تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بین الاقوامی سرحد ،ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 15 ذیعقدہ 1436هـ - 30 اگست 2015م KSA 09:04 - GMT 06:04
بین الاقوامی سرحد ،ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول

انگریزی میں یہ ایک جملہ میں نے ڈان کی ویب سائٹ کی ایک خبر سے نقل کیا ہے،من وعن ملاحظہ کیجیے:Prime Minister Nawaz Sharif expressed his concerns over firing on Working Boundary with India.
آخری چار نمایاں الفاظ کا ترجمہ یوں ہے۔بھارت کے ساتھ ورکنگ باؤنڈری ۔وزیراعظم سے منسوب یہ جملہ 28 اگست کو ورکنگ باؤنڈری کے دونوں جانب فائرنگ اور گولہ باری سے ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق خبر میں شامل ہے۔

اب ان بزرجمہر رپورٹروں اور ایڈیٹروں کو کوئی جا کر بتائے کہ پاکستان کی بھارت کے ساتھ کوئی ورکنگ باؤنڈری نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی سرحد ہے۔دو ممالک کے درمیان اتفاق رائے سے طے شدہ سرحدی لکیر عالمی قانون کے تحت بین الاقوامی سرحد کہلاتی ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ضلع نارووال سے سندھ تک بین الاقوامی سرحد ہے۔یہ قریباً اٹھارہ سو میل طویل سرحد ہے۔اس میں صرف سرکریک کا تھوڑا سا متنازعہ علاقہ ہے اور اس کی حدود کی نشان دہی پر اختلاف ہے۔پاکستان کے ضلع گجرات سے لے کر نارووال کی تحصیل ظفروال تک قریباً نوے میل کی پٹی کے اُس جانب مقبوضہ جموں (وکشمیر) کا علاقہ ہے۔ادھر یہ علاقہ پاکستان کا ملکیتی ہے اور اس میں کسی قسم کا تنازعہ نہیں ہے۔ایک طے شدہ علاقے اور متنازعہ علاقے کے درمیان ورکنگ باؤنڈری ہوتی ہے۔یعنی اس کے دوسری جانب جموں وکشمیر کا متنازعہ علاقہ ہے جس پر پاکستان اور بھارت دونوں ہی دعوے دار ہیں۔

اب آگے آئیں۔بھمبر،گجرات سے لے کر گلگت ،بلتستان (شمالی علاقہ جات) تک پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور بھارت کے زیرانتظام مقبوضہ جموں و کشمیر کے درمیان حد متارکہ جنگ (لائن آف کنٹرول ) واقع ہے۔اس سرحدی لکیر پر دونوں ملکوں کے درمیان 1949ء میں اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی ہوئی تھی۔تب یہ سیز فائرلائن کہلاتی تھی،بعد میں 1972ء میں شملہ سمجھوتے کے وقت اس کو لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا تھا۔دونوں ملکوں نے تب اپنی اپنی فوجوں کے زیر قبضہ علاقوں پر حکومتیں قائم کر لی تھیں۔ یہ دونوں علاقے ابھی تک متنازعہ ہیں اور ان کا کوئی حتمی تصفیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نہیں ہوا ہے مگر بھارت ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر کو اپنے آئین کے تحت اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔وہ اس کو متنازعہ تسلیم نہیں کرتا ہے اور حال ہی میں بھارت نے ورکنگ باؤنڈری کو بھی بین الاقوامی سرحد قرار دینا شروع کردیا ہے۔

اس تحریر کا مقصد اسی امر کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے کہ بعض صحافی حضرات اور صحافتی ادارے شعوری یا لاشعوری طور پر اپنی خبروں میں بھارتی مؤقف کی ترجمانی کرتے نظر آرہے ہیں۔خبر لکھتے وقت ہمارے اکثر صحافی بھائی ورکنگ باؤنڈری اور بین الاقوامی سرحد کے درمیان کوئی فرق ملحوظ نہیں رکھتے ہیں۔اب ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ واقع سیکٹروں کے نام بھی نوٹ فرمالیں کیونکہ ایک دن ایک چینل کے عملے کو ''پھوکلیان'' لکھتے ہوئے جان کنی کے عالم سے گزرنا پڑا تھا۔بجوات،ہرپال ،چارواہ ،چوبارہ ،پھوکلیان،چپراڑ اور سچیت گڑھ ۔

دلچسپ تقسیم :بٹوارے کے وقت ورکنگ باؤنڈری پر بجوات کے علاقے میں ایک مقام پر سرحدی لکیر اس انداز میں کھینچی گئی تھی کہ پورا گھر تو پاکستانی علاقے کی جانب ہے لیکن بیٹھک یعنی ڈرائنگ روم کا دروازہ مقبوضہ جموں کی جانب کھلتا تھا۔اسی طرح ایک مقام پر کنواں (کھوہ) پاکستانی علاقے میں تھا مگر بیل جب چکر کاٹتے تھے تو وہ ورکنگ باؤنڈری کے اس پارسے بھی ہو آتے تھے کیونکہ کنویں کا پھیر(پنجابی میں اس کا کوئی اور نام ہے) آدھا پاکستانی علاقے میں تھا اور آدھا مقبوضہ جموں کے علاقے میں ،مگر کنواں پاکستانی ہی تھا۔کھوہ کے لوہے کی ٹنڈوں والے ڈھول اور اس کی لوہے کی چرکھڑی(چرخی) اور لٹھ کے درمیان چند فٹ کا فاصلہ ہوتا تھا۔اس کے ساتھ شہتیر نما لمبی لکڑ لگائی جاتی تھی جس کے آگے بیلوں کی جوڑی کو جوتتے تھے۔ایسا ہی ایک کنواں راجستھان اور چولستان کے درمیان سرحد پر بھی تھا،وہ چند سال پہلے تک تو موجود تھے،اب کا پتا نہیں۔اس کنویں کے مشقتی بیل بھی بغیر کسی ویزے کے بھارت کے سرحدی علاقے سے ہو آتے تھے۔تب بھلے زمانے تھے۔اگر آج کے دور میں ہوتے تو جاسوسی کے الزام میں اس معصوم کبوتر کی طرح دھر لیے جاتے جسے بھارتی حکام نے کچھ عرصہ قبل باقاعدہ طور پر حراست میں لے لیا تھا اور اس کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے طبی ٹیسٹوں کے مرحلے سے گزرنا پڑا تھا۔

کھوہ کی بات چلی ہے تو پنجابی کے دو اکھان بھی پڑھ لیجیے:''آویں ساڈے کھوہ تے گلاں کریں مُنھ تے'' اور''واہندیاں دے کھوہ ،ملدیاں دے ساک''۔اب وہ کھوہ رہے اور نہ وہ ساک (رشتے دار)۔مُنھ پر باتیں کرنے والے بھی نہیں رہے۔غیبتیں کرنے والے بہت ہوگئے اور لوگوں میں انس و پیار بھی جاتا رہا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند