تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عرب امارات میں ہماری ناکامی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 21 ذیعقدہ 1436هـ - 5 ستمبر 2015م KSA 17:35 - GMT 14:35
عرب امارات میں ہماری ناکامی

ہمارے وزیر اعظم صاحب نے اور کسی چیز میں کامیابی حاصل کی ہو یا نہ کی ہو لیکن غیر ممالک کے دوروں میں سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ اپنے ڈھائی سالہ دورِ وزارت میں ماشاءاللہ 26 ممالک کے بیرونی دورے فرما چکے ہیں۔ان میں سے کچھ ممالک تو ایسے ہیں جو دنیا کے نقشے پر مکمل طور پر نظر بھی نہیں آتے۔حد تو یہ ہے کہ یہ دورے رکتے ہوئے بھی نظر نہیں آتے۔ ہر ماہ کہیں نہ کہیں ایک سے دو دورے ہو جاتے ہیں اور ان دوروں پر قوم کا کثیر سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم صاحب کی نظر میں تو شاید ان کے دورے ملکی مفاد میں ہوں لیکن تا حال کہیں کوئی ملکی فائدہ نظر نہیں آیا۔

پاکستان کی طرح بھارتی وزیر اعظم نر یندرا مودی بھی بیرونی دوروں کے شوقین ہیں وہ جہاں بھی گئے ملک کے لئے ڈالرز اور نئے معاہدے لے کر آئے۔ وہ ملک سے بہت مخلص ہیں اور قوم کا پیسہ ضائع نہیں کرتے۔انکا حال ہی کا کارنامہ یواے ای کے ساتھ 75 ارب ڈالر کا دفاع، انفراسٹرکچر اور خلائی ٹیکنالوجی کا معاہدہ ہے جو پاکستان کے لئے بہت ہی برا شگون ہے۔یہ کارنامہ بھی بھارتی وزیر اعظم نے اسوقت سراانجام دیا جب ہمارے وزیر اعظم صاحب بیلا روس جیسے غیر متعلقہ ملک کا دورہ فرما رہے تھے۔ عرب امارات ہماری دوست ریاستیں ہیں جو پاکستانیوں کا دوسرا گھر جانی جاتی ہیں وہاں بھارتی کامیابی ہمارے لئے بہت بڑا المیہ ہے۔ افسوس کہ وزیر اعظم صاحب نئے دوست تو بناتے رہے لیکن پرانے دوستوں کو نہ سنبھال سکے۔

عرب امارات صرف دوست ریاستیں ہی نہیں بلکہ برادر اسلامک سٹیٹس بھی ہیں۔ ہمارے دکھ اور خوشیاں بھی مشترک ہیں۔ قطر کے بعد یہ ہماری نزدیک ترین ریاستیں ہیں۔ ہمارے برادرانہ تعلقات آج سے نہیں بلکہ جب سے یہ ریاستیں آزاد ہوئی ہیں دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد میں پیش پیش ہیں۔یہ پاکستان ہی تھا جس نے عرب امارات کو اپنی افواج قائم کرنے میں ہر قسم کی مدد کی۔ہر قسم کے ہتھیار بھی فراہم کئے اور بنیادی ہتھیاروں کے لئے انحصار بھی پاکستان پر ہی کیا گیا اور تو اور انکے ائیر فورس کا پہلا چیف آف سٹاف پاکستان ائیر فورس کا آفیسر کمو ڈور صدرالدین تھا ۔امارات ائیر فورس ایک طرح سے پاکستانی ائیر فورس کا اضافی حصہ سمجھی جاتی تھی۔ ٹریڈ کے لحاظ سے ہم دوسرے بڑے پارٹنر ہیں۔

عرب امارات میں اسوقت اندازاً 12 سے 15 لاکھ پاکستانی رہائش پذیر ہیں جو اڑھائی ارب کا قیمتی زر مبادلہ بھیجتے ہیں۔ہمارا ٹریڈ اس وقت 10 ارب سے زائد ہے۔ 2005ء کے زلزلے میں عرب امارات وہ پہلا ملک تھا جو ہماری مدد کو آیا۔ اسی طرح 2010ء اور 2011ء کے سیلابوں میں بھی بہت مدد کی۔ ان قدرتی آفات کے علاوہ بھی شعبہ تعلیم ،صحت اور انفراسٹرکچر میں ان امارات کی معقول سرمایہ کاری ہے۔ لہٰذا ایسے ملک کو ناراض کر کے بھارت کے پاس جانے دینا اور بھارت کے ساتھ اس قسم کا معاہدہ کرنا نہ صرف ہماری بہت بڑی ناکامی ہے بلکہ ہماری پیٹھ میں چھرا گھو نپنے کے مترادف ہے۔

دراصل اس مسئلے کا پس منظر اس غلط فہمی کا نتیجہ ہے جو یواے ای ا ورپاکستان کے درمیان مسئلہ یمن پر پیدا ہوئی۔ عرب امارات کا مطالبہ تھا کہ پاکستان اپنی فوج بھیجے جو اسمبلی کے فیصلے کے مطابق پاکستان نہ بھیج سکا لیکن پاکستان نے ہر قسم کی مدد کا یقین دلایا۔ اس سے یواے ای کے حکمران ناراض ہوئے۔یو اے ای کے منسٹر آف سٹیٹ ڈاکٹر انور محمد گرگاش نے پاکستان کو فوج نہ بھیجنے کے لئے دھمکی بھی دے ڈالی۔ ہمارے حکمرانوں کا فرض تھا کہ اس غلط فہمی کو دور کیا جاتا۔ مزید نقصان کو روکا جاتا۔ حالانکہ ہمارے حکمرانوںکی وہاں بہت بڑی جائیدادیں ہیں،ذاتی تجارت ہے، محلات ہیں جہاں رہتے ہیں اور تو اور کانفرنسز اور کرکٹ میچ تک وہاں منعقد کرتے ہیں۔ امارات کے حکمرا نوں سے ذاتی تعلقات بھی ہیں لیکن پھر بھی حالات کی تہہ میں جنم لینے والے طوفان کا اندازہ نہ کرسکے۔

پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا اثر یو اے ای میں پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ جب بھارتی وزیر اعظم کو یو اے ای دورے کی دعوت ملی تو اس نے بغیر وقت ضائع کے اس دعوت نامہ سے فائدہ اٹھایا۔ بھارتی پریس نے تعریفوں کے پل باندھے کیونکہ دعوت نامہ 34 سال بعد ملا تھا۔اس سے پہلے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی غالباً 1981ء میں گئی تھیں۔ بہر حال بھارتی وزیر اعظم وہاں حکمرانوں سے ملے۔ ابو ظہبی کی شاندار مسجد کا دورہ کیا۔بھارتیوں سے ملا اور کرکٹ سٹیڈیم میں بھارتیوں کے ایک بہت بڑے مجمعے سے خطاب کیا۔بھارتیوں کی تعداد اور جوش و خروش دیکھتے ہوئے فرمایا؛

’’ یو اے ای میں بھی ایک چھوٹا سا ہندوستان موجود ہے‘‘۔یو اے ای میں بھارتیوں کی تعداد 25 سے 26 لاکھ ہے جو مقامی عرب آبادی سے زیادہ ہے اور کل آبادی کا 30 فیصد ہے۔ان میں ہنر مند اور غیر ہنر مند لیبر شامل ہے۔بھارتی زیادہ تر ہنر مند لیبر کے زمرے میں آتے ہیں۔زیادہ تر بھارتی اپنی کمپنیاں اور بینکس چلارہے ہیں۔ اندازاً 75ایسی کمپنیاں اور ادارے ہیں جو بھارتی ہنر مند بذات خود چلا رہے ہیں۔ بھارتی تقریباً 14 ارب روپیہ سالانہ زر مبادلہ وطن بھیجتے ہیں۔ تجارتی حجم 59 ارب ڈالر سے قدرے زیادہ ہے جس میں 33 ارب بھارت اور 26 ارب عرب امارات کا شئیر ہے۔بھارت کی وہاں اکثر نمائشیں لگتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں صحت پر ایک نمائش لگی جس میں بھارتی وزیرِ صحت اور مختلف سپیکرز وہاں گئے۔اس میں یوگا، اریوویدک، یونانی، مدھا اور ہومیو پیتھک طریقہ علاج پر زور دیا گیا اور ان فیلڈز میں بھارت کو پہلے ہی برتری حاصل ہے۔تجارت میں بھارت عرب امارات کا دوسرا بڑا پارٹنر ہے جبکہ عرب امارات تیسرا بڑا پارٹنر ہیں۔

نریندرا مودی ایک بنیاد پسند، دہشتگردی سے تعلق رکھنے والا کٹر اور متعصب ہندو ہے۔ اسکے ہاتھوں پر بہت سے مسلمانوں کا خون ہے۔نریندرا مودی کے مسلمان دشمن رویے سے عرب بخوبی واقف ہیں۔ اسکے باوجود اسے وہاں بلا کر اتنی عزت دینا اور اتنا بڑا معاہدہ کرنا بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ پھر بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی ابو ظہبی کے حکمران نے وہاں مندر بنانے کے لئے ایک ٹکڑا زمین بھی پیش کیا ہے۔اسکا مطلب یہ ہے کہ اب وہاں ایک خالص مسلمان ریاست میں مندر بھی بنے گا اور مندر کی گھنٹیاں بھی بجیں گی۔

مسلم امہ کا کنسپٹ تو ختم ہوگیا۔ مزید یہ کہ بھارت عرصہ درازسے سیکورٹی کونسل کی مستقل نشست کے لئے کوشاں ہے اور اب اسے یو اے ای کی بھی سپورٹ مل گئی ہے جس سے اسکا کام آسان ہوجائے گا۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو سبق سکھانے کے لئے خصوصی طورپر یہ دعوت نامہ دیا گیا تھا ۔اب انفراسٹرکچر بھارت کا ترقی کرے گا۔ ہتھیاروں کی فیکٹریاں بھارت کی چلیں گی اور خلائی ٹیکنالوجی کے نام پر بھارت ہی کے سائنسدان کام کریں گے ہر طرف سے فائدہ بھارت ہی کو ہوگا۔ اب جب بھارتی ہتھیار اس ملک میں جائیں گے تو وہاں کا طریقہ تربیت بھی بدلے گا ۔ پہلے یہ لوگ ہتھیار امریکہ سے لیتے تھے اب بھارت سے لیں گے تو انکی فوج کا قبلہ بھارت ہی کی طرف ہوگا۔ بھارتی فوجی ہی وہاں تربیت دینے کے لئے جائیں گے اور انکے آفیسرز اور جوان مزید تربیت کے لئے بھارتی تربیتی اداروں کا رخ کریں گے اور یہ پاکستان کے لئے بہت بڑا سیٹ بیک ہوگا۔
---------------------
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند