تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تحریک انصاف اور خدشات منصفین
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 16 ذیعقدہ 1436هـ - 31 اگست 2015م KSA 08:33 - GMT 05:33
تحریک انصاف اور خدشات منصفین

پیپلز پارٹی اسکی ہو گی جسکا گڑھی خدابخش ہو گا۔ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے انسان کی ہو یا سیاسی جماعت کی۔یقینا پیپلز پارٹی کے خودساختہ جلا وطن سربراہ جناب آصف علی زرداری کی آخری آرام گاہ گڑھی خدا بخش نہیں ہوگی۔ اور بھٹو کی یہ جماعت یقینا نواب شاہ کے کسی قبرستان سے کنٹرول نہیں کی جا سکے گی۔ پیپلز پارٹی کی حالیہ چھلانگیں اور پھلانگیں بتا رہی ہیں کہ سیاسی سیلاب کا پانی اسکی ناک تک آپہنچا ہے۔ پارٹی کے اہم آئینی عہدیدار وزیر اعلٰی سندھ قائم علی شاہ اس سیلابی لہر پر اپنی لکڑ کی کرسی کے سہارے تنکے کی مانند ہچکولے کھاتے زندہ ہیں اور چلا چلا کر کہ رہے ہیں "میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں" سندھ کے عوام کے مینڈیٹ کا دعوٰی کرنے والے جس ڈھٹائی اور بے شرمی سے اقتدار سے چپکے ہیں لگتا ہے کہ انہیں پیروں تلے سے عوامی مینڈیٹ کی ریت کھسکتی محسوس ہو گئی ہے یا پھر اپنے جرائم پیشہ ساتھیوں کے سامنے اپنی بے بسی کے محض آنسو بہا رہے ہیں۔ بھٹو کی پارٹی کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ صوبے میں عوامی مینڈیٹ کے دوبارہ حصول کی بات تو دور اب بلدیاتی انتخابات کے نام پر بھی زرداری کی پارٹی کی جان جاتی ہے۔

ایک طویل قانونی اور سیاسی کج بحثی کے بعد جب الیکشن کمیشن نے سندھ اور پنجاب میں 31ا کتوبر 2015ء کو بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل کرانے کا شیڈول جاری کر دیا ہے تو پیپلز پارٹی اپنے ہی دور میں تعینات کردہ الیکشن کمیشن کے اراکین کے استعفٰی کے لئے تحریک انصاف کے مطالبے کی حمایت میں شدت لے آئی ہے کیونکہ ایسی صورت میں الیکشن کمیشن آئینی طور پر مکمل ہو گا اور نہ ہی بلدیاتی انتخابات ہو سکیں گے۔نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ الیکشن کمیشن کے استعفے کے لئے عمران خان کی قوالی میں ہمنوا بن بیٹھے ہیں ۔ اسکی وجہ صاف ظاہر ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اگر اراکین الیکشن کمیشن مستعفی ہو جاتے ہیں تو نئے اراکین کی تقرری کا عمل بطور قائد حزب اختلاف انکے ہاتھ میں آجائے گا۔ آئین کے تحت نئے اراکین الیکشن کمیشن کی تعیناتی کے لئے وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف مشاورت سے ہر صوبے کے لئے تین ناموں کی فہرست (یعنی کل 12 نام) ایک پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے۔پارلیمانی کمیٹی ان میں سے ہر صوبے سے ایک نام (کل 4 نام) چنے گی جس پر صدر مملکت ،وزیراعظم کے رسمی مشورے سے تعیناتی کرنے کے پابند ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کے اراکین کے استعفوں کی صورت میں اگر لاہور اور ملتان میں ہونے والے ضمنی انتخاب کا شیڈول بھی متاثر ہوا اور اس تاخیر کے باعث تحریک انصاف کے لئے عوامی ہمدردی کی بظاہر جو فضا قائم ہوئی تھی وہ بھی دم توڑ دے گی۔حکومت نے بمشکل چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کی تھی جس کی وجہ عمران خان کی کنٹینر والی ان تقریروں کا خوف تھا جو ہر ریٹائرڈ جج کے دل میں بیٹھ چکا تھا۔ اب دیکھیں عمران خان موجودہ اراکین الیکشن کمیشن کے استعفوں کی صورت میں نئے اراکین کمیشن پر کس حد تک راضی ہوں گے۔ ظاہری بات ہے ان نئے اراکین الیکشن کمیشن کے لئے بھی وزیراعظم نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا "مک مکا"آئینی طور پر لازمی ہے۔ اراکین الیکشن کمیشن کے استعفوں کے لئے تحریک انصاف کے دھرنے کے اعلان سے بھی بہت سے آئینی و قانونی سوالات جنم لیتے ہیں۔ کیا آئین میں جن آئینی عہدوں کو خصوصی تحفظ دیا گیا ان عہدیداروں کو استعفوں پر مجبور کرنے کے لئے دئےے جانے والا دھرنا آئین اور قانون کے مطابق ہو گا؟ الیکشن کمیشن کے اراکین کے عہدوں کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی طرح خصوصی تحفظ حاصل ہے اگر اراکین الیکشن کمیشن کو استعفوں پر مجبور کرنے کے لئے دھرنا دیا جا سکتا ہے تو کل سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف ایسے سیاسی دھرنوں کو کون روک سکے گا؟

سپریم کورٹ اپنا دامن بچانے کے لئے اگر اراکین الیکشن کمیشن کے تحفظ کے لئے اقدامات نہیں کرے گی تو یہ آگ کل انکے دامن تک بھی پہنچ جائے گی۔ مگر افسوس تو الیکشن کمیشن کے اراکین پر بھی ہوتا ہے کہ جو عہدے کا حلف اٹھاتے وقت بلا خوف و خطر آئین کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے کی قسم اٹھاتے ہیں اور پھر دھرنے کے خوف سے استعفٰی دینے پر غور شروع کر دیتے ہیں ۔ اس کو چور کی داڑھی میں تنکا نہیں تو اور کیا سمجھا جائے؟ مگر پھر "جان بچی سو لاکھوں پائے"کا ورد کرنے والی نواز حکومت اور اپنا دامن جھاڑنے والی سپریم کورٹ بھی الیکشن کمیشن کے تحفظ کو نہ آئے تو یہ اراکین الیکشن کمیشن بھی کیا کریں۔ جو حکومت پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملوں کو نہیں روک سکی اور حملہ آوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی وہ حکومت الیکشن کمیشن کی عمارت کا کیا دفاع کرے گی۔ بعید نہیں کہ آئندہ دھرنے کے دوران تحریک انصاف کے جہادی الیکشن کمیشن کے گملوں کی حفاظت بھی اسی طرح کریں جس طرح پارلیمنٹ اور پی ٹی وی کے گملوں میں انہوں نے پُر امن احتجاج کی نئی فصل بوئی تھی۔ پچھلے دھرنے کے تجربے کے بعد اسلام آباد پولیس بھی عدم تحفظ اور خوف کا شکار نظر آتی ہے۔

ابھی تک حکومت کی طرف سے بھی نئے دھرنے کی دھمکی پر چپ سادھ لی گئی ہے ۔ نواز حکومت نے چار حلقوں کی قربانی سے تو انکار کر دیا تھا مگر چار اراکین الیکشن کمیشن کو قربان کرنے میں اسے کوئی اعتراض نہیں۔یہ چار اراکین کمیشن جائیں گے تو چار ایسے ہی باکردار ریٹائرڈ جج صاحبان بازار میں بہت مل جائیں گے۔ حیرت تو ان نئے اراکین کمیشن پر بھی ہو گی جو ان حالات میں اپنے ساتھی ریٹائرڈ جج صاحبان کی کرسی قبول کریں گے۔ شاید کسی ایسے موقع کے لئے ہی کہا گیا ہے کہ "عزت تو آنی جانی چیز ہے انسان کو بس ڈھیٹ ہونا چاہئیے"۔ یہ مقولہ صرف الیکشن کمیشن کے جانے اور آنے والے اراکین کے لئے ہی نہیں بلکہ آزاد عدلیہ اور حکومت کے لئے بھی ہے جو ایک آئینی ادارے کی سر عام تذلیل کا خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے۔ اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ دھرنے کی دھمکی دے کر وہ الیکشن کمیشن کے اراکین کے استعفے حاصل کر کے آئین اور قانون کی خدمت کر رہے ہیں تو یہ انکی ویسی ہی بھول ہے جیسی بھول ان سے کبھی جوانی میں ہوئی ہو گی۔ بہتر اور مناسب طریقہ تو یہ تھا کہ آئینی عہدیداروں سے زبانی مطالبہ کر کے معاملہ عوام کی عدالت میں چھوڑ دیا جاتا ۔

مگر عمران خان کے نزدیک ایک وزیراعظم کے استعفے اور عدلیہ کے عہدیداروں کے استعفے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ بہتر تو یہ تھا کہ تحریک انصاف سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کے سامنے آئین کے مطابق ان اراکین الیکشن کمیشن کے خلاف ریفرنس دائر کر دیتی۔ مگر پھر وہاں بھی ٹھوس ثبوت درکار ہوتے اور ہوتا وہی جو انکے دھاندلی کے الزامات کے ساتھ عدالتی کمیشن نے کیا۔ یہ چیلنج اتنا ہی بڑا ہے جتنا بڑا چیلنج پیپلز پارٹی کے وجود کو درپیش ہے جسکا فیصلہ سندھ کے بلدیاتی انتخابات سے جڑا ہے۔ ایسے وقت میں جب ایم کیو ایم پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی سے باہر بیٹھی ہے اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹ ، صوبائی اسمبلی اور حکومت میں ہوتے ہوئے بھی بے اختیار نظر آتی ہے صوبے میں بلدیاتی انتخابات دونوں جماعتوں کے لئے مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔حکومت نے آئندہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی گزشتہ ڈیڑھ سال سے حامد میر کمیشن کی سربراہی کر رہے ہیں جو بظاہر ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچا۔ ایسی نئی صورتحال میں عمران خان کا آئینی اداروں پربڑھتا ہوا دباﺅ انکو وقتی طور پر کچھ سیاسی فائدہ تو دے گا مگر پھر عدلیہ جیسے اداروں کی کمزوری جمہوری عمل کے کفن میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔مگر پھر وزیراعظم تو وزیراعظم ہوتا ہے ذوالفقار علی بھٹو ہو یا چودھری شجاعت حسین۔ عمران خان کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ دونوں میں سے کس قسم کا وزیراعظم بننا چاہیں گے۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند