تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان کا دوسرا دارالخلافہ…!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 12 ذیعقدہ 1436هـ - 27 اگست 2015م KSA 11:59 - GMT 08:59
پاکستان کا دوسرا دارالخلافہ…!

لندن کو پاکستان کا دوسرا ’’دارالخلافہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسلام آباد میں حکومت کی جاتی ہے جبکہ اس کی تقدیر کے اہم فیصلے واشنگٹن میں ہوتے ہیں اور سازشی منصوبہ بندیاں دبئی اور لندن میں بیٹھ کر کی جاتی ہیں۔ لندن پاکستانی سیاستدانوں کا ’’Hub‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس شہر کو پاکستان کے جعلسازوں ، فراڈیوں ، بزدلوں، جلاوطنوں، مجرموں اور بھگوڑوں کی ’’جائے پناہ‘‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے امیر زادوں کی ’’چھینک گاہ‘‘ بھی لندن ہے۔ بخار یا چھینک کی صورت میں لندن کی فلائٹ پکڑی جاتی ہے، نظریہ ضرورت کے تحت چھینک سرطان یا یرقان کی صورت بھی اختیار کر سکتی ہے۔ پاکستانی مذہبی مافیاز کا مرکز بھی لندن تصور کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے تمام مسلکی رنگ برطانیہ میں جلوہ افروز ہیں۔ عربوں کی سرمایہ کاری کا اہم مرکز بھی لندن ہے۔ ہر مسلک کی اپنی الگ مسیت قائم ہے۔ پاکستانیوں کے ریستورانوں میں بھی ’’الکوحل‘‘ مہیا ہے جبکہ امریکہ میں مسلمان خاص طور پر پاکستانیوں کے ریستورانوں میں شراب مہیا نہیں کی جاتی ،یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں دیسیوں کے ریستورانوں میں گورے خال خال دکھائی دیتے ہیں ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کے گورے مصالحہ دار کھانے ہضم نہیں کر سکتے جبکہ برطانیہ کے گوروں کی نانی ہندوستانی تھی یعنی ان کے خون میں مصالحہ کا ’’چسکا‘‘ ہنوز موجود ہے ۔ یورپین گوروں کے ہجوم کی وجہ سے دیسیوں کے ریستورانوں میں رونق لگی رہتی ہے۔ البتہ الکوحل نہ رکھا جائے تو بزنس ٹھپ سمجھو لہذا شراب مہیا کیئے بغیر مسلمانوں کے بزنس (اس جہان میں) خسارہ کا کاروبار ہے۔ کئی مسلمان ریستوران کے بزنس پر ٹیکسی چلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انگریزوں کے لہجہ اورمہنگائی کا امریکہ سے فرق ہے۔ برطانیہ سے امریکہ وزٹ کرنے والے امریکہ سے دل بھر کر شاپنگ کرتے ہیں ۔ جو چیز امریکہ میں ڈالر میں ملتی ہے وہ برطانیہ میں پائونڈز میں دستیاب ہے جبکہ چینی مصنوعات پوری دنیا میںچھا گئی ہیں۔بندہ دنیا میں جہاں چلا جائے، مساجد کا ماحول باہر کی دنیا سے مختلف اور مانوس معلوم ہوتا ہے۔ کوئی روک ٹوک نہیں، سکیورٹی چیک نہیں، شہریت، رنگ، نسل مذہب سے بالائے طاق اللہ کا گھر سب کے لئے کھلا ہوا ہے۔ مصروفیت کی وجہ سے لندن میں پاکستان کے نئے سفیر’’ہائی کمیشن ‘‘سید ابن عباس سے ملاقات کا موقع نہ مل سکا ۔ سابق ہائی کمیشن واجد شمس الحسن سے بڑی مشکل سے نجات حاصل کی ہے۔ موصوف کی مبینہ کرپشن اور ’’زرداری‘‘ خدمات کے مبینہ شواہد کے باوجود نوازحکومت نے ان کی مدت ملازمت میں مزید توسیع دے رکھی تھی۔ ہم نے ایسے کچھ لوگوں کا مسئلہ وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے دوران اٹھایا تو انہوں نے یقین دلایا کہ مستقبل میں کوئی ریٹائر افسر توسیع نہیں لے سکے گا جبکہ اس کے بعد بھی ’’طارق فاطمی‘‘ کے منظور نظر توسیع لیتے آ رہے ہیں اور تبادلے اور ترقیاں بھی پا رہے ہیں۔ نیویارک اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر مسعود خان بھی بڑی مشکل سے تبدیل کئے گئے ہیں اور اب ان کی جگہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سنبھالی ہے۔ سابق جنرل پرویز کیانی کی ملازمت میں بھی توسیع کر دی جاتی مگر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے کچھ فیصلوں سے خائف ہوتے ہوئے انہیں توسیع نہ دینے کی یہ ’’عارضی‘‘ پالیسی اختیار کر لی گئی جبکہ چیف جسٹس خود بھی توسیع کے خلاف تھے۔ ان کے ریٹائر ہوتے ہی بیورو کریٹس کے تبادلوں اور مدت ملازمت میں توسیع کا ’’نظریہ ضرورت‘‘ جاری رہا۔سوشل میڈیا پر جنرل راحیل شریف کی ملازمت میں توسیع سے متعلق پروپیگنڈا مہم بھی جاری ہے لیکن کام بندوں کا محتاج نہیں، کسی بھی کام کو کرنے کے لیئے مدت نہیں جذبہ درکار ہے۔ جنرل راحیل چاہیں تو اپنی مدت ملازمت کے دوران بہت کام کر سکتے ہیں حتیٰ کہ کالا باغ ڈیم بھی بنوا سکتے ہیں۔ لندن کی تفریح یہاں کی سینٹرل مسجد المعروف ’’ریجنٹس پارک ماسک ‘‘ میں نماز کی ادائیگی کے بغیر ادھوری تھی۔ شاندار مسجد ہے۔ لندن کے مہنگے اور مصروف علاقے میں بڑی اور منظم مسجد نے متاثر کیا۔ لندن سینٹرل ماسک فریڈرک گبرڈ کی ڈیزائن کی ہوئی ہے۔ سنہری گنبد والی یہ مسجد 1978 میں مکمل ہوئی۔ مسجد کے اندر ریستوران بھی ہے، یہاں کی فوڈ باہر کی نسبت کم قیمت اور چائے انتہائی لذیذ ہے۔ کچھ موسم زبردست تھا اور کچھ یہاں کی گرم گرم دیسی چائے نے سکون پہنچایا۔ روحانی سکون اللہ کے گھر میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ دنیا میں جہاںچلے جائو، اللہ کے مہمان ہوتے ہو مگر مساجد میں اللہ کا ’’بندہ‘‘ ہوتے ہو۔ پاکستانی سیاست کے دوسرے دارلخلافہ ’’لندن‘‘ میں بشمول نواز شریف اور عمران خان متعدد سیاسی و مذہبی رہنمائوں کی اولادیں ’’محفوظ اور محظوظ‘‘ زندگی گزار رہی ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند