تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لیبر پارٹی کی نئی قیادت کا چناؤ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 2 ذیعقدہ 1436هـ - 17 اگست 2015م KSA 16:08 - GMT 13:08
لیبر پارٹی کی نئی قیادت کا چناؤ

جب ٹونی بلیئر نے جرمی کور بین پر چڑھائی کی جو لیبر پارٹی کی قیادت کے چار امیدواروں میں سئ اہل پہإ تو سانق وزہر اعظم نے ایک طرح سے انکی حمایت ہی کی۔ پارٹی کے خاص و عام میں ٹونی بلیئر کی داغدار شہرت کی وجہ سے انکی طرف سے کی جانے والی تنقید جرمی کوربین کی حمایت میں اضافے کا باعث بن گئی۔ دی گارڈین یں شائع ہونے والے اپنے حالیہ آرٹیکل میں ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ جرمی کی حمایت کرنے والے لیبر پارٹی کو اتھاہ گہرائیوں میں گرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی لیڈروں کو خبردار کیا کہ ایسا کر کے پارٹی نہ صرف 2020ء کے انتخابات میں شکست سے دوچار ہو گی بلکہ اسکا مکمل صفایا بھی ہو سکتا ہے۔

الیسٹیر کیمبل سے لے کر جیک سٹرا تک پارٹی کے سینئر رہنما بھی اسی طرح کے شدید جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ الیسٹر کیمبل نے غیر واضح فارمولہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوربین کی بجائے کوئی بھی کامیاب ہو جائے ، انہیں قبول ہوگا۔ تاہم اب تک 68 سالہ جرمی کوربین نے اپنے حق میں رائے عامہ کو بہت جاندار طریقے سے متحرک کرتے ہوئے ہزاروں نوجوان افراد کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ایک پول سروے کے مطابق انہیں 53 فیصد لیبر ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ انکے تینوں حریف ان سے بہت پیچھے ہیں۔ قانون کے مطابق پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے انہیں سادہ اکثریت سے کامیابی حاصل کرنا ہوگی ، لیکن اگر کوئی بھی پچاس فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہیں کر پاتا تو سب سے کم ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کو مقابلے سے خارج کر کے دوبارہ انتخابات کرائے جاتے ہیں۔ اس وقت پول سروے اور بک میکرز کے مطابق کوربین کامیابی کے لیے فیورٹ ہیں۔ جب انتخابی مہم کا آغاز ہوا تو انکی کامیابی کا بک مارکیٹ میں نرخ 1_100 تھا۔ میں اب بھی خود کو کوس رہا ہوں کہ اگر مین بھی ان پردس پاؤنڈ لگا دیتا تو کیا حرج تھا۔

تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ تمام تر جوش و خروش پیدا کرنے کے باوجود جرمی کوربین خاموش اور دل کشی سے عاری رہنما ہیں۔ اگرچہ وہ 1983ء سے پارلیمنٹ مین اسلنگٹن کی نمائندگی کر رہے ہیں، لیکن پارلیمنٹ میں انکا کردار پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والے رہنماؤں والا تھا، وہ کبھی کھل کر سامنے نہیں آئے۔ انکی وجہ شہرت ایک ایسے لیبر ممبر کی تھی جو اپنی پارٹی سے اختلاف کر گزرتے تھے۔

انہوں نے کم ازکم پانچ سو مواقع پر اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دیا، تاہم وہ کبھی فرنٹ لائن رہنما کے طور پر سامنے نہیں آئے۔ اب ایسا کیا ہوا کہ وہ گمنامی کے گوشے سے نکل کر پارٹی کی مرکزی قیادت سنبھالنے والے سب سے طاقتور امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں؟

اسکی وجہ بہت سادہ ہے۔ لیبر کے ووٹر دیگر امیدواروں کے مرکز مائل پیغامات اور نظریات سے تنگ آ چکے ہیں، لہٰذا وہ کچھ تبدیلی اور ہوا کا تازہ جھونکا چاہتے ہیں۔ درحقیقت وہ تینوں رہنما لیبر پارٹی کی دقیانوسی پالیسیوں کے ہی گن گاتے سنائی دیتے ہیں۔ لیبر کے ووٹر یہ پیغام مسترد کرتے ہوئے تبدیلی اور اختلافِ رائے کی طرف جھکاؤ محسوس کرتے ہیں۔

اینڈی برنم اور ویٹ کوپر دونوں لیبر کی سابق حکومت میں شامل تھے۔ انکی طرف سے لیبر کی ٹوریز پ الیسیوں کے حوالے سے تھوڑا بہت اختلاف سامنے آیا۔ تیسرے امیدوار لزکنڈل ماضی کی لیبر جماعت کے زیادہ قریب ہیں۔

اس پس منظر مٰں کوربین واحد امیدوار ہیں جنہوں نے کنزرویٹو کی جارج شیٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ 2008ء میں بینکوں کو بیل آؤٹ کیا گیا لیکن انکے کریش ہونے کی وجہ سے عام شہریوں کو جنکا کوئی قصور نہیں تھا، فلاحی پروگرامز ، جیسا کہ ہاؤسنگ اور تعلیم کی سپورٹ پر کٹوتی کرتے ہوئے سزا دی گئی۔ اب کوربین وعدہ کر رہے ہیں کہ وہ ان سہولیات کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کرائیں گے۔ اسکے علاوہ وہ ٹرائی ڈنٹ آبدوزوں کا انتہائی مہنگا منصوبہ منسوخ اور برطانیہ کا ایٹمی ڈیٹیرنس یک طرفہ طور پر ختم کرنے کا ایجنڈا دے رہے ہیں۔

انکے الفاظ نے سیاسی اسٹیبلشمنٹ کو خوفزدہ کر دیا ، لیکن لیبر پارٹٰ کے ہزاروں نئے ووٹروں نے انکا خیر مقدم کیا ہے۔ درحقیقت سینئر رہنما حالیہ دنوں انتخابی قوانین تبدیل کرنے کے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں۔ اس سے پہلے ٹریڈ یونینز ، جہاں سے پارٹٰ کو مالی وسائل حاصل ہوتے تھے، پارٹی انتخابات پر اثر انداز ہوتی تھیں۔ اب تین پاؤنڈ ادا کر کے اور لیبر پارٹٰ کے ڈیکلریشن پر دستخط کر کے کوئی بھی شہری خود کو بطور ووٹر رجسٹر کرا سکتا ہے۔ قوانین کو سادہ بنائے جانے کے نتیجے مٰن چھ لاکھ سے زائد افراد نے کوط کو بطور لیبر ووٹر رجسٹر کرا لیا ہے۔ درحقیقت دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے اپنے قارئین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خود کو بطور لیبر ووٹر رجسٹر کرائیں اور کوربین کو ووٹ دیں تاکہ لیبر پارٹٰ مکمل طور پر تباہ ہو جائے ۔

دوسرے تینوں امیدواروں کا کہنا ہے کہ بائیں بازو کے کارکن ان کی صفوں میں شامل ہو کر کوربین کی حمایت کر رہے ہیں۔ اب ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی ستمبر کے وسط میں ہوگی۔ کوربین کے حریفوں کا کہنا ہے کہ انکے پرانی طرز کے سوشلسٹ نظریات عام انتخابات مٰن ووٹروں کو برگشتہ کر سکتے ہیں۔

کوربین پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ فلسطین کی طرف جھکاؤ رکھتے ہوئے اسرائیل مخالف سوچ کے حامل ہیں۔ یہ کریڈت بہر حال انکو جاتا ہے کہ وہ کود پر ہونے والے حملوں کے موقع پر نہ تو الزامات کی تردید میں الجھتے ہین اور نہ ہی جوابی حملہ کرتے ہیں۔ اسکی بجائے وہ صرف اپنی پالیسیوں کی بات کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ انکی یہ پالیسی بھی کامیاب جا رہی ہے۔ انکے بہت سے نقادوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کوربین نوجوان افراد کے لیے کشش رکھتے ہیں لیکن وہ عام انتخابات میں ان لوگوں کو متاثر نہیں کر سکیں گے جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں ووٹ دے کر ٹوریز کو اقتدار کے ایوان مٰن پہنچایا تھا۔ اس طرح پارٹی انتخابات میں کوربین کو ووٹ دینے کا مطلب 2020ء کے عام انتخابات میں شکست کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

کوربین کے ناقدین ایک نقطہ بہر کیف نظر انداز کر رہے ہیں کہ گزشتہ انتخابات میں لیبر وٹروں نے اسکی پالیسیوں سے
ناراض ہو کر سکاٹش نیشنل پارٹی کو انتخابی حمایت فراہم کی تھی، اس لیے کوربین کی فتح کی صورت میں وہ ناراض ووٹر واپس آ جائیں گے۔ گزشتہ انتخابات میں ہم نے دیکھا تھا کہ سکاٹ لینڈ سے لیبر پارٹی کا صفایا ہو گیا تھا۔ تاہم کوربین کے نظریات وہاں سے کھوئی ہوئی نشستیں جیتنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ قیاس کافی حد تک درست ہے کیونکہ اس وقت کوربین ہی وہ واحد لیبر رہنما ہیں جو سکاٹش ووٹروں کے لیے کشش رکھتے ہیں۔ درحقیقت انکی جنگ مخالف اور کٹر اخلاقی قدروں سے روگردانی کے نظریات نوجوان ووٹروں میں مقبول ہیں۔
---------------------
بشکریہ روزنامہ "دنیا"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند