تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ننھا فرشتہ ایلان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 25 ذیعقدہ 1436هـ - 9 ستمبر 2015م KSA 11:18 - GMT 08:18
ننھا فرشتہ ایلان

شام گزشتہ پانچ چھ برسوں سے خانہ جنگی کا شکار ہے اور اسے اس حالت تک پہنچانے میں جہاں شامی انتظامیہ کا اپنا ہاتھ ہے وہاں غیر ممالک نے بھی شام کو جس طریقے سے افغانستان کا روپ دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ملک میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے شامی باشندے پُر سکون طور پر زندگی بسر کرنے کے لئے دوسرے ممالک کا رخ کررہے ہیں۔ شامی پناہ گزینوں میں سے دو ملین تو صرف ترکی ہی میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ترکی ان دو ملین پناہ گزینوں کی دیکھ بھال پر اب تک پانچ بلین ڈالر سے زائد اخراجات کرچکا ہے اور مزید اخراجات کا سلسلہ جاری ہے۔ مغربی ممالک ترکی کے اس کردار کو سراہتے توہیں لیکن زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ اور نہیں کر رہے ۔تاہم اب ننھے فرشتے ایلان کے واقعہ نے سب کوہلا کر رکھ دیا ہے۔

تین سالہ ننھے فرشتے ایلان کی ترکی کے ساحلی علاقے بودرم میں دکھ بھری موت نے دنیا کے ہر سینے میں دل رکھنےوالے انسان کو جھنجھوڑ دیا ہے ۔ شام سے ہجرت کرنے والے پناہ گزین ترکی کے مختلف کیمپوں میں زندگی بسر کررہے ہیں ۔ ان پناہ گزینوں میں سے وہ پناہ گزین جن کے یورپ کے مختلف ممالک میں عزیز و اقارب آباد ہیں ترکی سے کسی نہ کسی طریقے سے یورپ جانے کی راہ تلاش کررہےہیں۔ شامی پناہ گزین ترکی کے ساحلی علاقے بودرم سے یونانی جزیروں جو کہ ترکی کے بہت قریب واقع ہیں کا رخ اختیار کرتے ہیں اور وہاں سے یورپ کے مختلف ممالک جانے کے لئے کسی مناسب وقت کا انتظار کررہے ہوتے ہیں ۔

یہ پناہ گزین عام طور پر رات کی تاریکی میں محافظوں کو چکمہ دے کر چھوٹی چھوٹی ربڑ کی کشتیوں میں یونان کے جزیرے "کوس " پہنچنے کی تگ و دو کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بودرم ہی میں تارکین وطن کو ورغلانے اور انہیں یونان تک پہنچانے کے لئے انسانی اسمگلروں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں جو ان ربڑ کی خستہ کشتیوں کے ذریعے پناہ گزینوں کو یونان پہنچاتے ہیں ۔ اس مافیا کی وجہ سے علاقے میں گزشتہ دو سال کے دوران ڈھائی ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان پناہ گزینوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہوئے یونان جانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ننھے فرشتے ایلان کے والدین نے بھی ترکی میں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد یونان جانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لئے انہوں نے چھ افراد کی گنجائش والی ربڑ کی بوٹ کرائے پر حاصل کی لیکن یہ بوٹ ساحلِ سمندر سے روانگی کے تھوڑی دیر بعد ہی بڑی لہروں کی زد میں آگئی اور بوٹ چلانے والے شخص نے خود سمندر میں چھلانگ لگاتے ہوئے اپنی زندگی تو بچالی لیکن ننھے فرشتے ایلان کے اہلِ خانہ کو لہروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

جمعرات تین ستمبر کو تین سالہ ایلان کُردی کی وہ تصویر دنیا بھر کے اخبارات میں چھپی جس میں یہ ننھا فرشتہ ترکی کے ایک ساحل پر مردہ حالت میں پڑا تھا۔ اس تصویر نے مہاجرین کو درپیش ان خطرات کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے جن کا وہ جنگ زدہ علاقوں سے نکل کر یورپ پہنچنے کی کوششوں میں سامنا کر رہے ہیں۔

ننھے ایلان کُردی کے والد عبداللہ کُردی کے مطابق بدھ کی شب گنجائش سے زائد افراد سے بھری ربڑ کی کشتی الٹنے کے فورابعد ہی وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کے بچے اور اس کی بیوی ڈوب گئے ہیں۔ اس کے مطابق سمندر میں اٹھنے والی بڑی موجوں کے باعث کشتی کا کپتان افراتفری کا شکار ہو گیا اور اس نے سمندر میں چھلانگ لگا کر راہ فرار اختیار کر لی۔ عبداللہ کُردی نے کہا کہ" میں نے کشتی کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر لہریں اتنی بلند تھیں کہ کشتی اُلٹ گئی۔ میں نے اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو بازوؤں میں بھر لیا اور سمجھ گیا کہ ہم سب مر جائیں گے" اور صبح سورج کے طلوع ہونے پر یہ ننھا فرشتہ بودرم کی ساحلی نرم نرم ریت پر اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا۔

صبح جیسے ہی ساحل سمندر پر مامور جنڈا مری کے فوجیوں نے ننھے سے بچے کو اوندھے منہ لیٹے دیکھا تو ان کو حقیقت سے آگاہی حاصل ہوئی کیونکہ ننھا فرشتہ ایلان دم توڑ چکا تھا۔ جب اس بچے کی تصویر سوشل میڈیا، اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے دنیا تک پہنچی تو دنیا دہل کر رہ گئی اور اس سے قبل خاموشی اختیار کرنے والی یہ دنیا شامی پناہ گزینوں کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئی اور ان کی حمایت میں دنیا کے مختلف مقامات پر مظاہرے کیے جانے لگےجس پر یورپی یونین کے ممالک اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ ان ممالک نے کچھ حد تک ہی سہی اپنے دروازے شامی پناہ گزینوں کے لئے کھول دئیےہیں۔یورپی ممالک ننھے فرشتے کی موت کے منتظر تھے؟ کیا یہی انسانیت ہے؟

بدھ کی شب دو کشتیاں الٹنے کے باعث کُل 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان ہلاک ہونے والوں میں ایلان کا چار سالہ بھائی غالب اور ان کی والدہ بھی شامل تھیں ۔ یہ خاندان شامی شہر کوبانی سے تعلق رکھتا ہے اورر پورٹوں کے مطابق جنگ زدہ علاقے سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان امن کی تلاش اور بہترزندگی کی امید کے ساتھ کینیڈا جانے کی کوشش میں تھا۔

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈکیمرون نے فوری طور پر ایک سو ملین پاؤنڈ کی اضافی رقم بحران زدہ ملک شام کے متاثرین کو دینے کا وعدہ کیا ہےاور اس طرح شامی مہاجرین کی امداد کے لئے لندن میں جمع کردہ عطیات کی کُل رقم ایک بلین پاؤنڈ تک پہنچ جائے گی۔ اُدھر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ہنگامی بنیادوں پر دو ملین یورو کے فنڈ کا اعلان کیا ہے۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی آئی او سی کے صدر تھوماباخ نے ایک فنڈریزنگ ایونٹ کے موقع پرکہا، ’’گزشتہ چند روز کے دوران دل دہلا دینے والی خبروں اور جذبات کو جھنجھوڑ دینے والے خاکوں کے منظر عام پر آنے کے بعد سے ہم سب شدید صدمے کا شکار ہیں۔‘‘

بحیرہ روم کے ساحل پر واقع مالٹا میں امدادی تنظیم کے ترجمان نے اس دلسوز واقعے کے بارے میں کہا ہے کہ " تین سالہ ننھے فرشتے ایلان کُردی کی لاش کی تصویر نے پورے یورپ کے سیاسی لیڈروں سے لے کر عوام تک کے جذبات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور اب یورپی یونین کے رکن ممالک نے مہاجرین کے مسائل سے نمٹنے کے لئے آپس کے اختلافات کے باوجود شامی مہاجرین کی امداد کے لئے ممکنہ اقدامات اٹھانے شروع کردئیے ہیں اور اب تک شامی پناہ گزینوں کے لئے امداد جمع کرنے والی تنظیم نے 6 لاکھ یورو کی مد میں عطیے کی رقم وصول کرلی ہےجو کہ اب تک جمع کی جانے والی رقم سے بہت زیادہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پناہ گزینوں سے متعلق یہ نرم رویہ اور ہمدردی کب تک جاری رہتی ہے؟ کیا اسلامی ممالک بھی اس طرف کوئی توجہ دیں گے۔

کتنے افسوس کی بات ہے شام میں مسلمان ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں اور وہاں سےنکلنے میں کامیاب ہونے والے شامی باشندے کسی اسلامی ملک میں پناہ لینے کی بجائے یورپی عیسائی ملک میں پناہ لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم یورپی ممالک پر اسلام دشمن ہونے کا الزام تو عائد کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ پناہ لینے کے لئے بھی انہی ممالک کا رخ کرتے ہیں ۔ کیا ان پناہ گزینوں کو کوئی اسلامی ملک اپنے ہاں مستقل بنیادوں پر پناہ نہیں دے سکتا؟ غم و اندوہ میں ڈوبےایلان کے باپ عبداللہ کُردی نے جمعرات کے روز اپنے خاندان کی لاشیں وصول کیں اور ایلان، اس کے بھائی غالب اور والدہ ریحان کی پہلو بہ پہلو اپنے ہاتھوں سے تدفین کی۔ عبداللہ کُردی نے اس تدفین کے بعد کہا کہ " میں چاہتا ہوں کہ یورپی باشندوں کی بجائے عرب ممالک میرے بچوں کو دیکھیں اور ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے وہ لوگوں کی مدد کریں۔
-----------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند