تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مخلوط حکومت کے قیام میں ناکامی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 11 ذیعقدہ 1436هـ - 26 اگست 2015م KSA 09:47 - GMT 06:47
مخلوط حکومت کے قیام میں ناکامی

ترکی میں سات جون 2015ءکے عام انتخابات میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے نظریں مخلوط حکومت کے قیام کی جانب مرکوز ہو کر رہ گئی تھیں۔ سات جون ہی کی شام حزب اختلاف کی جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی (CHP) کے چیئرمین‘‘ کمال کلیچدار اولو ’’نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ عوام نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کو نہ صرف اقتدار سے محروم کردیا ہے بلکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو ساٹھ فیصد ووٹ دیتے ہوئے ان کی مخلوط حکومت قائم کرنے کی راہ ہموار کردی ہے تاکہ آق پارٹی کے دورِ اقتدار میں ہونے والی کرپشن کا حساب لیا جاسکے۔ وہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے برسراقتدار آنے کے بارے میں اس قدر پُرامید تھے کہ انہوں نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ کسی تردد کے بغیر نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) کے چیئر مین ’’دولت باہچے لی‘‘ کو بانٹ دیا لیکن دولت باہچے لی نے کمال کلیچدار اولو کے اس رویےکو بادشاہ گر کا رویہ سمجھتے ہوئے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا جو کہ دونوں جماعتوں کے درمیان سرد مہری کا باعث بنا اور پھر پہلے جب MHP نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کا عہدہ آق پارٹی کو طشتری میں رکھ کرپیش کردیا تو حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مخلوط حکومت کے قیام کی تمام امیدیں ختم ہو کر رہ گئیں۔

حزب اختلاف کی تینوں جماعتوں کی 292 نشستیں، ملک میں نئی مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لئے کافی تھیں لیکن حزب اختلاف کی دونوں قومیت پسند جماعتوں MHP اور HDP کے ایک دوسرے کو کسی بھی صورت برداشت نہ کرنے اور اکھٹا نہ چلنے کی بنا پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا مخلوط حکومت تشکیل دینے کا پلان بکھر کر رہ گیا اور آق پارٹی کے لئے مخلوط حکومت تشکیل دینے کی راہ ہموار ہوگئی۔ صدر ایردوان نے حکومت تشکیل دینے کے لئے 9جولائی کو آق پارٹی کے چیئرمین احمد داؤد اولو کو نئی حکومت تشکیل دینے کے لئے اختیارارت سونپ دیئے۔ احمد داؤد اولو نے چالیس روز تک حکومت تشکیل دینے کے لئےسیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے مذاکرات کئے۔ انہوں نے سب سے پہلے CHP کے چیئرمین کمال کلیچدار اولو سے طویل مذاکرات کئے لیکن یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔ اس کے بعد احمد داؤد اولو نے MHP کے چئیرمین دولت باہچے لی سے تفصیلی ملاقات کی لیکن دولت باہچے لی کی چار شرائط کی وجہ سے کوئی نتیجہ حاصل نہ کیا جاسکا۔ اس سے قبل MHP کے رہنما دولت باہچے لی CHP کے رہنما کمال کلیچدار اولو کی پیشکش کو بھی ٹھکرا چکے تھے۔ صدر ایردوان نے دولت باہچے لی کے اس رویے کو ملک کے مفاد کےخلاف قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ CHP کے چیئرمین کمال کلیچدار اولو نے بھی دولت باہچے لی کو ’’مسٹر نیگٹو‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’تمام سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کرنے کے لئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھتی ہیں لیکن MHP ہاتھ آئے اقتدار کو صرف دیگر قوم پرست جماعتوں کو شامل نہ کرنے کی وجہ سےٹھکرا رہی ہے۔

دولت باہچے لی آئندہ عام انتخابات میں کس منہ س عوام سے ووٹ حاصل کریں گے؟‘‘ کمال کلیچدار اولو نے صدر ایردوان کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’آئین کی رو سے پہلے نمبر پر آنے والی سیاسی جماعت کے حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہنے کی صورت میں یہ اختیارات دوسرے نمبر پر آنے والی سیاسی جماعت کے چیئرمین کو سونپنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن صدر ایردوان نے آئین کی اس شق سے انحراف کرتے ہوئے CHP کو حکومت تشکیل دینے کے اختیارات سے محروم رکھا ہے جو CHP کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔‘‘

راقم کی ذاتی رائے کےمطابق صدر ایردوان کو کمال کلیچدار اولو کو حکومت تشکیل دینے کے اختیارات سونپ دینے چاہئے تھےکیونکہ کمال کلیچدار اولو کے لئے نئی مخلوط حکومت تشکیل دینا ممکن ہی نہ تھا لیکن صدر ایردوان نے اُن کو یہ موقع نہ دے کر آق پارٹی کے لئے مشکلات کھڑی کردی ہیں کیونکہ کمال کلیچدار اولو اپنے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا ضرور واویلا مچائیں گے۔ صدر ایردوان نے یکم نومبر 2015ء کو قبل ازوقت انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔ ترکی میں پہلی بار صدر کی جانب سے انتخابات کروانے کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان انتخابات کو منعقد کروانے کے لئے آئین کی رو سے ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی جو انتخابات کروانے تک اپنے فرائض ادا کرے گی۔ صدر ایردوان سے نئی عبوری حکومت تشکیل دینے کے لئے ایک بار پھر وزیراعظم احمد داؤد اولو ہی کو اختیارات دینے کی توقع کی جا رہی ہے تاہم کابینہ میں لازمی طور پر ردو بدل کیا جائے گا اور پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو ان کے اراکین کی تعداد کے تناسب کے لحاظ سے وزارتیں دی جائیں گی۔ آئین کی رو سے نئی عبوری حکومت میں آق پارٹی دس، CHP پانچ، MHPتین اور HDPبھی تین وزرا کا نام پیش کرے گی اور اس طرح احمد داؤد اولو کی قیادت میں اکیس وزراء پر مشتمل نئی عبوری حکومت (انتخابی حکومت) تشکیل دی جاسکے گی لیکن CHP اور MHP نے احمد داؤد اولو کی قیادت میں نئی عبوری حکومت کے لئے اپنی جماعت کے اراکین کے نام دینے سے معذرت کرلی ہے جبکہ HDP نے اس کابینہ میں شامل ہونے کو منظور کرلیا ہے۔ ترکی کی تاریخ میں پہلی بار کردوں کی کسی بھی جماعت کے اراکین کو وزارتیں سونپی جارہی ہیں۔ دراصل MHP سات جون کے انتخابات کے فوراً بعد سے آق پارٹی اور HDP کے درمیان مخلوط حکومت قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتی رہی ہے ۔

نئی عبوری حکومت میں HDP کے جگہ پانے سے آق پارٹی کو وسطی اناطولیہ اور خاص طور پر بحیرہ اسود کے علاقے میں HDP کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے کے بارے میں بڑے اچھے طریقے سے وضاحت کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ ترک قوم پرستوں سے ملنے والے ووٹوں پر اس کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ سات جون کو CHP کی HDP کے حق میں خفیہ مہم سے HDP کو دس فیصد کی حد پار ( Threshold)کرنے کا جو موقع میسر آیا تھا اب یکم نومبر 2015ء کے قبل از وقت انتخابات میں اُسے یہ ووٹ نہیں ملیں گے۔ (تاہم ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ کردوں کی جماعت کے دس فیصد ووٹ حاصل کرنے کی حد پار کرنے کے بعد اب اسے ان تمام کردوں کی بھی حمایت حاصل ہوجائے جو اس سے قبل کردوں کی جماعت کو صرف اس لئے ووٹ نہیں دیتے تھے کہ اس سے ان کے ووٹ ضائع ہو نے کا خدشہ لاحق ہوتا تھا) اس طرح آق پارٹی ایک بار پھر اپنی پرانی پوزیشن ( واضح اکثریت) حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔

تاہم ملک میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات پر بھی آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ ترک بڑے قومیت پسند واقع ہوئے ہیں اور قومیت پسند MHP اس صورت حال کو ضرور کیش کروانے کی کوشش کرے گی تاہم اس وقت MHP کو اپنے چیئرمین دولت باہچے کے اس بیان کی بھی قیمت چکانی پڑے گی جس میں انہوں نے جنوب مشرقی اناطولیہ میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے مارشل لا لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ دولت باہچے لی کے اس مطالبے کو جمہوریت پر کاری ضرب قرار دیا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آق پارٹی MHP کی ان غلطیوں سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند