تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قصور سب کا ہے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 27 شوال 1436هـ - 13 اگست 2015م KSA 10:20 - GMT 07:20
قصور سب کا ہے

واقعہ قصور کے حوالے سے ہمارے ذہن میں ایسا ہی ایک ہولناک واقعہ گردش کر رہا تھا مگر تفصیل محو ہو چکی تھی، ساتھی صحافی نے اپنی ویب سائٹ پر تفصیل لوڈ کرکے یاددہانی میں مدد دی۔ 90 کی دہائی کا واقعہ ہے جب جاوید اقبال نامی ایک شقی القلب شخص نے 100 بچوں سے زیادتی کے بعد ان کی لاشوں کو تلف کرنے کے لئے تیزاب کا استعمال کیا تھا۔ بچوں کی عمر چھ سے سولہ سال تھی۔ ان میں زیادہ بچے گھر سے بھاگے ہوئے تھے۔ بچوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے قاتل نے ویڈیو کی دکان کھول رکھی تھی،کم قیمت اور کبھی مفت میں بھی بچوں کو کھیلنے کا موقع فراہم کرتا۔

بہانوں سے بچوں کو دکان کے پچھلے کمرے میں لے جاتا، کچھ بچوں نے والدین سے شکایت کی تو والدین نے بچوں کو دکان بھیجنا بند کر دیا، اس پر قاتل نے ویڈیو دکان بند کرکے، جم سینٹر کھول لیا، کبھی فیشن کی دکان کھول لیتا کبھی، سکول کھول لیتا، تمام عارضی کاروبار سے بیزار آ کر ذہنی مریض ایک روز ایک اخبار کے دفتر جا پہنچا اور اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اسے خود سے نفرت ہو گئی ہے، اس نے سو بچوں کا قتل کیا ہے، وہ چاہتا تو پانچ سو بچوں کا بھی قتل کر سکتا تھا، اسے اپنے جرم پر افسوس نہیں۔ قاتل نے مزید کہا کہ لاہور پولیس نے اسے گرفتار کیا اور اس پر اس قدر تشدد کیا کہ اس نے تہیہ کر لیا کہ پولیس کے ہاتھوں میری ماں روئی ہے، اب سو مائیں روئیں گی۔ اخبار کے دفتر کی مدد سے اس شخص کو گرفتار کر لیا گیا اور مقدمہ چلنے کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔

بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ اس گھناﺅنے فعل کا مذہب اور اخلاق سے نہیں نفسیاتی امراض سے تعلق ہوتا ہے۔ مسلم و غیر مسلم معاشروں میں یہ شرمناک واقعات معاشروں کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ پاکستانی معاشرے کی بدنصیبی کہ غریب اور ان پڑھ والدین درجنوں بچے پیدا کرکے گلیوں میں پھینک دیتے ہیں جبکہ تعلیم یافتہ اور خوشحال طبقہ دو بچے پیدا کرتا ہے۔ غریب صرف بچے پیدا کرنا جانتا ہے، انہیںانسان بنانا نہیں جانتا۔ زیادہ بچے روزگار کے لیئے پید اکرتا ہے، کم سن بچوں کو مزدوری پر لگا دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہونے والے سلوک سے غفلت برتتا ہے۔ بچوں کو بھی علم ہوتا ہے کہ والد کو دیہاڑی چاہیے شکایت نہیں، خوف کے مارے بچہ کچھ نہیں بتاتا کہ الٹا باپ نے اس کی ہڈی پسلی توڑ دینی ہے۔

جب مکروہ سکینڈلز بے نقاب ہوجاتے ہیں تو جاہل اور غافل والدین بھی احتجاج کا حصہ بن کر شہیدوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جبکہ بچپن میں زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے بڑے ہو کر خونی قاتل جاوید اقبال کی طرح سو بچوں سے انتقام لیتے ہیں اور کبھی عورتوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ ماہر نفسیات اپنے مریض کی ہسٹری لیتا ہے تو مریض سے اس کے بچپن کو کریدتا ہے تاکہ شخصیت اور مرض کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔ ازدواجی زندگی کے مسائل کے پس پشت بھی مرد یا عورت کے نفسیاتی مسائل پنہاں ہو تے ہیں۔ بچپن میں والدین کا آپس میں برا سلوک بھی بچوں کے ذہن پر برے اثرات مرتب کرتا ہے۔ وہی بچہ جب شوہر بن کر اپنی بیوی کے ساتھ ناروا سلوک کرتا ہے، باپ کا انتقام لے تاہے اور کبھی ماں کے خلاف جذبات کا اظہار کر تا ہے۔ میاں بیوی کے تنازعات کو سمجھنے کے لئے ان کے بچپن کو جاننا ضروری ہے۔ ڈگری یافتہ ماہر نفسیات تو نہیں لیکن ہم وطنوں کے مسائل سن سن کر ماہر نفسیات بن چکے ہیں۔ اپنے بچوں کے بارے میں بھی

حساس اور وہمی تھے۔ ملازم کو بھی ہمارے بیٹوں کو گود میں اٹھانے کی اجازت نہ تھی۔ علم اور شعور انسان کو بزدل بنا دیتاہے۔ ان باتوں کی طرف اس وقت دھیان دینا شروع کیا جب ہماری تین سالہ مومنہ نے امریکی سکول جانا شروع کیا۔ اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کی ذمہ داری ماں پر عائد ہوتی ہے ۔ایک غیر مسلم معاشرے میں ایک مسلمان کے لئے اپنے بچے کو عقائد اقدار کی تعلیم و تربیت دینا ایک کٹھن آزمائش ہے بلکہ اس منزل سے کامیاب گزرنا ایک پل صراط ہے۔ بچے کی نفسیات چار سال کی عمر میں مکمل ہو جاتی ہے اور ان چار سالوں میں وہ جو کچھ اپنے ماحول میں دیکھتا اور محسوس کرتا ہے اسے اپنے دل و دماغ کے کمپیوٹر میں محفوظ کر لیتا ہے۔

بیٹوں کو سکول جاتے ہوئے سمجھا دیتے کہ ٹیچر بھی آپ کو ہاتھ لگائے تو ہمیں بتانا۔ کسی کی دی ہوئی چیز حتیٰ کہ ٹیچر بھی کھانے کو کچھ دے، مت کھانا۔ بچوں کو محتاط رہنے کے تمام اسباق سمجھا دیتے۔ پاکستان میں غربت کے ہاتھوں والدین اپنے بچوں کو غیروں کے گھروں میں ملازم اور ملازمہ لگانے پرمجبور ہیں اور ان کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے صاحب ، بیگم صاحبہ یا ان کے گھر کا دیگر فردنفسیاتی مسائل کا شکار ہوں تو اس کے خلاف آواز کون اٹھائے گا؟ ایک جنونی مافیا گھر سے باہر گھوم رہا ہے اور دوسرا مافیا گھرکے اندر موجود ہے یعنی ”انٹر نیٹ“ کمروں میں موجود مافیا پر تو قابو پایا جا سکتا ہے؟ امریکہ میں ہم نے ایسے والدین بھی دیکھے ہیں جو اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے موبائل فون اور کمپیوٹر رات سونے سے پہلے ان سے لے لیتے ہیں اور صبح سکول جاتے وقت لوٹاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی ویب سائٹس اور فون بھی چیک کئے جاتے ہیں۔ بچوں کو والدین کا ڈر ہونا چاہئے۔

اگر پنجاب پولیس ناکارہ ہے تو والدین بھی بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ فیس بُک پر فحش سوشل گروپس بنے ہوئے ہیںجن میں پاکستان کی کم عمر بچیاں بھی برہنہ تصاویر لوڈ کر رہی ہیں۔ واقعہ قصور ہی بدنام نہیں، یہاں تو گھر گھر میں”قصور“ دکھائی دے رہا ہے۔

---------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند