تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یومِ آزادی پر انقرہ میں پر جوش تقریبات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 4 ذیعقدہ 1436هـ - 19 اگست 2015م KSA 11:33 - GMT 08:33
یومِ آزادی پر انقرہ میں پر جوش تقریبات

چودہ اگست یومِ آزادیِ پاکستان کے موقع پر نہ صرف پاکستان میں بلکہ غیر ممالک میں پاکستان کے سفارت خانوں میں شاندار تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ بلوچستان اور مقبوضہ کشمیر میں جس طریقے سے پاکستان کے پرچم لہرائے گئے اس سے دل باغ باغ ہو گیا۔ وزیرستا ن میں بھی لوگوں نے جس جوش و خروش سے یومِ آزادی منایا اس سے علاقے میں پوری طرح حکومت کی رِ ٹ قائم ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان سے بڑھتی ہوئی محبت کی بھی عکاسی ہوتی ہےاور خاص طور پر کراچی میں یومِ آزادیِ کے موقع پر دس سال بعد لوگوں کے دلوں میں جو جوش و خروش پایا گیا اس سے پاکستان سے میلوں دور بیٹھے پاکستانیوں نے سکھ کا سانس لیا۔

غیر ممالک میں پاکستان کے جن سفارت خانوں میں یومِ آزادیِ پاکستان کی تقریب کا پر جوش اہتمام کیا جاتا ہے اُن میں ترکی پیش پیش ہے۔ اگرچہ ترکی میں بہت بڑی تعداد میں پاکستانی تو آباد نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہونے والی یومِ آزادیِ کی تقریب ایک الگ ہی مقام رکھتی ہے۔ اس کی ایک وجہ ترک باشندوں کی پاکستان سے گہری اور والہانہ محبت ہے جس کو کسی دیگر غیرملک میں دیکھنا ممکن نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ان تعلقات کو سفیر پاکستان سہیل محمود نیا رنگ و روپ دینے میں مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں سفارت خانہ پاکستان نے انقرہ بلدیہ کے تعاون سے چودہ اگست کے موقع پر ’’ پاکستان کے رنگ۔ ترکوں کی نظر سے‘‘ کے زیرعنوان ایک تصویری نمائش کا اہتمام کیا ۔ اس نمائش کی افتتاحی تقریب میں ٹرکش کواپریشن اینڈ کوآرڈنیشن ایجنسی (TIKA) کے صدر سردار چام نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔

اس کے علاوہ پاک ترک کلچرل ایسوسی ایشن کے صدر اور ’’ وان ‘‘ سے رکن پارلیمینٹ برہان قایا ترک، وزارتِ خارجہ کے انڈر سیکرٹری اور پاکستان میں ترکی کے سابق سفیر انگین سوسیال کے علاوہ بڑی تعداد میں ترک حکام، سفارت کاروں اور معززین شہر نے شرکت کی۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ’’ تیکا‘‘ کے سربراہ سردار چام نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ" ترکی اور پاکستان کے درمیان سیاسی ، اقتصادی اور دفاعی شعبے میں بڑے گہرے تعلقات موجود ہیں اور اب ان دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی شعبے کو بھی فروغ دینے کے لئے خصوصی توجہ دی جاری ہے ۔ اس تصویری نمائش میں ترکی کے اُن غیر پیشہ ور فوٹو گرافروں کی تصاویر کو بھی رکھا گیا ہے جو انہوں نے پاکستان میں اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئےکھینچی تھیں ۔ انہوں نے پاکستان کے خوبصورت چہرے کو جس طریقے سے پیش کیا ہے اُس سے اُن کی پاکستان سےگہری دوستی اور محبت کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔‘‘

اس موقع پر سفیر پاکستان سہیل محمود نے دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے تعلقات کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ وہ ترکی کے ساتھ اقتصادی، سیاسی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس سے دونوں ممالک کے عوام کو مزید ایک دوسرے کے قریب لانے کا موقع میسر آئے گا۔ انہوں نے پاکستان کے مختلف خوبصورت گوشوں کواجاگر کرنے سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان تمام فوٹو گرافروں نے اپنے ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیتے ہوئے تمام خوبصورت مقامات کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا ہے۔ ان تمام غیر پیشہ ور فوٹو گرافروں کی تصاویر کسی بھی صورت پیشہ ور فوٹو گرافروں کی تصاویر سے کم نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’اِن فوٹوگرافروں نے پاکستان کی قدرتی خوبصورتی کو ترکی تک پہنچا کر ایک ایسا کارنامہ سر انجام دیا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہ تصاویر پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ‘‘

اس نمائش میں ایک سو کے لگ بھگ تصاویر کو نمائش کے لئے رکھا گیا ہے ۔جن میںایک دستاویز ی فلم کی عکس بندی کے دوران پاکستان میں کچھ عرصہ قیام پذیر پروڈیوسر ’’ ولی اوچماز‘‘، اناطولیہ نیوز ایجنسی کے رپورٹر احمد ایرکان، ترکی کے مشہور کوہ پیما تونچ فندق ( انہوں نے کے ٹو اورپاکستان کی کئی ایک چوٹیوں کو سر کیا) فیشن ڈیزائنر اور ثقافتی فوٹو گرافر مہمت اوقوتان اور کراچی میں ترکی کے سابق قونصلر جنرل فتح ایتم( ان دنوں جمہوریہ چیک میں ترکی کے سفارت خانے میں چارج ڈی افیئر کے فرائض ادا کررہے ہیں) کی تصاویر کو نمائش کے لئے ایک ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ٹی آر ٹی کے رپورٹر ’’لیونت رجب اؤز ترک‘‘ کی مختلف مواقع پر تیار کی گئی دستاویزی فلموں کو بھی نمائش میں پیش کیا گیا۔ یہ نمائش 21 اگست تک انقرہ کے مرکزی علاقے قزلائی کی میٹرو آرٹ گیلری میں جاری رہے گی۔فوٹو گرافروں نے پاکستان کے مختلف علاقوں کو جس اینگل سےاپنے کیمروں کے اندر سمویا ہے اس سے ان کی مہارت کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ مثلاً کوہ پیما تونچ فند ق نے پہاڑی چوٹیوں پر جس اینگل سے اپنا کیمرہ استعمال کیا ہے وہ ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی کے رپورٹر احمد ایرکان کی تصاویر میں ان کی پاکستان سے محبت کی جھلک نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ان غیرپیشہ ور فوٹوگرافروں نے پاکستان کے جس خوبصورت چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے وہ ہم سب کے لئے باعث فخر ہے کیونکہ ترک ہی پاکستان کے مثبت امیج کو دنیا کے سامنے پیش کرسکتے ہیں جبکہ مغربی فنکاروں کو پاکستان کا زیادہ تر نیگٹو امیج ہی نظر آتا ہے۔ ان تمام حضرات میں ایک بات مشترک تھی، سب نے واضح طور پر اس بات کا اظہار کیا کہ ان کو جو محبت پاکستان اور پاکستانی باشندوں نے دی ہے وہ اس محبت کے سحر میں کھو کر ہی پاکستان کی خوبصورتی کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ان تمام فوٹو گرافروں نے سفیر پاکستان کی خصوصی ہدایت پر آرگنائز کی جانے والی اس نمائش پر سفیر پاکستان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

یہ نمائش انقرہ کے مرکزی علاقے قزلائی میں ہونے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی بنی ہوئی ہے۔ ترکی میں پاکستان کا نام لیا جائے اور لوگوں کی توجہ اس جانب نہ ہو تو یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ پاکستان سے ترکوں کی گہری محبت ان کو ہر اس طرف کھینچ لاتی ہے جہاں پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہو۔ ویسے بھی ترک زبان کا ایک محاورہ ہے’’ بہتا پانی تک رک جانا ‘‘ یہ محاورہ ترک سیاستدان پاکستان کے لئے کچھ یوں استعمال کرتے ہیں ’’ ترکی میں پاکستان کے نام پر بہتا پانی تک رک جاتا ہے ‘‘ ۔

اس نمائش سے قبل سفیر پاکستان جناب سہیل محمود نے سفارت خانہ پاکستان میں پاکستان کے 69ویں یومِ آزادی کے موقع پر خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔ اس خصوصی تقریب میں انقرہ میں مقیم پاکستانی باشندوں ، پاکستانی سفارت کاروں، اہلکاروں اور طلبا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس تقریب میں پہلے صدرِ پاکستان ممنون حسین اور بعد میں وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کے پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے جس کے بعد سفیر پاکستان سہیل محمود نے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان موجود تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے 14 اگست کی اہمیت اور ، ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر ضرب ِ عضب آپریشن کے ذریعے ملک کو پُر امن بنانے کے لئے کی جانے والی کوششوں اور کامیابیوں کی نوید بھی سنائی۔ انہوں نے اس موقع پر ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے آزادانہ تجارت کو سمجھوتے کا ذکر کرتے ہوئے جلد ہی اس سمھوتے پر عمل درآمد شروع کرنے سے آگاہ کیا۔

---------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند