تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
وائٹ ہاؤس اور ڈاؤننگ سٹریٹ سے مریدکے تک!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 8 ذیعقدہ 1436هـ - 23 اگست 2015م KSA 10:57 - GMT 07:57
وائٹ ہاؤس اور ڈاؤننگ سٹریٹ سے مریدکے تک!

پہلے شک تھا، اب یقین ہو چلا ہے کہ ہم ایک خوفزدہ معاشرے مٰن زندہ ہیں۔ اس خوف کی وجہ سے ہمارے رویے ایسے ہو چکے ہیں کہ ہمیں لگتا ہے ہر لمحے ہمارے خلاف دنیا سازشیں کر رہی ہیں۔ سات ارب انسانوں کی دنیا اپنا سارا کام چھوڑ کر بیس کروڑ پاکستانیوں کو تباہ کرنے کے منصوبے تیار کرتی رہتی ہے، وہ پاکستانی جن کے ملک میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے بجلی نہیں آتی۔

یہ خوف ہماری جڑوں میں ایسا بیٹھ گیا ہے کہ لگتا ہے اس سے رہائی پائی تو مر جائیں گے۔ ہر لمحے ہمارا مذہب اور ایمان اور انکے ٹھیکیدار خطرے میں رہتے ہیں۔ اس خطرے کا حل یہ نکلا گیا کہ ساٹھ ہزار بے گناہ انسان مارے گئے۔ اس عظیم مذہب کے نام پر قتل عام ہوا جس کا کہنا ہے کہ جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے ایک جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔ اس خوف کا فائدہ چند لوگوں کو ہوا جنہوں نے اس معاشرے پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے۔ خوفزدہ انسانوں پر حکومت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس خوف نے عام پاکستانیوں سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ لوگ بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ کسی کو چیلنج کرتے ہوئے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ کہیں مارے نہ جائیں۔ زبانوں پر تالے پڑ گئے، لہذا جن ایشوز پر بات ہونی چاہیے وہ دب گئے ہیں۔ چند لوگوں نے مذہب سے لے کر معاشرے تک سب چیزوں کو اپنی جاگیر قرار دے کر قبضہ کر لیا ہے۔ یوں اس معاشرے میں تخلیق ختم ہو گئی ہے ، اس لیے جب کوئی بچہ او لیول یا اے لیول میں چند ایز لے لیتا ہے تو پاکستانی اخبارات میں بہت بڑی خبر ملتی ہے، دیکھو فلاں کتنا ذہین بچہ ہے۔ بعض والدین تو اپنے بچوں کی ذہانت کا ڈھونڈرا پیٹنے اور ان پر کالم لکھوانے کے لیے ایسے حربے اختیار کرتے ہیں کہ ان کی ذہنی حالت پر شک ہونے لگتا ہے۔ ہمیں پتا ہی نہیں ، تخلیق یا سوچ کیا ہوتی ہے، لہذا ہمارے لیے ہمارے بچے کا اے لیول مین چند اے گریڈ لے لینا بہت بڑی خبر ہوتی ہے جسے وہ دنیا بھر کے ساتھ فیس بک اور ٹویٹر پر شیئر کرتے ہیں۔ یہ نتیجہ نکلا ہماری تخلیقی صلاحیتوں کے دم گھٹنے کا۔

مجھے یہ سب اس لیے کہنا پڑا کہ بھارت کے اداکار اور فلم ساز سیف علی خان کی پاکستان میں دکھانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ میں نے یہ فلم نہیں دیکھی، مجھے علم نہیں اس میں ایسا کیا ہے کہ عدالت کو اس پر پابندی لگانا پڑی۔ سنا ہے، اس میں دکھایا گیا کہ حافظ سعید کے قتل کا منصوبہ تیار کیا گیا۔

چلیں مان لیتے ہیں، وقعتا فلم کا سکرپٹ وہی ہے جو حافظ سعد کا خیال ہے کہ انکے قتل کا منصوبہ اس فلم کا موضوع ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں فلمین ایسے موجوعات پر بنتی رہتی ہیں جن میں حافظ سعید کو تو چھوڑیں سپر پاورز کے سربراہوں کے قتل کے منصوبے بنتے ہیں اور پردہ سکرین پر دکھائے جاتے ہیں۔ فلموں میں امریکی صدر اور برطانوی وزیر اعظم تک فلموں میں اغوا اور قتل تک ہوتے ہیں۔ ان معاشروں میں سے کوئی آواز نہیں اٹھتی اور نہ ہی امریکی صدر ایسی فلم کو بین کرتا ہے اور نہ ہی امریکی عدالت روکنے کا حکم دیتی ہے۔ ابھی لندن میں تھاتو واٹرلو میں آئی میکس کی بڑی سکرین پر جا کر ٹام کروز کی نئی فلم، مشن امپاسبل دیکھی۔ اس فلم کا مرکزی پلاٹ ہی یہ تھا کہ برطانوی وزیر اعظم کا اپنا سکیورٹی افسر سازش تیار کر کے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔ فلم کے ایک سین میں برطانوی وزیر اعظم مکمل طور پر امریکی ایجنسی کے کنٹرول میں ہے اور چیف سکیورٹی افسر گولی کھا کر بے حوش پڑا ہے۔ یہ فلم برطانیہ کے تمام سینما گھروں میں دکھائی جا رہی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے، برطانوی وزیر اعظم کو جب پتا چلا ہوگا کہ اس فلم میں پلان بنا کر اسے قتل کرنے کے لئے بتایا گیا ہے کہ اسے اغوا کر کے کیسے قتل کیا جا سکتا ہے تو وہ کیوں برطانوی عدالت میں ہیں گیا کہ فلم کو روک دیا جائے کیونکہ اس سے برطانوی وزیر اعظم کے عہدے اور برطانوی عوام کی توہین کا پہلو نکلتا ہے اور کسی بھی دہشت گرد کے ذہن میں آئیڈیا آ سکتا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم کو بھی قتل کیا جاسکتا ہے۔

2013ء میں امریکہ میں دو اہم فلمیں بنائی گئیں۔ وائٹ ہاؤس ڈاؤن، اور اولمپس ہیز فالن۔ ان دونوں کا موضوع ایک ہی تھا۔ امریکی صدر کا اغوا اور دہشت گردوں کا وائٹ ہاؤس پر قبضہ۔ وائٹ ہاؤس ڈاؤن میں بھی دہشت گرد ٹیکنیکل عملے کی شکل میں وائٹ ہاؤس میں داکل ہوتے ہین اور سب سے پہلے وہ کیپٹل ہل میں بم مارتے ہیں اور سیکرٹ سروس کے درجنوں ایجنٹ مارے جاتے ہیں۔ اس منصوبے میں بھی امریکی صدر کا اپنا ایک ایجنغ ملوث ہوتا ہے جس کا ایک بیٹا ایک آپریشن مٰن مارا گیا تھا اور وہ امریکی صدر کو اسکا ذمہ دار سمجھتا ہے اور اب اسے وائٹ ہاؤس کے اندر یرغمال بنا کر بدلہ لینا چاہتا ہے۔ اس عمل مین وائٹ ہاؤس تقریبا میدان جنگ بن جاتا ہے۔

Olympus has Fallen بھی امریکی صدر اور وائٹ ہاؤس پر بنی ہے۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ جنوبی کوریا کے وزیر اعظم کے وائٹ ہاؤس کے دورے مٰں سکیورٹی کا ایک افسر سازش کر کے امریکی صدر اور جنوبی کوریا کے وزیر اعظم کو یرغمال بنا لیتا ہے۔ دہشت گرد جنوبی اور شمالی کوریا کو متحد کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے وہ چاہتا ہے کہ امریکہ فوری طور پر اپنا ساتواں بحری بیڑا سمندر سے واپس بلا لے جو شمالی کوریا کے جنوبی کوریا پر حملے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسکے ساتھ ہی وہ امریکی صدر سے ان نیوکلیئر بموں کے کوڈ حاصل کرنا چاہتا ہے جو امریکہ نے مختلف مقامات پر امریکہ میں ہی رکھے ہوئے ہیں تاکہ انہیں دھماکے سے اڑا کر پورے امریکہ کو تباہ کر کے اسے صحرا میں بدل دیا جائے۔ ایک مرحلے پر امریکی صدر کو مجبور کرنے کے لیے جنوبی کوریا کے وزیر اعظم کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے۔ امریکی صدر کو جھکانے کے لیے اسکے سامنے اسکی پوری کابینہ پر تشدد کیا جاتا ہے۔ایک منظر میں خاتون وزیر خارجہ کو گولی ماری جانے لگتی ہے۔ اس پورے عمل میں امریکی خفیہ ایجنسی کا ایک سیکرٹ ایجنٹ ان حملہ آوروں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔

دونوں فلموں نے چالیس ارب روپے کے برابر امریکہ میں بزنس کیا۔ یقینا یہ فلم امریکی صدر نے بھی دیکھی ہوگی اور سب سے بڑھ کر ہلری کلنٹن نے جنہوں نے تازہ تازہ وزارت خارجہ چھوڑی تھی۔ اس فلم میں خاتون وزیر خارجہ پر بدترین تشدد دکھایا جاتا ہے


ان تینوں فلموں میں ایک چیز مشترک ہے کہ ہالی وڈ نے ایسے موضوع چنے جن میں دنیا کی سپر پاور امریکہ کے دو صدور اور برطانوی وزیر اعظم کے قتل کی سازش اور وائٹ ہاؤس پر حملے اور قبضے دکھائے گئے ہیں۔ صدر یرغمال بن چکے ہیں اور دہشت گرد وائٹ ہاؤس پر راج کر رہے ہیں۔ امریکہ نے ان فلموں کو بین کیوں نہیں کیا؟ امریکی صدر اور وزیر اعظم برطانیہ نے کیوں خطرہ محسوس نہیں کیا کہ ایسی فلموں سے دہشت گردوں کو فائدہ ہو سکتا ہے؟

اسی طرح پچھلے دنوں بھارت میں دو اہم فلمیں بنیں جنہوں نے ریکارڈ بزنس کیا۔ سب سے بڑی فلم عامر خان کی پی کے تھی۔ اس فلم میں ہندوؤں کے پرانے عقائد پر شدید تنقید کی گئی۔ بھارت میں کچھ لوگ اس فلم کو بین کرانے کے لیے عدالت گئے تو بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ جو فلم نہیں دیکھنا چاہتا وہ مت دیکھے اور گھر بیٹحے۔ یوں اس فلم نے بھارت میں ریکارڈ پانچ ارب روپے کا بزنس کیا۔ پاکستان میں بھی اس فلم نے ریکارڈ قائم کیے۔ ایک اور فلم او مائی گاڈ بھی بنی۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک دکاندار عدالت مٰں جا کر بھگوان پر مقدمہ کر دیتا ہے کیونکہ زلزلے کے نتیجے میں اسکا دکان گر جاتی ہے۔ جب وہ انشورنس لینے جاتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے معاوضہ نہیں مل سکتا کیونکہ زلزلہ بھگوان کی طرف سے آیا ہے، لہذا وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ یوں وہ عدالت پہنچ جاتا ہے کہ اگر بھگوان اسکا ذمہ دار ہے تو پھر اسے بھگوان سے ہی انشورنس لے کر دی جائے۔ اس فلم کے ڈائیلاگ اور کہانی بہت متاثر کن ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ پی کے اور او مائی گاڈ جیسی فلمیں کیسے بھارت میں بن گیئیں۔ نہ صرف بن گئیں بلکہ اربوں روپے کا بزنس بھی کیا اور بار بار دیکھی جاتی ہیں۔

اس سے پہلے سلمان کان کی فلم ایک تھا ٹائیگر بنی تھی۔ اس پر بھی پاکستان میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس مین بھارت اور پاکستانی کی انٹیلی جنس ایجنسوں کے افسروں کا ایک دوسرے کے ساتھ رومانس دکھایا گیا تھا۔ میں نے یہ فلم لندن میں دیکھی تھی اور حیران ہوا اس میں ایسا کیا تھا کہ اسے پاکستان مٰں بین کر دیا گیا۔ ایک اور فلم ایجنٹ ونود بنی جس میں بھارت اور پاکستان کے ایجنٹ مل کر ایک نیوکلیر جنگ کا خطرہ ٹال دیتے ہیں۔ وہ بھی پاکستان مٰن بین کر دی گئی۔ جو معاشرے اپنے شہریوں کو لکھنے، سوچنے اور بولنے کے خوف سے آزاف کرتے ہیں وہیں تخلیق کار، نوبل پیس پرائز ونرز ، ماہرین معیشت، چوٹی کے سائنسدان اور فلاسفر پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے جیسے خوفزدہ اور تخلیق سے عاری معاشرے مٰن بے چارے والدین اپنے بچوں کے دو تین اے حاصل کرنے پر ہی فیس بک پوسٹ لگا لگا کر دیوانے ہو جاتے ہیں۔ ہمیں پتا ہی نہیں تخلیق کیا ہوتی ہے۔ تخلیق کار کیسے اور کس معاشرے میں پیدا ہوتے ہیں, کم زاکم ہمارے جیسے گھٹن زدہ معاشرے میں ایسے لوگ پیدا نہیں ہو سکتے جہاں ہر دوسرے روز کسی نہ کسی خوف کو بنیاد بنا کر فلم پر پابندی لگ جاتی ہے۔ کسی کا مذہب، کسی کا ایمان اور کسی کی حب لوطنی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

شکر ہے سیف علی خان کی فلم کو دیکھے بغیر پاکستان میں پابندی لگنے سے آسمان گرنے سے بچ گیا ورنہ پتا نہیں کیا تباہی آتی جو امریکہ اور برطانیہ میں نہیں آئی۔
-------------------
بشکریہ روزنامہ "دنیا"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند