تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاک ہند متضاد قومی بیانئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 11 ذیعقدہ 1436هـ - 26 اگست 2015م KSA 10:03 - GMT 07:03
پاک ہند متضاد قومی بیانئے

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مجوزہ مذاکرات کی منسوخی کا خطرناک ترین پہلو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا نے ایسے قومی بیانئے مشتہر کر دیئے ہیں کہ مستقبل قریب میں باہمی بات چیت ناممکن ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک طرف تو ہندوستان کا بیانیہ ہے کہ اگر پاکستان کے سفارت کار کشمیر کی آزادی کی خواہاں حریت کانفرنس سے ملاقاتیں کریں گے تو وہ پاکستان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔ اسی کو جواز بنا کر خارجہ سیکرٹری کی سطح کے مذاکرات منسوخ کئے گئے تھے۔ دوسری طرف پاکستان کی کوئی بھی حکومت کشمیر کے مسئلے کو اٹھائے بغیر ہندوستان سے بات چیت نہیں کرسکتی۔ دونوں طرف قوم پرستوں نے جس طرح کے بیانئے تشکیل دے رکھے ہیں ان کے سیاق و سباق میں دونوں ممالک باہمی بات چیت سے مسائل حل نہیں کر سکتے۔
حالیہ مذاکرات دونوں ممالک کے مشیران قومی سلامتی امور (نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرز) کے درمیان ہونا قرار پائے تھے۔ پاکستان کی نمائندگی جناب سرتاج عزیز کو کرنا تھی جبکہ ہندوستان کی نمائندگی اجیت دیول کو کرنا تھی جو کہ مودی سرکار کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ہیں۔ طے یہ تھا کہ اس ملاقات میں بات چیت دہشت گردی پر مرکوز ہوگی۔ اس طرح کا ایجنڈا ہندوستان کی فرمائش پر بنایا گیا تھا اور عام تاثر یہی تھا کہ اوفا میں شریف مودی ملاقات میں ہندوستان کو سفارتی فتح حاصل ہوئی تھی کیونکہ مشترکہ اعلامیے میں کہیں بھی کشمیر کا ذکر نہیں تھا۔ پاکستان میں نواز حکومت کو اس پر سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھااور یہ متوقع تھا کہ پاکستان کسی نہ کسی عنوان سے کشمیر کا مسئلہ ضرور اٹھائے گا۔ ماضی میں بھی پاکستان کے سفارت کار حریت کانفرنس اور دوسرے کشمیری رہنمائوں سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں اور ہندوستان کی حکومت اس کو نظر انداز کرتی رہی ہے۔ لیکن اب دہلی کے حاکموں کا قومی بیانیہ بدل چکا ہے۔ اب وہ کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم نہیں کرتے اور اسے ہندوستان میں مدغم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

بنیادی حقیقت یہ ہے کہ راشٹریہ سیوک سنگھ (آر۔ ایس۔ ایس) کے نظریے پر کاربند بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر کی موجودہ منفرد حیثیت کو تسلیم نہیں کرتی۔ ہندوستان کے آئین کی شق 370 کے تحت کشمیریوں کو مخصوص حیثیت دی گئی ہے جس کے تحت کوئی بھی غیر کشمیری کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا۔ یہ ضمانت کشمیریوں کو اپنا تشخص قائم رکھنے کے لئے دی گئی ہے۔ آر ایس ایس اس شق کی ہمیشہ مخالفت کرتی رہی ہے اور اب جبکہ اس کی سیاسی فرنٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اکثریتی حکومت ہے تو وہ اس شق کو ختم کرنے کےلئے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی کی موجودہ حکومت ہندو (ہندوستانی نہیں) قوم پرستی کی نمائندہ ہے۔ وہ انتخابات بھی صرف ہندو ووٹوں سے جیت کرآئی تھی۔ لہٰذا ان کے قومی بیانئے میں کشمیر ایک متنازع علاقہ نہیں بلکہ ہندو سلطنت کا ’اٹوٹ انگ‘ ہے۔ اب ہندوستان کی داخلی سیاست میں پاکستان دشمنی ایک مقبول نعرہ بن چکا ہے جو کہ ہندو ووٹ حاصل کرنے کے لئے لگایا جاتا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس وقت ہندوستان کا کشمیریوں اور پاکستان کے بارے میں غیر لچکدار رویہ اس لئے بھی ہے کہ ریاست بہار میں انتخابات ہونے جارہے ہیں اور بی جے پی ہندو ووٹ کےلئے پاکستان کے خلاف نعرے کو استعمال کرنا چاہتی ہے۔

دو اور بھی عوامل ہیں جن کی بنا پر ہندوستان پاکستان سے مخاصمت کے رویے کو طول دے رہا ہے۔ اول تو یہ کہ پچھلی کچھ دہائیوں سے ہندوستان معاشی دوڑ میں بہت آگے نکل گیا ہے۔ اب وہ اپنے آپ کو دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شمار کرنے لگا ہے۔ اب ہندوستان اپنی قومی آمدنی کا تھوڑا سا حصہ بھی دفاعی اخراجات پر بڑھا کر پاکستان کے لئے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اب غالباً ہندو قوم پرستوں کا تصور یہ ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پراتنا دبایا جائے کہ وہ اسے برداشت نہ کرتے ہوئے سوویت یونین کی طرح تتر بتر ہو جائے۔ اگر ہندوستان کی معیشت اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو ہندو قوم پرستوں میں اس طرح کے اوہام اور مضبوط ہوں گے جن کی وجہ سے صلح جوئی ناممکن ہو جائے گی۔

ہندوستان کا پاکستان کے بارے میں موجودہ رویہ اس غلط یا صحیح تخمینے پر بھی ہے کہ اس وقت پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔ کابل سے آنے والے حالیہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان کی موجودہ حکومت (بمعہ صدر اشرف غنی) پاکستان کو اپنی سلامتی کا دشمن قرار دیتی ہے۔ الزام یہ ہے کہ پاکستان افغان طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے جہاں سے وہ افغانستان پر حملے کرتے ہیں۔ ایران کافی سالوں سے ہندوستان سے قربت رکھتا ہے۔ اب تو نریندر مودی نے امارات کا دورہ کرکے یہ ثابت کرنے کی اپنے تئیں کوشش کی ہے کہ خلیجی ریاستیں بھی پاکستان سے زیادہ ہندوستان کے قریب ہیں۔ اور یہ تاثر بھی دیا کہ خلیجی ریاستیں پاکستان سے اس لئے سخت ناراض ہیں کہ اس نے یمن میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔ واشنگٹن میں بھی پاکستان کے خلاف فضا بن رہی ہے۔ لہٰذا ہندوستان پاکستان کو کوئی ایسا موقع نہیں دینا چاہتا کہ پاکستان عالمی برادری میں اپنا امیج ٹھیک کر سکے۔

اس وقت پاکستان میں بھی اسٹیبلشمنٹ غالباً یہ سمجھتی ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ مزید برآں اب مقتدر حلقے ہندوستان کو اپنے مسائل کا بنیادی سبب بتاتے ہیں۔ غلط یا صحیح پاکستان کی ریاست کے مفادات کے خلاف برسر پیکار دہشت گردوں کو ہندوستان کا ایجنٹ بتایا جاتا ہے(دہشت گردوں کو را سے امداد ملنے کےثبوت بھی مل چکے ہیں) ۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس وقت دہشت گردوں اور دوسری تخریبی طاقتوں سے نپٹنے کے لئے ہندوستان مخالف بیانیہ کار آمد ہے۔ اس بیانئے کا بھی بہت بڑا سبب داخلی حالات ہیں۔ لہٰذا دونوں ملکوں میں قوم پرست بیانئے داخلی عوامل کے تناظر میں بنائے گئے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند