تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قوم، مزید چند بڑے لوگوں سے محروم
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 4 ذیعقدہ 1436هـ - 19 اگست 2015م KSA 11:26 - GMT 08:26
قوم، مزید چند بڑے لوگوں سے محروم

’’مسلمان میں اسلام ، پیمانہ یہ نہیں۔ شاہ ولی اللہ ؒ کا بیش قیمت سبق اتنا ہی، تاریخ اسلام ہی اصل پیمانہ جبکہ تاریخ مسلمان، تاریخ اسلام نہیں‘‘۔ جنرل حمید گل کی اچانک موت ایک بھونچال ہی۔ جھٹکے کے اثرات سے نبٹنے کی تگ ودو میںابھی مصروف ہی تھے کہ کرنل شجاع خانزادہ کی اندوہناک شہادت قومی افق کو گہنا گئی ۔ دونوں سے انتہائی قریبی رشتہ اور بے تکلف دوستی کا بندھن رہا۔ آناًفاناً کیا سے کیا ہوگیا؟ 14اگست کی مناسبت سے عظیم قائدکی عظیم نظریاتی جدوجہدکو اپنے تئیں اجاگر کرنے کا تہیہ تھا۔ ذاتی بدقسمتی کہ پچھلے ہفتے جناب عمران خان اپنے میرٹ اور سیاست کو مزیدچار چاند لگانے کی تگ ودو میں اپنے والد (مرحوم) اور میرے چچا محترم بارے میں جو ناشائستہ گفتگو فرما گئے۔ ذہن مغلوب ومائوف ،برانگیختہ جذبات ذہنی ہیجان کی رو سامنے بے بس رہے، گوش مالی دینا پہلی ترجیح بن گیا۔ اصل موضوع اوجھل رہا جبکہ اس بار ناگہانی اور اندوہناک واقعات کی نظر۔

کرنل شجاع خانزادہ، کیا مرد آدمی تھا۔ جمخانہ کلب جہاں خانزادہ سے سوئمنگ پول یاجم (GYM) ٹاکرا ، معمول تھا۔ دو ہفتے پہلے ایسی ہی ملاقات میں ہم نے مل بیٹھ کر اکٹھا کھانا کھانے کی ٹھانی۔ اچھی خاصی گپ شپ چلی،گوش گزار کیا کہ کرنل اب کڑیل نہیں رہا، بیانات سے لیکر ذات تک، احتیاط لازمی ہے۔ جواباً ادا ہوافقرہ گونج بن کر باربار ٹکرا رہا ہے،’’نیازی، آدمی ہمت نہ ہارے ، تو کوہ ہمالیہ چڑھنا بھی آسان ،اگر ہمت ہار بیٹھا تو ٹیلہ چڑھنا بھی مشکل رہے گا، تم میری ہمت توڑ رہے ہو‘‘۔ واقعی اس دن مکمل پیکرشجاعت نظر آیا اس دن ہونے والی ملاقات میں ایک قابل ذکر بات اور بھی، ایک شناسا نے آگے بڑھ کر پوچھا ’’ نیازی صاحب کیا آپ دونوں بھائی ہیں کہ شکل میں مشابہت ہے‘‘۔ اس سے پہلے ، ٖڈاکٹر مجاہد کامران سمیت کئی دوست احباب اجمالاً ذکر کر دیتے تھے ۔

مشابہت تو شاید نہ ہو لیکن جب نظریات ، خیالات کی ہم آہنگی ہوتو شکلیں ایک جیسی ہی نظر آتی ہیں ۔ آخری ملاقات ایک نیا خانزادہ نقش کر گئی ۔ 20 سال پہلے مواحد حسین شاہ کے گھر پہلا تعارف ہوا۔لمحوں کی قربت ایک دیرپا اور بے تکلف دوستی کا آغاز ہی۔ خانزادہ کی ملنساری ، جوش جذبے اور اخلاص نے گرویدہ بنائے رکھا۔ تحریک انصاف انہی دنوں جنم لینے کے مراحل سے گزر رہی تھی، عمران خان سے ان کو اچھی توقعات تھیں ۔ مواحد حسین شاہ، ان دنوں عمران خان کے اتالیق تھے ، خانزادہ کو عمران خان کی طرف متوجہ رکھا۔ جب سید مواحد حسین دل برداشتہ ہو کر عمران خان سے دور ہو گئے ،تو یہ ذمہ داری میرے ناتواں کندھوں پر آن پڑی۔ 16 سال تسلسل سے تحریک انصاف میں خانزادہ کو تحریک کے دام میں پھنسانے کا فریضہ تندہی سے سرانجام دیتا رہا۔ خانزادہ پنجاب کے اندر ’’جزیرہ پختونخوا‘‘ ،’’ شادی خان ‘‘کا باسی۔ پنجاب اسمبلی میں اکلوتا پختون۔ آخری یادگار ملاقات، آنکھیں کھولنے کے لیے کافی۔

’’نیازی، وطن ِعزیز میں بھارتی ریشہ دوانیاں مضبوط اور پختہ ہو چکیں، را (RAW) ہماری کئی مذہبی، علاقائی اور سیاسی جماعتوں میں سرایت کر چکی ہے ۔ بھار ت یا ’’ را‘‘ اتنے مضبوط نہیں جتنے ہم سہل پسند ، نااہل اور خود غرض ہو چکے ہیں۔ ہمارے مذہبی ، سیاسی ، قومیتی رہنمائوں کا بھارت کے ہاتھوں ترنوالہ بننے کی داستان طویل اور مستند ہے ۔ اچھی خبر یہ ہے کہ بالآخر ہمارے دفاعی اداروں اورموجودہ حکومت نے بیخ کنی کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔اب کہ ملک دشمنوں کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے ‘‘۔ مجھے شبہ نہیں کہ کرنل خانزادہ کی شہادت را کا منظم اور جامع منصوبہ تھا۔ مناواں سے لیکر یوحنا آباد تک کرنل خانزادہ نے بغیر الفاظ چبائے اٹل تکرار، ایک ہی بات کہی کہ ’’اصل ماں را، ہر واقعہ میں ملوث ہے‘‘۔ خانزادہ کا آخری اظہار، واضح اور غیر مبہم، میرے حوصلے بلند رکھنے کے لیے کافی۔ خانزادہ ، آپ کا چھوڑا پیغام محفوظ ہاتھوں میں، کہ پاک فوج کا نظریاتی شعور ہمارے پراگندہ سیاستدانوں، دانشوروں اور اشرافیہ سے بہت بہتر، بہت آگے۔

آہ جنرل حمید گل!سینکڑوں، ہزاروں ریٹائرڈ جرنیلوں میں اکلوتا، کبھی فوج کا سربراہ نہ رہا، فوجی حکومت یا سیاسی حکومت کا کبھی حصہ بھی نہ رہا۔ کسی دفاعی پالیسی کا موجد نہ عملی جامہ پہنانے میں آخری اتھارٹی ۔ البتہ بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی ،چند سال حکومت اور دفاعی اداروں کی بنائی پالیسی کو ایسی حکمت عملی سے ایسا نافذ کیا کہ چار لی ولسن وار سے لیکر فی زمانہ تک ،اس کے چرچوں کی گونج آج بھی پردے پھاڑنے کو ہے۔ راسخ العقیدہ مسلمان، نظریاتی طور پر اٹل، پاکستان اورپاک فوج کی محبت رگوں میں خون کے ہر قطرے کے ساتھ رواں، بلکہ ہڈیوں میں پیوست۔ جب انتقال کی خبر آئی تو سوشل میڈیا پر لوگ ایک دوسرے سے ایسے افسوس کرتے نظر آئے، جیسے کوئی اپنا عزیز چل بسا۔ وہ کسی کا عزیز نہ تھا مگر عزیز جہاں ایسا کہ پورا ملک نوحہ خوانی کرتا نظر آیا۔ جہاں اجتماعی افسوس جاری وساری ، وہاں مٹھی بھرمشکوک حب الوطنی رکھنے والے بعض افراد اپنا غصہ چند دن کے لیے بھی نہ چھپا سکے۔سوشل میڈیا پر ان کے منہ سےسب کچھ باہر آگیامگرایسی پراگندگی سے ذاتی انا اورذہنی تسکین کی کمائی کے سواکچھ ہاتھ نہ آیا۔ کاش اپنے باطن کے اظہار کے لیے وقت کا تعین ہی بہتر کر لیتے۔

میری تالیف قلب اتنی کہ جنرل حمید گل دشمنان وطن ودین کے لیے بعد از موت بھی سوہان روح ، دل ِ شیطان میں آج بھی کانٹابن کر کھٹک رہے ہیں ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ کہ ان کے نظریات میں ایک شدت اور خاص زاویہ رہا۔ ذاتی طور پرمجھے بھی بے شمار اختلاف تھا، مگر کیا کیا جائے بدرجہ اتم اخلاص کے سامنے بے بس پایا۔ پائے کے دانش ورتھے ۔ بین الاقوامی امور پر شائع ہونے والی کتابیں ، تحقیقی مقالہ، آرٹیکل، شاید ہی نظروں سے اوجھل رہا ہو۔ اچھی کتاب یا آرٹیکل پڑھتے توگاہے بگاہے مجھے بھی پڑھنے کی ترغیب وتلقین کرتے۔ بین الاقوامی امور کے نفیس اور پیچیدہ پہلوئوں پر گہری نظر تھی ۔ شعبہ بین الاقوامی امور میں ادھوری تعلیم اورمحدود فہم وفراست کے حامل بمع مخصوص مفادات کے اسیر دانشور آج بھی صدق دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ سانحہ 9/11 القاعدہ کا شاہکار جبکہ اسامہ بن لادن کسی جنگلی خرگوش کی طرح اچھلتے پھدکتے ایبٹ آبادجا پہنچے اور قابومیں آگئے ،کہ امریکہ بہادر کی پڑھائی پٹی حرف آخر، اگر میرے اپنے اتالیق اور چندقریبی دوست ایسے علمی تساہل کا شکار نہ ہوتے تو باقی جہلا کی ذہنی آسودگی کے لیے میرے ’’خزانہ لغت‘‘ میںپیش کرنے کو بہت کچھ تھا۔

جنرل صاحب سے پہلی ملاقات 1987ء میں جدہ میں ہوئی، 1995ء میں عمران خان کے اندر جب مسیحا کا سایہ دیکھا تو ملاقاتوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ تعارفی تعلق خالصتاََ ذاتی تعلق میں بدل گیا۔ جنرل صاحب تاک تاک کر، فرداًفرداً دوست ، احباب ، عام وخاص تک اپنی بصیرت بغیر کنجوسی کے عام رکھتے تھے۔ ہر بدھ کو تقریباً تسلسل سے بذریعہ مختصر پیغام (SMS) یا بنفس نفیس فون کرکے میرے لکھے کالم کی خصوصی حوصلہ افزائی فرماتے۔ دھرنے پر عمران خان کے عزائم اور سیاسی نادانیوں کو جب آڑے ہاتھوں لیا تو جنرل صاحب نے اس کا برا منایا اور مجھے ٹوکا بھی۔ آخری تفصیلی ملاقات ماہِ رمضان سے پہلے راولپنڈی چکلالہ ان کے گھر پر ہوئی۔ اس دن بھی تازگی ، برجستہ پن، تدبر،دانش، فہم وفراست معلومات عامہ کا بیش بہا خزانہ، ایمان اور نفاست امڈ امڈ کر باہر تھا۔

تمام سیاسی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ نظریات کی شدت نیا رنگ پکڑ چکی تھی۔ جمہوریت کواسلام کے خلاف ایک گہری سازش سمجھ بیٹھے تھے۔ بدقسمتی ایک ہی کہ اتنے بڑے دماغ کے پاس نظریاتی، معاشرتی اور حکومتی مسائل کاواضح حل یاقابل عمل راستہ موجود نہ تھا۔نظام یا حکومت کی تبدیلی کا لائحہ عمل بھی غیر واضح تھا۔

ہمہ وقت امریکیوں ، بھارتیوں کی ہٹ لسٹ پر تھے ۔ مجال ہے ڈر، خوف یا پریشانی کا شائبہ رہا ہو۔کسی کی گستاخی پر ماتھے پر شکن نہ آئی ،مسکراتے مسکراتے دلیل کے ساتھ معاندانہ رویہ رکھنے والوں کو منہ کی کھلائی ۔جب سے قومی افق پرابھر کر سامنے آئے ، ایک تسلسل سے جنرل صاحب کی عزت کو چار چاند لگتے رہے آج ان گنت چاندوں سے مزین اللہ کے حضور، اللہ غریق رحمت کرے (آمین) ۔

طے تھا کہ ہری پور کا انتخابی نتیجہ ہو یا جسٹس وجیہہ الدین کی تحریک انصاف کے اندر ریفارمز تحریک، صرف نظر ہی رکھوں۔ تحریک انصاف پر بیتی، مکافات عمل ہی۔ کالم کی دم ابھی ہاتھ میں تھی کہ عمران خان اور ریحام خان کا باہمی مشاورت پر مبنی ٹوئٹ سامنے آیا ’’ریحام خان الیکشن لڑے گی نہ سیاسی تقریب میں شریک ہوگی‘‘۔ ’’میں اپنے آپ کو رفاعی کاموں میں وقف رکھوں گی‘‘۔ بعد از خرابی بس یار ضرور مگر اس ’’ اصولی فیصلے‘‘ پرفیملی کو خراج تحسین پیش کرنا ہوگا۔ اگر الیکشن میں ناکامی نہ رہتی تو کیا ایسا ٹوئٹ دیکھنے کو ملتا، یقینا ً نہیں۔ یہ فیصلہ الیکشن میں شاندار ناکامی کے بعد ’’میرٹ‘‘ پر کیا گیا۔ خان صاحب پہلے بھی میرٹ کے اوپربڑے بڑے کارنامے سرانجام دے چکے ہیں جبکہ ریحام خان پہلے بھی بار بار اعادہ کرتی رہیں کہ میرے سیاسی عزائم نہیں ہیں۔ گھر کے اندر، گھر والی بن کر عوامی جذبات کی نمائندگی ہی مطمح نظر ہے۔ حقیقت تھی بھی یہی چنانچہ ہری پور کی انتخابی مہم میںتو فقط ’’امور خانہ داری‘‘ (Cooking Tips) بتاتی رہیں۔ خان صاحب کا بیگم صاحبہ کو اتنی جلدی گرائونڈ کرنا بنتا نہیں، وگرنہ جتنی جلدی اور تیزی پچھلے چند مہینوں میں جملہ مصروفیات میں دیکھنے کو ملیں، لگتا تھا پوراکنبہ جلدی میں ہے۔ ’’تیز چلو گے جلد مرو گے‘‘، اگر ہری پور میں شکست نہ رہتی تو پرواز نے تو آسمان کوہی چھونا تھا۔ برا ہوا ہری پور الیکشن میں شکست کا، کہ قوم آج ایک بڑے قومی رہنماء سے محروم ہو گئی۔

---------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند