تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
چیف جسٹس کے نام ایک خط.
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 3 ذیعقدہ 1436هـ - 18 اگست 2015م KSA 09:56 - GMT 06:56
چیف جسٹس کے نام ایک خط.

ہم آپ کو ڈاکٹر انوار احمد کا وہ خط پڑھوانا چاہتے ہیں جو انہوں نے جسٹس جواد ایس خواجہ کو لکھا ہے۔ انوار احمد نقاد ہیں، افسانہ نگار ہیں اور استادوں کے استاد ہیں۔ کئی سال مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشیں رہ چکے ہیں۔ اردو زبان پر جسٹس جواد ایس خواجہ کا جو احسان ہے وہ بھی آپ جانتے ہیں۔ جسٹس خواجہ کے حکم سے ہی اردو زبان کو اس کا کھویا ہوا وقار ملنا شروع ہوا ہے۔ یہ پہلا خط ہے جو ان کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے۔

محترم المقام جسٹس جواد ایس خواجہ،
چیف جسٹس، سپریم کورٹ پاکستان
السلام علیکم!
مجھے احساس ہے کہ آپ کی بے پناہ مصروفیات ہیں،ایک مخلوقِ خدا ہے،جس کے ہاتھوں میں عرضیاں اور طویل مکتوب ہیں،جنہیں لکھنے والے مضطرب ہوں گے کہ پہلے انہیں پڑھا جائے [سنا جائے] ظاہر ہے کہ آپ کی اپنی ترجیحات ہیں مگر آپ کی مصروفیات کی طرح ذمہ داریاں، اختیارات اور تحدیدات بھی بے شمار ہیں، میری خوش خیالی ہے کہ آپ اردو کے مقدمے کو تاریخی رُخ ضرور دیں گے۔ مَیں اردو زبان کا ایک استاد ہوں، جس نے تدریس کا آغاز 4 مئی 1971ء کو گورنمنٹ کالج کوئٹہ سے کیا، یہ وہ وقت تھا جب قومی افق پر پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے برقرار رہ سکنے کے حوالے سے تلخ سوال اُٹھائے جا رہے تھے اور پھر اسی سال کے اختتام سے پہلے پاکستان دولخت ہو گیا تب یہ کہا جانے لگا کہ اس سانحے کے پیچھے اُردو، بنگالی تنازع کا بھی دخل تھا مگر اسی کوئٹہ میں مَیں نے دیکھا کہ قوم پرستوں کی حکومت میں غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل اور گل خان نصیر کراچی جا کر پروفیسر کرار حسین کو لائے اور اُنہیں بلوچستان یونیورسٹی کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا۔

بلوچوں کے قومی حقوق کی نقیب اس جماعت نے ایک اور اُردو اسپیکنگ پروفیسر خلیل صدیقی کو پورے صوبہ بلوچستان میں ناظِم تعلیمات اور چیئرمین بورڈ بنایا۔ پروفیسر خلیل صدیقی کو بعد میں سردار اکبر بگٹی نے اپنا مشیر تعلیم بھی بنایا۔ اسی بلوچستان کے قوم پرست وزیر تعلیم گل خان نصیر اُردو میں بھی شعر کہتے تھے۔ اُنہوں نے اُردو کے ایک نامور شاعر فیض احمد فیض کی شاعری کو بلوچی میں بھی ترجمہ کیا ۔ایک اور ناراض بلوچ شاعر عطاء شاد اُردو میں بھی شعر کہتے تھے۔ اور یوں اپنے تدریس کے ہی ابتدائی ایام میں مَیں نے سیکھا کہ اگر اُردو بولنے والے کرار حسین اور خلیل صدیقی ہوں اور ان کے سامنے وہ بلوچ، پشتون، سندھی، سرائیکی طالب علم ہوں، جن کی مادری زبان اُردو نہیں تو وہ ان کے تلفظ، روزمرہ یا محاورے کی غلطی یا ش، ق پر انسانی اقدار کو فضیلت دیتے ہوں تو پھر پاکستان میں اُردو محبت، کشادہ دلی اور روشن خیالی کی زبان بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا سندھی اور اُردو کا بہت بڑا ادیب امر جلیل (سابق وائس چانسلر علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد) جب کہتا ہے کہ محبت کرنے کے لئے اردو ایک بہترین زبان ہے تو اس سے کون کافر ہے جو انکار کرے؟۔ پھر مجھے موقع ملا نہ صرف سرائیکی وسیب کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں 31 سال پڑھانے کا اور اسی دوران انقرہ یونیورسٹی ترکی کے شعبہ اُردو میں 4 برس پڑھانے کا۔

اور ریٹائرمنٹ کے بعد اوساکا یونیورسٹی جاپان کے شعبہ اردومیں 2 برس پڑھا نے کا، جس سے مجھے اردو زبان کی عالمگیر اہمیت کا احساس ہوا۔ یہ اور بات ہے کہ جب کبھی ہمارے حکمران ترکی آتے یا جاپان آتے تو وہ انگریزی میں خطاب کرتے، تب ہمارے وہاں کے معصوم شاگرد پوچھا کرتے تھے کہ اُردو بھلا کس ملک کی قومی زبان ہے؟ یہی نہیں مجھے تقریباً ڈیڑھ برس مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ تب میری ’پسندیدہ‘ جماعت کی حکومت تھی۔ میرے اپنے شہر کے وزیراعظم تھے اور مختلف کمیٹیوں میں بظاہر میرے ہم مسلک لوگ بیٹھے تھے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ سندھ میں اتنی بڑی ذہنی تقسیم ہو چکی ہے کہ اُردو کے مقدمے کو سندھی عام طور پر ایم۔کیو۔ایم کا مقدمہ قرار دیتا ہے جو شاید لیاقت علی خان کے زمانے میں سندھ میں شروع ہوا تھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کی قومی زبان سرکاری زبان کیوں نہ بن سکی؟

پاکستان کے پہلے منتخب سندھی وزیراعظم کے بنائے ہوئے آئین 1973ء میں دی گئی 15 سال کی اُس مدت میں ایک قرارداد کی مدد سے توسیع کیوں کرنی پڑی جس کے اندر اُردو کو سرکاری زبان بنایا جانا تھا؟ سیدھی سے بات ہے اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی حکمران اشرافیہ اور نوکر شاہی تو ہے ہی، کچھ اُردو بولنے والے بھی ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب بہت کچھ پاکستان کے لوگوں کو معلوم ہو چکا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ گجراتی اور انگریزی بولنے والے محمد علی جناح نے کیوں کہا تھا کہ اُردو اور صرف اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ اور سندھی ہونے کے باوجود اُردو زبان میں بہترین خطابت کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے بنائے دستور میں کیوں پاکستان کی قومی زبان اُردو کو قرار دیا۔ بس جس دن ہمارے حکمران اپنے احساسِ غلامی سے چھٹکارہ پا لیں گے اُردو کو اپنا حقیقی مقام مل جائے گا۔

مَیں نے 12 نومبر 2014ء کو وزیرِ اعظم پاکستان کو اردو زبان کے مقدمے کے حوالے سے اپنی دانست میں ان کی قومی ذمہ داریاں یاد دلانے کے لئے ایک خط لکھا تھا، وہ خط بھی اس عریضے کے ساتھ منسلک ہے، اس کے چند پیراگراف اس میں بھی درج کر رہا ہوں:

الف۔ ریٹائرڈ جسٹس بھگوان داس نے مقتدرہ قومی زبان کی ایک تقریب میں دو برس پہلے (جب وہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سربراہ تھے اور میں مقتدرہ کا صدر نشین) انکشاف کیا تھا کہ وہ دو مرتبہ وزیراعظم پاکستان کو سفارش بھجوا چکے ہیں کہ مقابلے کے امتحانات کا ذریعہ اظہار انگریزی کے ساتھ قومی زبان اردو کو بھی کیا جائے۔ مگر اس کی منظوری وزیراعظم کی طرف سے نہیں دی گئی۔ آپ نوکر شاہی کی بے تعلقی اور مغائرت پر جو آزردگی ظاہر کرچکے ہیں، اس کے پیش نظر یہ ایک بڑا اقدام ہوسکتا ہے جس سے رائے عامہ میں آپ کو بہت زیادہ پذیرائی ملے گی۔

ب۔کابینہ ڈویژن اورکیڈ کی جانب سے بیرونِ ملک کچھ چیئرز مشتہر کی گئی ہیں جو رفتہ رفتہ اردو چیئرز کی بجائے مطالعہ پاکستان چیئرز میں تبدیل ہوچکی ہیں۔جی ۔ایم سید کے ساتھی جناب غلام مصطفیٰ شاہ نے جب 1988ء میں وزیر تعلیم تھے تو انہوں نے اردو کے نام پر لکیر پھیر دی تھی ،یہ جانے بغیرکہ بیر ون ملک یہ چیئرز اردو زبان کی تعلیم کے لئے قائم کی گئی تھیں، جیسے نیپال ،جہاں صرف مسلم اقلیت کے غریب بچے ہی اردو پڑھتے ہیں۔ اسی طر ح ترکی میں پاکستان کے پہلے سفیر میاں بشیر احمد (مدیر ہمایوں، لاہور) کی کوشش سے انقرہ یونیورسٹی ترکی میں اردو چیئر قائم ہوئی تھیں۔

استنبول اورسلجوق یونیورسٹی قونیا میں بھی اردو کے شعبے قائم ہوئے یوں وہاں ہر برس دو سو سے زیادہ طالب علم اردو زبان کے وسیلے سے پاکستان کے فکری دوست بنتے ہیں۔ اسی طرح ایران، مصر اور دیگر ممالک میں بھی یہ چیئرز ہیں، جنہیں زبردستی مطالعہ پاکستان چیئرز میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ہمارے معصوم وزیر تعلیم کو اس صورت حال کا پس منظر معلوم ہوگا اور نہ ازالے کی ہمت۔ آپ سے ہی توقع ہے کہ کوئی فیصلہ کن اقدام کریں۔

ج۔ انتظار حسین ، کشور ناہید اور مسعود اشعر تین سے زیادہ مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ مقتدرہ قومی زبان، اور اردو لغت بورڈ کے سربراہوں کا منصب خالی ہے۔ غالباً جناب پرویز رشید بعض سینئر اہل قلم کو یقین دہانی بھی کراتے رہے ہیں، مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ مقتدرہ قومی زبان (ادارہ برائے فروغ قومی زبان) میں 12 کمپوزر، 2 پروف ریڈرز ،2آفیسر برائے اشاعت اور 13 افراد آئی ۔ٹی میں ہیں۔اگر اس ادارے میں طباعت کا کام رک جائے (گذشتہ 18 ماہ سے یہی ہورہا ہے) اور لغات اور علمی کتابیں آن لائن کرنے کا سلسلہ بھی جاری نہ رہے توقومی وسائل کا بڑا ضیاع ہوتا رہے گا۔ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں انتظار کر رہا ہوں جب جسٹس جواد ایس خواجہ سپریم کورٹ میں سربراہ کا منصب سنبھال لیں گے۔

تب ان سے توقع ہوگی کہ وہ ہم جیسے لوگوں کی عرضیوں کا نوٹس لیا کریں گے، کہ وہ پاکستان کی قومی زبان کے بارے میں خوش آئند اعلانات کرتے رہتے ہیں، جن کے پیش نظر توقع ہے کہ وہ ایسی معروضات پر بعض اہم فیصلے صادر کریں گے‘‘۔

ہمارے سرائیکی طالب علم جانتے ہیں کہ ہمارے دیہاتی علاقوں میں جب کوئی ان پڑھ خاتون بھی دکاندار سے پوچھتی ہے کہ ’بھرا وا، ٹھگو ہئی، ٹھگو‘؟ تو وہ اثبات میں سر ہلا کے اندر جاتا ہے اور اندر سے بچے کی چوسنی لے آتا ہے، چنانچہ جب دوسری تیسری مرتبہ آپ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے بلند آہنگ انداز میں سوال کئے تو غالباً ہمارے وزیرِ اطلاعات نے کابینہ ڈویژن سے پوچھا ’بھرا وا،ٹھگو ہئی،ٹھگو‘؟ کابینہ ڈویژن نے اسلام آباد سے ہمارے برادرِ بزرگ پروفیسر فتح محمد ملک کو بلایا۔ وہ اپنے ہمراہ مقتدرہ قومی زبان کی جانب سے کوئی چودہ پندرہ سال پہلے کی مرتبہ اور فوٹو آفسیٹ پر مطبوعہ سفارشات لے گئے، ہمارے وزیرِ اعظم نے انہیں پڑھ کر یا پڑھے بغیر اجازت دی کہ انہیں عدالتِ عظمیٰ میں پیش کر دیا جائے، بہرطور یہ خدشہ موجود ہے کہ حکومت اپنے وعدوں کی پاس داری کیوں کرے گی۔

اگر اس سے یہ نہ پوچھا جائے تو حکومت اردو زبان کو کوئی مقام دینے کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو پونے تین برس سے مقتدرہ قومی زبان یا اردو لغت بورڈ میں کسی صدر نشیں یا ڈی،جی کا ہمہ وقتی تقرر کیوں نہیں کیا گیا؟ کراچی میں موجود اردو لغت بورڈ کے تاریخی دفتر اور کتاب خانے پر قبضہ مافیا کی نظر ہے، جس نے نیپا چورنگی کے قریب اربوں روپے کی زمین اور عمارت کو وزارتِ قومی یکجہتی، اطلاعات یا تعلیم کی’ مستعد‘ افسر شاہی اور ان کے کھیل سے غافل تقریر باز وزیروں کی بدولت اسے بھوت بنگلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ کوئی اس کا علمی وارث نہیں بننا چاہتا تو انجمنِ ترقی اردو کی سیکرٹری کو اردو لغت بورڈ کا عارضی چارج دے دیا جائے۔ یہاں مَیں یہ بھی عرض کردوں کہ( الف) مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد[ادارۂ فروغِ قومی زبان] اردو لغت بورڈ کراچی اور اردو سائنس بورڈ لاہور کو وزارت کے چنگل سے آزاد کر کے ان کے بورڈ آف گورنرز بحال کئے جائیں۔

(ب) ان کی سربراہی کے لئے پروفیسر فتح محمد ملک،افتخار عارف،کشور ناہید،ڈاکٹر سید جعفر احمد یا اسی طرح کے کسی قابلِ احترام شخص کو عمر کی 65 برس کی حد میں رعایت دے کر تین برس کے لئے مقرر کیا جائے۔

(ج) وزارتِ مالیات کو پابند کیا جائے کہ وہ ضروری مفید عملے [جس کاتعین نئے سربراہ بورڈ آف گورنرز کی مدد سے کریں] کی تنخواہوں اور عمارت کی دیکھ بھال اور دفتری امور کے لئے معمول کے بجٹ کے علاوہ اشاعتی اور علمی سرگرمیوں کے لئے دس سے پندرہ کروڑ کی خصوصی گرانٹ دے ۔اور نئے صدر نشیں اور بی او جی کو اس گرانٹ کو گردشی فنڈ[REVOLVING FUND] میں رکھنے کی اجازت دے۔ تاکہ مطبوعہ کتب کو فروخت کرنے والی آمدنی سے نئے علمی منصوبوں کی تکمیل یا پیش رفت ممکن ہو سکے۔
والسلام … نیاز کیش …(انوار احمد)

--------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند