وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے سے پاکستان چین سمیت تمام علاقے اور پورے خطے میں ترقی کے رجحانات میں اضافے ہوگا۔ ستمبر 2015ء کے آخرتک نجی شعبے سے سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے کے لئے ایک ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری آئے گی۔ سڑکوں کی تعمیر سے گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر سے لے کر کراچی اور گوادر تک ملک کا اقتصادی نقشہ بدل جائے گا۔ اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی تعمیر میں شفافیت کو برقرار رکھا جائے گا۔وزیر اعظم اسلام آباد میں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی حکام کی طرف سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ترقیاتی منصوبوں پر دی جانے والی بریفنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ شاہراہوں کی تعمیر میں معیار اور وقت کی پابندی کو خاص طور پر ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔

سڑکوں کی تعمیر میں معیار کے ساتھ وقت کی پابندی کا خیال رکھنا بھی خصوصی طور پر اہمیت رکھتا ہے اور اس کا ثبوت اس حقیقت سے ملتا ہے کہ اگر ’’موٹر وے‘‘ کی تعمیر میں حکومتوں کی تبدیلی کی وجہ سے تعطل نہ آتا تو اس کے تعمیراتی اخراجات اس پر آنے والی لاگت سے تقریباً آدھے ہوتے۔ کالا باغ ڈیم اپنے اورجنل منصوبے کے تحت تعمیر ہوگیا ہوتا تو اب تک اپنے اوپر ہونے والے اخراجات سے کہیں اور کتنے گنا زیادہ زرعی اور معاشی فائدے پہنچانے کا ذریعہ ثابت ہوچکا ہوتا۔ وزیر اعظم کے مطابق راہداری منصوبے سے خطہ ترقی کرے گا۔ خطے کے کسی ایک ملک یا علاقے کی ترقی اس علاقے یا ملک تک ہی محدود نہیں رہتی اس ترقی کے مثبت اثرات پورے علاقے کو متاثر کرتے ہیں۔ ترقی خوشبو اور خوشگوار موسم کی مثال ہوتی ہے جو سرحدوں اور دیواروں میں قید نہیں کی جاسکتی چار دانگ عالم میں پھیل جاتی ہے۔ہر ترقی کے لئے راہداری کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر منزل کے لئے راستے کی ضرورت ہوتی ہے۔

راستے کی اہمیت اس بیان سے اور زیادہ آسانی سے واضح ہوجاتی ہےکہ رفتار گاڑیوں، موٹروں، کاروں اور سفر کے دیگر ذرائع کی نہیں ہوتی ان سڑکوں اور راستوں کی رفتار ان سڑکوں اور راہداریوں کی ہوتی ہے جن سے سفر کے یہ ذرائع گزرتے ہیں۔ آپ تیز سے تیز رفتار والی گاڑی لے کر کسی ناہموار ٹوٹی پھوٹی سڑک پر چلے جائیں ،گاڑی کی تیز رفتاری کام نہیں آئے گی اور ثابت ہوجائے گا کہ رفتار گاڑیوں کی نہیں ہوتی راہداریوں اور سڑکوں کی ہوتی ہے۔مزید ثبوت چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کے دوران چین کے حصے کی تعمیر کا مقابلہ پاکستان کے حصے کی تعمیر سے کرنے سے بھی حاصل کیا جاسکے گا۔ یہ مقابلہ تعمیراتی کام کے معیار، وقت اور اخراجات کا ہوگا۔

چین نے اگر ایشیائی ملکوں کی سالانہ اقتصادی ترقی جی ڈی پی کے مقابلے میں سب سے زیادہ سالانہ اقتصادی ترقی دکھائی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ گزشتہ سات دہائیوں کا چین کا اشتراکی اقتصادی نظام بھی ہے جس کے دوران چین کی افرادی قوت، لیبر فورس نے ہنر مندی کے اعلیٰ معیارتک رسائی حاصل کی ہے۔ اس اعلیٰ ہنر مندی کے عملی اظہار سے چین کی لیبر فورس چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تعمیراتی معیار کو قائم رکھتے ہوئے تعمیراتی وقت اور اخراجات کی بچت بھی دکھاسکتی ہے۔ راہداری کے سلسلے میںخطے میں سڑکوں کا جال بچھانے سے پاکستان کی لیبر فورس بھی وافر مقدار میں تعمیراتی ہنر مندی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے اور یہ ہنر مندی کسی بھی ملک، معاشرے اور معیشت کا مستقل سرمایہ بن سکتی ہے۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے