تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا میں صہیونی رسوخ کی حدود
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 23 ذیعقدہ 1436هـ - 7 ستمبر 2015م KSA 12:07 - GMT 09:07
امریکا میں صہیونی رسوخ کی حدود

جب گزشتہ ہفتے شاہ سلمان اور صدر اوباما کی دعوت پر واشنگٹن گئے تو ایران کے ساتھ ہونے والی ایٹمی ڈیل اس ملاقات کے ایجنڈے پر شامل نہ تھی، لیکن اس موضوع سے صرف نظر کرنا ایسا ہی ہے جیسے کمرے میں گھس آنے والے ہاتھی سے اغماض برتنا۔

ڈیموکریٹس میں سے 34 سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے بعد صدر اوباما کو یقین ہے کہ وہ یورپی یونین، فرانس، برطانیہ، جرمنی، روس اور چین کے ساتھ مل کر گزشتہ جولائی میں ایران کے ساتھ ہونے والی ڈیل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اس ڈیل کی کامیابی مشکل حالات کا سامنا کرنے والے امریکی صدر کے لیے قدرے سکون کا سانس لینے کا باعث بنی کیونکہ انھوں نے اس تاریخی معاہدے کو طے کرنے کیلئے اپنی تمام تر سیاسی ساکھ داؤ پر لگا دی تھی۔ بے شک انہیں اس سفارتی فتح کیلئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ واشنگٹن اور تل ابیب میں جنگی جنون برپا کرنے والے شکروں کی موجودگی کے باوجود ایران کے ساتھ جنگ، جس کے نہایت تباہ کن نتائج نکل سکتے تھے، کا خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ٹل گیا۔ اگرچہ اس ڈیل کے کئی فوائد ہیں لیکن اسکی وجہ سے تل ابیب، مشرق وسطیٰ اور امریکہ میں بہت سوں کو پریشانی لاحق رہے گی۔

سب سے پریشان کن سوچ یہ ہے کہ پابندیوں کے بعد ایران پچاس بلین ڈالر اور پھر ایک سو بیس بلین ڈالر کی خطیر رقوم استعمال کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ یہ رقوم ایران کی اپنی ہیں لیکن ، امریکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی طرف سے اس پر عائد ہونے والی پابندیوں کی وجہ سے منجمد کر دی گئی تھیں۔ اسکے علاوہ ایران اور گیس کو آزادی سے برآمد کر سکے گا۔ اس ڈیل کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اتنی بھاری رقوم ملنے کے بعد ایران اپنے پراکسی لشکروں کو بھاری وسائل فراہم کر کے دیگر ممالک کیلئے زیادہ پریشانی کا باعث بنے گا۔

دوسری طرف ڈیل کے بارے میں پرامید سوچ رکھنے والے رجائیت پسندوں کے نزدیک ایران عالمی معاملات میں مثبت کردار ادا کرے گا۔ سب سے اہم بات یہ کہ اب یہ زیادہ موثر اور فعال قوت بن کر داعش کے مقابلے میں کھڑا ہو گا۔ بہت سے مغربی مبصرین کا خیال ہے کہ جب ایک مرتبہ ایران تنہائی سے نکل کر عالمی تجارت کا حصہ بنے گا۔ اسکا بیرونی دنیا سے زیادہ واسطہ پڑے گا تو اس کے شدت پسند عناصر کی سوچ میں اعتدال پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔ اس میں ںظریاتی شدت کی بجائے رواداری اور ہم آہنگی پر مبنی سوچ پروان چڑھے گی۔ اسکی نوجوان نسل کئی عشروں سے آیت اللہ کا لقب رکھنے والے مذہبی رہنماؤں کی طرف سے نافذ کردہ سخت قوانین سے تنگ آ چکی ہے اور وہ آزاد فضا میں سانس لینا چاہیں گے۔

تاہم امریکی دائیں بازو کے حلقوں میں اس ڈیل کے حوالے سے سخت ناپسندیدگی پائی جاتی ہے۔ ری پبلکن، جو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن  نیتن یاھو کی ترجمانی کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں، صدر اوباما پر ہر قسم کے الزامات عائد کرتے سنائی دیتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ایران کو خوش کرنا اسرائیل کو ایک اور ہولو کاسٹ میں دھکیلنے کے مترادف ہو گا۔ اس منفی تاثر کی وجہ اسرائیل مخالف بیانات ہیں جو سابق ایرانی صدر احمدی نثاد بلا وجہ دے کر ماحول کو کشیدہ کر دیا کرتے تھے۔ ایک اچھی صبح بیدار ہو کر واہ دائیں بائیں دیکھتے اور اعلان کر دیتے کہ اسرائیل صفحۃ ہستی سے مٹںے والا ہے۔ اسکے ساتھ ہی تل ابیب اور واشنگٹن میں گھنٹیاں بج اٹھتیں۔ دراصل ایسے بے سروپا بیانات کا ایران کو ہی نقصان ہواْ اسرائیل، امریکا میں اپنا موقف بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں کامیاب ہوا۔ اس طرح سابق ایرانی صدر نے ایک طرح سے اسرائیل کے پروپیگنڈے کو واشنگٹن میں تقویت دی۔ سابق امریکی صدر روز ویلٹ کہا کرتے تھے: ’’ہاتھ میں ڈھڈا ہو تو زیادہ چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘

اس ڈیل نے امریکی یہودیوں کو بھی تقسیم کر دیا ہے۔ اس سے قبل کبھی کسی غیر ملکی معاملے نے انکی رائے کو منقسم نہیں کیا تھا۔ یہودیوں کے بارے میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ انکی سوچ میں یکسانیت پائی جاتی ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ ان میں لبرل اور دقیانوسی، دونوں قسم کے گروہ پائے جاتے ہیں۔ بیرونی دنیا خاص طور پر ایشیائی افراد کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ان میں تمام کے تمام اسرائیل کے حامی نہیں ہیں۔ درحقیقت زیادہ تر امریکی یہودی ڈیموکریٹس ہیں اور انہوں نے 2008ء اور 2012ء میں اوباما کو ووٹ دیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتہائی طاقتور امریکن اسرائیلی پبلک افیئرز کمیٹی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسکی وجہ سے کانگرس کے ارکان اور مقامی سیاست دانوں کی قسمت بدل سکتی ہے۔ اسرائیل سے قریبی تعلق رکھتے ہوئے AIPAC مشرقی وسطی کے حوالے سے امریکی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔

تاہم ایران کے ساتھ ہونے والی ایٹمی ڈیل میں رخنہ ڈالنے کیلئے AIPAC نے زمین آسمان ایک کر دیے۔ اس نے 20 ملین ڈالر کی تشہیری مہم چلائی تاکہ کانگرس کے ارکان کو اس بل کے خلاف ووٹ دینے کے لیے قائل کیا جا سکے۔ انتہائی متاثر کن لابنگ کی گئی۔ نیتن یاھو کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ اس ڈیل کو پٹڑی سے اتارنے کیلئے کوئی خفیہ چال چلے گا۔ میرا خیال نہیں کہ اس کرہ ارض کی کوئی اور ریاست امریکی پالیسیوں میں اس طرح مداخلت کرنے کی مجاز ہے، اسکے باوجود امریکی یہودی اس ڈیل کو کامیاب ہونے سے نہ روک سکے۔ اس سے ایک احساس شدت سے جاگزیں ہوا کہ امریکا، صہیونی طاقت کی بھی بہر حال کچھ حدود ہیں اور وہ اپنی ہر بات منوانے پر قادر نہیں۔ لگتا ہے کہ یہ تاثر بہت جلد ختم نہیں ہوجائے گا۔ بہت سے لبرل سوچ رکھنے والے امریکی یہودی یہ بات سمجھتے ہیں کہ اس ڈیل کی مخالفت کرنا ان کے وطن، امریکا کے مفاد کے خلاف ہے کیونکہ اسکی ناکامی سے مشرق وسطی میں ایک اور جنگ بھڑک سکتی ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی قوم کے انتہائی نظریات رکھنے والے عناصر کو جنگی جنونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کے بے بنیاد خدشات کی قربان گاہ پر امریکی مفاد کو ذبح کر رہے ہیں۔ یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ نوجوان یہودی اپنے والدین کی نسبت اسرائیل کے نہ ختم ہونے والے سکیورٹی خدشات کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے ۔

ری پبلکن حلقوں میں یہ بات کی جا رہی ہے کہ اگر ایران پر عائد پابندیاں ہٹا لی گئیں تو تازہ پابندیا عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی، لیکن اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ ویانا معاہدے سے انحراف کے مترادف ہو گا اور پھر ایران جوہری ہتھیار بنانے کی ضرورت پہلے سے بھی شدت سے محسوس کرنے لگے گا۔ دراصل جس چیز نے تذبذب کا شکار سینیٹرز کو اوباما کی حمایت کرنے پر راغب کیا وہ مختلف ممالک کے ان سفارت کاروں کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ تھی جو بہت طویل عرصے سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں شریک رہے تھے۔ انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ایران معاہدے کی پاسداری کرتا ہے تو انکی حکومتیں اس پر پابندیاں برقرار رکھنے کی پالیسی کا ساتھ نہیں دیں گی۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے بھی پابندیاں ہٹانے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ اس لیے ایران پر یکطرفہ پابندیاں عائد کرتے ہوئے امریکا عالمی تنہائی سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اسکے علاوہ مستقبل میں امریکہ کی مذاکرات کرنے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

اب تک یورپ اور امریکا سے تعلق رکھنے والے بہت سے کاروبار افراد ایران کی طرف محو پرواز ہیں۔ بہت سے دوسرے اپنی نشستیں بک کرا رہے ہیںَ ایران کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے۔ اگرچہ اب بھی بہت سے مراحل باقی ہیں لیکن دنیا بھر کے صنعت کار ایران کی طرف کشش محسوس کر رہے ہیں۔ ایرن کی بدعنوان ریاستی مشینری ایک رکاوٹ ضرور ہے لیکن عالمی سرمایہ کار ہر قسم کے حالات میں کاروبار کرنے کے عادی ہیں۔

-------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند