تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ہند پاک تعلقات کا تشویشناک پہلو
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 10 ذیعقدہ 1436هـ - 25 اگست 2015م KSA 08:32 - GMT 05:32
ہند پاک تعلقات کا تشویشناک پہلو

آگرہ میں 2001ء میں منعقد چوٹی کانفرنس کے بری طرح سے نکام ہونے کے بعد سے ہی ہندوستان اور پاکستان کے مذاکرات تعطل اور غفلت کا شکار رہے ہیں۔ کیا 2015ء میں یہ دوبارہ مزید ناکام ہوجائیں گے؟ انکی تشخیص کے تعلق سے ابھی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ آگرہ کے مذاکرات اس لیے ناکام ہو گئے تھے کیونکہ پاکستان دہشت گردی کے بنیادی مسئلہ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسکی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ اگر اس بات کو تسلیم کر لیتا تو یہ بات خود پر الزام عائد کرنے کے مترادف ہو جاتی ۔ اسکے گول مول جواب سے اس بات کی وضاحت ہو گئی تھی کہ کسی بھی تنازع کے ایجنڈے میں ہمیشہ اسکی یہ دھمکی شامل ہوتی ہے کہ کشمیر یا پھر کسی دیگر معاملے میں بات کریں۔

کبھی کبھی ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ 15 برسوں کے دوران اس کے لب و لہجہ میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان میں منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ ہندوستان اگر کشمیر کے تعلق سے بات چیت نہیں کرتا ہے تو وہ بہت جلد سمجھ جائے گا کہ اسکے نتائج کیا ہوں گے۔ بہ الفاظ دیگر یہ کہا جا کستا ہے کہ تشدد کے واقعات کو اسلام آباد کنٹرول کرتا ہے اور اسی کے حکم سے انہیں شروع کیا جاتا ہے یا بند کیا جاتا ہے، لیکن اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔ اب نہ تو ہندوستان اور نہ ہی پاکستان اس جگہ پر ہیں جہاں وہ 15 سال قبل کھڑے تھے۔ چنانچہ ابھی بھی فضا میں روشن امکانات موجود ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی پریشانی یہ ہے کہ انکا ملک دس سروں والے سانپ کا معروف استعارہ ہے جو کہ ہندوستان کی جانب پیش رفت کرتا ہے۔ چنانچہ اسی تناسب سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہائڈرا یونانی دیومالا میں عجیب و غریب رجحان رکھنے والا پانی کا ایک سانپ ہوا کرتا تھا۔ اسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جتنی مرتبہ آپ اسکے سر کو کاڑ دیں گے تو اسی وقت اسکے مزید دو سر نمودار ہوجائیں گے۔ ہرکولیس نے اسکا حل تلاش کر لیا تھا۔ اس عظیم ہیرو نے ہائڈرا کا سر قلم کرنے کے بعد فورا اسکی گردن کو جلا دیا تھا۔ لیکن اس طرح کا کارنامہ انجام دینے والا ہرکولیس اب کہیں بھی نظر نہیں آتا ہے کیونکہ پاکستان کی فوج کے طاقتور دستوں کے ذریعہ فراہم کیے گئے دودھ کو اسی سانپ نے پی لیا ہے اور دہشت گرد گرپوں کے ذریعہ فراہم کی گئی وسیع پناہ گاہ، جو کہ ہندوستان کے خلاف دیگر طرائق سے جنگ کراتی رہتی ہے، میں جا کر سو گیا ہے۔ اس سے قبل جب نواز شریف وزیر اعظم تھے تو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے ہمراہ لاہور چوٹی کانفرنس کے توسط سے وہ صدق دلی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتے تھے، لیکن اسکے بعد ہی کارگل کی جنگ شروع ہو گئی تھی۔ اوفا میں ڈرامائی انداز میں کم و بیش جو مفاہمت ہوئی تھی آج ان ہی عناصر نے اسی لابی کو مشتعل کر دیا ہے جو کہ سرحد پار نہ صرف دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دے رہے ہیں بلکہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بھی کررہے ہیں۔

ہائڈرا کو خوش کرنے کی اپنی کاوشوں کے تحت نواز شریف کے سکیورٹی مشیر اس وقت غلط بیانی کرنے میں مبتلا ہو گئے تھے جب انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اوفا میں تیار کیے گئے ایجنڈے میں کشمیر کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ حالانکہ اوفا میں دیے گئے مشترکہ بیان کے متن میں کشمیر کا کہیں بھی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ اب پاکستان کے ارباب اقتدار یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردی سے وابستہ تمام معاملات اگر مذاکرت کی ٹیبل پر لائے جاتے ہیں تو اس وقت کشمیر کے مسئلہ پر بھی بات چیت کی جائے گی اس کو اشارۃ چھپانے کے لیے کبھی بھی بیانات کو ضوابط کا مرتبہ نہیں دیا جات اہے۔ ہر ایک لفظ سوچ سمجھ کر استعمال کیا جاتا ہے اور اس پر غور و خوض بھی کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں بالکل واضح عبارت ہوتی ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کے ضمن میں گفتگو کے بالکل واضح مطلب پر معمولی سا تذبذب برقرار ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں فریق اس موقف کے پابند عہد ہیں جسے باہمی مذاکرہ کہا جاتا ہے اور دراصل اسکے تحت کشمیر سمیت تمام مسائل کا احاطہ ہو جاتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کبھی بھی اس وعدے سے دامن نہیں چھڑایا ہے۔ لیکن اجیت ڈوبھال اور سرتاج عزیز کی میٹنگ اس باہمی مذاکرہ کا حصہ نہیں ہے بلکہ دہشت گردی جیسے نہایت تشویشناک خصوصی موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس میں مودی اور نواز کے درمیان ہونے والی بات چیت کا یہ ایک ضمنی پہلو ہے۔ کسی تیسرے فریق کا حوالہ دیے بغیر چاہے تیسرا فریق کوئی خارجہ ملک ہو یا پھر ایسے عناصر ہوں جو خود کو ہندوستانی نہیں سمجھتے ہیں، دہلی اس بات سے واقف ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر، ایک تنازع کا سبب بنا ہوا ہے۔

قومی سلامتی کے مشیروں کی میٹنگ اس نظریہ کے تحت طے کی ئی تاکہ ان رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے جو باہمی مذاکرات پھر سے شروع کرنے کی راہ میں حائل ہو گئی تھیں۔ اگر پاکستان دہشت گر دی سے مقابلہ کرنے کے لیے ایمانداری سے کام لیتا ہے تو یقینی طور پر وہ ان تفریق پیدا کرنے والوں کو حمایت دینے کا اشارہ نہیں کر سکتا ہے جو کہ دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں یا پھر دہشت گردوں کو معاف کر دیتے ہیں۔ آمنے سامنے کی حکمت عملی دانستہ طور پر نہ صرف ضرررساں ہوتی ہے بلکہ آئندہ بڑے امور کی خاطر رائے عامہ تیار کرنے کے لیے بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔

کیا پاکستان اس وقت اظہار مسرت کر سکے گا جب ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر یا خارجہ سکریٹری اگر اسلام آباد میں مذاکرات ہونے سے قبل بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ میٹنگ کرنے کا اصرار کریں گے؟

اس مضمون کو تحریر کیے جانے کے وقت زوردار آوا کے ساتھ حالانکہ دروازے بند ہو گئے ہیں تاہم ہو مکمل طور پر بند نہیں ہوتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنا ہمیشہ شیشہ پر چلنے کے مترادف رہا ہے کیونکہ آپ کبھی بھی اس بات سے واقف نہیں ہو سکتے کہ یہ کب ٹوٹ جائے گا ۔ خوشگوار حالات کی امید کرنا بہتر ہوت اہے اور خراب حالات کی توقع رکھنا مضر ہوتا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں کوئی بھی شرط مت لگایئے۔ شاید غیر مفید سچائی کو بیان کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے، لیکن اسلام آباد نے پہلے ہی سے مودی حکومت کی حیثیت کو تسلیم کر لیا ہے اور اس بات کا تعلق اسی دن سے ہے جب انہوں نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا تھا۔

یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک تشویشناک پہلو ہے۔ ایک اہم حقیقت کو ہم نے نسبتا نظر انداز کر دیا ہے۔ اوفا کی کانفرنس کے درمیان نواز شریف نے آئندہ سال سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے مودی کو پاکستان کا دورہ کرنے کے لیے مدعو کیا تھا اور ہمارے وزیر اعظم نے اس دعوت کو قبول بھی کر لیا تھا۔ اگر وہ یہ دورہ کرتے ہیں تو سارک کی تاریخ میں یہ سب سے بڑی بات تصور کی جائے گی۔ اس سنگین صورتحال میں قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان میٹنگ ہونا محض سیڑھی پر ایک پہلا قدم ہوگا اور ایک ایک قدم سوچ سمجھ کر احتیاط کے ساتھ اٹھانا پڑے گا۔ ایک اہم مافیا ڈان داؤد ابراہیم سمیت پاکستان کے اندر تربیت یافتہ دہشت گردوں کے تعلق سے ہندوستان ٹھوس ثبوت بھی فراہم کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان ایسے اقدامات کرتا ہے تو ان سے نہ صرف ہندوستان کی تشویشات کا ازالہ ہوجائے گا بلکہ متحدہ ہائے امریکہ جو کہ مستقل طور پر پاکستان کی فوج کو فنڈ فراہم کرنے والا منتظم رہا ہے، کو بھی راحت محسوس ہو جائے گی۔ اب اور 2016ء کے درمیان پھسلنے کے بہت سے مواقع ہو سکتے ہیں، لیکن پہلے پائیدان سے پھسلنا ملمع سازی کے ساتھ اس دعوت نامہ کو بھیجنے کے عمل کے مترادف ہوگا جو کہ بدبختی کی علامت ہی سمجھا جائے گا۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "راشٹریہ سحارا"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند