تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان، امریکہ اور کینیڈا کی معیشتیں ؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 16 صفر 1441هـ - 16 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 26 شوال 1436هـ - 12 اگست 2015م KSA 08:38 - GMT 05:38
پاکستان، امریکہ اور کینیڈا کی معیشتیں ؟

’’اکانومسٹ‘‘ جیسے سرمایہ داری نظامِ معیشت کے تین معتبر اور موقر حوالوں سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت امریکہ اور کینیڈا کی معیشتوں سے بھی بہتر انداز اور رفتار سے چل رہی ہے۔ حوالے اس قدر زبردست ہیں کہ ان کی صداقت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا چنانچہ اپنے حواس خمسہ کے بے حس ہونے کا شبہ ہونے لگا ہے کہ عوامی قومی معیشت اگر امریکہ اور کینیڈا کی معیشتوں سے بھی بہتر انداز اور رفتار سے چل رہی ہے تو ہمیں چلتی ہوئی کیوں نہیں دکھائی دیتی۔ چلنے کی بجائے رُکی ہوئی اور خود اپنے بوجھ سے دھنستی ہوئی کیوں دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ اور کینیڈا کے ماہرین اپنی معیشتوں کو پاکستان کے انداز میں چلانے کے لئے جناب احسن اقبال سے مشورے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کرتے۔

ایسی ہی اور اسی نوح کی باتیں سوچ رہا تھا کہ اچانک نگاہ ایک خبر پر پڑی کہ حرام گوشت کی روک تھام کے لئے گدھے کی کھال کی برآمد پر پابندی عائد کی جائے۔ برآمد پر پابندی نہ ہونے کے باعث گدھے کی کھال حاصل کرتے اور حرام گوشت فروخت کرتے ہیں۔ وزارت خوراک نے پابندی کی سفارش کی۔ گزشتہ سال گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ پورے یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا مگر سوچ کہہ سکتی ہے کہ مندرجہ بالا خبر کے اندر سے جو دانش مندی جھلک رہی ہے وہ پاکستان کی معیشت کو امریکہ اور کینیڈا کی معیشتوں کے انداز اور رفتار سے بہتر بنا سکتی ہے۔

جو معیشت دان گدھے برآمد کرنے کی بجائے گدھوں کی کھالیں برآمد کرنے کو زیادہ نفع بخش تصور فرمائیں اور گدھوں کی کھالیں اتار لینے کے بعد گدھوں کا گوشت بھی فروخت کرنے پر مجبور ہوں اور اس بدعت کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ان کے ذہن میں آتا ہو کہ حکومت حرام جانوروں کی کھالیں برآمد کرنے پر پابندی عائد کر دے۔ ان سے امریکہ اور کینیڈا کے معیشت دان کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں؟ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کھالوں کی برآمد کے رحجان میں اضافے کی وجہ سے اگر ایک سال میں پاکستانی گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہوا ہے تو 1947ء سے 2015ء تک کے سالوں میں پاکستان کے گدھوں میں کتنے لاکھ کا اضافہ ہو چکا ہو گا۔ کیا امریکہ اور کینیڈا اس شعبے میں پاکستان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔گدھوں اور الوئوں کے بارے میں مغربی معاشروں اور ہمارے پاکستانی معاشرے کی سوچ اور تصور میں بہت بڑی خلیج پائی جاتی ہے مغربی معاشرے اُلو کو علم و فضل کی علامت گردانتے ہیں جبکہ پاکستان میں الو ایک گالی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح مغربی معاشرے گدھے کو محنت کشوں کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ پاکستان کے لوگ اپنے ذہنوں پر جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں کے رعب کی وجہ سے گدھے کو کمی کمین طبقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ادب و احترام کا درجہ عنائت فرمانے سے انکار کرتے ہیں۔یہ شائد اس سے پہلے بھی ان کالموں میں بتا چکا ہوں کہ کسی کمہار کا گدھا غائب ہو گیا۔ کمہار نے اسے بہت تلاش کیا مگر وہ نہ مل سکا۔ آخر تھک ہار کر کمہار کسی پروفیسر صاحب کے پاس گیا اور اپنا مسئلہ بیان کیا۔ پروفیسر صاحب نے پوچھا گدھے کو تلاش کرنا چاہتے ہو؟ کمہار نے بتایا کہ گدھا اس کے روزگار سے تعلق رکھتا ہے تو پروفیسر صاحب نے کہا کہ تھوڑی دیر تک تم خود اپنے آپ کو گدھا تصور کرو۔ کمہار نے کہا تصور کر لیا ہے۔ پروفیسر صاحب نے کہا اب سوچو کہ تم کہاں جا سکتے ہو؟ کمہار نے سوچا اور وہاں گیا تو اس کا گدھا موجود تھا۔ جب کمہار کی سطح کے لوگوں کو پروفیسروں کی سطح کے برابر سوچ تک رسائی حاصل ہو جائے گی تو کوئی وجہ نہیں ہو گی کہ پاکستان کی معیشت کا انداز اور رفتار امریکہ اور کینیڈا کی معیشت کے انداز اور رفتار سے بھی تیز ہو جائے گی۔ یہاں سے دور نہیں ہے نگار صبح وطنقدم بڑھائو چپ و راست ہے گراں خوابی -

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند