تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
65ء میں شکست بھارت کا مقدر بنی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 13 ذیعقدہ 1436هـ - 28 اگست 2015م KSA 10:21 - GMT 07:21
65ء میں شکست بھارت کا مقدر بنی

بھارتی فوج میں اعلیٰ ترین عہدے سے ریٹائرڈ ہونے والے ائیرمارشل بھارت کمار نے پچاس سال میں پہلی مرتبہ تسلیم کیا ہے کہ 1965ء کی جنگ میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا یہاں تک کہ پاکستان نے صرف دو دن میں بھارت کے 35 طیارے تباہ کردیئے تھے۔ ائیرمارشل بھارت کمار نے یہ اعتراف اپنی کتاب’’ دی ڈیولزآف دی ہیمالین ایگل،دی فرسٹ انڈو پاک وار‘‘ میں کیا ہے جو یکم ستمبر کو منظر عام پر آئے گی۔ یہ کتاب ایسے موقع پر شائع ہورہی ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ کو 50 سال مکمل ہونے جارہے ہیں۔

بھارت کے موقر اخبا ر’’ٹائمز آف انڈیا‘‘نے اس کتاب کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی شائع کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی وزارت دفاع کے ریکارڈ میں تسلیم کیا گیا کہ 1965ء کی جنگ میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تاہم یہ جنگ ہار جیت کے بغیر ختم ہوئی۔جنگ کے دوران بھارت کے 460 طیاروں میں سے 59 اور پاکستان کے 186 میں سے 43 طیارے تباہ ہوئے۔ 1965ء کی جنگ بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلی فضائی جنگ تھی۔ بھارتی فضائیہ کو پاک فضائیہ پر عددی لحاظ سے برتری حاصل تھی لیکن پاکستانی طیارے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھارت کے مقابلے میں زیادہ جدید تھے۔ جنگ کے وقت بھارتی فضائیہ کے پاس 28 لڑاکا اسکوڈرن جبکہ پاکستان کے پاس صرف 11  اسکواڈرن تھے۔ پاک فضائیہ نے آناً فاناً دو دن میں بھارت کے 35 طیارے تباہ کردیئے جن میں 6 ستمبر کو پٹھان کوٹ اور سات ستمبر کلائکندا میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ بھارت نے اس جنگ کے دوران اپنے 28 اسکواڈرن میں سے 13 اسکواڈرن چینی خطرے کے پیش نظر مشرقی اور وسطی سیکٹر پر تعینات کیے۔

بھارتی اخبار کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارتی فضائیہ کا بہت زیادہ نقصان ہو ا جسے پاکستان کی فتح سمجھا گیا۔ بھارتی اخبار نے اس سے پہلے کی ایک رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ مودی حکومت کی طرف سے 1965ء کی جنگ کو ایک عظیم فتح کے طور پر منانے کے فیصلے پر بھارت میں تنقید کی جارہی ہے اورکئی حلقوں میں سوال پیدا ہو رہے ہیں کہ 1965ء کی جنگ تو ہار جیت کے بغیر ختم ہو ئی تھی تو پھر یہ فتح کا جشن کیوں منایا جا رہا ہے۔ بھارتی وزارت دفاع کی سرکاری جنگی تاریخ بتاتی ہے کہ 1965ء کی جنگ کا خاتمہ بغیر ہار جیت کے ہوا۔ یہ جنگ 22 دن تک جاری رہی اور 22 ستمبر کو جنگ بندی ہو گئی۔ وزارت دفاع نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ مجموعی طور پرفضائی جنگ میں کسی نے بھی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔ واضح پلان کے بغیردونوں اطراف نے آپریشن کیا۔بھارت نے 1965ء کی جنگ کے زخم کا بدلہ لینے کیلئے 1971ء میں پاکستان کو بھاری نقصان پہنچایا۔

چند دن قبل بھارتی فوج کی جانب سے دئیے گئے اشتہار میں تسلیم کیا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے میدان جنگ میں پاکستانی فوج کے خلاف بزدلی کا مظاہرہ کیا۔ صفحہ اول کے ہندی اخبارات میں چھپنے والے ان اشتہارات میں بھارتی فوج نے اپنی فوج کی بزدلی کو خود تسلیم کیا ہے۔بھارتی فوج کے شعبہ اطلاعات عامہ کے ایڈیشنل دائریکٹر کا کہنا ہے کہ مذکورہ اشتہار غلطی سے شائع ہوا ہے تاہم حقیقت میں بھارتی افواج نے میدان جنگ سے فرار اور اپنی شکست کی حقیقی کہانی خود ہی بیان کردی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگ ستمبر افواج پاکستان کی شجاعت ، دلیری اور جانبازی کی وہ تاریخ رقم کر گئی جس نے خلافت عثمانیہ کے بعد دنیا کے نقشہ پر ملت اسلامیہ کی ایک قوت کو زندہ کیا۔ 65ء کی جنگ کا ہر محاذ جذبہ حریت کی داستان رقم کر گیا۔ اس جنگ میں پوری قوم فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی تھی۔ ہمیں سوچنا چاہیے جس قوم نے رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے والے اپنے سے چار گنا بڑے دشمن کو شکست سے دوچار کرکے بازو مسلم کا زور دکھایا۔ آج بھی وہ قوم دشمن کے دانت کھٹے کرنے کیلئے تیار ہے۔

---------------------

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند