کے طالبان کے بدترین حملوں ، جن میں پچاس عورتیں اور بچے مارے گئے، پر ماتم ہو رہا ہے ، پاکستان میں افغان طالبان اور انکے لیڈر ملا عمر کی شان میں ہمارے کالم نگاروں اور دانشوروں کے درمیان قصیدہ گوئی کا مقابلہ جاری ہے۔

ملا عمر کے حق میں لکھے گئے قصیدوں کے درمیان، دل کو چیرنے والی ایک تصویر نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس دردناک تصور میں ایک بوڑھا افغان باپ فرش پر اپنی جوان بیٹی کی سفید کفن میں لپٹٰ لاش کے قریب سر پکڑ کر بیٹھا رو رہا ہے۔ اس بوڑھے افغان کا چند دن کا ایک نواسہ ہے جو اپنی ماں کی نعش کے ساتھ زمین پر پڑ اہے ۔ ماں پچھلے ہفتے کابل میں طاطلبان کے حملوں میں ماری گئی ۔ ان حملوں میں کل پچاس افغان شہری مارے گئے ، ڈھائی سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں چالیس افغان عورتیں اور تین افغان بچے بھی شامل ہیں۔ صرف ایک نیٹو فوجی مرا ۔ یہ ہے وہ قیمت جو ایک عام افغان شہری ادا کر رہا ہے اور جو پاکستانی کالم نگاروں اور دانشوروں کو نظر نہیں آتی ، جن کے دل پتھر کے ہو چکے ہیں۔ انکے نزدیک ملا عمر کی موت وہ خلا ہے جو پر نہ ہوگا۔ افغان بچوں اور عورتوں کا کیا ہے، مر بھی گئے تو کچھ اور پیدا ہوجائیں گے۔ ملا عمر تو ایک ہی تھا۔ وہ پریشان نہ ہوں ، ملا منصور نے کام وہیں سے شروع کیا ہے جہاں ملا عمر چھوڑ گیا تھا۔ افغانوں نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔ شاید اپنے آباؤاجداد کے گناہوں کا کفارہ ادا کر رہے ہیں جنہوں نے ہندوستان پر حملے کر کے ہزاروں بے گناہ مارے تھے۔ اب انکی باری ہے۔ جو بھی کابل جاتا ہے، وہ لہو کی ندیاں بہانے جاتا ہے۔ روس سے لر کے حکمت یار، احمد شاہ مسعود اور امریکیوں تک سب نے لاکھوں افغان مارے۔ برسوں سے کابل ایک جہنم کا منظر پیش کرتا ہے۔

میں سمجھتا تھا پشاور سکول میں ایک سو چالیس بچوں کی دردناک موت کے بعد ہم نے سبق سیکھا ہوگا کہ ہر قسم کے طالبان برے ہوتے ہیں۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور لکھاری ہمیں بتاتے رہے کہ جو افغانستان اور بھارت میں دہشت گردی کرتے ےہیں وہ اچھے طالبان ہوتے ہیں اور جو پاکستان میں کرتے ہیں وہ برے طالبان ۔ ہم اسی میں خوش رہے کہ چلیں ہمارے اچھے طالبان نے افغانستان میں بے گناہ لوگوں کو مارنے کا جو سلسلہ شروع کیا وہ ہمارے لیے بہتر ہے۔ جوابا بھارت اور افغانستان نے بھی پاکستان میں اپنے طالبان پال لیے کہ چلو پاکستانیوں کو مارو۔ پشاور سکول ٹریجڈی کے بعد پاکستانیوں کو طالبان سے نفرت ہونا شروع ہوئی تھی۔ قوم کو پتہ چل گیا تھا کہا چھے طالبان کوئی نہیں۔ وہ سب انسانی لہو بہاتے ہیں۔ اس سے طالبان کے حمایتی مایوس ہوئے کہ پاکستانی قوم کو کیسے عقل آ گئی ؟ سب کی دکانیں بند ہونے لگ گئی تھیں۔

اب اچانک ملا عمر کی موت نے انہیں ایک موقع دے دیا ہے۔ ملا عمر کی ایسی ایسی صفات بیان کی جا رہی ہیں کہ وہ خود بھی پڑھتا تو حیران ہوتا۔ انکا خیال ہے کہ پوست ختم کر دینے سے وہ بڑے حکمران بن گئے تھے۔ کابل اور قندھار مین عورتوں پر سرعام تشدد کر کے عالم اسلام کے ہیرو بن گئے تھے۔ اسامہ بن لادن کو اپنے ہاں پناہ دے کر انہوں نے اسلام کی خدمت کی تھی۔ پٹھانوں اور افغانوں کی روایت کی پاسداری کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ وہ کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔ بھیک مانگتے افغان بچے اور عورتیں ہمارے ان لکھاریوں کے نزدیک ملا عمر کی جرأت اور شجاعت کی علامت ہیں۔

اب ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ افغان طالبان تو پاکستان کے دوست تھے۔ میں بعض ایسے کالم نکال کر دکھا سکتا ہوں جن میں انہوں نے افغان طالبان کے پریس ریلیز شائع کیے کہ پاکستانی طالبان جو پاکستان کے اندر قتل و غارت کر رہے ہیں انکو افغان طالبان کی پوری حمایت حاصل ہے۔ یہ کالم اب بھی اخبارات کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ اگر افغان طالبان اچھے تھے اور ملا عمر پاکستان کا دوست تھا تو اس نے اپنے افغان طالبان کے ذمے یہ کام کیوں نہ لگاا کہ پہلے ان پاکستانی طالبان کو ٹھکانے لگاؤ جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے اندر دہشت گردی کر رہے ہیں؟ یہ طالبان نیٹو فورسز کے خلاف افغانستان میں لڑ سکتے ہیں اور کابل میں معصوم بچوں اور عورتوں کو مار سکتے ہیں تو پھر وہ فضل اللہ کو کیوں نہیں مار سکتے تھے؟

غور کریں کیسے کیسے ہم نے اپنی بربادی کا سامان کیا۔ اپنے قاتلوں سے پیار کیا۔ گلے سے لگایا ۔ انکی شان میں کالم لکھے، ٹی وی شوز کیے۔ طالبان نے ہمارے ایک سو چالیس بچوں کو قتل کی الیکن آج بھی ہمارے دل میں انکے لیے محبت ہے ، پیار ہے ، عزت ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ افغان طالبان کسان تھے اور غریب تھے۔ پھر وہ غریب ہمارے ہاتھ لگ گئے ۔ ہم نے انہیں پالا پوسا۔ پاکستانیوں کے ٹیکسوں سے انکو اربوں روپوں کا بجٹ دیا گیا ۔ ہمارے پیسوں سے اسلحہ خرید کر دیا گیا۔ علاج معالجہ کے لیے کوئٹہ اور پشاور میں بندوبست ہوئے۔ کوئٹہ شہر میں پاکستانی سیٹلرز کو مارا گیا اور وہاں افغانوں اور وار لارڈز کو جائیدادیں لے کر دی گئیں۔ ان اچھے طالبان کے خاندانوں کی رہائش ، بچوں کی پڑھائی سب کچھ ہمارے ذمے تھا اور ہم نے یہ ذمہ داری خوب نبھائی ۔

ہم نے دنیا کو تاثر دیا کہ اگر طالبان تک پہنچنا ہے تو پھر یہ راستہ ہمارے ذریعے کھلتا ہے۔ طالبان نے غیر ملکی اغوا کیے تو اس ملک نے ہم سے رابطہ کیا اور ہم نے ڈیل کرائی۔ کسی کا جہاز وہاں اغوا کرکے لے جایا گیا تو بھی ہم سے رابطہ ہوا۔ بل کلنٹن پاکستان آیا تو جنرل مشرف سے اس نے درخواست کی کہ اسامہ کو طالبان سے کہہ کر واپس کرائیں۔ جنرل معین الدین حیدر اس کام کیلئے قندھار بھی گئے۔ گیارہ ستمبر کے بعد بش نے جنرل مشرف کو یہی کہا تو جنرل محمود کو اس کام کے لیے بھیجا گیا۔ یوں سب کو پتہ چل گیا کہ طالبان کے اصل گاڈ فادر ہم ہیں۔

پھر جب دنیا نے ہمیں دہشت گردوں کا ساتھی کہنا شروع کیا تو ہم حیران ہونا شروع ہو گئے کہ دیکھو یار یہ کتنی زیادہ کی بات ہے۔ اور پھر ایک دن پتہ چلا ہمارے ایک سو چالیس بچوں کے قاتل افغانستان میں بیٹھے ہیں۔ سب کابل دوڑ پڑے۔ وعدے ہوئے، وعید ہوئے اچھے برے طالبان کی تمیز مٹانے کے دعوی سنے گئے۔ اور پھر پتہ چلا ، ملا عمر دو سال قبل مر چکے ہیں۔

ملا عمر کبھی جرأت نہ کر سکا کہ وہ اسامہ سے پوچھ سکتا کہ یا حبیبی آپ ہمارے ہاں دہشت گردی کی تربیت کیوں دے رہے ہیں؟ کیوں عالمی قوتوں کو ہمارا دشمن بنا رہے ہیں؟ آپ کے پاس اتنا پیسہ ہے تو یہاں یونیورسٹیاں کیوں نہیں بناتے؟ موٹروے کیوں نہیں بناتے؟ افغانستان کو جدید مسلم ریاست بنانے میں کیوں مدد نہیں کرتے؟

خود کوئی ہمارے گھر کے سامنے کوڑا کرکٹ پھینک جائے تو اسکا گریبان پکڑ لیتے ہیں۔ سڑک پر گاڑی کی ٹکر ہوجائے تو فائرنگ شروع کر دیتے ہیں لیکن ہم کیسے یہ تو قع کیے بیٹھے تھے کہ امریکہ میں تین ہزار بندے مارے جانے اور اسکی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد بھی اسامہ کے خلاف یورپین کارروائی نہ کرتے؟

جس دن اسامہ نے ویڈیو کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، ملا عمر کو اسی دن اسے ریاست سے نکال دینا چاہیے تھا۔ امریکہ نے طالبان سے یہی کہا تھا کہ ہماری آپ سے لڑائی نہیں، اسامہ سے ہے جس نے حملوں کی ذمہ داری لی ہے۔ وہ ہمارے حوالے کر دیں کوئی جنگ نہیں ہوگی۔

یہ ہمارے دانشور جو آج ملا عمر کی موت پر غم زدہ ہیں، انہوں نے ہی اس وقت لکھا تھا کہ ملا عمر کمزور نہ پڑنا، اسامہ آپکا مہمان ہے، دس لاکھ افغانی مروا دینا، عورتوں اور بچوں سے پاکستان اور ایران میں بھیک منگوا لینا لیکن جھکنا مت۔ ایسی ایسی افسانوی داستانیں سنائی اور لکھی گئیں کہ افغان طالبان سولی پر چڑھنے کیلئے تیار ہو گئے۔ افغانستان میں امن سے ہم سب بیروزگار ہوتے ہیں، ڈالرز ملنے بند ہوتے ہیں، لہذا وہاں لہو کا بہتے رہنا ہمارے مفاد میں ہے۔ پشاور سکول سانحہ کے بعد ہم کالم نگاروں اور دانشوروں کی دکان ٹھنڈی پڑی تھی جو ملا عمر کی موت کے بعد نئے سرے سے ہم نے سجا لی ہے۔ میں بھی کیا رام لیلا لے کر بیٹھ گیا ہوں۔ اب اتنے بڑے مفادات کے کھیل میں بھلا کس کو اس بوڑھے افغان کی فکر ہو گئی جو اپنے نواسے کو جوان بیٹی کی لاش کے قریب رکھ کر سڑک کنارے بیٹھا رو رہا ہے۔

خوش آمدید ہمارے اچھے طالبان !

---------------------
بشکریہ روزنامہ "دنیا"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند